ولي فقيہ اور اسلامي انقلاب كي حمايت ميں لكھنو ميں عظيم الشان اجلاس كا انعقاد

تاریخ اشاعت:27/12/1396
ولي فقيہ حضرت آيت اللہ العظميٰ خامنہ اي اور اسلامي انقلاب ايران كي حمايت ميں لكھنؤ ميں ايك عظيم الشان اجلاس كا انعقاد كيا گيا جس ميں لكھنؤ اور بيرون لكھنؤ سے بڑي تعداد ميں علماء، فضلاء اور مختلف تنظيموں كے اراكين نے شركت كي۔
مختلف اداروں اور تنظيموں كي جانب سے’’ رہبر انقلاب آيۃ اﷲ العظميٰ خامنہ اي مدظلہ العالي كي شخصيت اور كارنامے ‘‘كے عنوان سے چھوٹے امامباڑے ميں منعقد ہونے والا عظيم الشان جلسہ واقعاً عظيم الشان اور بے مثل و بے نظير ہوگيا۔ پروگرام شروع ہونے سے پانچ منٹ پہلے ہي آدھي نشست گاہيں بھرچكي تھيں اور آدھے گھنٹے كے بعد لوگ كھڑے دكھائي دينے لگے،۔مجمع كي آخري حد چھوٹے امامباڑے كے دروازے تك تھي اور چاروں طرف عوام و خواص كا سيلاب دكھائي دے رہا تھا۔ منتظمين بے لوث خدمت انجام ديتے ہوئے حاضرين كا استقبال كررہے تھے۔
پرورگرام مقررہ وقت ۳۰:۷؍بجے شب كو شروع ہوگيا۔پروگرام كا آغاز مولانا باقر رضا نے تلاوت قرآن كريم سے كيا اور اسكے بعد مولانا صابر علي عمراني نے مرجعيت اور رہبر معظم كي شان ميں خراج عقيدت پيش كيا،اسكے علاوہ جناب الماس رجيٹوي نے بھي اپنا كلام پيش كيا۔جلسہ كي نظامت كي ذمہ داري مولانا مراد رضا نے بحسن و خوبي سنبھالي ۔
جلسہ كي افتتاحي تقرير كرتے ہوئے مولانا منظر صادق نے اسلام ميں سياست كي اہميت اور رہبر انقلاب كي ۳۰سالہ كامياب فقيہانہ حكومت پر زور ديتے ہوئے سوال كيا كہ آخر كيا سبب ہے كہ ۳۰سال بعد آپ كو ولي فقيہ كي حكومت غلط لگنے لگي ؟درحقيقت دشمن ہر جگہ سے ہار چكا ہے اس ليے ہماري صفوں ميں انتشار پيدا كركے كامياب ہونے كي كوشش كررہا ہے۔مولانا صفدر حسين جونپوري نے ولي فقيہ كے دشمنوں كو متنبہ كيا كہ جو ولايت كے راستے كي مخالفت كرے گا يہ علما اور يہ اجتماع اس كا منہ توڑ جواب ديں گے۔اسكے بعد ناظم جلسہ نے اميرالعلماء مولانا حميد الحسن صاحب قبلہ كے بيانيہ كي قرائت كي گئي جس ميں انہوں نے كہا كہ رہبر انقلاب كي شان ميں جسارت كرنے والوں كو توبہ كرلينا چاہيے ورنہ دشمن اسلام اس سے مزيدفائدہ اٹھائے گا۔اميرالعلماء كے بيانيہ كے بعد مولانا جابرجوراسي نے صاف طور پر كہا كہ يہ دشمني، پيسے ہي كا كھيل ہے ليكن يہ كھيل كہاں سے ہے يہ ديكھنا چاہيے۔ جب چور چوري كركے بھاگتا ہے تو خود چور چور چلانے لگتا ہے تاكہ بھيڑ ميں چھپ جائے۔
آپ كے بعد دہلي سے تشريف لائے عالم مولانا سيد محمد عسكري صاحب نے ايك وقيع اور مايہ ناز تقرير كرتے ہوئے رہبر انقلاب كي شخصيت كے پوشيدہ گوشوں كو اجاگر كيا ۔آپ نے بتايا كہ ۱۸سال كے سن ميں انہيں ان كے استاد نے اجازہ روايت اور اجازہ اجتہاد عطا كرديا تھا۔ آپ جامع علوم ہيں ۔آپ چھ بار قيدخانے ميں گئے اور وہاں انواع و اقسام كي اذيتوں سے دوچار ہوئے۔ قائد انقلاب امام خمينيؒ نے آپ كے سلسلے ميں فرمايا كہ جب آقاي خامنہ اي تم لوگوں كے درميان ہيں تو مستقبل ميں كوئي مشكل نہيں آئے گي،۔آيۃ اﷲ فاضل لنكراني، آيۃ اﷲ مشكيني، آيۃ اﷲ جوادي آملي اور ديگر معروف فقہا نے آپ كي علمي شان كو اجاگر كيا۔ ۸۸عادل فقہا كي كميٹي نے آپ كو اكثريت كے ساتھ ولي فقيہ بنايا اور آپ كے مسلسل انكار كے بعد فقہا كي كميٹي نے يہ فيصلہ سنايا كہ يہ آپ كا حق نہيں ہے كہ آپ لينے سے انكار كرديں بلكہ يہ آپ پر فرض ہے جسے قبول كرنا آپ پر واجب ہے۔آيۃ اﷲ خامنہ اي كي شجاعت، ہمت اور جرئت ايسي مشہور ہے كہ دشمن آپ كے نام سے ڈرتا ہے۔ آج ايران ٹيكنالوجي، علمي، اقتصادي، سماجي اور ديگر ميدان ميں عالي مقام پر فائز ہے۔
مولانا سيد ڈاكٹر كلب صادق نقوي نے نہايت مختصر تقرير كے ذريعہ ذہنوں كو بيدار كرنے كا كام كيا اور اپنے مشن كے مطابق فرمايا كہ اصل بات بہ ہے كہ لوگ آيۃ اﷲ خامنہ اي كو پہنچانتے نہيں ہيں۔ انكي مخالفت كا اصل سبب جہالت ہے۔ آج اس پروگرام سے انكي شخصيت كو متعارف كرانے كي اچھي ابتدا ہوئي ہے۔ عدو شود سبب خير گرخدا خواھد ،مجھے بہت تكليف ہوئي اس ليے ميں نے يہ قدم اٹھايا۔ ميں نے بہت قريب سے آيۃ اﷲ خامنہ اي كو ديكھا ہے۔ وہ فقيرانہ غذا كھاتے ہيں يونائيٹيڈ نيشن ميں ان كي دليرانہ تقرير ميں نے اپنے كانوں سے سني ہے۔ مسئلہ يہ ہے كہ اگر آپ لوگ آپس ميں لڑگئے تو جو دشمن چاہتا ہے اس ميں كامياب ہوجاے گا۔ اصل مسئلہ يہ ہے كہ لوگوں كو سمجھائيے۔ جو تكليف مجھے پہنچي تھي اس كا آج اس پروگرام كے ذريعہ بہت حد تك ازالہ ہوگيا۔
آخر ميں صدر جلسہ اور مجلس علماء ہند كے جنرل سكريٹري مولانا كلب جواد نقوي صاحب نے كہا كہ لكھنؤ كو سازشوں كا گڑھ بناديا گيا ہے اِس لكھنؤ ميں سعودي عرب اور اسرائيل كے افراد آكر ميٹنگ كرتے ہيں اور اس كا عنوان ہوتا ہے كہ اگر كسي دن ايران پر حملہ ہوا تو لكھنؤ كے شيعوں كا ردّعمل كيا ہوگيا۔ اس كا مطلب ہے كہ دشمن كي نگاہ ميں لكھنؤ كي بڑي اہميت ہے۔ دوسروں كو مقصر كہنے والے جب ميدان جنگ كي بات آتي ہے تو وہاں مقصّر ہوجاتے ہيں ،اور جن پر مقصر ہونے كا الزام عائد كرتےہيں وہي ايراني قوم اور حزب اللہ كے مجاہد مقدسات كي حفاظت كے لئے جان كي قربانياں ديتے نظر آتے ہيں۔سامراجي نظام ايراني نظام كو كبھي ختم نہيں كرسكتا ۔يہ اس وقت بھي ممكن نہيں ہوا جب پوري  پارليمنٹ كو بم دھماكے سے اڑا ديا گيا تھا جس ميں صدر اور وزير اعظم بھي شہيد ہوگئے تھے۔ اس كا اصل سبب يہ ہے كہ وہاں كي عوام اور علماء ولي فقيہ كے شانہ بہ شانہ ہيں ۔
پروگرام كے نظام اور كنوينر مولانا مردارضانے نظامت كے فرائض انجام ديتے ہوئے وقفہ وقفہ سے ولايت فقيہ كے مفہوم و معاني پر روشني ڈالي اور بتايا كہ وَلايت اگر زبر كے ساتھ پڑھا جائے تو اس كا معني حكومت ہے اور اگر وِلايت زير كے ساتھ پڑھا جائے تو اس كا مطلب حكومت اور قدرت كو استعمال كرنا ہے۔ ولايت فقيہ يعني اسلامي حكومت كے حاكم كے خصوصيات و شرائط ۔جب يہ كہا جاتا ہے كہ فقيہ كي ولايت عين رسول خداؐ كي ولايت ہے تو اس كا مطلب يہ نہيں ہے كہ فقيہ امام معصوم كي جگہ پر كوئي نيا معصوم ہوگيا بلكہ امام معصوم اور پيغمبر اكرم كے مختلف منصب ہيں جن ميں پيغمبر پر وحي نازل ہونا وحي كو بيان كرنا، عصمت، لڑائي جھگڑے ختم كرانا اور حكومت كرنا ۔امام پر وحي نازل نہيں ہوتي بقيہ سارے منصب موجود ہيں ۔فقيہ كو حكومت اور لڑائي جھگڑے ختم كرانے كا منصب معصوم نے عطا كيا ہے پس يہ سوال خودبخود ختم ہوگيا كہ علي ؑ كي ولايت مانيں يا فقيہ كي۔ دونوں ايك ہي چيز ہے۔
آخر ميں منتظمين كي طرف سے موجودہ علما اور حاضرين كے سامنے ۹ نكاتي بيانيہ پڑھا گيا جس كي حاضرين نے تكبيركے ذريعہ تائيد كي۔
۱۔ رہبر انقلاب آيۃ اﷲ العظميٰ خامنہ اي اور نظام ولايت كي اجتماع ميں موجود تمام علما اور حاضرين بھرپور تائيد اور حمايت كا اعلان كرتے ہيں۔
۲۔ رہبر انقلاب آيۃ اﷲ العظميٰ خامنہ اي۔ اور نظام ولايت كے خلاف ہر طرح كي سازش اور گستاخي كي بھرپور مذمت كرتے ہيں۔
۳۔ لندن كي خفيہ ايجنسي M16 كے ہاتھوں اپنے ضمير كا سودا كرنے والے نام نہاد شيعہ چاہے وہ كسي بھي شكل، لباس يا علاقے ميں ہوں عوام كو ان كي سازشوں اور تخريبي منصوبہ ننديوں سے مسلسل آگاہ رہتے ہوئے دوري اختيار كرنا نہايت ضروري ہے۔
۴۔ اميرالمومنين حضرت علي عليہ السلام كے ارشاد كے مطابق افراد كے ذريعہ حق و باطل كي تشخيص كے بجائے خود كو حق كو افراد كي شناخت كا ذريعہ بنايا جائے۔
۵۔ بقول رہبر انقلاب آيۃ ﷲ العظميٰ خامنہ اي:۔لندني شيعيت اور امريكي سنيت كے باطل افكار كو سمجھنے كے ليے حق و باطل كے ميعار كي پركھ ضروري ہے۔
۶۔ مسلمانوں اور اپني صفوں كے درميان اتحاد، دين اسلام كا بنيادي پيغام اور دورِحاضر كي شديدترين ضرورت ہے اور كسي بھي شكل ميں اس كي مخالفت باطل كو تقويت پہنچاتا ہے۔
۷۔ عالمي سامراج خصوصاً سعودي يہودي اتحاد كے ہاتھوں ظلم و ستم كا شكار ہونے والے مظلوموں كي حمايت كرتے ہوئے ہم اُن ظالموں سے اپنے بيزاري كا اعلان كرتے ہيں۔
۸۔ لندني شيعيت كے آلہ كار ياسر حبيب، اﷲ ياري، توحيدي، مجتبيٰ شيرازي اور حسين شيرازي جيسے دين فروش افراد سے ہم لوگ اپني برائت كا اعلا ن كرتے ہيں۔
۹۔ يہ اجتماع علمائے كرام سے اپيل كرتا ہے كہ مشكوك عناصر كي نفاب كشائي كرنے ميں كسي بھي قسم كي مصلحت اور رواداري كو راہ نہ ديں۔
 اس پروگرام ميں كثير تعداد ميں علمائے كرام نے شركت كي اور مختلف تنظيموں كے مالي تعاون سے يہ پروگرام منعقد ہوا جن ميں مجلس علمائے ہند، نور ہدايت فاؤنڈيشن، امام زمانہ ٹرست ،محبّان امّ الائمہؑ تعليمي و فلاحي ٹرسٹ، ادارہ اصلاح، ادارہ مقصد حسيني، وحدت پبليكيشن  المؤمل كلچرل فاؤنڈيشن، طٰہٰ فاؤنڈيشن، مدرسہ سلطان المدارس، حوزہ علميہ غفرانمآب، الحراء كالج، وثيقہ عربي كالج، فيض آباد، جامعۃ الزہرا مفتي گنج، عين الحيات ٹرسٹ، ہديٰ مشن، ادارہ بيّنات، ادارہ رياض القرآن، مجلس علماوخطبا اماميہ بہار، جامعہ حيدريہ خيرآباد، جامعۃ المصطفيٰ الاماميہ سيتاپور، اسلامك ٹورس اينڈٹراولس، حسينيہ بيت الحزن وارانسي، مدرسہ انوار العلوم الٰہ آباد ، جامعہ امام جعفر صادقؑ جونپور، جامعہ بنت الہديٰ جونپور، ولي عصر اكيڈمي، ادارہ القائم فيض آباد، البلاغ آرگنازيشن علي پور كرناٹك، تنظيم حيدري لكھنؤ قابل ذكر ہيں۔ اس كے علاوہ اور بھي بہت سارے ادارے ہيں جو اس ميں شامل ہونے پر آمادہ تھے۔ تمام منتظمين لكھنؤ كے تمام مدارس كے اساتذہ اور طلاب كے شكرگزار ہيں جنہوں نے اس پروگرام ميں شركت كي اسي طرح كوپاگنج سے تشريف لانے والے علما اور طلاب جو مولانا شمشير علي مختاري كي قيادت ميں جامعہ جعفريہ كي طرف سے پروگرام ميں آئے تھے تشريف فرمائي كا شكريہ ادا كرتے ہيں۔پروگرام كے كنوينر مولانا سيد مراد رضا رضوي صدر محبّان امّ الائمہ تعليمي و فلاحي ٹرسٹ نے تمام منتظمين اور رضاكاروں كا تہِ دل سے شكريہ ادا كيا جنہوں نے بڑي محنت و مشقت اور خلوص نيت سے اس عظيم الشان جلسہ كو كامياب بنانے ميں تعاون كيا۔خاص طور پر تمام ميڈيا پارٹنرز جن ميں صحافت اور اودھ نامہ كے علاوہ مجلس علما نيوزپورٹل، روزنامہ انقلاب، روزنامہ آگ، اور روزنامہ راشٹريہ سہارا، روزنامہ قومي خبريں وغيرہ نہايت اہم ہيں۔

   
دن كي تصوير
حرم امامين عسكريين عليهما السلام   
ويڈيو بينك