“يہودي ملك و ملت ” قانون كي منظوري، عرب مسلمانوں كے حقوق كي پامالي ہے: اسرائيلي اخبار

تاریخ اشاعت:16/12/1396
مقبوضہ فلسطين سے چھپنے والے اخبار ہاآرتض نے صہيوني رژيم كو تنقيد كا نشانہ بناتے ہوئے لكھا ہے كہ “يہودي ملك و ملت” كا قانون تعصب، نفرت اور امتيازي سلوك پر مبني ہے اور اس نے ڈيموكريسي كي دھجياں اڑا دي ہيں۔
جاثيہ نيوز كے مطابق، مقبوضہ فلسطين سے چھپنے والے اخبار ہاآرتض نے “يہودي ملك و ملت” كے قوانين كو تنقيد كا نشانہ بناتے ہوئے كہا ہے كہ اس قانون كے ذريعے مقبوضہ اراضي سے عربي زبان كو ہٹا كر عبراني زبان كو سركاري زبان قرار دينا، مساجد سے لاؤڈ اسپيكر پر اذان كو ممنوع قرار دينا اور اسرائيل كو صرف يہودي شہريوں كا ملك قرار دينا جمہوريت كي دھجياں اڑانے كے مترادف ہے۔
ہاآرتض نے اس قانون كو تعصب پسندانہ اور متعصبانہ قانون گردانتے ہوئے لكھا ہے كہ اس قانون سے يہ ثابت ہوتا ہے كہ يہودي اقدار جمہوري اقدار پر برتري ركھتے ہيں۔ يہ ايسے حال ميں ہے كہ اسرائيل نے اپنے وجود كے آغاز پر يہ تسليم كيا تھا كہ وہ يہودي اور غير يہودي شہريوں كو مساوي نگاہ سے ديكھے گا۔
واضح رہے كہ “يہودي ملك و قوم” كے قانون كا پہلا ورژن 10 مئي 2017 كو اسرائيل كي حاكم پارٹي ليكوڈ نے كينيسٹ ميں پيش كيا تھا جسے 48 موافق ور 41 مخالف آراء كے ذريعے منظور كر ليا گيا۔
اس قانون كے نہائي مرحلے كي منظوري كي صورت ميں، اسرائيل صرف يہودي عوام كا ملك ہو گا اور مقبوضہ فلسطين ميں عبراني زبان كو سركاري زبان حتي تعليم و تعلم كي زبان كا پہلا درجہ ديا جائے گا اور مساجد سے اذان كي آواز كے بلند كئے جانے پر پابندي عائد كر دي جائے گي۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دن كي تصوير
مسجدالنبي صلي‌ الله‌ عليہ و آله   
ويڈيو بينك