آج كے فرعون، امريكہ، صيہوني حكومت اور ان كے پٹھو ہيں

تاریخ اشاعت:24/09/1396
وحدت اسلامي بين الاقوامي كانفرنس كے شركا سے رہبر انقلاب كي ملاقات
پيغمبراسلام حضرت محمد مصطفي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام كے يوم ولادت باسعادت كے موقع پر ايران كے اعلي سول اور فوجي حكام، اسلامي ملكوں كے سفيروں، نيز عالمي وحدت اسلامي كانفرنس ميں شريك غير ملكي مہمانوں سے خطاب كرتے ہوئے رہبرانقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے فرمايا كہ بعض امريكي سياستدانوں نے اس بات كا اعتراف كيا ہے كہ مغربي ايشيا كے خطے ميں جنگيں چھيڑي جائيں اورجھڑپيں كروائي جائيں تاكہ اسرائيل محفوظ رہے اور عالم اسلام كے زخمي پيكر ميں  ترقي كرنے كي تاب و توان  نہ رہے۔
آپ نے پيغمبر عظيم الشان محمد مصطفي (ص) كے يوم ولادت پر ملت ايران، امت اسلاميہ اور دنيا كے تمام روشن ضمير انسانوں كو مباركباد پيش كرتے ہوئے فرمايا كہ پيغمبر اكرم (ص)، تمام بني نوع انسان كے لئے خدا كي رحمت بن كر آئے تھے اور آپ كي سچي پيروي تمام دنيا كي قوموں كو استعماري طاقتوں كے ظلم و ستم  سے نجات دلا كر ہر قسم كے طبقاتي اختلافات، ظالمانہ سرمايہ داري نظام اور ديگر تمام رنج و مصيبت اور گرفتاريوں  سے نجات دلا سكتي ہے۔
آّپ نے فرمايا كہ اللہ تعالي نے تمام پيغمبروں اور ان كے پيروكاروں كو تاكيد كي ہے كہ كاميابي صرف استقامت اور استحكام كے ذريعے ہي حاصل كي جاسكتي ہے اور اگر آج بھي پيغمبر اكرم (ص) كي راہ پر استقامت كا مظاہرہ كيا جائے تو دنيا كي ظالم طاقتوں كي بڑي سے بڑي سازش كو ناكام بنايا جا سكتا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے امريكہ، صيہوني حكومت اور بڑي طاقتوں سے وابستہ رجعت پسند حكومتوں كو دور حاضر كے فرعون قرار ديتے ہوئے فرمايا كہ امريكي حكام اسرائيل كو بچانے كے ليے عالم اسلام ميں جنگ كي آگ بھڑكائے ركھنا چاہتے ہيں۔
رہبر انقلاب اسلامي نے خطے كے بعض حكمرانوں كي جانب سے امريكي خواہشات كي پيروي كيے جانے پر افسوس كا اظہار كرتے ہوئے فرمايا كہ اسلامي جمہوريہ ايران اسلامي ملكوں كے درميان اختلافات كا سوچ بھي نہيں سكتا۔ آپ نے فرمايا كہ ايران نے جس طرح ملك كے اندر اتحاد اور بھائي چارہ قائم كر ركھا ہے اسي طرح عالم اسلام ميں بھي اتحاد كا خواہاں ہے اور اس كے ليے وہ كوشش بھي كر رہا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامي نے واضح الفاظ ميں فرمايا كہ خطے ميں امريكي دم چھلوں كے ليے ہماري زبان، نصيحت كي زبان ہے اور ميں انہيں نصيحت كرتا ہوں كہ عالمي سطح كے ظالموں كي خدمت خود ان كے نقصان ميں ہے اور قران كريم نے بھي فرمايا ہے كہ ظالموں كي حمايت كا انجام ناكامي اور  نابودي كے سوا كچھ نہيں ہوتا -
آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے فرمايا كہ تكفيري گروہوں كے قيام كا اصل مقصد شيعہ سني جنگ كرانا ہے ليكن دشمن كا يہ مقصد كبھي پورا نہيں ہوگا۔ رہبر انقلاب اسلامي نے فرمايا كہ خدا نے ہمارے دشمنوں كو احمق پيدا كيا ہے اور يہي وجہ ہے كہ دشمنان اسلام كا مقصد، يعني مذہبي جنگ كرانا، پورا نہيں ہوا اور آئندہ بھي پورا نہيں ہوگا۔
رہبر انقلاب اسلامي نے فرمايا كہ استقامت واحد طريقہ كار اور وحشي تكفيريت پر ہمارے غلبے كا راز ہے۔ انھوں نے مزيد فرمايا  كہ  ہمارا اور ان كا مقابلہ ظلم اور تحريف اسلام كا مقابلہ تھا اور ان كے دم چھلے جو امريكہ اور صيہونيوں كے آلہ كار ہيں، جہاں كہيں بھي ہوں گے، ہم آئندہ بھي ان كا ڈٹ كر مقابلہ كرتے رہيں گے۔
آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے امت مسلمہ كے اتحاد اور صيہونيت اور ديگر اسلام دشمن طاقتوں كے مقابلے ميں استقامت كو، دنيائے اسلام كي مشكلات كا علاج اور طاقت و عزت وسربلندي تك رسائي كا راستہ قرار ديتے ہوئے فرمايا كہ فلسطين كا مسئلہ امت مسلمہ كے سياسي مسائل ميں سر فہرست ہے اور فلسطيني عوام كي آزادي اور نجات كے ليے كوشش اور مجاہدت كرنا ہم سب كي ذمہ داري ہے۔
رہبر انقلاب اسلامي نے اسلام دشمنوں كي جانب سے بيت المقدس كو صيہوني حكومت كا دارالحكومت بنانے كے دعوے كو ان كي كمزوري اور ناتواني كا نتيجہ قرار ديا اور فرمايا كہ بلاشبہہ عالم اسلام اس سازش كا ڈٹ كر مقابلہ كرے گا، صيہونيوں كو اس كام كي بھاري قيمت چكانا پڑے گي اور اس ميں شك نہيں كہ پيارا فلسطين آخر كار آزاد ہوكے رہے گا۔
آپ نے گذشتہ چار دہائيوں كي پيچيدہ مشكلات ميں، ملت ايران كي شجاعت، بصيرت اور استقامت كو سراہتے ہوئے فرمايا كہ دنيا بھر ميں اسلامي جمہوريہ ايران كے دوست اور دشمن جان ليں كہ، مستقبل ميں درپيش مشكلات، ان مسائل سے كہيں زيادہ آسان ہوں گي جن سے ملت ايران گذشتہ چار دہائيوں كے دوران نمٹ چكي ہے۔ ايراني قوم ان سب مشكلات كو بے اثر كردے گي اور اسلامي وقار كے پرچم كو مزيد بلنديوں پر لہرائے گي۔
رہبر انقلاب كے خطاب سے قبل، صدر ڈاكٹر حسن روحاني نے بھي عالم اسلام كي موجودہ مشكلات كو قرآن اور وحي سے دوري كا نتيجہ قرار ديتے ہوئے كہا كہ آج علاقے كے مسلمان عوام، دہشت گردوں اور ان كے سامراجي اور صيہوني حاميوں پر غلبہ پا چكے ہيں۔ انہوں نے كہا كہ اس كے باوجود دشمن نئي سازشوں ميں مصروف ہے۔
ڈاكٹر حسن روحاني نے كہا كہ امريكہ، صيہوني حكومت اور ان كے پٹھوؤں كي جانب سے ہوشيار رہنے كي ضرورت ہے كہ كيونكہ اسلام دشمن طاقتوں نے مسلمانوں كے بيت المال كو استعمال كرتے ہوئے، علاقے كو اسلحے كے گودام ميں تبديل كيا ہے اور اپنے مداخلت پسندانہ اقدامات ميں اضافہ كرديا ہے۔
اسلامي جمہوريہ ايران كے صدر نے اس موقع پر زور ديكر كہا كہ بيت المقدس، اسلام، مسلمانوں اور فلسطينيوں سے تعلق ركھتا  ہے اور اب سامراج كي نئي مہم جوئي كي گنجائش نہيں ہے۔
ڈاكٹر حسن روحاني نے كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران ہميشہ علاقے ميں امن و استحكام كا خواہاں رہا ہے اور سرحدوں كي تبديلي كي مخالفت كي ہے۔ انہوں نے كہا كہ دہشت گردي كے مقابلے ميں عوام كي حمايت اور مشكلات كو مذاكرات كے ذريعے حل كرنا اسلامي جمہوريہ ايران كا طريقہ كار ہے ليكن ملت ايران سميت كوئي بھي مسلمان قوم، اسلامي مقدسات پر سامراج اور صيہونيت كے حملے كو برداشت نہيں كرے گي۔
آپ نے كہا كہ بيت المقدس كو صيہوني دارالحكومت كے طور پر پيش كرنے كي سازش پر ملت فلسطين سميت دنيا كے تمام مسلمانوں كو يكصدا ہوكر اٹھ كھڑا ہونا چاہئے اور اس راہ ميں اسلامي ممالك اور اسلامي تعاون تنظيم پر بڑي بھاري ذمہ داري عائد ہوتي ہے۔
دن كي تصوير
حرم حضرت زينب سلام‌الله عليها   
ويڈيو بينك