شہيدوں كي ياد كو ہر وقت تازہ ركھا جائے

تاریخ اشاعت:24/09/1396
صوبہ مغربي آذربائيجان كے بارہ ہزار شہيدوں پر ہونے والي كانفرنس كے منتظمين سے ملاقات
رہبر انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے صوبے مغربي آذربائيجان ميں بارہ ہزار شہيدوں كي كانفرنس كے منتظمين سے جو رواں سال بائيس اكتوبر كو اروميہ ميں تشكيل پائي تھي، اپنے خطاب ميں اس تاريخي حقيقت كي طرف اشارہ كرتے ہوئے كہ جب بھي ميدان ميں فداكاروں كا وجود نہيں رہا ايران كو ذلت و رسوائي كا سامنا كرنا پڑا ہے اور مقدس دفاع كے دور كي مانند جب بھي بہادر و شجاع لوگ ميدان عمل ميں اترے ہيں ملك كو عزت و سربلندي عطا ہوئي ہے، فرمايا كہ ايسا ہرگز نہيں ہونا چاہئے كہ بعض غلط اور جھوٹي عظمتوں اور مظاہر كے نتيجے ميں شہيدوں كو فراموش اور ان كي ياد كو ماضي كا حصہ قرار دے ديا جائے كيونكہ شہيدوں كے بارے ميں كانفرنس جيسي سرگرميوں كا جاري رہنا ہي سازشوں و زہريلے اقدام كو ناكام بنائے جانے كے مترادف ہے۔
اس موقع پر قائد انقلاب اسلامي نے دشمنوں كے مقابلے مين صوبہ مغربي آذربائيجان كے عوام اور سربراہوں كي فداكارانہ جد و جہد پر روشني ڈالي اور فرمايا كہ جب صدام نے اس صوبہ كے سردشت شہر پر كيمياوي حملہ كيا تھا يا جب اس خطے كے عوام كو جنگ كا سامنا كرنا پڑا تو انہوں نے صبر و تحمل سے كام ليا جو اس صوبے كے عوام كي عظمت كي كھلي نشاني ہے۔ قائد انقلاب اسلامي نے صوبہ مغربي آذربائيجان كي معنوي خصوصيات اور بلنديوں كو اجاگر كرنے پر زور ديتے ہوئے فرمايا كہ عام طور پر اس صوبے كے سياحتي مراكز كا ذكر كيا جاتا ہے جبكہ حادثات اور پيچيدہ مشكلات كے مقابلے ميں اس خطے كے عوام نے جس عظمت اور مجاہدت كا مظاہرہ كيا ہے، اس كي نشاندہي اور متعارف كرانے كي ضرورت ہے
دن كي تصوير
وادي السلام نجف   
ويڈيو بينك