عشرہ فجر كا دسواں دن تاريخ كے آئينے ميں

تاریخ اشاعت:22/11/1396
انقلاب اسلامي كي كاميابي كي سالگرہ عشرہ فجر كا دسواں دن، جس كے اگلے دن ظالم شاہي حكومت پر عوامي تحريك كي كاميابي كے ترانے فضا ميں گونج رہے تھے، يہ دن تاريخ ايران كا انتہائي دشوار اور خونيں دن تھا۔ تو آئيے دس فروري انيس سو اناسي كے اہم واقعات پر ايك نظر ڈالتے ہيں۔
انقلاب اسلامي كي كاميابي كي سالگرہ عشرہ فجر كا دسواں دن، جس كے اگلے دن ظالم شاہي حكومت پر عوامي تحريك كي كاميابي كے ترانے فضا ميں گونج رہے تھے، يہ دن تاريخ ايران كا انتہائي دشوار اور خونيں دن تھا۔ تو آئيے دس فروري انيس سو اناسي كے اہم واقعات پر ايك نظر ڈالتے ہيں۔
نو فروري كي رات فضائيہ كے جوانوں اورشاہي گارڈ كے اہلكاروں كے درميان شديد جھڑپيں شروع ہوئي تھيں جو د س فروري كو زيادہ شدت كے ساتھ جاري رہيں۔ دس فروري انيس سو اناسي كو دوشان تپہ چھاوني سے ايمبولينس كے ذريعے نكلنے ميں كامياب ہونے والے ايك كيڈٹ نے چھاوني ميں شديد جھڑپوں كي خبرعوام كو پہنچائي۔ يہ فوجي كيڈٹ اپنے ساتھ متعدد ہتھياربھي چھاوني سے ليكر آيا تھا جو اس نے لوگوں ميں تقسيم كرديئے اوراس طرح پہلي بارعوام كے ہاتھوں ميں ہتھياردكھائي ديئے۔
تہران كے پوليس كمانڈر نے اعلان كيا كہ شہر ميں كرفيو كے نفاذ ميں گيارہ فروري كي دو پہر بارہ بجے تك توسيع كردي گئي ہے۔ امام خميني رح نے شاہي حكومت كے اعلان پر سخت ردعمل ظاہر كرتے ہوئے فرمايا كہ سركاري اعلاميہ غيرشرعي ہے اور عوام كسي بھي صورت ميں كرفيو كي پابندي نہ كريں۔ اس كے بعد شہر كے كئي تھانے عوام كے ہاتھوں سقوط كرچكے تھے۔ تہران كے پوليس كمانڈر ليفٹيننٹ جنرل رحيمي نے اپنے زير كمان دستوں كوحكم ديا كہ وہ آيت اللہ طالقاني اور مہدي بازرگان سميت تمام انقلابي رہنماؤں كو في الفورگرفتاراورہوائي جہاز كے ذريعے ملك كے كسي جزيرے ميں منتقل كرديں۔
اسي دوران عوام نے، فرح آباد ميں، فضائيہ كے مقابلے كے ليے جانے والے كئي ٹينكوں اور بكتر بندگاڑيوں كو ناكارہ بناديا۔ فضائيہ كے جوانوں اور شاہي گارڈ كے درميان گزشتہ رات شروع ہونے والي جھڑپيں دس فروري كي دوپہر تك جاري رہيں۔ صبح دس بجے كے قريب فضائيہ كے اسلحہ ڈپو كے دروازے عوام كے ليے كھل گئے۔ ہزاروں كي تعداد ميں پلے كارڈ اور ہاتھ سے لكھے ہوئے پرچے شہر بھر ميں پھيل گئے جن پر لكھا تھا كہ فوجي خدمت كا سرٹيفيكٹ ركھنے والے لوگ اسلحہ حاصل كرنے كے ليے فضائيہ كي چھاوني پہنچ جائيں۔ قزوين سے فوج كابكتر بند بريگيڈ، كرفيو كے نفاذ كو سخت بنانے كے ليے شہر ميں داخل ہوا ليكن سپہ ہائي وے پرعوام نے اس كا راستہ روك ديا۔ تہران كے نواحي علاقوں كے لوگوں نے شہر ميں داخلے كے تمام راستے روكاوٹيں كھڑي كركے بند كرديئے تھے تاكہ فوجي كمك شہر كے اندرنہ پہنچنے دي جائے۔ اخبارات ايك دن ميں دو دو، تين تين ضميمے شائع كر رہے تھے ، جو ہر شخص كے ہاتھ دكھائي ديتے تھے۔
امريكي صدر جمي كارٹر كے قومي سلامتي كے مشير برژينسكي نے، رات گئے، امريكي وزير جنگ جنرل براؤن، اور سي آئي اے چيف جنرل ٹرنر كے سامنے ايران ميں بغاوت كا منصوبہ پيش كيا اور ان كي منظوري حاصل كي۔ اس كے بعد دو روز پہلے ہي ايران سے بھاگنے والے جنرل ہائزر سے ملاقات كي تا كہ اس سازش كو كامياب بنانے كے ليے فوج كي آمادگي كے بارے ميں معلومات حاصل كي جائيں۔ ليكن لاكھوں كي تعداد ميں مرد و خواتين تہران كي سڑكوں پر نكل آئے اور انہوں نے فوج كي جانب سے كسي بھي طرح كے اقدام كا امكان چھين ليا۔ ايران كے اكثر شہروں ميں عوام اور فوج كے درميان بھرپور جھڑپيں ہو رہي تھيں۔ اسپتال شہيدوں اور زخميوں سے بھرے پڑے تھے، نيشنل ڈاكٹرز آرگنائيزيشن كے مطابق رات بارہ بجے تك تہران ميں ايك سو چھبيس افراد شہيد اور چھے سو چونتيس زخمي ہوئے تھے۔ اگلي صبح طلوع ہونے سے پہلے، بحريہ كے جوان بھي فضائيہ كے جوانوں سے آملے تھے جبكہ بري فوج كے بہت تھوڑے سے سپاہي شاہي حكومت كي وفاداري پراڑے ہوئے تھے ليكن ان كي طاقت مسلسل گھٹتي جارہي تھي كيونكہ فوج كے اكثر جوان عوام كي صفوں ميں شامل ہوچكے تھے۔
شاہي حكومت كے آخري وزيراعظم بختيار نے كيھان انگلش ايڈيشن سے گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ قانوني طريقے سے اور آئين ساز اسمبلي كے ذريعے شاہي نظام حكومت كو جمہوريت ميں تبديل كرنے كا امكان موجود ہے۔ شاہي حكومت كے آخري وزيراعظم بختيار نے، جس نے گزشتہ روز استعفي دينے سے انكار كرديا تھا، دس فروري كو سينيٹ كے اجلاس ميں اعلان كيا كہ وہ انقلابي حكومت كے ساتھ مذاكرات كے ليے تيار ہے۔
دن كي تصوير
كعبہ
ويڈيو بينك