اسرائيل كا بالي ووڈ ميں بڑھتا نفوذ بھارتي تہذيب اور اسلامي تمدن كے ليے خطرے كي گھنٹي

تاریخ اشاعت:04/11/1396
جہاں بھارت ميں ہندو انتہا پسند جماعت بي جے پي كا راج ہے وہيں دوسري طرف اسرائيلي وزيراعظم بھي انتہاپسندي ميں كسي سے پيچھے نہيں جو اب بالي ووڈ كے ذريعے بھارتي تہذيب و ثقافت ميں خاموشي سے سرائيت كرنے كي كوشش كررہا ہے۔
اسرائيلي وزيراعظم بنيامن نتين ياہو نے بھارت كا 6 روزہ سركاري دورہ كيا اس دوران انہوں نے حكومتي شخصيات سے ملاقاتيں كيں اور كئي معاہدوں پر دستخط بھي كيے۔
اسرائيلي وزيراعظم كے ليے حكومت كي جانب سے تاج محل ميں عشائيہ كا اہتمام كيا گيا جس ميں بالي ووڈ اسٹارز نے بھي شركت كي، نيتن ياہو نے اميتابھ بچن، اُن كے صاحبزادے ابھيشيك اور بہو ايشوريا رائے سے ملاقات كي۔
تقريب ميں ديگر اداكاروں اور فلم سازوں سميت پروڈيوسرز نے بھي شركت كي اور اسرائيلي وزيراعظم كے ساتھ تصاوير بنوائيں، نيتن ياہو نے بھارتي اداكاروں كے ساتھ گروپ فوٹو بنوائي اور اُسے بھارت اسرائيل كي ’عظيم دوستي‘ كي علامت قرار ديا۔
اس ملاقات ميں فلمساز كرن جوہر، امتياز علي، رندھير كپور، ووك اوبرائے اور سبھاش گھئي سميت كئي بالي ووڈ اداكار شامل تھے۔
بھارتي مسلمانوں نے جب اداكاروں كي اسرائيلي وزيراعظم سے اتني قربت ديكھي تو وہ غصے سے پھٹ پڑے اور انہوں نے مذكورہ فنكاروں كے خلاف سخت احتجاج كيا، كچھ صارفين نے آئندہ فلموں كے بائيكاٹ كا بھي اعلان كيا۔
كہا جا رہا ہے كہ نيتن ياہو نے بالي وڈ كے ستاروں كي جم كر تعريف كي اور كہا كہ ان سے بڑا اور كون ہوسكتا ہے۔ ليكن سوال يہ ہے كہ اسرائيل كو بھارتي فلم انڈسٹري سے اس قدر پيار اور دلچسپي كيوں ہے اور وہ اس سے كيا حاصل كرنا چاہتا ہے۔
ان كے ساتھ ايك سو تيس افراد پر مشتمل اسرائيلي تاجروں كا ايك وفد بھي بھارت ميں تھا۔ اس چھ روزہ دورے كے دوران انہوں نے دلي سميت احمدآباد، آگرہ اور ممبئي جيسے شہروں كا دورہ كيا جس كے تعلق سے ميڈيا ميں بہت سي ملاقاتوں اور معاہدوں كا ذكر رہا۔
ليكن ماہرين كے مطابق ان ميں سب سے اہم دورہ ممبئي كا ہي تھا جہاں انہوں نے ہوٹل تاج محل ميں ‘شلوم بالي وڈ’ كے نام سے ايك خاص پروگرام كا اہتمام كيا۔
نيتن ياہو نے اس موقع پر اپنے افتتاحي خطاب ميں بالي وڈ كے ستاروں كي جم كر تعريف كي اور كہا كہ ان سے بڑا اور كون ہوسكتا ہے۔ انھوں نے كہا، ’’اس كي وجہ يہ ہے كہ دنيا بالي وڈ كو پسند كرتي ہے اور اسرائيل كو بھي بالي وڈ سے پيار ہے۔ ميں خود بالي وڈ سے پيار كرتا ہوں۔‘‘ اميتابھ بچن سميت ديگر بالي وڈ كي شخصيات نے بھي اس تقريب سے خطاب كيا۔ تاہم بينجمن نيتن ياہو ابتدا سے آخر تك بھارت اور اسرائيل كي دوستي اور تعلقات كي ہي قسميں كھاتے رہے۔
انہوں نے پروگرام كے اختتام پر كہا، ’’ميں ان تعلقات كے حوالے سے اتنا جذباتي ہوں كہ ميں چاہتا ہوں كہ ہر بھارتي اور اسرائيلي شہري دونوں ملكوں كے درميان غير معمولي دوستي سے واقف ہو۔ اس كے ليے ميرے ذہن ميں ايك خيال ہے، سب سے زيادہ وائرل ہونے والي تصاوير ميں سے آسكر ايوارڈ كي تقريب ميں لي گئي وہ تصوير بھي ہے جس ميں بريڈ پٹ سميت كئي اہم شخصيات ايك ساتھ ہيں، تو اسي طرز پر ہم چاہتے ہيں كہ بالي وڈ كے تمام سيليبريٹيز اور پروڈيوسرز ايك سيلفي كے ليے سٹيج پر ايك ساتھ جمع ہوں، تاكہ دنيا بھر كے كروڑوں لوگ اس دوستي كو ديكھ سكيں۔‘‘ انھوں نے آسكر طرز كي ہي ايك سيلفي لي جو بھارتي ميڈيا كي سرخي بني۔
واضح رہے كہ يہ پہلا موقع نہيں ہے كہ جب اسرائيل نے بھارت كي معروف فلم انڈسٹري كو اپني طرف راغب كرنے كي كوشش كي ہو۔ ان كے اس دورے سے پہلے بھي اسرائيل بالي وڈ كو اپني طرف راغب كرنے كي كئي كوششيں كر چكا ہے اور اسرائيل ميں بالي وڈ كي فلموں كي شوٹنگ كے ليے اشتہار بھي شائع ہوئے ہيں۔ گزشتہ دسمبر ميں ہي بالي وڈ كے فلمسازوں پر مشتمل ايك وفد نے تل ابيب كا دورہ كيا تھا جس ميں معروف فلم ڈائريكٹر امتياز علي بھي شامل تھے۔ اس كي دعوت اسرائيلي حكومت نے دي تھي اور اہتمام اس كي وزارت خارجہ كے محكمہ ثقافت نے كيا تھا۔
اسرائيلي وزير اعظم كا كہنا تھا كہ ان كي كوشش ہے كہ بالي وڈ اپني فلميں ان كے ملك ميں بھي شوٹ كرے اور اس كے ليے انہوں نے بطور خصوصي رقم كا بھي اہتمام كيا ہے۔ انھوں نے كہا كہ بھارت كے ساتھ خصوصي ثقافتي رشتے قائم كرنے كي جو كوششيں ہيں اس ميں بالي وڈ بہت اہم ہے۔ نيتن ياہو كا كہنا تھا، ’’ميں آپ سے وعدہ كرتا ہوں كہ اگر آپ آئيں اور آپ كو مزيد مالي امداد دركار ہو تو وہ بھي ہم مہيا كريں گے۔ ہم چاہتے ہيں كہ بالي وڈ اسرائيل ميں ہو۔‘‘
دلچسپ بات يہ ہے كہ جو اداكار اور فلمساز نتن ياہو كے پروگرام ميں شركت كے ليے پہنچے تھے، انہيں سكيورٹي چيك پر ايك عام بالي وڈ فلم كے دورانيے سے بھي زيادہ وقت تك كے ليے قطار ميں كھڑا ہونا پڑا۔ ليكن سوال يہ ہے كہ اسرائيل كو بھارتي فلم انڈسٹري سے اس قدر پيار اور دلچسپي كيوں ہے اور وہ اس سے كيا حاصل كرنا چاہتا ہے؟
اس حوالے سے پروفيسر مونيش الگ، جو معاشيات كے ماہر ہيں ليكن بالي وڈ كي سياست پر ان كي گہري نظر رہتي ہے، نے كہا كہ ’’حاليہ دنوں ميں اسرائيل كے تعلق سے عالمي سطح پر جو واقعات پيش آئے اس سے يہ واضح ہے كہ معاشي اور دفاعي نكتہ نظر سے مضبوط ہونے كے باوجود اسرائيل اپني بيجا پاليسيوں كے سبب مقبول نہيں ہے بلكہ معتوب ہے اس ليے تہذيبي اور ثقافتي سطح پر اپني مقبوليت كے وہ تمام راستوں كي تلاش ميں ہے۔ اسرائيل كو معلوم ہے كہ بالي وڈ كي فلميں سينٹرل اور جنوبي ايشيا سے ليكر مشرقي وسطي تك مقبول ہيں اور وہ اس كي مدد سے ثقافتي طور پر اثر انداز ہونے كي كوشش كرے گا۔‘‘
پروفيسر مونيش كا اس حوالے سے مزيد كہنا تھا كہ ’’بھارت ميں اس وقت ہندو قوم پرست دائيں بازو كي جماعت كي حكمراني ہے اور نتن ياہو تو اس سے بھي آگے ہيں، تو دونوں ميں نظرياتي اتحاد كمال كا ہے۔ يہ سياست ميں موقع پرستي كي بہترين مثال ہے كہ ہر صورتحال كو اپنے مفاد كے ليے استعمال كيا جائے۔ بھارتي فلمي صنعت بھي مالي مفاد كے ليے ماضي ميں موقع پرستي كا مظاہرہ كرتي رہي ہے۔ تو خاموشي سے اور بتدريج تہذيب و ثقافت ميں سرائيت كرنے كي يہ ايك كوشش ہے۔ آخر فلميں شبيہہ كو بگاڑنے اور درست كرنے ميں بھي اہم رول ادا كرتي ہيں۔ تجارتي نكتہ نظر سے بھي اہم ہے اور اسرائيل اس سے فائدہ اٹھا سكتا ہے تو يہ ايك تير سے تين شكار والي بات ہے۔‘‘
ممبئي كے تاج محل ہوٹل ميں اسرائيل كي جانب سے ايك ويڈيو بھي پيش كي گئي جس ميں حيفہ، ايلات، مسادا، يروشلم اور تل ابيب كے كئي ايسے مقامات بھي پيش كيے گے جہاں فلموں كي شوٹنگ ممكن ہے۔ اسرائيل فلموں ميں ان مقامات كي تشہير سے اپني سياحت كو بھي فروغ دينے كا ارادہ ركھتا ہے۔ اس موقع پر بينجمن نيتن ياہو نے معروف فلم ساز كرن جوہر اور اپوروا مہتا كو اسرائيل ميں پہلي بار فلم شوٹ كرنے كے ليے ايك يادگار پيش كي۔
واضح رہے كہ كرن جوہر كي آنے والي فلم ’ڈرائيو‘ كا ايك نغمہ چند ماہ قبل تل ابيب ميں شوٹ كيا گيا تھا۔ يہ فلم ترون منسكھاني نے ڈائريكٹ كي ہے جس ميں سشانت سنگھ راجپوت اور جيكلين فرناڈيز جيسے اداكاروں نے كام كيا ہے۔ اب ديكھنا ہے يہ كہ بالي وڈ كا كون سا ہدايت كار پہلي بار اپني فلم كا بيشتر حصہ اسرائيل ميں شوٹ كرتا ہے اور وہ اسے كس انداز ميں پيش كرتا ہے۔
ماہرين كا كہنا ہے كہ جہاں بھارت ميں ہندو انتہا پسند جماعت بي جے پي كا راج ہے وہيں دوسري طرف اسرائيلي وزيراعظم بھي انتہاپسندي ميں كسي سے پيچھے نہيں جو اب بالي ووڈ كے ذريعے بھارتي تہذيب و ثقافت ميں خاموشي سے سرائيت كرنے كي كوشش كررہا ہے جو خطے كے ديگر ممالك بالخصوص مسلمان ممالك كيلئے لمحہ فكريہ ہے۔
دن كي تصوير
حرم امام حسين عليہ السلام   
ويڈيو بينك