ٹارگٹ كلنگ كے بڑھتے ہوئے واقعات ’’ مثالي پوليس‘‘ كي ناكامي كا منہ بولتا ثبوت

تاریخ اشاعت:22/11/1396
ڈي آئي خان ميں ٹارگٹ كلنگ كے بڑھتے ہوئے واقعات ’’ مثالي پوليس‘‘ كي ناكامي كا منہ بولتا ثبوت ہے : علامہ راجہ ناصر جعفري
اسلام آباد( )مجلس وحدت مسلمين پاكستا ن كے مركزي سيكرٹري جنرل علامہ ناصر عباس جعفري نے ڈيرہ اسماعيل خان ميں حاليہ دنوں ميں جاري مسلسل دہشت گردي اور ٹارگٹ كلنگ كے واقعات پر گہرے غم و غصے كا اظہار كرتے ہوئے كہا كہ خيبر حكومت عوام كو تحفظ دينے ميں ناكام ہوچكي ہے۔ ڈي آئي خان ميں ٹارگٹ كلنگ كے بڑھتے ہوئے واقعات ’’ مثالي پوليس‘‘ كي ناكامي كا منہ بولتا ثبوت ہے ،ڈي آئي كو دہشتگردوں كے رحم و كرم پہ چھوڑ ديا گيا ہے وہاں كوئي محفوظ نہيں ہمارہ مطالبہ ہے كہ ڈي آئي خان كو فوج كے حوالے كياجائے اور چيف جسٹس آف پاكستان ٹارگٹ كلنگ كا نوٹس ليں ۔جب تك دہشت گردوں كے فكري رہنماؤں اور سہولت كاروں كو قانون كے شنكجے ميں نہيں كسا جاتا تب تك دہشت گردي كے خلاف اقدامات سے خاطر خواہ نتائج برآمد كرنا ممكن نہيں۔محكمہ پوليس كي غفلت اورفرض نا شناسي كے باعث ڈي آئي خان مكتب تشيع كي قتل گاہ بنا ہوا ہے اس وقت ڈيرہ اسماعيل خان ميں دہشتگردوں كے دفاتر كھل چكے ہيں اب وہاں پر عام آدمي كو قتل كيا جا رہا ہے ركشہ ڈرئيور،مزدور اور دوكاندار جيسے افراد ان كے نشانہ پر ہيں ،ان كا كہنا تھا شيعہ سني كا مسئلہ نہيں ہے ۔گزشتہ كئي سالوں سے ہمارے لوگوں كو نشانہ بنايا جا رہا ہے۔ہم نہ صرف دہشت گردي كا شكار ہے بلكہ پوليس كے نارواسلوك سے بھي اذيت ميں بھي مبتلا ہے۔دہشت گرد ہماري لاشيں گرا رہے ہيں اور سيكورٹي ادارے اورپوليس الٹا ہمارے ہي لوگوں كو ہراساں كرتي ہوئي نظر آتي ہے۔انہوں نے تحريك انصاف كے سربراہ سے عمران خان سے مطالبہ كيا ہے كہ صوبے ميں امن و امان كي بگڑتي ہوئي صورتحال پر خيبر پختونخواہ كے وزير اعلي سے وضاحت طلب كي جائے ۔وزير اعلي خيبر پختونخواہ كے پاس اتنا وقت بھي نہيں وہ عوام كو تحفظ فراہم كر نے كے اقدامات كريں اور شہدا كے گھروں ميں جا كر اہل خانہ كي داد رسي كر سكيں۔ ڈي آئي خان كي ہر شاہراہ پر پوليس كے ناكے اور مسلسل گشت كے باوجود اس طرح كے واقعات كا رونما ہونا ہمارے ليے شكوك و شبہات كا باعث ہے۔حكومت ہمارے كے خون كو سستا سمجھ رہي ہے۔ حكومت ٹارگٹ كلنگ كے واقعات پر قابو پانے كے ليے موثر حكمت عملي طے كرے۔ہميں ضرب عضب اور ردالفساد ،دہشت گردوں كے خلاف آپريشن كي حمايت اور حب الوطني كي سزا نہ دي جائے ۔ڈي آئي خان ميں دہشت گردي كے بڑھتے ہوئے واقعات انتہا پسندوں اور سہولت كاروں كے خلاف بھرپور آپريشن كا تقاضہ كر رہے ہيں۔دہشت گردي كے خلاف جاري جنگ كے موثر نتائج اس وقت تك حاصل نہيں ہو سكتے جب تك كالعدم مذہبي جماعتوں سے دوستانہ تعلقات كا كھلم كھلا دعوي كرنے والے عناصر كو ملك دشمن قرار دے كر ان كے خلاف بھرپور كاروائي نہيں كي جاتي۔پاكستان تحريك انصاف كي قيادت كو چاہيے كہ وہ صوبے كي بگڑتي ہوئي صورتحال كا نوٹس لے اور وہاں كے مظلوم عوام كو دہشت گردوں اور ان كے سرپرستوں سے تحفظ فراہم كريں۔۔انہوں نے دہشت گردي كي حاليہ كاروائي كي شديد مذمت كرتے ہوئے واقعات كے ذمہ داروں كي فوري گرفتاري كا مطالبہ كيا۔اُنہوں نے كہا كہ يہ طرز حكومت ہمارے ليے كسي طور قابل قبول نہيں۔ ڈيرہ اسماعيل خان ميں دہشت گردوں كي سركوبي اور پاكستان كے تحفظ كے ليے حكومت كو اپنا آئيني كردار موثر انداز ميں ادا كرنا ہو گا۔دہشت گردي كے تدارك كے ليے ضروري ہے كہ ان دہشت گرد ساز فيكٹريوں كے خلاف آپريشن كيا جائے جہاں ناپختہ ذہنوں كي ايسے خطوط پر فكري رہنمائي كي جا رہي جس پر چل كر وہ ملك و قوم كے خلاف كاروائيوں كو عين عبادت تصور كرتے ہيں۔ شہيد وں كے بلندي درجات اور اہل خانہ كے ليے صبر جميل كي دعا كي ہے۔
دن كي تصوير
مسجدالنبي صلي‌ الله‌ عليہ و آله   
ويڈيو بينك