پيغمبر اسلام (ص) بي بي دوعالم (س) كا بہت احترام كرتے، ان كي پيشاني پر بوسہ ديتے اور انھيں اپني جگہ بٹھاتے تھے

تاریخ اشاعت:18/12/1396
حضرت فاطمہ زہرا (س) كے والد ماجد تاجدار رسالت ،ختمي مرتبت حضرت محمد مصطفي(ص) اور آپ كي والدہ ماجدہ حضرت خديجہ بنت خويلد ہيں. بي بي دوعالم كا نام فاطمہ اور آپ كے مشہور القاب زہرا ، سيدۃالنساء العالمين ، راضيۃ ، مرضيۃ ، شافعۃ، صديقہ ، طاھرہ ، زكيہ،خير النساء اور بتول ہيں۔آپ كي مشہور كنيت ام الآئمۃ ، ام الحسنين، ام السبطين اور امِ ابيہا ہے۔ پيغمبر اسلام (ص) بي بي دوعالم (س) كا بہت احترام كرتے ان كي پيشاني پر بوسہ ديتے اور انھيں اپني جگہ بٹھاتے تھے۔
ضرت فاطمہ زہرا (س) كے والد ماجد تاجدار رسالت ،ختمي مرتبت حضرت محمد مصطفي(ص) اور آپ كي والدہ ماجدہ حضرت خديجہ بنت خويلد ہيں. بي بي دوعالم كا نام فاطمہ اور آپ كے مشہور القاب زہرا ، سيدۃالنساء العالمين ، راضيۃ ، مرضيۃ ، شافعۃ، صديقہ ، طاھرہ ، زكيہ،خير النساء اور بتول ہيں۔آپ كي مشہور كنيت ام الآئمۃ ، ام الحسنين، ام السبطين اور امِ ابيہا ہے۔ ان تمام كنيتوں ميں سب سے زيادہ حيرت انگيز ام ابيھا ہے، يعني اپنے باپ كي ماں ، يہ لقب اس بات كا مطہر ہے كہ آپ اپنے والد بزرگوار كو بے حد چاہتي تھيں اور كمسني كے باوجود اپنے بابا كي روحي اور معنوي پناہ گاہ تھيں ۔
حضرت فاطمہ زہرا (س) كي ولادت باسعادت بعثت كے پانچويں سال ۲۰ جمادي الثاني، بروز جمعہ مكہ معظمہ ميں ہوئي ۔حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا پانچ برس تك اپني والدہ ماجدہ حضرت خديجۃ الكبري كے زير سايہ رہيں اور جب بعثت كے دسويں برس خديجۃ الكبريٰ عليہا السّلام كا انتقال ہو گيا تو اسكے بعد ختمي مرتبت كي آغوش آپ كي تربيت كا گہوارہ قرار پائي اور آپ نے رحمۃ للعالمين كے سائے ميں تربيت حاصل كي اور پيغمبر اسلام كي اخلاقي تربيت كا آفتاب تھا جس كي شعاعيں براهِ راست اس بے نظير گوہر كي آب وتاب ميں اضافہ كررہي تھيں . پيغمبر اسلام بي بي دوعالم كا بہت احترام كرتے تھے جب وہ محفل رسالت ميں حاضر ہوتي تھيں تو نبي كريم كھڑے ہوكر ان كا احترام كرتے ان كي پيشاني پر بوسہ ديتے اور انھيں اپني جگہ بٹھاتے تھے پيغمبر اكر م نے حضرت زہرا (س)كي عظمت و شان و شوكت كے بارے ميں متعدد احاديث بيان كي ہيں۔ آنحضور نے ايك حديث ميں فرمايا: فاطمہ ميرے جگر كا ٹكڑا ہے جس نے اس كو اذيت پہنچائي اس نے مجھے اذيت پہنچائي اور جس نے مجھرے اذيت پہنچائي وہ جہنمي ہے۔حضرت زہرا سلام اللہ عليھا تمام مسلمان خواتين كے لئے ابدي نمونہ ہيں انھوں نے اپنے باپ سے محبت كركے ام ابيھا كا لقب حاصل كيا شير خدا كي ہمسري كا شرف حاصل كيا اور اسلام كي بقا كے لئےحسن و حسين اور زينب و ام كلثوم جيسے فرزندوں كي شاندار تربيت كي اور نبي كريم كي رحلت كے بعد اسلام كي بقا كے لئے خود بھي بہت مصيبتيں برداشت كيں۔
دن كي تصوير
بقيع
ويڈيو بينك