بحران معنويت كا واحد حل سيرت پيغمبر صلي اللہ عليہ و آلہ سلم كي طرف بازگشت

تاریخ اشاعت:28/01/1397
اخلاق و معنويت كا بحران اس وقت تك نہيں حل ہو سكتا جب تك بني نوع بشر اپني پياسي روحوں كو ايمان كے چشمہ طمانيت سے سيراب نہ كرے اور ان تعليمات سے آشنا نہ ہو جائے جہاں روح و جسم دونوں كے تقاضوں كے مد نظر ان جامع اصولوں كي نشان دہي كي گئي ہے جو انسان كو انسان بناتے ہيں ۔
بقلم:سيد نجيب الحسن زيدي
قافلہ انساني آج جس تيزي سے يكے بعدديگرے ارتقائي مراحل طے كرتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے اسے ديكھتے ہوئے كہا جاسكتا ہے كہ كوئي بھي چيز ايسي نہيں ہے جو اسكے دائرہ اختيار سے باہر ہو، اسكے عزم و ارادہ كے آگے ہر چيز بے بس ہے اس وسيع كائنات كي كوئي شے اسكے قلمروِ اختيار سے باہر نہيں، پوري كائنات ميں اسي كے اختيار و عمل كا سكہ چلتا ہے ۔
يہ سائنس كي ہنر نمائياں ،يہ علم و حكمت كي جولانياں ، يہ ترقي و كاميابي كي شہنائياں، سب كے سب انسانيت كے شاندار مستقبل كي تعمير كا عنديہ دے رہي ہيں ۔  
نظر اٹھا كر تو ديكھيں ہرطرف كاميابيوںكي شہنائياں بج رہي ہيں ، خوشيوں كے ميلے ہيں ،انساني خواہشات كے وسيع سمندر ميں تكميلِ آرزو كے سفينے رواں دواں ہيں، مسرتوں كي دل آويزيوں كے ساتھ ہرسو رونقوں كے ديپ جل رہے ہيں، انسان كي رنگ برنگي آرزوئيں تتليوں كي طرح دنياوي نعمات كے پھولوں سے لپٹي عرق تسكين تلاش كر رہي ہيں ، ہر طرف انسان كي ہنر نمائيوں كي چراغاني ہے۔
آج نہ صرف پاني ہوا ،فضا اور خلا انسان كے قبضہ ميں ہے بلكہ انسان نے چاند اور مريخ پر كمنديں ڈال كر يہ ثابت كر ديا ہے كہ اگر وہ كمال كي چوٹيوں كو طے كرنے كے لئے كمر ہمت باندھ لے تو اقاليم سبعہ اسكے قدموں ميں سجدہ ريز نظر آئيں گے ۔
بقول شہيد مطہري ''انسان كي علمي اور فني طاقت كے لئے كوئي قلعہ نا قابل تسخير نہيں ہے سوائے ايك قلعہ كے اور وہ ہے انساني روح اور اسكے نفس كا قلعہ ۔
پہاڑ ، سمندر ، خلا ، زمين ، آسمان ، يہ سب كے سب اسكي علمي اور فني جولانيوں كے سامنے بے بس ہيں واحد وہ مركز جو اسكي عمل داري سے باہر ہے وہ وہي چيز ہے جو خود انسان سے سب سے نزديك ہے ليكن اسے فتح كرنا آسان نہيں بقول مولانا رومي :
كشتن اين كار عقل و هوش نيست
شير باطن سخرئہ خرگوش نيست ۔ (١)۔
اب يہ اتفاق ہي ہے كہ انسان كے آرام و سكون ، امن و عدالت ، آزادي و مساوات اور انسان كي فلاح و كاميابي كا سب سے خطرناك دشمن خود اسي كے قلعہ ميں چھپاہے اور اسكي گھات ميں بيٹھا ہوا ہے ''اعدي عدوك نفسك التي بين جنبيك تمہارا سب سے بڑا دشمن تمہارا وہ نفس ہے جو تمہارے پہلو ميں ہے ،، ٢  
سب سے بڑے دشمن سے بے خبري ہي كا نتيجہ ہے كہ كائنات كو تسخير كر لينے كے بعد بھي انسان اپنے سركش نفس كو قابو كرنے ميں ناكام ہے اور شايد يہي وجہ ہے كہ سائنس اور ٹكنالوجي كي كرشما سازيوں اور ہنر آفرينيوں كے باوجود آج انساني اقدار انسانيت كا ماتم كرتے نظر آ رہے ہيں اسكي مثال وہ ترقي يافتہ ممالك ہيں جو اقتصادي اور مالي و رفاہي اعتبار سے دنيا ميں سر فہرست ہيں ۔انكي جيسي ٹكنالوجي كسي كے پاس نہيں ، انكے جيسے جنگي آلات كسي كے پاس نہيں انكا جيسا مضبوط مواصلاتي نظام كسي كے پاس نہيں، انكے جيسے ذرائع ابلاغ كسي كے پاس نہيں وہ رفاہي اور مالي اعتبار سے آج مثال بننے كے باوجود اپنے عوام كو سكون مہيہ كرانے ميں ناكام ہيں اور ماہرين نفسيات جب بھي سروے كرتے ہيں تو يہي بات سامنے آتي ہے كہ بے چيني اور depression)(ميں بھي سب سے آگے يہي ممالك ہيں۔ معتبر رپورٹوں كے مطابق سب سے زيادہ خود كشي كي شرح بھي انہيں ممالك ميں پائي جاتي ہے ۔
خود كشي كي سب سے بڑي وجہ بھي يہي ہے كہ جب انہيں سكون نصيب نہيں ہوتا اور زندگي بيزار سي لگنے لگتي ہے تو اس بيزاري كاآخري حل خود كشي كے طور پر سامنے آتا ہے اور نہ صرف خود كشي بلكہ تدريجي اور خاموش موت كے ذمہ دار بھي يہي ممالك ہيں اور يہي وجہ ہے كہ ''افغانستان ''اور'' كولمبيا ''جيسے منشيات كي پيداوار كے ممالك كا سب سے بڑا بازار بھي امريكہ اور يورپ كے ترقي يافتہ ممالك ہيں جہاں دنيا كي سب سے زيادہ منشيات سپلائي ہوتي ہے ۔
اگر يہ باتيں افريقا كے قحط زدہ علاقوں، ہندوستان ،پاكستان بنگلا ديش، يا ديگر غريب و فقير ممالك كے لئے كہي جاتيں تو بات كچھ سمجھ يں آ سكتي تھي كہ فقيري ، غربت يا بيكاري سے تنگ آ كر لوگ منشيات كا استعمال كر رہے ہيں يا خود كشي كے ذريعہ خود كو ہلاك كر رہے ہيںمگرطرہ تو يہ ہے كہ جس طرح كي منشيات يہ ترقي يافتہ ملك استعمال كرتے ہيں ان كو استعمال كا سوچ كرہي غريب آدمي كوہارٹ اٹيك ہو سكتا ہے كيونكہ انكي قيمت بھي ايك عام آدمي اپنا سب كچھ لٹا كر بھي ادا نہيں كر سكتا ۔
اسكا مطلب يہ ہے كہ غربت يا فقيري منشيات كے استعمال اور خود كشي كي علت نہيں ہے بلكہ اسكي وجہ كچھ اور ہے۔
ان ممالك كے تجزياتي مطالعہ كي روشني ميں يہ بات كہي جا سكتي ہے كہ ماديت كي چكا چوند ميںيہ بھول گئے ہيں كہ جس طرح انسان كے جسم كو رشد و نمو كے لئے غذا كي ضرورت ہے اسي طرح انسان كي روح بھي بغير غذا كے رشد و نمو حاصل نہيں كر سكتي اورروح اس وقت تك پرسكون نہيں ہو سكتي جب تك اسكے معنوي تقاضوںكو پورا نہ كيا جائے۔
انہوں نے جسماني تقاضوں كي تسكين كے وسائل پر تو افراط كي حد تك توجہ كي ليكن روح كے تقاضوں كو بھول گئے اور شايد يہي وجہ ہے كہ يہ لوگ مادي اعتبار سے تو بہت آگے ہيں ليكن روحي اعتبار سے قحط زدہ علاقوں ميں بسنے والے ننگے بھوكوں سے بھي زيادہ بھوكے ہيں يہ اپني روحانيت كي بھوك مٹانے كے لئے ادھر ادھر ہاتھ پير مارتے ہيں اور جب كہيں سكون نہيں ملتا تو موت سے ہم آغوش ہو جاتے ہيں ہماري اس بات كا ثبوت وہ جديد تحقيقات ہيں جن سے يہ بات ثابت ہوتي ہے كہ شراب اور دوسري منشيات كا استعمال مذہبي افراد ميں دوسروں سے كم ہے ۔
آج تيزي كي ساتھ ترقي كي منزلوں كي طرف گامزن قافلہ انساني گرچہ ظاہري ترقي كے زيورروں سے خود كو آراستہ كئے ايك دلفريب نظارہ پيش كر رہاہے اور اپنے حسن و جمال ،اپني رعنائيوں اور دلربا ادوائوں سے ہر ايك كو مسحور كئے ہوئے انساني ذہن كي كرشماتي صلاحيتوں كے بل پر داد تحسين حاصل كر كے خود ميں مست مگن اپني ظاہري كاميابيوں پر ناز كرتا نظر آرہا ہے ليكن حقيقت ميں ديكھا جائے تو نہ جانے كتنے ايسے ز خم ہيں جو اس انساني قافلہ كي زخمي روح ميں پھيلتے چلے جا رہے ہيں اور اسے انكي خبر بھي نہيں، ماديت كے جھلماتے حسين اور دبيز پردوں نے اسكي آنكھوں كے پتليوں ميں ايسا جال تان ديا ہے كہ يہ چاہ كر بھي حقيقتوں كا سامنا نہيں كر سكتا ۔
يہ چاہتے ہوئے بھي مچلتي ہوئي روح كے زخموں سے رستا ہوالہو نہيں ديكھ سكتا، يہ چاہتے ہوئے بھي نالہ و شيون كرتي ہوئے انساني اقدار كي چيخ پكار كو نہيں سن سكتا ۔يہ بھوك و افلاس سے تڑپتے ہوئے ناداروں كو ديكھتا ہے تو اسكي روح بے چين ہو جاتي ہے ليكن ايك ہي لمحے ميں منظر بدل جاتا ہے ،پردہ ذہن پر بننے والي بے يارو مدد گار ننگے بھوكے دو روٹي كے محتاج لوگوں كي تصوير ابھي اس كے قرطاس دل پر ٹھہر نہيں پاتي كہ موسيقي كے دھن پر تھركتے ہوئے بدن اسكے ذہن و دل و دماغ پر مسلط ہو كر اسے بھي زمانے كے ساتھ تھركنے پر مجبور كر ديتے ہيں ، جذبہ ہم دردي سسكياں لے كر دم توڑ ديتا ہے بے يار و مددگار فقير و نادار لوگ اپني آنكھوں ميں مايوسيوں كے بادل لئے پيٹ پر پتھر باند كر سو جاتے ہيں اور يوںروح كے تقاضوںكا گلا گھونٹ كر روح و جسم كے ما بين متضاد خواہشات كا طلاطم تھم جاتا ہے ۔
يہ ظلم و ستم كي چكي ميں پستے ہوئے يتيم ،لاوارث غريب ،پسماندہ اور ناتواں لوگوںكي فريادوں كو سنتا ہے ليكن اس سے پہلے كہ اسكي انسانيت ،اسكا ضمير انكے لئے كچھ كرنے پر وادار كرے چھلكتے جاموں كي كنھكھناہٹ اور كيف و سرور ميں مدہوش نغموں كي مترنم آزوازيں اسے اپنے ساتھ اتني دور لے جاتي ہيں جہاں يہ خود اپني روح كي چيخ پكار بھي نہيں سن پاتا جو انسانيت كي دہائي دے كر اسے من ماني كرنے سے روكتي ہے ليكن يہ ہر حد كو پار كرتے ہوئے حيوانيت و درندگي كاپجاري بن جاتا ہے اور جب حيوانيت كے ديو كے چرنوں ميں اپنا سر ركھ كر اٹھاتا ہے تو اسكے نس نس ميں درندگي جاگ اٹھتي ہے ۔
اب يہ ظاہر ميں تو انسان ہوتا ہے ليكن حلال و حرام كي تميز نہيں رہتي اس لئے اندر سے خنزير بن جاتا ہے، اپنے پيٹ كے لئے ہر ايك سے لڑتا ہے ظاہر ميں انسان ہوتا ہے ليكن اندر سے سگ آوارہ بن جاتا ہے، مظلوموں پر ظلم كرتا ہے اور كوئي روكے ٹوكے تو بھونكتا ہوا كاٹنے ڈوڑتا ہے، چھين جھپٹ كر اپنے پيٹ كي آگ بجھاتا ہے، ظاہري طور پر تو انسان نظرآتا ہے ليكن اندر سے بھيڑيا بن جاتا ہے يہ كہيںسانپ ،كہيں بچھو، كہيں گرگٹ بنتا ہے ليكن انسان كہيں نہيں رہتا يہي وجہ ہے كہيں باپ اور بيٹي كے مقدس رشتہ كي دھجياں اڑاتا ہے تو كہيں بہن بھائي كے تقدس كو سر بازار نيلام كرتا ہے ۔
مختصر يہ كہ جو انسان چاند اور سورج پر كمنديں ڈال رہا تھا اگر اسكے پاس واضح اور روشن اخلاقي نمونے نہ ہوں تو وہ خود اپنے وجود كے حصار سے باہر نہيں نكل پاتا بلكہ جتنا زيادہ دنياوي علم و ٹكنالوجي كو استعمال ميں لاتا ہے اتنا ہي زيادہ بڑي تباہي كو بھي وجود ميں لاتا ہے ۔  
دنيا چاہے جتنا بھي قافلہ انساني كي ترقي كے گن گائے ليكن يہ بات كسي بھي صاحب بصيرت كي نظروں سے پوشيدہ نہيں كہ جتنا علم و صنعت كي كرشما سازياں انسانيت كو بام عروج پر پہونچا رہي ہيں اتنا ہي انسانيت اخلاق و معنويت كے بحران ميں مبتلا ہوتي جا رہي ہے ۔
دنيا ميں تمام تر ترقيوں كے باوجود ، جرائم ، فساد، تباہي ، قتل ، خود كشي ، كي شرحوں ميں اضافہ اس بات كي دليل ہے كہ تمنائوں كے ہجوم اور آرزووں كے حصول كے سيلاب ميں كوئي بھي ايسا ساحل امن نہيں جہاں انسانيت خود كومحفوظ سمجھ سكے ۔
انسان كي سركش روح جب سركشي پر آمادہ ہو جائے اور اسكي بلا خيز تمنائوں ميں جب طغياني آ جائے تو علم وصنعت كي يہ روز افزوں ترقي بھي تخريب ميں تيزي كا باعث بن جاتي ہے اور آج يہي ہو رہا ہے۔ شہيد مطہريرح نے سالہا سال پہلے انسانيت كے درد كو سمجھتے ہوئے انہيں باتوں كے پيش نظر كہا ہوگا : '' اسي لئے آج كا انسان اس قدر علمي كاميابيوں كے باوجود درد انگيز نالے بلند كر رہا ہے ،يہ كيوں نالہ كناں ہے ؟ اس ميں كس پہلو سے كمي اور نقص پايا جاتا ہے ؟ كيا اخلاق و عادات اور انسانيت كے بحران كے علاوہ بھي اس ميں كوئي كمي پائي جا رہي ہے ؟ آج انسان علمي اور فكري اعتبار سے اس مقام پر پہنچ چكا ہے كہ اب وہ آسمانوں پر سفر كا ارادہ ركھتا ہے، سقراط اور افلاطون جيسے لوگ اسكي شاگردي كا اعزاز قبول كرنے كو تيار ہيں ليكن روحانيت و اخلاق اور عادات و اطوار كے اعتبار سے وہ ايك شمشير بدست وحشي كي مانند ہونے سے زيادہ نہيں ہے اگرچہ ا نسان نے حتي الامكان اپنے ارد گرد كے ماحول كو تبديل كيا ہے ليكن اپنے آپ كو اور اپنے انداز فكر كو اپنے جذبات و رجحانات كو تبديل نہيں كر سكا آج كے انسان كي مشكلات كي جڑ اسي جگہ تلاش كرنا چاہيے   ٣
آج كے انسان نے علم و فن ميں اپني تمام تركرشمہ ساز ترقيوں كے باوجود آدميت اور انسانيت كے اعتبار سے ايك قدم بھي آگے نہيں بڑھايا ہے بلكہ وہ اپنے تاريك ترين دور كي جانب پلٹ گيا ہے'' .. ٤ سوال يہ ہے كہ اس انسان كو اسكے تاريك دور سے واپس آج كي دنيا ميں كيسے لايا جائے ؟ علامہ اقبال اسكا حل يوں بيان كرتے ہيں ''انسانيت كو آج تين چيزوں كي ضرورت ہے ، دنيا كي روحاني تعبير، فرد كي روحاني آزادي اور دنيا پر اثر انداز ہونے والا ايسابنيادي اصول جو روحاني بنياد پر انساني سماج كے كمال تك پہونچنے كي نھج اور اسكے مبنا كو بيان كر سكے'' ٥ ۔
يہ تينوں چيزيں صرف دين كے ذريعہ حاصل ہو سكتي ہيں ''مختلف مكاتب ، اديان اور مذاہب كے درميان صرف اسلام ہے جو ان تينوں ضروريات كا جواب دينے كي صلاحيت ركھتا ہے٦    
آج انسانيت كو جس چيز كي سب سے زيادہ ضرورت ہے وہ معنويت اور اخلاق ہے ۔ در حقيقت انسان اپنے گم شدہ وجود كي تلاش ميں سرگرداں ہے جو بغير اخلاق و معنويت كے متصور نہيں ہے ،انسان كي پياسي روح كو شدت كے ساتھ الہامي تعليمات كے ان برستے بادلوںكي ضرورت ہے جو ذہن و دل و دماغ كي مرجھائي كليوں كے ہونٹوں پر بھي زندگي كي مسكراہٹ بكھير ديں اور يہ كام عقل محض كے خشك جھلستے بيابانوں ميں صحرا نوردي سے ممكن نہيں ، چنانچہ علامہ اقبال فرماتے ہيں: '' شك نہيں كہ جديد يورپ نے نظرياتي اور مثالي نظام مدون كئے ۔ ليكن تجربہ بتاتا ہے كہ جو حقيقت صرف اور صرف عقل محض كے رستہ حاصل كي جائے اس ميں زندہ اعتقاد كي حرارت نہيں ہو سكتي جو صرف الہام سے ہوتي ہے ،يہي وجہ ہے كہ عقل محض نے نوع بشر پر كوئي اثر نہيں ڈالا جبكہ دين ہميشہ لوگوں كي ترقي اور انساني معاشرے ميں تبديلي كا باعث رہا ہے اسي لئے يورپ كي كارگزاريوں كا نتيجہ ايك حيران '' ميں '' كي صور ت ميں سامنے آتا ہے جو ايك دوسرے كے ساتھ ناہم آہنگ جمہوريتوں كے درميان اپني تلاش ميں سرگرداں ہے،ميري بات پر يقين كيجئے كہ آج كا يورپ انسانيت كے اخلاق كي ترقي ميں سب سے بڑي ركا وٹ ہے ' (٧) وہ ساحل نجات جہاں يہ'' ميں '' دريائے حيرت ميں غوطہ ور ہونے سے بچكر ابدي سكون سے ہم كنار ہو سكتا ہے وہ''ايمان ''ہے، اگر زندگي كو كوئي چيز حسين بنا سكتي ہے تو وہ ايمان ہے ۔جسكے پاس ايمان نہيں وہ با مقصد و با معني زندگي كے مفہوم سے كبھي آشنا نہيں ہو سكتا اس لئے شہيد مطہري كے بقول '' ا يمان كے علاوہ جو كچھ بھي ہے خواہ وہ عقل ہو يا علم ،ہنر ہو يا صنعت، قانون ہو يا كچھ اور!يہ سب انسان كي جبلي خواہشات كي تسكين اور انكي تكميل كے لئے اسكے ہاتھ ميں آلہ كار ہيں، صرف قوت ايماني وہ چيز ہے جو روح كو نئي زندگي ديتي ہے ۔
اخلاق و معنويت كا بحران اس وقت تك نہيں حل ہو سكتا جب تك بني نوع بشر اپني پياسي روحوں كو ايمان كے چشمہ طمانيت سے سيراب نہ كرے اور ان تعليمات سے آشنا نہ ہو جائے جہاں روح و جسم دونوں كے تقاضوں كے مد نظر ان جامع اصولوں كي نشان دہي كي گئي ہے جو انسان كو انسان بناتے ہيں ۔
آج دنيا كے تمام ترقي يافتہ اور ترقي پذير ممالك سر جوڑے بيٹھے ہيں كہ اخلاق اور معنويت كے بحران سے كيسے مقابلہ كيا جائے ايسے ميں ضرورت ہے اس اخلاق كے پيكر كو ساري دنيا كے سامنے پيش كرنے كي جس نے جاہلي رسموں اور خود ساختہ سماجي زنجيروں ميں جكڑے ہوئے اس عرب كے جاہلي سماج كي علم و اخلاق و تہذيب كے بل پر تعمير كر كے جينے كے لائق بنا ديا جو فتنہ و فساد كي آگ ميں جل رہا تھا، خرافات اور اوہام پرستي كي خار دار جھاڑيوں ميں اپنا وجود كھو چكا تھا جھلستے ہوئے بيابانوں ، لق و دق صحرائوں اور ريگزاروں ميں رہنے والے لوگوں كے درميان اخلاق و معنويت كانمونہ بن جانا قبائلي نظام ميں اخلاقي انحطاط و تنزلي كے باوجود اسي نظام كے اندر سے اخلاق و معنويت كے نمونوں كو پيش كرنا معمولي كارنامہ نہيں ہے ۔
يہي وجہ ہے كہ جاہليت كي سر زمين كو قيصر و كسري و روم كے لئے قابل رشك بنانے والي ذات كو قرآن كريم نے پوري كائنات كے لئے رحمت قرار ديا
''وما ارسلناك الا رحمة للعالمين'' اور انسانيت كے لئے اس ذات كو نمونہ عمل بنايا ''ولكم في رسول اللہ اسوة حسنہ ''
اسلام كے ظہور كو چودہ سال گزر جانے كے باوجود آج بھي دنيا اسي قدر اسكي تعليمات كي محتاج ہے جتنا روز اول تھي ۔ جس دن ان ضروريات كا احساس عام ہو جائيگا اس دن انسان كے پاس اپنے آپ كو اسلام كي آغوش ميں ڈال دينے كے سوا كوئي اور چارہ نہ ہوگا'' ٨۔ اب يہ ہماري ذمہ داري ہے كہ ہم ان تعليمات كو كس طرح عام كريں جنكي تشنگي آج ہرمعاشرہ محسوس كر رہا ہے ۔
كل اگر بدو عرب پيغمبر اسلامۖ كي شخصيت سے حاصل ہونے والے دروس كے سرچشمہ سے فيضياب ہو كرانساني اقدار پر مشتمل سماج كي تشكيل دے سكتے ہيں تو يقينا آج بھي ہم پوري دنيا ميںتعليمات نبي رحمت ۖ كي روشني پھيلا كر انسانيت كے مستقبل كے خطوط كو روشن كر سكتے ہيں۔
پروردگارا! اس معنويت كے موجودہ بحران ميں، بعثت پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے مبارك و مسعود موقع پر ہميں بہتر سے بہتر حضور صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم كي سيرت كو سمجھنے اور سمجھ كر اس پر عمل كے ساتھ دوسروں تك اس سيرت طيبہ كے ان مختلف گوشوں كو منتقل كرنے كي توفيق عنايت فرما جنكي چھائوں ميں انسانيت كو سكون ملتا ہے ، جسكے سايہ ميں آ كر انسان حقيقت انسانيت سے روشناس ہوتا ہے
آمين يا رب العالمين ۔
حواشي :
١۔ مفہوم يہ ہے'' اسكو مارنا اور اس سے نبٹ پانا عقل و ہوش كے بس كا كام نہيں ہے كہ نفس كا شير خرگوش كا تر نوالہ يا اسكا مذاق نہيں ہے ، مولانا رومي ،حكايت نخچيران و شير، مثنوي معنوي، دفتر اول ۔
٢۔ شہيد مطہري ، سيري در سيرہ نبوي مجموعہ آثار جلد ١٦ ص ٢٤
٣۔ سيري در سيرئہ نبوي ، مجموعہ آثار جلد ١٦ ۔ ص، ٢٧ ۔
٤۔ سيري در سيرہ نبوي ، مجموعہ آثار جلد ١٦ ص ٢٥
٥۔احياء فكر ديني در اسلام ۔ ص ٢٠٣۔ ٢٠٤
٦۔ سيري در سيرہ نبوي ،مجموعہ آثار جلد ١٦ ص،٢٧
٧۔ احياء فكر ديني در اسلام ۔ ص ٢٠٣۔ ٢٠٤
٨۔ سيري در سيرہ نبوي ،مجموعہ آثار جلد ١٦ ص،٢
دن كي تصوير
حرم حضرت عباس (عليہ السلام)
ويڈيو بينك