امريكي موقف پر انصاراللہ كي كڑي نكتہ چيني

تاریخ اشاعت:02/10/1396
يمن كي عوامي تحريك انصار اللہ نے كہا ہے كہ اسے اندرون ملكي سياسي كردار كي ادائيگي كے ليے امريكي حمايت كي كوئي ضرورت نہيں۔
مشرق وسطي كے امور ميں امريكہ كے نائب وزير خارجہ ٹم لينڈر كنگ نے اپنے ايك بيان ميں بحران يمن كے سياسي حل ميں انصار اللہ كي مشاركت پر زور دے ديتے ہوئے كہا تھا كہ اس بحران كو فوجي طريقے سے حل نہيں كيا جاسكتا۔يمن كي عوامي تحريك انصاراللہ كي سياسي كونسل كے سينيئر ركن محمد البخيتي نے ٹم لينڈركنگ كے بيان پر ردعمل ظاہر كرتے ہوئے كہا كہ انصار اللہ ملك كے سياسي عمل كا ايك اہم حصہ ہے اورانصاراللہ كو اس بات كي ضرورت نہيں ہے كہ  امريكہ يا كسي دوسرے ملك كي جانب سے اس كے سياسي كردار كو تسليم كيا جائے - البخيتي نے كہا كہ يمن كے بحران كے سياسي حل كے بارے ميں واشنگٹن كے موقف اور يمني عوام كے قتل عام ميں سعودي عرب كي حمايت پر مبني امريكي پاليسي ميں كھلا تضاد پايا جاتا ہے۔واضح رہے كہ سعودي عرب نے يمن پر امريكہ كي حمايت سے مارچ دو ہزار پندرہ سے مجرمانہ جنگ مسلط كر ركھي ہے اور وہ مسلسل اس غريب عرب ملك كو وحشيانہ جارحيت كا نشانہ بنا رہا ہے جس كے نتيجے ميں تيس ہزار سے زائد يمني شہري شہيد اور زخمي ہو چكے ہيں جن ميں بڑي تعداد ميں بچے اور عورتيں بھي شامل ہيں جبكہ اس نے يمن كا ہر طرح سے محاصرہ بھي كر ركھا ہے جس كي بنا پر اس ملك ميں غذائي اشيا اور دواؤں كي شديد قلت ہے اور لوگ ہيضہ سميت مختلف قسم كي بيماريوں ميں مبتلا ہو رہے ہيں۔
دن كي تصوير
مسجدالنبي صلي‌ الله‌ عليہ و آله   
ويڈيو بينك