خطے ميں نئے اسرائيل كا قيام صيہونيوں كي سازش : رہبر انقلاب اسلامي

تاریخ اشاعت:16/07/1396
رہبر انقلاب اسلامي كي ترك صدر سے ملاقات
رہبر انقلاب اسلامي حضرت آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نےعراقي علاقے كردستان ميں ريفرنڈم كو خطے سے غداري اور نئے خطرات پيدا كرنے كي سازش قرار ديتے ہوئے فرمايا كہ ايران اور تركي كو ايسے تمام اقدامات كا مقابلہ كرنا چاہئے بالخصوص عراق كي مركزي حكومت بھي اس مسئلے كے حوالے سے سنجيدگي سے كام كرے۔
رہبر انقلاب اسلامي نے فرمايا كہ كردستان كے مسئلے پر امريكہ اور يورپي ممالك كے مقابلے ميں ايران اور تركي كا مشتركہ مؤقف زيادہ اہم ہے، جبكہ امريكہ ہميشہ ايك مخصوص مسئلے كو ايران اور تركي كے خلاف استعمال كرنا چاہتا ہے اس لئے امريكہ اور يورپي ممالك اور ان كے موقف پر بھروسہ نہيں كيا جاسكتا۔
آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے مشرقي ايشيا اور ميانمار سے لے كر شمالي افريقہ تك عالم اسلام كو درپيش مشكلات كا ذكر كرتے ہوئے فرمايا كہ ايران اور تركي كے درميان ان مشكلات كے حل كے لئے اگر كوئي مفاہمت طے پائے تو يہ يقينا فائدہ مند ہوگي جس ميں نہ صرف دونوں ممالك كا فائدہ ہوگا بلكہ پورے عالم اسلام كے لئے مفيد ہوگا۔
رہبر انقلاب اسلامي نے ايران اور تركي كے درميان اقتصادي تعاون كو مزيد فروغ دينے پر زور ديا۔ قائد انقلاب نے شام كے مسئلے اور آستانہ عمل كے مذاكرات ميں ايران اور تركي كے قريبي تعاون كو سراہتے ہوئے فرمايا كہ ان تمام اقدامات كے باوجود داعش اور تكفيري عناصر كاخاتمہ اس طرح نہيں ہو گا بلكہ اس مسئلے كے خاتمے كے لئے ديرپا اور حقيقت پسندانہ حل ناگزير ہے.
اس ملاقات ميں تركي كےصدررجب طيب اردوغان نے علاقے ميں ايران اور تركي كے درميان مضبوط اور مستحكم اتحاد كي ضرورت پر تاكيد كرتے ہوئے كہا كہ  نا قابل انكار حقائق و شواہد سے صاف ظاہر ہوتا ہے كہ امريكہ اور اسرائيل كے مابين كردستان كے مسئلے پر ايك سمجھوتہ طے پا گيا ہے اور مسعود بارزاني نے ريفرنڈم كراكے بہت بڑي غلطي كي ہے جو ناقابل معافي ہے۔
تركي كے صدر نے كہا كہ امريكہ ، فرانس اور اسرائيل  مشرق وسطي كے حصے بخرے كرنے كے درپے ہيں اوروہ اس قسم كي صورتحال سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہيں اور شام كيلئے بھي  ان كي يہي سوچ ہے اس لئے اس سلسلے ميں ايران اور تركي  كي جانب سےمتفقہ اور متحدہ فيصلہ بہت ہي اہم ہے ۔
دن كي تصوير
حرم امام حسين عليہ السلام   
ويڈيو بينك