كيلفورنيا؛ اسلامو فوبيا ميں ايك سو بائيس فيصد اضافہ

تاریخ اشاعت:05/07/1395
بين الاقوامي گروپ: تازہ تحقيقات كے مطابق كيلفورنيا ميں مسلمانوں سے نفرت كے اظھار اور انكے خلاف جرائم ميں گذشتہ دو سال سے اب تك 122 فيصد كا اضافہ ہوچكا ہے
ايكنا نيوز- روزنامه «لاس‌انجلس ٹايمز» كے مطابق مختلف تحقيقاتي مراكز كے سروے ميں معلوم ہوا ہے كہ كيلفورنيا ميں مسلمانوں كے حوالے سے نفرت كي فضا اور تعصب ميں شديد اضافہ ہورہا ہے۔
كيلفورنيا سميت امريكہ بھر ميں اسلام مخالف واقعات ميں اچانك تيزي كي مختلف وجوہات بتائي جاتي ہيں۔
مختلف سياست دانوں بالخصوص صدارتي اميد وار«ڈونالڈ ٹرامپ» كي تقارير اور مسلمانوں كو امريكہ ميں داخلے سے روكنے كي باتيں ان وجوہات ميں شامل ہيں۔
 
يورپي ممالك ميں داعش كے حملوں اور انكو اسلام سے جوڑ كر ميڈيا پروپيگنڈہ بھي ايك اہم وجہ بتائي جاتي ہے
سروے مركز كے ڈائريكٹر برايان لوين كا كہنا ہے : برنارڈينو ميں حملے كے واقعے كے بعد مسلمانوں سے نفرت كي فضاء اور تعصب ميں شديد اضافہ ہوا ہے۔
 
سروے ڈيٹا سے ہٹ كر نفرت انگيز واقعات كي تعداد اس سے كافي زيادہ ہے كيونكہ اكثر مسلمان جرائم كي شكايت كے نتيجے سے مايوسي كي وجہ سے رپورٹ بھي درج نہيں كراتے۔
رپورٹ كے مطابق بيس رياستوں كے سروے ميں مسلمانوں كے خلاف نفرت انگيز جرايم كے واقعات ميں ۷۸ فيصد كا اضافہ ہوا ہے۔
قابل ذكر ہے كہ ڈونالڈ ٹرمپ كي نفرت انگيز تقرير كے بعد يہ ريشو بڑھكر ۸۸ فيصد تك جاپہنچا ہے ۔
سروے مركز كے ڈپٹي ڈايريكٹركوين گريشام كا كہنا ہے كہ سروے سے پتہ چلتا ہے كہ سياست دانوں كے خطابات كسقدر جرايم بڑھانے ميں موثر ہوتے ہيں۔
 
دن كي تصوير
حرم امام حسين عليہ السلام   
ويڈيو بينك