نا اہل سياستدانوں نے ملكي ترقي و استحكام كو انانيت اور مفاد پرستي كي بھينٹ چڑھا ديا، علامہ راجہ ناصر عباس جعفري

تاریخ اشاعت:04/11/1396
علامہ راجہ ناصر عباس جعفري نے مركزي سيكرٹريٹ ميں پريس كانفرنس سے خطاب كرتے ہوئے كہا ہے كہ گلگت بلتستان كے عوام كا استحصال اگر نہ ركا تو وزير اعلي كے خلاف تحريك عدم اعتماد لائي جائے گي۔
اسلام آباد( )مجلس وحدت مسلمين پاكستان كے مركزي سيكرٹري جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفري نے مركزي سيكرٹريٹ ميں پريس كانفرنس سے خطاب كرتے ہوئے كہا ہے كہ گلگت بلتستان كے عوام كا استحصال اگر نہ ركا تو وزير اعلي كے خلاف تحريك عدم اعتماد لائي جائے گي۔جي بي كے وزير اعلي اپني آئيني اختيارات كا غلط استعمال كر رہے ہيں ۔ علاقے كے عوام كو بنيادي ضروريات زندگي كي حاصل نہيں۔جب كہ وزير اعلي كي طرف سے عوام كو را كا ايجنٹ قرار دے كر ان كي حب الوطني پر انگلي اٹھائي جا رہي ہے۔ گلگت بلتستان ميں حالات كو دانستہ خراب كرنے كي كوشش كامياب نہيں ہونے دي جائے گي۔گلگت بلتستان ميں ناانصافيوں كا سلسلہ عوام كے اضطراب كا باعث ہے۔ سي پيك گلگت بلتستان سے گزر رہا ہے اور انہيں نظر انداز كيا جا رہا ہے. جي بي كے وزير اعلي نے عوام كو را كا ايجنٹ كہہ كر عوام كي توہين كي ہے ۔گلگت بلتستان سے بھي كرپٹ وزير اعلي كو ہٹانے كے لئے مہم شروع ہوچكي ہے۔جو نتيجہ خيز ثابت ہو گي۔بلوچستان ميں نواز حكومت كا خاتمہ دراصل اس رعونت كا خاتمہ ثابت ہواجس نے عوام كو سوائے احساس محرومي كے اور كچھ نہيں ديا۔بلوچستان حكومت كے خاتمے ميں ہمارا كليدي كردار رہا ہے۔ہم نے ہميشہ ايسي قوتوں كي مخالفت كي ہے جو عوامي مشكلات كے ازالے كي بجائے ذاتي مفادات كو مقدم سمجھتي رہيں۔ دہشت گرد طاقتيں اور تكفيري گروہ وطن عزيز كي سلامتي كے ليے سب سے بڑا خطرہ ہيں۔يہ ملك و قوم كو نقصان پہنچانے كا كوئي موقعہ ہاتھ سے جانے نہيں ديتے۔ڈي آئي خان كو ان مذموم عناصر نے تختہ مشق بنا ركھا ہے۔ خيبرپختونخواہ كي ’’ماڈرن پوليس‘‘كے بلند و بانگ دعوے محض طفل تسيلياں ثابت ہو رہي ہيں۔ڈير اسماعيل خان ميں پوليس كي نااہلي حكومت كي ناكامي كي دليل ہے۔انہوں نے كہا كہ قيام پاكستان كے ليے جدوجہد كرنے والي جماعت پاكستان مسلم ليگ كي شناخت كو مجروح كيا جا رہا ہے۔نا اہل سياست دانوں نے ملك كے ترقي و استحكام كو اپني انانيت اور مفاد پرستي كي بھينٹ چڑھا ديا ہے۔نون ليگ اداروں كو تصادم پر اكسانے كي كوششوں ميں مصروف ہے۔
اداروں كو للكار كر حسينہ واجد كا كردار پاكستان ميں بھي دہرايا جا رہا ہے۔اداروں كے خلاف شكوك و شبہات پيدا كر كے انہيں كمزور كرنا مسلم ليگ نون كا ماضي بھي شيوہ رہا ہے۔اب عوام مسلم ليگ كے كھوكھلے نعروں كي حقيقت جان چكے ہيں اور ان مسترد شدہ سياست دانوں كے جذباتي نعروں ميں نہيں آئيں گے۔انہوں نے كہا كہ ختم نبوت كے قانون ميں تبديلي كي كوشش استعماري طاقتوں كي خوشنودي حاصل كرنے كا حربہ تھا جسے پاكستان كي عوام نے ناكام بنا ديا ۔ اس حوالے سے راجہ ظفر الحق رپورٹ كو وعدے كے مطابق شائع نہ كركے حكومت نے بدديانتي كا مظاہرہ اور اپني بدنيتي كو آشكار كيا ہے۔ماڈل ٹاؤن شہدا كے ورثاء تاحال انصاف كے منتظر ہيں۔جسٹس باقر نجفي رپورٹ ميں ظالموں كو بے نقاب كيا گيا ہے۔۔انصاف كي فراہمي ميں تاخير غم زدہ خاندانوں كے زخموں پر نمك پاشي كے مترادف ہے۔يہ ظالم حكومت ہے جو احتجاج كا آئيني حق استعمال كرنے والوں پر لاٹھي گولي كے استعمال كو اپنا حق سمجھتي ہے۔عوام كي جان و مال اور ناموس كئي بھي محفوظ نہيں ۔ ملك ميں جرائم كي شرح ميں ناقابل بيان حد تك اضافہ ہوا ہے۔ قصور ميں معصوم بچي پر ڈھائے جانے والے مظالم كے ذمہ دار ابھي تك پوليس كے قابو ميں كيوں نہيں آ سكے۔
انہوں نے كہا كہ نواز شريف جب بھي دباؤ كا شكار ہوتے ہيں ملك كے سرحدي حالات كشيدہ ہو جاتے ہيں ۔نواز شريف بھارت كے خلاف لب كشائي كي ہمت كيوں نہيں كرتے۔انہيں ملك سالميت سے زيادہ بھارت كے ساتھ اپنے تعلقات عزيز ہيں۔ نواز شريف كے بيٹے عوام كي لوٹي ہوئي دولت سے بيروني ملك ميں بزنس كر رہے ہيں اور پاكستان شہريت سے انكاري ہيں جب كہ باپ پاكستان ميں اقتدار كے مزے لوٹنے ميں مصروف ہے۔ جو ملك و قوم كے ساتھ زيادتي ہے۔پاكستان ميں كسي مجيب الرحمن كي اب قطعي گنجائش نہيں ہے۔پاكستان كي محب وطن سياسي و مذہبي قوتيں ملكي سالميت پر كسي قسم كي آنچ نہيں آنے ديں گي۔ انہوں نے كہا كہ مجلس وحدت المسلمين كرپشن فري اور جمہوري پاكستان پر يقين ركھتي ہے۔ پريس كانفرنس ميں مجلس وحدت مسلمين بلوچستان كے ممبر صوبائي اسمبلي و وزير قانون آغا رضا، جي بي كي رہنما سليمہ بي بي ، مركزي ڈپٹي سيكرٹري جنرل سيد ناصر شيرازي سميت ديگر رہنما بھي موجود تھے۔
دن كي تصوير
حرم حضرت زينب سلام‌الله عليها   
ويڈيو بينك