وہ ايك ماں تھي…..

تاریخ اشاعت:13/11/1396
كچھ ايسا ہي توتھا كہ وہ ان بچوں ہي كي نہيں ہم سب كي ماں تھي ہماري خلقت اسي كے وجود كي رہين منت تھي بلكہ پوري كائنات اسي كے طفيل ميں خلق كي گئي وہ محورِ كائنات تھي وہ نقطۂ پركارحيات عالم تھي۔ وہ فاطمہ(سلام عليہا) تھي۔
گھر ميں سناٹا چھايا ہو اتھا بچے اور شوہر باہر گئے ہوئے تھے وہ تنہا تھي اور اپنے حجرے ميں بند اپنے رب سے ملاقا ت كے لئے اپنے آپ كو آمادہ كر رہي تھي۔ اور اپنے مالك كي تسبيح و تہليل ميں مصروف تھي اس كے پردہ ذہن پر ماضي كے واقعات يكے بعد ديگر آتے جارہے تھے۔
اس كے بابا جب سے اس دنيا سے گئے تھے دنيا اس سے دشمني پر اتر آئي تھي ابھي بابا كي وفا ت كو چند ہي دن گزرے تھے كہ اس نے ديكھا اس كا شوہر اس كا ہمدم اس كامونس نہ جانے كن سوچوں ميں گم سر جھكائے گھر كے كونے ميں بيٹھا ہے وہ قريب گئي۔
علي! نظريں اٹھاؤميري طرف ديكھو۔
علي ! ديكھويہ كون ہے
علي يہ وہي ہے جس كو پاكر تم نے سجدۂ شكر ادا كيا تھا ۔
علي يہ وہي تو ہے جس سے تم سب كچھ بيان كر ديا كرتے تھے .
علي ! يہ وہي ہے جس كو ديكھ كر تم اپنا درد اپنا الم بھول جايا كرتے تھے مگر آج تمھيں كيا ہوگيا ہے ۔
تم اپنے غم كو مجھ سے نہيں بتاؤ گے تو پھركس سے كہوگے ؟
 علي نے اپني آنكھوں ميں اتر آنے والے آنسوؤں كو اپنے اندر پيتے ہوئے نظريں اٹھائيں... لرزتي پلكوں تھرتھراتے وجود كے ساتھ اپني شريكۂ حيات كي طرف ديكھا
 آنكھوں ميں ياس و اميد كے نہ جانے كتنے چھوٹے چھوٹے ديئے روشن تھے
 علي  ان كو اسي طرح روشن ديكھنا چاہتے تھے سو جلدي سے اپني نظريں جھكا ليں علي نہيں چاہتے تھے كہ ان كي جان سے زيادہ عزيز رفيقہ حيات اس سے زيادہ دكھ جھيلے بس اتنا كہا پارۂ قلب رسول!
اور آنسووں كي ايك لڑي فاتح خيبر كے رخساروں پر ڈھلكتي چلي گئي شايد علي كے يہ قطرہ ھائے اشك زبان بے زباني سے فرياد كر رہے ہوں ۔۔۔ ائے دختر رسول علي كو معاف كرنا كہ تيرے رخسار پرطمانچہ لگا ميں كچھ نہ كر سكا ،تيرے بازوؤں پر تازيانے مارے گئے مگر مجھ سے كچھ نہ ہو سكا۔ تيري پسلياں ٹوٹ گئيں مگر ميں كچھ نہ كرسكا ، ميں كيا كروں جب تيرے اوپر يہ مظالم ہو رہے تھے تو ميرے گلے ميں رسي كا پھندا تھا ميرے ہاتھ بندھے تھے۔ ۔۔۔ اپنے آنسؤوں كو روكنے كي ناكام كوشش كرتے ہوئے علي بلك بلك كر رو رہے ہيں ۔ بس اتنا ہي كہااے مادرِ حسنين ! مجھے معاف كردو اور فرط غم سے علي نڈھال ہو گئے... اور وہ اس فولاد پيكر كو ديكھتي رہي جو اندر ہي اندر كرچي كرچي ہو چكا تھا۔ يہ تو ماضي كي ايك تصوير تھي جو پردہ ذہن پر آكراسےدرد كي كربناك اذيتوں ميں تڑپتا چھوڑ كر چلي گئي تھي پھر نہ جانے كتني ہي تصوير يں ان كے ذہن پرآتي رہيں اور وہ اندروني در د سے تڑپتي رہي۔ اور پھر دھيرے دھيرے ماضي كي يادوں كے دريچے بند ہونے لگے اب ان كو ايسا لگ رہا تھا جيسے ان كي روح نكلنے ہي والي ہو انہوں نے اشارے سے خادمہ كو قريب بلايا اور كہا اب ميں چند لمحوں سے زيادہ زندہ نہيں رہ سكتي جب ميرے بچے آئيں تو پہلے ان كو كھانا كھلادينا پاني پلادينا اور اس كے بعد ميرے بارے ميں كچھ بتانا اور علي ... نہ جانے وہ كيا كہنا چاہتي تھيں كہ ان كي آواز نے ہونٹوں تك آتے آتے دم توڑ ديا اور ان كے تارہائے انفاس ٹوٹ گئے۔۔۔ اب  وہ اس قيد خانے سے رہا ہو كر اپنے بابا كے پاس جا چكي تھيں۔
                                             ۔۔۔۔۔
 ننھےننھے بچے اپنے چھوٹے چھوٹے قدم بڑھاتے ہوئے گھر ميں داخل ہوئے۔ گھر ميں آتے ہي دونوں نے ہم صدا ہو كر آواز دي اماں ... اماں ہم آگئے... اماں ! ہمارے سلام كا جواب كيوں نہيں ديتيں بچے ابھي اماں كو تلاش ہي كررہے تھے كہ گھر كي خادمہ قريب آئي دونوں كے سروں پر ہاتھ ركھا دونوں كو پيار كيا اور اپني آغوش ميں ليكر صحن خانہ ميں آئي اوركہا بچو! پہلے كھانا كھالوپھر اماں سے بعد ميں مل لينا بچوں نے يك  صدا ہوكر كہا اسما! كيا تم نے كبھي ديكھا ہے كہ ہم نے اپني ماں كے بغير كھانا كھاياہو اسما ء جب تك ہم اماں كي آغوش ميں نہ جائيں گے كھانا نہيں كھا سكتے اسما ء جو ابتك ضبط كا باندھ باندھے بچوں سے خندہ پيشاني كے ساتھ مل رہي تھي اب اپنے آپ كو نہ روك سكي اور رو پڑي ہچكيوں او رٹپكتے آنسوؤں كو روكنے كي ناكام كوشش كرتے ہوئے اسماء نے جو كچھ كہا اس كوسن كر بچوں نے بس يہي كہا اماں!!! ننھے ننھے بچوں كي آواز ہوا كے دوش پر بلند ہو كر نہ جانے كتني دور تك گئي... مگر ہاں پھر ايسا لگا جيسے ہر اك چيز گريہ كررہي ہو ۔ دروديوار رورہے ہوں آسمان آنسوبہا رہا ہو زمين ہچكياں لے رہي ہو... ہر طرف سے بس ايك ہي آواز آرہي تھي ماں! ماں!ماں! ايسا لگ رہا جيسے تھا ان بچوں كے ساتھ كائنات كا ذرہ ذرہ رو رہا ہوايسا محسوس ہورہا تھا جيسے ان بچوں كي نہيں كائنات كي ماں اس دنيا سے چلي گئي ہو۔ اور ايسا ہي تھا... كچھ ايسا ہي توتھا كہ وہ ان بچوں ہي كي نہيں ہم سب كي ماں تھي ہماري خلقت اسي كے وجود كي رہين منت تھي بلكہ پوري كائنات اسي كے طفيل ميں خلق كي گئي وہ محورِ كائنات تھي وہ نقطۂ پركارحيات عالم تھي۔ وہ فاطمہ(سلام عليہا)  تھي۔ حقيقي معني ميں  وہ ايك ماں تھي۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دن كي تصوير
حرم امام حسين عليہ السلام   
ويڈيو بينك