زيارت اربعين كے معرفتي پہلو

تاریخ اشاعت:21/08/1396
شہادت ايك ايسي فضيلت ہے جسے ہر فضيلت پر برتري حاصل ہے اور وہ بھي ايسي شہادت كہ جس ميں حسين عليہ السلام نے اپني تمام ہستي كو فنا في اللہ كر ديا۔ ايسا كون سا ظلم و ستم نہ تھا جو اس امام معصوم پر ظالموں نہ ڈھايا ہو۔
بقلم: صابرہ جعفري
خداوند عالم نے انسان كي تخليق كے آغاز ميں ہي جس انسان كو اس روئے زمين پر بھيجا وہ كوئي عام انسان نہيں تھا بلكہ خليفہ الہي اور آنے والے دوسرے تمام انسانوں كا رہنما اور ہادي تھا جيسا كہ خود پروردگار عالم كا ارشاد ہے ’’اني جاعل في الارض خليفہ‘‘ تاكہ كوئي بھي انسان كل قيامت كے دن يہ شكوہ نہ كر سكے كہ خدايا ميں تو ہدايت كے حصول كے آمادہ تھا ليكن تيري طرف سے كوئي ہادي نہ تھا يہي وجہ ہے كہ پروردگار عالم نے ايك لاكھ چوبيس ہزار انبياء بھيجے اور ان كے بعد ہدايت كا سلسلہ ائمہ معصومين عليہم السلام كي صورت ميں انشاء اللہ قيامت تك جاري و ساري رہے گا۔
خدا كي يہ برگزيدہ ہستياں در حقيقت خدا كے صفات و كمال كا مظہر اور جلوہ گاہ الہي ہيں۔ لہذا اگر ہميں خداوند عالم كي قربت حاصل كرنا ہو گي تو پہلے ہميں ان ہستيوں كي معرفت حاصل كرنا پڑے گي تاكہ ان كے وسيلہ سے خدا كا قرب حاصل ہو سكے ’’وابتغوا اليہ الوسيلہ‘‘۔ انبياء كے سلسلے كي آخري كڑي مرسل اعظم ہيں جو قيامت تك باقي رہنے والے دين كے ساتھ مبعوث ہوئے پھر اس دين كي حفاظت كے ليے امامت كے سلسلے كا آغاز مولائے كائنات علي بن ابي طالب كے ذريعے ہوا۔
پيغمبر اكرم نے دين الہي كي نشر و اشاعت اور لوگوں كي ہدايت كے ليے بے حد تكليفيں اٹھائيں يہاں تك كہ پيغمبر كي رحلت كے بعد آپ كے لائے ہوئے دين ميں تحريفوں كا آغاز ہو گيا نئي نئي چيزيں دين ميں داخل كي جانے لگيں ديني تعليمات كو ان كے حقيقي وارثوں سے لے كے بجائے لوگ دوسروں كي طرف رجوع كرنے لگے۔ دين كو انہيں تحريفوں سے بچانے كے ليے معركہ كربلا وجود ميں آيا جہاں زہرا(س) كے لال، رسول كے نواسے اور سلسلہ امامت كي تيسري كڑي نے دين كي راہ ميں اپني جان اور اپنے خاندان والوں كي قرباني پيش كي۔ اس راہ وہ ستم سہے اور ظالموں نے وہ ستم ڈھائے جس كي مثال اس سے قبل ملي نہ قيامت تك مل سكے گي۔ ظالموں كي كوشش تھي كہ دين اسلام كو جڑ سے مٹا ديا جائے ليكن قرباني حسين(ع) نے يزيديت كا تختہ الٹ كر ركھ ديا اور امام حسين(ع) كے لہو كي كشش نے انسانوں كے دلوں كے اندر ايسے گہرے اثرات چھوڑے كہ ابھي حسين(ع) كي شہادت كو چاليس ہي دن ہوئے كہ صحابي رسول جابر بن عبد اللہ انصاري كہ جو نابينا ہيں عطيہ عوفي كے ہمراہ امام حسين عليہ السلام كي زيارت كے ليے بيس صفر كو اربعين كے روز كربلا پہنچ جاتے ہيں۔ روايتوں كے مطابق، جابر بن عبد اللہ انصاري امام عالي مقام كے پہلے زائر ہيں جب كربلا پہنچے نہرفرات پر گئے، غسل كيا، غسل كرنے كے بعد چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہيں اور آہستہ آہستہ نواسہ رسول كي قبر كي طرف بڑھتے جاتے ہيں قبر پر پہنچنے كے بعد قبر پر ہاتھ ركھا اور بيہوش ہو گئے اب جو ہوش ميں آئے تو تين مرتبہ كہا’’ ياحسين، ياحسين، ياحسين‘‘۔ جابر كا بيہوش ہونا، جابر كا مدينہ سے اٹھ كر كربلا آجانا، يہ سب چيزيں ان كي بصيرت اور معرفت پر دليل ہيں۔ اس لئے كہ جس قدر بصيرت اور معرفت زيادہ ہو گي اسي قدر انسان اپنے امام كا عاشق اور امام كے مقصد كو سمجھ سكتا ہے لہذا ضروري ہے كہ اگر انسان كو يہ توفيق حاصل ہو جائے كہ وہ اربعين كے روز اپنے مولا و آقا حسين بن علي مرتضيٰ(ع) كے حضور ميں شرفيابي حاصل كرے تو زيارت كے اندر موجود معرفتي نكات اور پہلو ذہن ميں ركھے تاكہ وہ زيارت كي تلاوت كے ساتھ ساتھ اپني تربيت بھي كرتا جائے لہذا ہم اپني اس مختصر سي تحرير ميں زيارت اربعين كے سلسلے ميں محترم زائرين كے لئے چند ايك معرفتي نكات كي طرف ان كي توجہ مبذول كرنا چاہتے ہيں:
زيارت كے پہلے فراز ميں انبيائے الہي پر درود و سلام كے ساتھ ان كے القاب كي طرف اشارہ ہے جيسے ابراہيم خليل اللہ، موسي كليم اللہ، عيسي كلمۃ اللہ، محمد (ص) حبيب اللہ۔ گويا زائر كو اس بات كي طرف توجہ دلائي جا رہي ہے كہ ديكھو جس كي زيارت كا تہميں شرف حاصل ہوا ہے يہ كوئي معمولي ہستي نہيں بلكہ فرزند حبيب الہي، تمام انبياء كي مجموعہ صفات كے وارث ہيں بلكہ تمام انبيائے الہي كي مجموعہ صفات و كمالات كا مركز و محور ہيں۔ لہذا ان كي زيارت كے لئے تمہيں اپني معرفت ميں اضافہ كرنا ہو گا۔ زيارت كے ضمن ميں سيد الشہداء امام حسين عليہ السلام كي خانداني اصالت اور شرافت كي طرف اشارہ ہے ’’اَللّٰھُمَّ إنِّي ٲَشْھَدُ ٲَنَّہُ وَلِيُّكَ وَابْنُ وَلِيِّكَ‘‘۔ اور يہ وہ نكتہ ہے كہ جس كي جانب خود امام حسين عليہ السلام بھي بارہا متذكر ہوتے رہے ہيں اور امام سجاد عليہ السلام نے بھي يزيد كے دربار ميں حاضرين دربار كو متوجہ كيا۔ سب سے اہم بات يہ ہے كہ زائر جب امام پر دور يا نزديك سے سلام بھيجے تو اس كي توجہ اس جانب ہونا چاہيے كہ اس كا سلام كس نوعيت كا ہے اسے معلوم ہونا چاہيے كہ يہ سلام جو وہ امام معصوم پر بھيج رہا ہے اس كے معنيٰ كيا ہيں۔ سلام كے معنيٰ ہيں سلامتي، امن و امان۔ يعني زائر يہ ذہن ميں ركھے كہ مولا و آقا جو چيزيں آپ كو آزار و اذيت پہنچاتي ہيں جيسے گناہ، جھوٹ، غيبت، جاہ و مقام يا مال و دولت كي محبت، يا ہر طرح كا گناہ ميں ان سے دور رہ كر آپ كے امن و سكون كا باعث بنوں گا۔ چونكہ آپ امام معصوم ہيں اس سلام كے ذريعے ميں يہ عہد كرتا ہوں كہ ميں اس سلام كے بعد تمام گناہوں سے پرہيز كروں گا۔ اور اس سلام كو اس انداز ميں اپنے آقا كے حضور ميں پيش كريں كہ اپنے قلب كو توجہ كے آنسو كے ذريعے پاك كريں۔ اور يہيں پر گويا زائر انفرادي وظيفہ شناسي كے ساتھ ساتھ اپنے اجتماعي چہرے كو بھي نماياں كرتا ہے كہ ميري يہ جنگ نہ صرف اپنے گناہوں سے ہے بلكہ ميں ولايت مداري ميں تسليم محض كا جذبہ ركھتا ہوں۔ اور اپنے آقا و مولا حسين بن علي كي طرح دنيا كے ہر طاغوت سے ٹكرانے كي جرئت ركھتا ہوں اور جب بھي امام وقت نے صدائے استغاثہ بلند كي تو اپنے آقا حسين كي طرح ظلم و ظالم كو صفحہ ہستي سے مٹانے كے ليے پوري قوت كے ساتھ ميدان ميں حاضر ہوں گا۔
دوسرے فراز ميں امام صادق عليہ السلام اس طرح سے فرماتے ہيں كہ خدايا ميں گواہي ديتا ہوں كہ وہ تيري ولي اور تيرے ولي كے فرزند اور پسنديدہ بندے كے فرزند ہيں جنہوں نے تجھ سے عزت پائي يہاں پر امام صادق عليہ السلام، امام حسين عليہ السلام كي برتري اور عظمت كو نماياں كرتے ہوئے ايك خاص نكتے كي جانب زائر كي توجہ مبذول كرنا چاہتے ہيں۔ اس دنيا ميں ہر كوئي كسي نہ كسي چيز كے توسط سے عزت و مقام اور مرتبہ كو حاصل كرتا ہے ليكن ديكھيں امام صادق اس طرح سے مخاطب ہيں خدايا وہ تيرے ولي كا بيٹا، تيرا برگزيدہ اور تيرے برگزيدہ ولي كا بيٹا ہے۔ يہ سارے فضائل ايك طرف ليكن ’’ٲَكْرَمْتَہُ بِالشَّھَادَۃِ‘‘ تو نے حسين(ع) كو عزت و برتري عطا كي شہادت كے ذريعے۔
شہادت ايك ايسي فضيلت ہے جسے ہر فضيلت پر برتري حاصل ہے اور وہ بھي ايسي شہادت كہ جس ميں حسين عليہ السلام نے اپني تمام ہستي كو فنا في اللہ كر ديا۔ ايسا كون سا ظلم و ستم نہ تھا جو اس امام معصوم پر ظالموں نہ ڈھايا ہو عصر عاشور كو ديكھيں اصحاب و انصار كي شہادت، بچوں كي شہادت، پياس، اور پياس كي بھي ايسي شدت كہ اپنے شيعوں كو وصيت كي كہ اے شيعوں جب بھي ٹھنڈا پاني پينا ميري پياس ياد كر لينا۔ پھر بھي عجيب انداز ہے سر سجدہ الہي ميں ہے اور ’’رضاً بقضائہ و تسليما لامرہ‘‘ گنگنا رہے ہيں۔ اور پھر عصر عاشور كے بعد كي غربت۔ رسول كے نواسے كو كربلا كي گرم خاك پر بے گور و كفن چھوڑ ديا اور آپ كے جسم اقدس پر گھوڑے دوڑائے گئے يہاں تك كہ سينے كي پسلياں اور ہڈياں برابر ہو گئيں۔ ہماري جانيں فدا ہو جائيں اس امام مظلوم پر۔
تيسرے فراز ميں امام صادق عليہ السلام زائر كي توجہ ايك اور اہم مسئلہ كي جانب مبذول كرنا چاہتے ہيں اور فرماتے ہيں ’’بَذَلَ مُھْجَتَہُ فِيكَ لِيَسْتَنْقِذَ عِبَادَكَ مِنَ الْجَھَالَۃِ، وَحَيْرَۃِالضَّلالَۃِ‘‘۔(اور تيري خاطر اپني جان قربان كي تاكہ تيرے بندوں كو نجات دلائيں ناداني و گمراہي كي پريشانيوں سے)
يہ وہ عظيم مقصد تھا جس كے ليے اتني عظيم قربانياں ايك صبح سے عصر تك پيش كي گئيں۔ تاريخ كے مطالعہ سے يہ بات واضح ہو جاتي ہے كہ امام حسين عليہ السلام كے دور ميں يزيد نے دين كا اصلي چہرہ مسخ كر كے ركھ ديا تھا وہ علي الاعلان شراب پيتا تھا اور جوا كھيلا كرتا تھا۔ بلكہ معاد و قيامت جيسے مسلمہ اعتقادات كا مسخرہ كيا كرتا تھا۔ اور وہ يہ سب خود كو خليفۃ المسلمين كہہ كر انجام ديتا تھا۔ لہذا امام حسين عليہ السلام نے عالم بشريت كو رہتي دنيا تك بيدار كرتے ہوئے يہ بتايا كہ خليفۃ المسلمين وہ ہوتا ہے جسے پيغمبر خليفہ بنائے اور منصوص من اللہ ہو جسے لوگ انتخاب كر ليں وہ خليفہ خدا نہيں ظالم و جابر حكمران ہوا كرتا ہے۔ ضرورت ہے امام عليہ السلام كي پيروي ميں ہم آج بھي زمانے كے ايسے طاغوتوں سے دنيا كو آگاہ كريں جو جوانوں كو دنيا كي بيہودہ باتوں ميں الجھا كر خود عيش و نوش ميں غرق ہيں اور جوانوں كو ان كي حقيقي دنيا سے دور كر كے انہيں بے معني زندگي كي طرف راغب كر رہے ہيں۔ اور حقيقي شناخت سے دور كر رہے ہيں۔ حقيقي شناخت تو يہ ہے كہ انسان خود كو پہچانے كہ وہ كون ہے اس كا كيا مقام ہے كس نے بھيجا ہے اور كس ہدف كے تحت بھيجا ہے؟۔ اپني قدر و منزلت كو پہچانے، اپنے رب كو پہچانے اور دنيا ميں حقيقي اقدار كو پہچانے۔ اپنے وقت كے امام كي معرفت حاصل كرے ورنہ يہ بصيرت كي كمي ہي تھي جو كربلا كے وجود ميں آنے كا باعث بني۔
پھر قاتلين امام حسين(ع) كي نشانيوں كي طرف اشارہ ہے كہ يہ ملعون افراد جو اس عظيم گناہ كے مرتك ہوئے وہ كون سي ايسي خاص وجوہات تھيں؟ سب سے پہلي وجہ جس كي طرف امام صادق عليہ السلام نےاشارہ كيا وہ يہ تھي كہ يہ وہ لوگ تھے جو دنيا پرست تھے ’’وَ قَدْ تَوَازَرَ عَلَيْہِ مَنْ غَرَّتْہُ الدُّنْيا۔۔۔وَ شَرَيٰآخِرَتَہُ بِالثَّمَنِ الْاَوْكَسِ‘‘۔ ان پر ان لوگوں نے ظلم كيا جنہيں دنيا نے مغرور بنا ديا تھا جنہوں نے اپني جانيں معمولي چيز كے بدلے ميں بيچ ديں اور اپني آخرت كے لئے گھاٹے كا سودا كيا۔ دنيا كي محبت ان كے دلوں پر ايسي قابض ہو چكي تھي كہ انہيں دنيا كے علاوہ كچھ بھي نظر نہ آتا تھا۔ دنيا كي ظلمتوں كے پردے نے ان كي آنكھوں كو ايسا تير و تار كر ركھا تھا كہ وہ نور امامت كو ديكھ نہيں پا رہے تھے۔ عمر سعد ملعون كو ملك ري كي لالچ اور كچھ دوسرے شيطان صفت افراد كو اپني جانوں كا ڈر و خوف نے امامت كے دفاع سے محروم ركھا۔ اس قدر دنيا كي محبت ميں غرق تھے كہ ديكھ رہے ہيں كہ حسين بن علي وہ حسين ہيں كہ فاطمہ زہرا كے لال، علي مرتضيٰ كے جگر كے ٹكڑے اور مرسل اعظم كے فرزند ہيں يہ وہ حسين ہيں جنہيں رسول اپنے دوش پر بٹھايا كرتے تھے لبوں كا بوسہ ليا كرتے تھے ليكن اس كے باوجود اپنے شكموں كي آگ كو بجھانے كے ليے جہنم كي آگ سے سودا كر ليا۔
خوارزمي مقتل الحسين ميں لكھتے ہيں حتي جب شمر ملعون آپ كے سينے مبارك پر سوار تھا اور قتل كا ارادہ ركھتا تھا اس وقت امام حسين عليہ السلام مسكرائے اور كہا كيا تم مجھے قتل كرنا چاہتے ہو كيا تم مجھے پہچانتے ہو واقعا كائنات نے ايك عجيب منظر ديكھا اہل زمين نے ايسے ہادي كو بھي ديكھا اور ايسے ملعون كو بھي ديكھا۔ جہاں ہادي اپنے قاتل كو اپني زندگي كے آخري لمحے ميں بھي ہدايت كرنے پر مصر ہے اور يہ شيطان پرست دنيا كي محبت ميں گرفتار ہادي كي ہدايت كے نور سے نہ صرف فيضياب نہ ہو سكا بلكہ نور ہدايت كو محسوس نہ كر سكا۔ خدا كي بے شمار لعنتيں ہوں شمر ملعون اور اس كے پيروكاروں پر۔
اور زيارت كے آخري فرازوں ميں زائر اپنے مولا و آقا سے تجديد بيعت كرتا ہوا نظر آتا ہے ’’اَللّٰھُمَّ إنِّيٲُشْھِدُكَ ٲَنِّي وَلِيٌّ لِمَنْ والاہُ وَعَدُوٌّ لِمَنْ عاداہُ بِٲَبِي ٲَنْتَ وَ ٲُمِّي يَابْنَ رَسُولِ اﷲِ‘‘خدايا تجھے گواہ بناتا ہوں كہ ان كے دوستوں كا دوست اور ان كے دشمنوں كا دشمن ہوں ميرے ماں باپ پر فدا ہوں آپ پر اے فرزند رسول خدا!۔
دن كي تصوير
ويڈيو بينك