حجت الاسلام والمسلمين دكتر نبويان: سعودي عرب ايك خاص شيعہ فرقے كا دفاع كيوں كرتا ہے؟

تاریخ اشاعت:27/12/1396
انگريزي فرقہ اہل سنت كے مقدسات كي توہين كرتا ہے، سني برداران كو بھي جان لينا چاہئے كہ توہين كرنے والے اسي فرقے كے پيروكار ہيں اور كوئي بھي شيعہ كسي بھي فرقے كے مقدسات كي توہين كو جائز نہيں سمجھتا؛ جيسا كہ رہبر معظم انقلاب حضرت آيت اللہ العظميٰ خامنہ اي نے اہل سنت كے مقدسات كي توہين كو حرام قرار ديا۔ ہم بھي اعلان كرتے ہيں كہ جس فرقے كو لندن اور رياض كي حمايت حاصل ہے، ہم نے بھي اس كو مسترد كر ديا ہے۔
جاثيہ تجزياتي ويب سائٹ كے مطابق، عالمي تقريب بين المذاہب اسمبلي كے ثقافتي نائب سربراہ اور وحدت مسلمين تحقيقاتي مركز كے سربراہ حجت الاسلام والمسلمين ڈاكٹر نبويان نے شيرازي ـ انگريزي فرقے كي طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا:
كچھ دن قبل شيرازي فرقے كے پيروكاروں نے لندن ميں اسلامي جمہوريہ ايران كے سفارتخانے پر حملہ اور قبضہ كيا۔ يہ واقعہ لندن پوليس كي آنكھوں كے سامنے پيش آيا ليكن پوليس نے ان كو نہيں روكا اور لوگوں كو معلوم ہؤا كہ اس كے بعد والے دن آسٹريا ميں ايراني سفارتخانے پر حملہ كرنے والے شخص كو گولي مار كر ہلاك كيا گيا [جو وہابي ـ سلفي افكار كا حامل تھا] ليكن سوال يہ ہے كہ لندن ميں شيرازي فرقے نے كيوں اتني آساني سے سفارتخانے پر حملہ كيا؟ [ايك سوال يہ بھي ہے كہ اس بات كا كيا مطلب ہوسكتا ہے كہ ايك دن شيرازي فرقے كے پيروكار لندن ميں ايراني سفارتخانے پر حملہ كرتے ہيں اور دوسرے روز سعودي فرقے سے تعلق ركھنے والا ايك شخص ويانا ميں ايراني سفارتخانے كو نشانہ بناتا ہے؟]
چند نكات يہاں قابل توجہ ہيں:
1-  رہبر معظم كا يہ قول ثابت ہؤا كہ يہ لندني شيعہ ہيں؛ لندن پوليس كي طرف سے اس فرقے كي حمايت، اس فرقے كو ايك بڑي عمارت كي عطائيگي، [اور صہيونيوں اور انگريزي نمائندوں كي طرف سے عمارت كي خريداري ميں اس فرقے كي مدد و حمايت] وغيرہ سب اسي حقيقت كے ثبوت ہيں۔ برطانيہ كے لئے اس فرقے كا فائدہ يہ ہے كہ يہ شيعہ اور سني مسلمانوں كے درميان انتشار پھيلانے ميں اس كا ہاتھ بٹاتا ہے۔
2- اس فرقے كے حاميوں نے ايراني پرچم كو نيچے اتارا جس سے معلوم ہؤا كہ يہ فرقہ اسلامي حكومت كا ہي نہيں بلكہ ايراني قوم كا بھي دشمن ہے۔
3- سعودي وليعہد بن سلمان لندن پہنچتا ہے تو سفارتخانے پر لندني فرقے كا قبضہ ہے اور سفارتخانے پر قبضے كے واقعے كي آڑ ميں سعودي وليعہد اسلحہ خريدنے كے بڑے مفاہمت ناموں پر دستخط كرتا ہے؛ جس سے معلوم ہوتا ہے كہ اس فرقے كے انگريزي حكومت كے علاوہ سعوديوں كي حمايت بھي حاصل ہے۔
4- انگريزي فرقہ اہل سنت كے  مقدسات كي توہين كرتا ہے، سني برداران كو بھي جان لينا چاہئے كہ توہين كرنے والے اسي فرقے كے پيروكار ہيں اور كوئي بھي شيعہ كسي بھي فرقے كے مقدسات كي توہين كو جائز نہيں سمجھتا؛ جيسا كہ رہبر معظم انقلاب نے اہل سنت كے مقدسات كي توہين كو حرام قرار ديا۔ ہم بھي اعلان كرتے ہيں كہ جس فرقے كو لندن اور رياض كي حمايت حاصل ہے، جبكہ اس كو ہم نے مسترد كرديا ہے۔
5- يہ فرقہ دعوي كرتا ہے كہ گويا اہل بيت عليہم السلام كا دفاع كر رہا ہے! ہمارا سوال يہ ہے كہ اگر تم سچ بولتے ہو تو بتاؤ كہ سيدہ زينب سلام اللہ عليہا كے حرم كے دفاع ميں تمہارے كتنے افراد شہيد ہوئے؟ تم كس كس محاذ ميں موجود رہے؟ اسلام اور اہل بيت كے دشمنوں كے خلاف كس لڑائي ميں شريك ہوئے؟ جب عراق ميں داعش حرم اہل بيت كے قريب پہنچ گئي تم كہاں تھے؟
۔ چنانچہ كہا جاسكتا ہے كہ تمہارے نعرے سب جھوٹے ہيں۔
ہمارا سب سے بڑا اور اہم سوال يہ ہے كہ جس سعودي عرب نے وہابيت كي بنياد ركھي ہے اور شيعيان اہل بيت كي تكفير كا ارتكاب كيا ہے، شيعوں اور سنيوں كے سر قلم كرتا ہے، تكفيري جماعتوں كي بنياد ركھتا ہے اور ان كي حمايت كرتا ہے، وہ ايك خاص فرقے كي حمايت و دفاع كيوں كرتا ہے جبكہ يہ فرقہ بھي شيعہ كہلواتا ہے؟
شيعہ اور سنيوں كو جان لينا چاہئے كہ جو لوگ وحدت شكن موقف اپناتے ہيں، غلط نعرے لگاتے ہيں انہيں ايران كے اسلامي نظام اور مسلم عوام كي تائيد حاصل نہيں ہے۔
يہ فرقہ جو سعودي عرب اور لندن كا حمايت يافتہ ہے اور اہل سنت نيز اہل تشيّع كے مقدسات كي توہين كرتا ہے، اسلام دشمن ہے۔ چنانچہ جو لوگ سعودي دولت پر پلتے ہيں ـ خواہ بيرون ملك خواہ اندرون ملك ـ خائن اور غدار ہيں۔
آخري نكتہ يہ ہے كہ:
دنيا كي مسلم قوميں جان ليں كہ تفرقہ اور انتشار كے داعي كفار كے كٹھ پتلي اور ايجنٹ ہيں اور رہبر معظم كے قول كے مطابق انگريزي شيعہ اور امريكي سني، مسلمان نہيں ہيں۔
دن كي تصوير
ويڈيو بينك