آل سعود ـ آل نہيان غوطہ شرقيہ ميں شامي افواج كي كاميابيوں سے تشويش ميں مبتلا/ انہيں دہشت گردوں كي اتني فكر كيوں ہے؟

تاریخ اشاعت:07/12/1396
دارالحكومت دمشق كے نواح ميں آل سعود ـ آل نہيان ـ يہودي رياست اور امريكہ كے حمايت يافتہ تكفيري دہشت گردوں كا صفايا قريب ہونے پر حامي عرب رياستوں كو تشويش ہے۔
چار مئي 2017 كو ايران، روس اور تركي نے ـ قزاقستان كے دارالحكومت آستانہ ميں ـ شام كے تناؤ گھٹانے كے چار علاقوں ميں جنگ بندي كے عمل كي نگراني كے معاہدے پر دستخط كئے۔
شمالي علاقہ (بشمول ادلب اور حماہ اور حمص كے كچھ علاقے)، جنوب (بشمول قنيطرہ اور درعا)، مغربي علاقہ اور شہر دمشق كا نواحي علاقہ غوطہ شرقيہ جيسے نقاط اس معاہدے ميں شامل تھے اور تينوں ممالك نے ان علاقوں ميں حكومت اور دہشت گردوں كے درميان مفاہمت كے عمل كي نگراني سے اتفاق كيا۔
اس معاہدے كے تحت ايران اور روس كو شام كي سركاري افواج اور تركي كو نام نہاد معتدل دہشت گردوں كي كاركردگي پر نظر ركھنا تھي اور اگر زير نگراني فورسز كي طرف سے كوئي خلاف ورزي ہوتي تو معاہدے كے فريق ممالك جواب دہ ہوتے۔
مذكورہ معاہدے كے تحت داعش، القاعدہ اور جبہۃ النصرہ معتدل دہشت گردوں ميں شامل نہيں تھے اور حكومت ان پر كہيں بھي اور كسي بھي وقت حملہ كرسكتي تھي۔
گوكہ معاہد زد پذير تھا ليكن مغرب اور تركي كے حمايت يافتہ دہشت گرد اس معاہدے كي طرف مائل ہوئے جس كے بعد ماسوائے دہشت گردوں كے زير قبضہ علاقوں كے، پور ملك شام ميں كسي حد تك سكون بحال ہوگيا تھا۔
غوطہ شرقيہ چونكہ دارالحكومت كے نواح ميں واقع ہے لہذا يہاں پر موجود دہشت گرد ٹولوں كي وجہ سے دمشق سركار فكرمند تھي اور دہشت گرد ٹولے اور اس كے خليجي اور اسرائيلي حامي اس علاقے كو "اسد سركار كي آنكھ ميں كانٹا" كہا كرتے تھے۔ اس علاقے ميں مختلف النوع دہشت گرد ٹولوں نے گھونسلے بنا ركھے ہيں اور يہ لوگ 2011 ميں مغربي ـ صہيوني فتنہ انگيزي كے آغاز سے ہي بسيرا كئے ہوئے ہيں۔ غوطہ شرقيہ دمشق كے بين الاقوامي ہوائے اڈے كے قريب واقع ہے۔
شامي افواج نے ـ شہر دمشق اور ہوائي اڈے كو يہاں چھپے ہوئے دہشت گردوں سے شديد خطرہ لاحق ہونے كي بنا پر ـ 2013 ميں اس علاقے كو گھير ليا اور 315 كلوميٹر مربع كے اس علاقے ميں سے 200 كلوميٹر كا علاقہ "جبہۃ النصرہ، فيلق الرحمن، اور جيش الاسلام" نامي تكفيري دہشت گردوں سے آزاد كراليا۔ اور باقيماندہ علاقہ "تناؤ كم كرنے كا علاقہ" گردانا گيا۔
اس معاہدے كي بنا پر غوطہ شرقي ميں مسلح دہشت گردوں كے سر سے نابودي كا خطرہ ٹل گيا اور يہ علاقہ بايں حال حكومت شام پر دباؤ ڈالنے كا آخري علاقہ تھا جہاں كافي عرصے تك سكون بحال ہوا تھا اور دہشت گرد سكون كا سانس لينے لگے تھے۔
معاہدے پر عملدرآمد شروع ہوا تو سركاري افواج اور مزاحمت كي افواج نے اپني تمام تر توجہ ان علاقوں پر مبذول كردي جو داعش اور القاعدہ كي شاخ "جبہۃ النصرہ" كے قبضے ميں تھے اور ان كے خلاف كاروائي كے لئے كسي قسم كي كوئي ركاوٹ نہيں تھي۔
دريں اثناء غوطہ ميں موجود دہشت گرد ٹولوں نے معاہدے سے اتفاق كے باوجود دمشق كے رہائشي علاقوں پر راكٹ اور مارٹر حملوں كا سلسلہ شروع كيا اور 2012 سے لے كر آج تك اس علاقے سے شہر دمشق كے رہائشي علاقوں پر 14800 مارٹر گولے اور راكٹ داغے گئے ہيں جن كے نتيجے يں 11000 افراد ـ بلا تميز مذہب و رنگ و نسل ـ شہيد ہوچكے ہيں جن ميں 1500 بچے بھي شامل ہيں جبكہ 30000 افراد ان حملوں كے نتيجے ميں جسماني طور پر ناكارہ ہوچكے ہيں۔
ان حملوں كا تسلسل دہشت گردوں كي كاركردگي كے نگران ملك تركي كے كھاتے ميں آيا۔
دہشت گردوں نے گذشتہ ہفتے اتوار كو 80 اور سوموار كو 114 راكٹ اور مارٹر گولے دمشق پر فائر كئے جن ميں 13 افراد شہيد اور 77 زخمي ہوئے۔
دہشت گردوں نے معاہدے كي مسلسل اور ناقابل توجيہ خلاف ورزي كي تو سركاري افواج نے دہشت گردوں كي اس پناہگاہ كو ٹھكانے لگانے كي فكر لاحق ہوئي اور تازہ ترين رپورٹوں كے مطابق شامي افواج كے مشہور زمانہ اعلي افسر سہيل الحسن معروف بہ النمر (چيتا) بھاري ہتھياروں، فوجي گاڑيوں اور ديگر سازوسامان كے ايك بڑے قافلے كے ساتھ شمالي شام سے دمشق كے نواح ميں پہنچ چكے ہيں۔
سعودي عرب اور متحدہ عرب امارات سميت دہشت گردوں كے حامي عرب اور مغربي ممالك ـ جو دمشق ميں غوطہ كے دہشت گردوں كے خوني كھيل پر مكمل خاموشي اختيار كئے ہوئے تھے ـ كو زبردست انديشے لاحق ہوئے ہيں اور ان سب كے سفارتي نمائندے دي ميستورا ـ جو بظاہر شام كے امور ميں اقوام متحدہ كا ايلچي ہے ـ نے غوطہ شرقيہ ميں شامي افواج كي كاروائي سے تشويش ظاہر كرہے ہوئے دعوي كيا ہے كہ غوطہ شرقيہ دوسرے حلب ميں تبديل ہوجائے گا!
ادھر جنيوا مذاكرات ميں دہشت گردوں كے نمائندے "نصر الحريري" نے سلامتي كونسل سے كہا ہے كہ فوري مداخلت كركے شامي افواج كے جرائم كا سد باب كرے اور دمشق كے نواح ميں دہشت گردوں كا صفايا نہ ہونے دے۔
دوسري طرف سے فرانسيسي صدر اور اقوام متحدہ كے سيكريٹري جنرل نيز جرمن چانسلر كے ترجمان نے بھي غوطہ شرقيہ ميں شامي افواج كي كاروائي روكنے پر زور ديا۔
اسي اثناء ميں دہشت گرد اپنے زير قبضہ علاقوں ميں عوام كو دفاعي ڈھال كے طور پر استعمال كررہے ہيں اور عوامي ہلاكتوں كو بڑھا كر امريكہ كو شام پر حملہ كرنے پر اكسانے كے درپے ہيں۔
2013 ميں بھي دہشت گردوں نے كيمياوي گيس استعمال كركے غوطہ شرقيہ ميں سينكڑوں افراد كا قتل عام كيا، امريكہ نے شام پر حملہ كرنے كا اعلان كيا ليكن اسے ايسا كرنے سے اجتناب كرنا پڑا [جس كے اسباب معلوم ہيں] اور روس كي مدد سے شام كے كيمياوي ہتھيار تباہ كرديئے گئے۔
شام ميں دہشت گردوں كے مغربي ممالك ـ جو ابتدائے بحران سے شام كے لئے مختلف قسم كے خواب ديكھ رہے تھے ـ كو معلوم ہے كہ غوطہ شرقيہ كي آزادي سے دارالحكومت كے نواحي علاقوں ميں دہشت گردوں كا آخري ٹھكانہ بھي ختم ہوكر رہے گا اور يوں وہ حكومت شام پر دباؤ ڈالنے كا آخري حربہ بھي كھو جائيں گے اور غوطہ شرقيہ ميں چھپے ہوئے دہشتگردوں كو جلدي يا بدير ـ غوطہ غربيہ كي مانند ـ حكومت كے ساتھ مذاكرات كركے ہتھيار ڈالنا پڑيں گے اور انہيں ادلب ميں النصرہ فرنٹ كے دہشت گردوں كي پناہ ميں جانا پڑے گا يا پھر وہيں كہيں اپنے ہاتھوں تيار كردہ اجتماعي قبروں ميں دفن ہونا پڑے گا۔
دريں اثناء شامي افواج نے غوطہ شرقيہ ميں اعلاميے پھينكے ہيں اور يہاں رہنے والے نہتے عوام كو علاقے سے نكلنے كے پرامن راستے دكھائے گئے ہيں اور انہيں ہدايت كي گئي ہے كہ ہر قسم كے ناگوار حادثے سے بچنے كے لئے سركاري افواج كے ساتھ تعاون كريں۔
كل جمعرات كے دن ہي غوطہ شرقيہ ميں چھپے ہوئے دہشت گردوں نے دمشق كے نواح ميں برزۃ البلد پر ايك مارٹر گولہ پھينكا جس كے نتيجے ميں ايك بچہ شہيد ہوا؛ جبكہ الوافدين كيمپ كو كئي مارٹر گولوں كا نشانہ كر ايك بچے كو شہيد اور چھ مزيد بچوں كو زخمي كرديا۔ جرمانا كے علاقے پر بھي چار مارٹر گولے داغے گئے ہيں۔ ادھر تشرين اسٹيڈيم كے قريب البرامكہ كے علاقے پر گرنے والے گولوں كے نتيجے ميں متعدد شامي شہروں كے زخمي ہونے كي اطلاع ہے اور الجورہ پر گرنے والے مارٹر گولے كے پھٹنے سے چھ افراد زخمي ہوئے ہيں۔ دمشق پوليس كے مطابق ضہرالمسطاح كے علاقے پر گرنے والے ايك مارٹر گولے كے پھٹنے سے املاك كو زبردست نقصان پہنچا ہے۔
شام كي بعض ديگر خبريں:
دريں اثناء عفرين شہر ميں ـ جس كو تركي كي جارحانہ يلغار كا سامنا تھا ـ حكومت شام كے حامي فورسز تعينات ہوچكي ہيں اور وہاں كے عوام نے ان كا والہانہ استقبال كيا ہے۔
ادھر يورپي ممالك كے نمائندوں نے سعودي عرب كي طرف سے انتہا پسند دہشت گردوں كي حمايت پر كڑي تنقيد كي ہے۔
روس نے كہا ہے كہ دہشت گردوں كے حامي عرب اور مغربي ممالك ہي دمشق كے غوطہ شرقيہ ميں حالات كي خرابي كے ذمہ دار ہيں نہ كہ حكومت شام اور اس كے حلفاء۔
عفرين كے نواح ميں تركي كا ايك ٹينك شامي كردوں كے ہاتھوں منہدم / فري سيرين آرمي نامي دہشت گردوں نے جندريس شہر پر توپخانے كي گولہ باري كي ہے۔ اور كرد مدافعين نے اس ديرصوان كے علاقے ميں اس ٹولے كے درجنوں دہشت گردوں كو ہلاك كرديا ہے۔
حلب شہر كے مختلف علاقوں سے كرد مدافعين 100 گاڑيوں كے قافلے ميں شہر عفرين ميں داخل ہوئے ہيں۔
ترك فضائيہ نے عفرين كے نواحي ديہاتوں مريمين اور شرا پر بمباري كي ہے۔
عفرين پر چار ہفتوں سے جاري تركي افواج كا حملہ اب تك ناكام رہا ہے۔
حلب كے قريب الزيارہ نامي گذرگاہ كے قريب عوام كے لئے غذائي مواد لے جانے والے قافلے پر ترك فضائيہ كي گولہ باري ميں تين افراد زخمي ہوگئے ہيں۔
ادلب كے قريب حاس نامي شہر ميں جبہۃ النصرہ اور آزادي شام فرنٹ نامي دہشت گرد تنظيموں كے درميان گھمسان كي جنگ جاري ہے اور النصرہ ""جس كو تركي كے كہنے پر حال ہي ميں "تحرير الشام" كا نام ديا گيا ہے"" كے 17 دہشت گرد ہلاك ہوگئے ہيں۔
داعش كے متعدد دہشت گرد الحسكہ سے امريكي ہيلي كاپٹروں كے ذريعے شہر كے مشرق ميں واقع الہول كيمپ منتقل ہوچكے ہيں۔
صدر پيوٹن كے نمائندے اليكزينڈر لاورينتو نے دمشق ميں صدر بشار الاسد سے ملاقات اور دہشت گردي كے خلاف جنگ كے حوالے سے دو طرفہ تعاون نيز سوچي كانفرنس كے بارے ميں تبادلہ خيال كيا ہے۔
۔۔۔۔۔۔
دن كي تصوير
كعبہ
ويڈيو بينك