اسرائيل نام كے كسي ملك كو نہيں مانتے، نصراللہ

تاریخ اشاعت:29/10/1396
حزب اللہ لبنان كے سربراہ سيد حسن نصراللہ نے تمام ملكوں سے اپيل كي ہے كہ وہ اسرائيل كے ساتھ تعلقات معمول پر لانے سے گزيز كريں۔
جنوبي بيروت ميں شہيدوں كي ياد ميں منعقدہ ايك پروگرام سے بذريعہ ويڈيو كانفرنس خطاب كرتے ہوئے حزب اللہ كے سربراہ سيد حسن نصراللہ كا كہنا تھا كہ اسرائيل كے ساتھ ہرقسم كے تعلقات قائم كرنے سے باز رہنا عرب ليگ كا اہم ترين فيصلہ تھا ليكن بعض عرب حكمراں اس فيصلے پر علمدرآمد نہيں كر رہے ہيں -
حزب اللہ كے سربراہ نے واضح كيا كہ لبنان اسرائيل كے ساتھ تعلقات معمول پر نہ لانے كے فيصلے كا پابند ہے اور اس ملك كے عوام غاصبوں كے ساتھ تعلقات كو ہرگز برداشت نہيں كريں گے۔انہوں نے اسرائيل كي جانب سے لبنان كے ساتھ ملنے والي سرحدوں پر ديوار كي تعمير كے اسرائيلي اعلان كي جانب اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ ہم اسرائيل نام كے كسي ملك كو تسليم نہيں كرتے۔ حكومت لبنان نے پہلے ہي اسرائيل كي جانب سے كسي بھي اقدام كو مسترد كرديا ہے جبكہ لبناني فوج نے بھي خبردار كرتے ہوئے كہا ہے كہ وہ ہر قسم كي جارحيت كا مقابلہ كرنے كے ليے تيار ہے۔
سيد حسن نصراللہ نے اسرائيل كو خبرداركرتے ہوئے كہا كہ وہ كسي خام خيال ميں نہ رہے اور لبنان كي   فوج كے انتباہ كو ہلكا نہ سمجھے۔ انہوں نے كہا  كہ حزب اللہ بھي پوري قوت كے ساتھ لبناني فوج كے شانہ بشانہ كھڑي ہے اور اسرائيل كو متنازعہ سرحدي علاقوں ميں ديوار كي تعمير كي ہرگز اجازت نہيں دے گي۔ انہوں نے داعش كا راستہ روكنے كے بہانے عراق اور شام ميں امريكي فوج كو باقي ركھنے كے بارے ميں امريكي حكام كے حاليہ موقف پر تنقيد كرتے ہوئے كہا كہ يہ امريكا كي منافقت اور دوغلہ پن ہے - سيد حسن نصراللہ نے داعش كے خلاف جنگ كے بہانے عراق ميں فوجي اڈہ قائم كرنے كے امريكي حكام كے بيانات كي عراقي حكومت كي جانب سے صريحي مخالفت كا ذكركرتے ہوئے كہا كہ امريكا نے خود ہي داعش كو جنم ديا ہے تاكہ وہ علاقے اور خاص طور پر عراق ميں دوبارہ  واپس آسكے۔ حالانكہ عراقي  اور شامي افواج اس كي اجازت نہيں ديں گي -
دن كي تصوير
حرم امام علي عليہ السلام   
ويڈيو بينك