شيخ زكزاكي اور ان كي اہليہ كي طبيعت ناساز

تاریخ اشاعت:05/10/1396
نائجيريا كي اسلامي تحريك كے ايك ركن نے بتايا ہے كہ اس ملك كي حكومت نے شيخ ابراہيم زكزاكي كے علاج معالجے سے ڈاكٹروں كو منع كيا ہے۔
اہل بيت(ع) نيوز ايجنسي ۔ ابنا ۔ كي رپورٹ كے مطابق نائجيريا ميں شيعوں كي سركوبي كا اس وقت سے آغاز ہوا جب دسمبر 2015 ميں اس ملك كے ايك صوبے كادونا نام كے شہر زاريا كي ايك امام بارگاہ پر سيكورٹي فورسز كي جانب سے حملہ كيا گيا اور اس حملے كے دوران شيخ زكزاكي اور ان كي اہليہ كو گرفتار كيا گيا اور بغير كسي پوچھ گچھ كے ايك سال سے زائد كا عرصہ گزر چكا ہے كہ وہ بغير كسي جرم كے پابند سلاسل ہيں اور اس حملے ميں شيخ زكزاكي كے تين بيٹوں سميت تقريبا 350 افراد شہيد ہوئے تھے
انساني حقوق كي بين الاقوامي تنظيموں نے اس حملے ميں شيعوں كے قتل عام كي شديد الفاظ ميں مذمت كي كہ جن كو اجتماعي قبروں ميں دفن كيا گيا تھا۔
شيخ آدم سوہو نے بتايا كہ يوں تو پہلے سے ہي اسلامي تحريك نائيجيريا كے رہنما شيخ زكزاكي اور ان كي اہليہ دونوں جيل ميں ہيں، ليكن بدقسمتي سے شيخ زكزاكي نے دو سال پہلے فوجي كارروائي كي وجہ سے اپني دائيں آنكھ كھو دي ہے اور اب ان كي اور ان كي اہليہ كي طبيعت نہايت ناساز ہے اور انہيں علاج كي ضرورت ہے ليكن وہاں كي حكومت ڈاكٹروں كو ان كے علاج كي اجازت نہيں دے رہي ہے۔
انہوں نے مزيد كہا كہ نائجيريا كي حكومت شيخ زكزاكي كو يا تو شہيد كرنے كے درپے ہے يا انہيں آہستہ آہستہ موت كے قريب لانا چاہتي ہے اور اسي وجہ سے حكومت ڈاكٹروں كو ان كے علاج كي اجازت نہيں دے رہي تاكہ ان كي حالت بد سے بدتر ہوجائے۔
آدم سوہو نے مزيد كہا كہ حكومت نائجيريا شيخ زكزاكي كي آزادي سےڈر رہي ہے كہ اگر وہ آزاد ہوگئے تو وہ عوام كے درميان ميں آجائيں گے اور پھر حكومت كي جانب سے شيعوں اور ان كے خاندان پر كئے جانے والے مظالم كے بارے ميں بات كريں گے۔
آخر ميں شيخ آدم سوہو نے اپنے رہنما كي رہائي كے لئے اسلامي تحريك نائيجيريا كے اراكين كي سرگرميوں كے سلسلے ميں بتايا كہ اسلامي تحريك نائيجيريا كے اراكين اور شيخ زكزاكي كے حامي ملك كے مختلف علاقوں ميں ان كي رہائي اور علاج كے لئے مظاہرے كررہے ہيں۔
دن كي تصوير
حرم امام حسين عليہ السلام   
ويڈيو بينك