ہاں!فاطمہ اس لئے فاطمہ تھيں

تاریخ اشاعت:18/12/1396
علي عليہ السلام كے گھر آنے كے بعد كبھي نہ كسي چيز كا مطالبہ كيا اور نہ ہي كسي چيز كي خواہش ظاہر كي بلكہ سخت ترين ضرورت كے وقت بھي جب گھر ميں كچھ نہ تھا تب بھي آپ نے اپنے شوہر سے نہ كہا كہ علي ع گھر ميں كچھ نہيں ہے كچھ انتظام كرديں۔
بقلم سيد نجيب الحسن زيدي
بچپن سے علماء وذاكرين سے يہ حديث سني تھي كہ حضور صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم اپني بيٹي كاحد درجہ احترام كرتے [1]آپ نے اپني بيٹي كے لئے فرمايا فاطمہ ميرا پارہ جگر ہے اسكو اذيت دينے والا ميري اذيت كا سبب ہے [2] اسكي مرضي خدا كي مرضي اور اس كے غضب سے خدا غضبناك ہوتا ہے[3]، تھوڑا فہم و شعور آيا تو ذہن سوچنے پر مجبور ہو گيا ايسے كيوں كر ممكن ہے كہ كوئي ذات محور رضائے پروردگار ہو اسكي رضا و ناراضگي پر خدا كي رضا و ناراضگي موقوف خدا كے نزديك اتنا بڑا مقام كسي كو يوںہي تو حاصل نہيں ہو سكتا كيا وجہ ہے كہ جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا كي ذات محور رضائے الہي قرار پائي؟ اسي سوال كي جستجو نے كسي زنجير كے حلقوں كي صورت ميرے سامنے ايسے شواہد كے انبار لگا دئے جن پر غور ميرے سوال كے جواب اور ميري تشفي و تسلي كا سبب بنا ممكن ہے كسي اور زاويے سے آپكے بھي كسي اور سوال كا جواب مل جائے بہت گا اس لئے اپني جستجو كا حاصل آپ كے ساتھ شيئر كر رہا ہوں بس گزارش ہے كہ آخر تك ميرے ساتھ رہيں ۔۔

     حضور صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم ايك دن ايك كنيز كے ساتھ گھر ميں داخل ہوئے كنيز كا ہاتھ جناب فاطمہ سلام اللہ عليہا كے ہاتھ ميں ديا اور فرمايا: بيٹي يہ كنيز آج سے تمہاري خدمت كرے گي يہ نماز كي پابند ہے تمہارے لئے بہتر ہوگي اس كے بعد كنيز كے حقوق كے سلسلہ سے كچھ نصيحتيں فرمائيں بي بي نے اپنے بابا كو ديكھا اور كہا بابا آج سے گھر كے كاموں كو تقسيم كر ليا ايك دن كا كام آپكي بيٹي كرے گي اور ايك دن كا كام يہ كنيز [4]پيغمبر ص كي آنكھوں ميں آنسو آ گئے اور يہ آيت تلاوت فرمائي ’’اللہ (ہي) بہتر جانتا ہے كہ اپني رسالت كہاں ركھے‘‘[5]
    فضہ گھر كي كنيز تھي بي بي كي معرفت بھي تھي شان و منزلت اہلبيت ع سے بھي واقف تھي ليكن بي بي نے گھر كا كام بانٹا ہوا تھا ايك دن فضہ كام كرتي ايك دن بي بي دو عالم سلمان فارسي كہتے ہيں ايك دن ميں نے ديكھا كہ بي بي دوعالم بچوں كو سنبھالے چكي پيس رہي ہيں جبكہ ہاتھ زخمي ہے اور اس سے خون جاري ہے ميں نے كہا بي بي آپكے پاس فضہ ہيں پھر آپ ان سے كام كيوں نہيں ليتيں جواب ديا فضہ كي باري كل تھي جو گزر گئي آج ميري باري ہے [6]
    عبادت كے لئے فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا كا اہتمام يہ تھا كہ عبادت كي جگہ معين تھي مصلي معين تھا پوري تياري و انہماك كے ساتھ عبادت كرتيں مستحبات پر خاص توجہ ہوتي اپني زندگي كے آخري لمحات ميں فرمايا: اسماء مجھے وہ عطر لا دو جو ميں ہميشہ لگاتي ہوں اور وہ لباس لا دو جس ميں نماز پڑھتي ہوں اور ميرے سرہانے بيٹھ جاو اگر مجھ پر غنودگي طاري ہو تو مجھے اٹھا دينا اور اگر تمہارے اٹھانے سے نہ اٹھ سكوں تو علي ع كو خبر كر دينا [7]
    عبادت كے سلسلہ سے خاص اہتمام كے باوجود اپنے بابا كا اتنا خيال رہتا كہ ايك دن نماز مستحبي ميں مشغول تھيں جيسے ہي بابا كي آواز سني نماز كو چھوڑ ديا دوڑي ہوئي بابا كے پاس آئيں سلام كيا حضور صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے جواب ِ سلام ديا اور سر پر ہاتھ پھيرا اور يوں اپنے ہاتھوں كو اٹھا كر اپني بيٹي كے لئے دعاء كي بارالھا اس بچي پر اپني رحمت و غفران نازل فرما [8]
    ايك دن جناب سلمان فارسي سے حضور سروركائنات صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے كہا سلمان: يہ اعرابي ابھي نيا مسلمان ہوا ہے بھوكا ہے ،اسكے لئے كھانے كا انتظام كرو، جناب سلمان فارسي نے سيدھا در علي ع كا رخ كيا شايد جانتے تھے كہ كہيں ملے نہ ملے ليكن در علي ع سے خالي ہاتھ واپس نہيں پلٹوں گا ،دروازہ پر پہنچے دق الباب كيا اپنا مدعا بيان كيا علي ع گھر پر نہيں تھے چنانچہ فاطمہ زہرا س نے آنے كا سبب دريافت كيا سلمان نے جواب ميں بتايا : آپكے بابا نے كسي اعرابي كے كھانے كا انتظام كرنے كو مجھ سے كہا تھا اس لئے حاضر ہوا ہوں۔ جواب ملا سلمان خدا كي قسم گھر ميں كچھ بھي نہيں ہے ،حسن و حسين كو ميں نے ابھي ہي بڑي مشكل سے بھوكا سلايا ہے ،ليكن سلمان گھر ميں آئے سبب خير كے لئے كيونكر ركاوٹ بنوں جبكہ خير و نيكي خود چل كر ميرے گھر آئي ہو ؟ پھر فرمايا: سلمان يہ ميرا لباس ہے اسے شمعون{ مدينہ ميں رہنے والا ايك يہودي جو بعد ميں مسلمان ہو گيا } كے پاس لے جاو اور اسكے بدلے خرما اور جو لے آو ۔سلمان لباس ليكر شمعون كے پاس پہنچے ، ماجرا بيان كيا جب شمعون كو پتہ چلا لباس دختر رسول ص كا ہے اور گھر ميں كھانے پينے تك كو كچھ نہيں ہےتو بے ساختہ اس كے منھ سے يہ جملے نكلے:اسے كہتے ہيں زہد يہ تو وہي كيفيت ہے جس كے بارے ميں توراۃ ميں كہا گيا ہے اسكا مطلب فاطمہ ع جس خدا كو مانتي ہيں وہي برحق ہے اور فورا كہا سلمان ''اشھد ان لا الہ الاللہ وان محمد رسول اللہ ''،يہ كہكر خرما اور جو جناب سلمان كے حوالے كر ديا سلمان خوشي خوشي ليكر آئے جناب فاطمہ ع كو ديا بي بي نے نو مسلم اعرابي كے لئے اپنے ہاتھوں سے جو كو پيسا اسكا آٹا بنايا اور پھر خمير تيار كر كے روٹياں تيار كيں اور سلمان كے حوالے كر ديں جناب سلمان نے چلتے چلتے كہابي بي آپ بھي ان ميں كچھ روٹياں اپنے لئے ركھ ليں ،حسنين بھي تو بھوكے ہيں بي بي سلام اللہ عليہا نے جواب ديا : جو چيز ہم راہ خدا ميں دے ديتے ہيں اس ميں تصرف نہيں كرتے [9]
    سلمان ہي سے نقل ہے كسي كام سے فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا كے گھر گيا تو محسوس كيا كہ فاطمہ ع چكي پيس رہي ہيں ساتھ ہي تلاوت قرآن بھي كرتي جا رہي ہيں
    اكثر ايسا ہوتا كہ بچے رات كي تاريكي ميں آپكو گريہ كرتے پاتے ديكھتے كہ ماں عبادت ميں مشغول ہے اكثر ايسا بھي ہوتا كہ رات كا ايك تہائي حصہ گزر جانے كے بعد ماں بچوں كو نيند سے اٹھاتي كہ اب وقت عبادت ہے [10]
    امام حسن عليہ السلام فرماتے ہيں : ايك شبِ جمعہ ميں نے اپني مادر گرامي كو تا صبح محراب عبادت ميں اپنے معبود سے راز و نياز كرتے پايا ميں طلوع آفتاب تك اپني مادر گرامي كو كبھي ركوع ميں ديكھا تو كبھي سجود ميں ميں نے ديكھا مادر گرامي نے خدا سے رازو نياز كے ساتھ سب كے لئے دعاء كر رہي ہيں تو سوال كيا مادر گرامي اپنے لئے كيوں نہيں دعاء كي جواب ملا بيٹے پہلے پڑوسي پھر ہم [11]

  ايك اور جگہ آپ فرماتے ہيں اسقدر ميري ماں عبادت كرتيں كہ پيروں پر ورم آجاتا [12]

    اپنے والد كےساتھ اسقدر مہربان كے حضور ص تعظيم كو كھڑے ہو جاتے جب سورہ نور كي ۶۳ ويں آيہ كريمہ نازل ہوئي[13] تو فاطمہ عليہا السلام كو شرم محسوس ہوئي كہ اس آيت كے نزول كے بعد اپنے بابا كو بابا كہہ كر پكاريں ، حضور صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم نے آواز دے كر اپني بيٹي كو بلايا اور كہا بيٹا تم نے اپنے بابا كو بابا كہنا كيوں چھوڑ ديا ہے يہ جو آيت نازل ہوئي ہے تمہارے لئے نہيں ہے مجھے پسند ہے كہ تم مجھے بابا كہہ كر پكارو تم مجھ سے ہو اور ميں تم سے ہوں تم بابا كہو كہ تمہارا مجھے اس طرح پكارنا ميرے دل كو زندہ كرتا ہے اور خدا كي خوشنودگي كا سبب ہے [14]
    حضور صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اپني بيٹي كو رخصت كرتے وقت دلہن كا مخصوص لباس ہديہ كيا ،ايك دن كوئي سائل آيا جسكے پاس لباس نہيں تھا آپ نے شادي والا لباس سائل كو دے ديا جب پيغمبر ص آپ كے گھر آئے تو ديكھا بيٹي كو ديا ہوا لباس تن پر نہيں اور فاطمہ ع پرانا لباس پہنے ہيں كہا بيٹا تمہارا لباس كہاں گيا جو بابا نے تمہيں لا كر ديا تھا جواب ديا بابا ايك بار ايك سائل آپ كے پاس آيا تھا تو آپ كے پاس ايك ہي لباس تھا آپ نے سائل كو دے ديا اور خود حصير اوڑھ كر گزارا كيا ميں نے چاہا كہ آپ كے عمل كي تاسسي كرتے ہوئے ايسا كچھ كروں كہ آپ سے مشابہہ ہو جاوں بعض نے لكھا كہ بي بي نے كہا بابا ميں نے چاہا كہ اس آيت پرعمل كروں جس ميں بيان كيا گيا كہ تم اس وقت نيكي تك پہنچ ہي نہيں سكتے جب تك وہ چيز اللہ كي راہ ميں نہ دو جو تمہيں محبوب ہے [15]
    شادي كے دوسرے دن حضور صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم نے امام علي عليہ السلام سے پوچھا علي تم نے فاطمہ ع كو كيسا پايا ؟ جواب ديا : اطاعت الہي ميں اپنا بہترين معاون و مدد گار [16]
    علي كہتے ہيں : فاطمہ ع جتنے دن ميرے گھر رہيں كوئي ايسا لمحہ نہ آيا كہ ميري رنج كا سبب بنتا ، كسي كام پر مجھے بي بي نے مجبور نہيں كيا كبھي كسي بات پر مجھے پريشان نہ كياميري مرضي كے خلاف كبھي قدم نہيں اٹھايا جب بھي فاطمہ ع كو ديكھتا ميرے سارے غم ختم ہو جاتے [17]
    علي عليہ السلام كے گھر آنے كے بعد كبھي نہ كسي چيز كا مطالبہ كيا اور نہ ہي كسي چيز كي خواہش ظاہر كي بلكہ سخت ترين ضرورت كے وقت بھي جب گھر ميں كچھ نہ تھا تب بھي آپ نے اپنے شوہر سے نہ كہا كہ علي ع گھر ميں كچھ نہيں ہے كچھ انتظام كرديں بلكہ جب امام علي عليہ السلام نے يہ ديكھا كہ گھر ميں كچھ نہيں ہے تو خود ہے سوال كيا بي بي آپ نے مجھے كيوں نہيں بتايا كہ گھر ميں كچھ نہيں ہے تو اسكے جواب ميں بي بي دو عالم فرمايا: مجھے شرم آتي ہے كہ ميں كسي ايسے كام كو كہہ دوں جسے آپ انجام نہ دے سكيں [18]۔
    بچوں كو ايسا ماحول فراہم كيا كہ ہر وقت گھر سے تلاوت قرآن و تسبيح كي آوازيں بلند رہتيں اسكے باوجود بچوں سے تاكيد كرتيں كہ مسجد ميں جاكرسنا كرو كہ نانا نے كيا كہا اور جب بچے واپس پلٹتے تو سوال كرتيں تم نے كيا سنا اپني ماں كو بتاو ،كبھي اپنے بچوں كو بابا كي طرح بننے كي تلقين يوں كرتيں بيٹا اپنے بابا كي طرح حق كے گردن ميں پڑي ريسمان ظلم كو كاٹ دينا كبھي ظالموں كےساتھ نہ رہنا [19]
    گھر ميں كھانا بہت كم تھا اور رات ميں مہمان نے دق الباب كيا بي بي نے علي ع سے فرمايا كھانا تو بس اتنا ہے كہ بچے كھا سكتے ہيں ليكن ميں انہيں سلا ديتي ہوں كہ مہمان ہم پر مقدم ہے ، كھانا لگ گيا اور مہمان نے سير ہو كر كھايا ،رات يوں گزري كہ گھر ميں رہنے والا مہمان سير ہو كر سو رہا تھا باقي گھر والے بھوكے تھے[20] فاطمہ ع كے اس عمل پر آيت نازل ہوئي (يہ مال فئ) ان غريب مہاجرين كے ليے بھي ہے جو اپنے گھروں اور اموال سے بے دخل كر ديے گئے جو اللہ كے فضل اور اس كي خوشنودي كے طلبگار ہيں نيز اللہ اور اس كے رسول كي مدد كرتے ہيں ، يہي لوگ سچے ہيں [21]،
    بچے شديد مريض ہوئے حضور صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم عيادت كے لئے تشريف لائے امام علي عليہ السلام كو خطاب كرتے ہوئے فرمايا : علي نذر مان لو كہ جب بچے اچھے ہو جائيں گے تو تين دن روزہ ركھو گے پورے گھر نے نذر مان لي بچوں كو شفا ملي گھر ميں كچھ نہ تھا علي كہيں سے مختصر سي جو لے كر آئے كہ افطاري ہو سكے جو كو پيسا گيا اور جب اسے  خمير كر كے پكايا گيا تو كل پانچ روٹياں بن سكيں ايك گھر كي كنيز فضہ كے لئے دو بچوں كي اور ايك ايك علي ع و فاطمہ كي وقت افطار نزديك آيا دسترخوان پر سادہ پاني اور جو كي روٹياں ہيں ابھي افطار كرنے كا ارادہ ہي تھا كہ سائل كي آواز آئي : آئے اہلبيت پيغمبر ص مسكين ہوں كچھ كھانامل سكتا ہے ؟
سب نے اپنےاپنے حصے كي روٹياں دے ديں مسكين خوش ہو كر چلا گيا افطار پاني سے ہو گيا اور دوسرے دن پھر سب روزے سے تھے علي ع نے پھر جو كا انتظام كيا پھر پانچ روٹياں وقت افطار دسترخوان پر سجي تھيں افطار كرنے سب بيٹھے كے پھر سائل كي آواز يتيم ہوں كچھ كھانے كو نہيں ہے سب نے اپنا اپنا حصہ بشمول كنيز فضہ پھر يتيم كو دے ديا اور پاني سے افطار ہو گيا تيسرے دن پھر يہي ماجرا پھر دسترخوان پر پانچ روٹياں اور نزديك افطار كسي سائل كي آواز ليكن اب كي بار نہ تو مسكين نہ ہي يتيم بلكہ كوئي اسير جو بھوكا تھا سب نے پھر اپنا اپنا حصہ دے ديا اور پاني سے افطار كيا جب صبح ہوئي تو حسن و حسين عليہما السلام كا ہاتھ پكڑ كر علي پيغمبر ص كے پاس آئے حضور صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم نے بچوں كو ديكھا چہروں كا رنگ زرد اور بھوك كي شدت سے لرز رہے تھے علي ع سے كہافورا گھر چلو گھر آئے ديكھا بي بي دو عالم محراب عباد ت ميں مشغول عبادت ہيں جبكہ آنكھوں كے گرد حلقے پڑے ہوئے ہيں پيغمبر يہ حالت ديكھ كر بہت مغموم ہوئے اسي وقت جبرئيل امين نازل ہوئے : ائے ميرے حبيب ايسے اہلبيت كے حامل ہونے پر خدا مباركباد پيش كرتا ہے[22] اور اس كے بعد يہ آيت تلاوت كي [23]

يہ تو چند ايك نمونے تھے تاريخ كے جو ميں پڑھ رہا تھا اور ميرے سامنے فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا كا سراپا تھا كہيں ، بچوں كو سنھبالے ،كہيں چكي پيستي ، كہيں علي كے غموں كو سنتي كہيں كسي كي مدد كرتي ، كہيں كسي كو كھانا كھلاتي فاطمہ كي صورت جو مجھ سے كہہ رہا تھا كہ ميں يوں ہي فاطمہ نہيں ہوں ميرے درجہ كي بلند ي و رفعت كے پيچھے ، بھوك ہے پياس ہے ، عزم پيہم ہے ،سعي مسلسل ہے ، ضبط غم ہے تحمل ہے ، صبر ہے ،مسلسل عبادتوں كي بنا پر پيروں پر ورم ہيں ، انسانيت كا در د ہے ، راہ ولايت ميں شكستہ پہلو ہے ، بازوپر نيل كے نشاں ہيں ، ٹولي پسلياں ہيں مجھے يہ راز سمجھنے ميں دير نہ لگي كہ ذات حق ميں جتنا خود كو فنا كر دوگے اتنا ہي بلندي حاصل كر لوگے ،ليكن كچھ بلندياں ايسي ہوتي ہيں جن سے ہم آگے بڑھنے كا حوصلہ تو حاصل كر سكتے ہيں خود ان كو چھونا ہمارے بس كي بات نہيں كہ ہم خاكي ہيں اور يہ بلندياں ان لوگوں كے لئے ہيں جو نوراني تھے ليكن پيكر خاكي ميں ہماري رہنمائي كر رہے تھے ، البتہ اسكا مطلب يہ بھي نہيں كہ ہم تھك ہار كر بيٹھ جائيں اور يہ سوچيں كہ ہمارے بس كي بات ہي نہيں اسكے برعكس فارسي كہاوت شايد بہتر طور پر ايسے حالات ميں ہماري ذمہ داري كي طرف اشارہ كر رہي ہے كہ ،  آب دريا را اگر نتوان كشيد. هم به قدر تشنگي بايد چشيد.پتہ نہيں آپكو جواب ملا يا نہيں ليكن مجھے اپنے سوال كا جواب مل گيا تھا كہ فاطمہ كيوں فاطمہ ع تھيں ، فاطمہ ع اپنے خلوص ، اپنے ايمان ، راہ حق ميں جذبہ قرباني ،راہ ولايت ميں اپنا سب كچھ لٹا دينے كي بنياد پر فاطمہ تھيں ، فاطمہ اس لئے فاطمہ تھيں كہ اپني نيت و اپنے عمل ميں يكتائے روز گار تھيں ايك انتخاب پروردگار تھيں فاطمہ ع اسي لئے فاطمہ ع تھيں كہ انكے نفس نفس پر مرضي معبود كي چھاپ تھي ہاں فاطمہ اسي لئے فاطمہ ع تھيں ۔۔۔

 حوالہ جات

[1] عن عائشة ام المومنين قالت و كانت اذا دخلت علي النبي قام اليہا فقبلھا و اجلسھا في مجلسہ ،صحيح ترمذي ٢ ص ٣١٩؛:ذخائر العقبيٰ ص ۴۰

[2]فاطمۃ بضعۃ مني من اذاھا فقد اذاني و من اذاني فقد اذي اللہ۔

مناقب ابن شهر آشوب،ج 3،ص 332 ؛ بحار الانوار،ج 43،ص 80؛ صحيح مسلم،ج 16،ص 2؛مستدرك حاكم،ج 3،ص 173؛حلية الاولياء،ج 2،ص 40؛

[3] ۔فاطمۃ بضعۃ مني فمن اغبضھا اغبضني ۔۔۔ ا بن ابى الحديد، شرح نهج البلاغه، ج 4، ص 64- از چاپ 20 جلدى، صحيح بخاري ،جلد ۳ كتاب الفضائل باب مناقب فاطمہ ص ۱۳۴۴

[4]۔ احقاق الحق، جلد ۱۰ ، ص ۲۷۷

[5]اَللہُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ۰ۭسورہ انعام ۱۲۴

[6] ۔ يبابيع المودۃ ، ص ۲۰۰، احقاق الحق، جلد ۱۰ ، ص ۲۷۶۔ دلائل الامامہ ص ۴۸، بحارالانوار ، جلد ۴۳ ص ۷۶

[7]كشف الغمہ ، جلد ۲ ص ۶۲

[8] ۔ بحارالانوار جلد ۴۳، ص ۴۰

[9] ۔ رياحين الشريعہ ، جلد ۱ ص ۱۳۰

[10] ۔ بحار الانوار جلد ۴ ص ۱۱۵

[11] ۔ علل الشرايع جلد ۱ ص ۱۷۳، كشف الغمہ جلد ۲ ص ۱۹۳، مستدرك الوسائل، جلد ۵ ص ۲۴۴، وسائل الشيعہ ، جلد ۴ ص ۱۵۵

[12]بحارالانوار جلد ۸۵، ص ۲۵۸

[13] ۔ لَا تَجْعَلُوْا دُعَاۗءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاۗءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا۔ تمہارے درميان رسول كے پكارنے كو اس طرح نہ سمجھو جس طرح تم آپس ميں ايك دوسرے كو پكارتے ہو، نور ۶۳

[14] ۔ولقد كنت انظر اليھا فتنكشف عني الحموم والاحزان ، ايضا جلد ۴۳ ص ۱۳۴ بحار الانوار ، جلد ۴۳، ص ۳۳، مناقب ابن شہر آشوب ، جلد ۳ ص ۳۲۰ ، سفينۃ البحار ، جلد ۲ ص ۳۷۴

[15] ۔لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ۰ۥۭ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ فَاِنَّ اللہَ بِہٖ عَلِيْمٌ              

[16]بحار الانوار جلد ۴۳ ص ۱۱۷

[17] ۔ ايضا ، جلد ۱ ص ۳۶۳

[18] ۔ لاستحي من الہي ان اكلف نفسك ما لا تقدر عليہ ، بحار الانوار جلد ۴۳، ص ۵۹

[19]بانوي بي نشان ص ۷۲

 [20]فاطمۃ بھجۃ قلب المصطفي ص ۳۵

[21]۔ لِلْفُقَرَاۗءِ الْمُہٰجِرِيْنَ الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِہِمْ وَاَمْوَالِہِمْ يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللہِ وَرِضْوَانًا وَّيَنْصُرُوْنَ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ۰ۭاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ۸ۚ                 

[22]تفسير كشاف، ۸ويں آيت كے ذيل ميں

[23] ۔وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّہٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا              
بشكريہ جاثيہ ويب سائٹ
دن كي تصوير
مسجدالنبي صلي‌ الله‌ عليہ و آله   
ويڈيو بينك