شام پر حملے كے مقاصد كيا تھے؟

تاریخ اشاعت:28/01/1397
امريكہ، فرانس اور برطانيہ نے حال ہي ميں شام پر حملے كے عوض كئي ارب ڈالر كي خطير رقم آل سعود كے ناتجربہ كار وليعہد سے وصول كرليئے تھے چنانچہ نمك حلال كرنا بھي مقصود تھا اور سعودي خزانے سے مسلسل اتصال بھي!
شامي فوج اس وقت دہشت گردي كے خلاف حقيقي جنگ كا اگلا مورچہ ہے وہي دہشت گردي جو كسي بھي وقت مغربيوں كے شيش محلوں كو نقش خاك كرسكتے ہيں ليكن ان كا شكريہ ادا كرنے كے بجائے وہ دہشت گردوں كو بچا رہے ہيں۔
انھوں نے گذشتہ 7 برسوں كي شامي خانہ جنگي ميں دہشت گردوں كي ہر قسم كي مدد بھي كي تھي اور دہشت گردوں سے شام اور عراق كا چوري شدہ تيل بھي خريدتے رہے اور جب بھي دہشت گرد شامي افواج اور محاذ مزاحمت كے نرغے ميں آئے مغرب نے شور مچا كر اور قرارداديں منظور كروا كر مجاہدين كے راستے ميں روڑے اٹكائے۔
داعش، ہليري كلنٹن كے بقول ان كي اپني ذاتي پيداوار تھي جس كو انھوں نے ليبيا، مصر، يمن اور شام ميں استعمال كيا اور اب اس كو اگلي جنگ كے لئے محفوظ ركھنا چاہتے ہيں۔
ادھر مغربي دنيا كے طيارہ بردار جہاز ـ جس كو اسرائيل بھي كہا جاتا ہے ـ كو خطرات لاحق ہيں، تحريك واپسي نے اس كي ناك ميں دم كرديا ہے اور محاذ مزاحمت كي طاقت ميں بھي مسلسلہ اضافہ ہورہا ہے۔ چنانچہ اس كے زخموں پر مرہم ركھنا بھي مقصود تھا۔
امريكہ، فرانس اور برطانيہ نے حال ہي ميں شام پر حملے كے عوض كئي ارب ڈالر كي خطير رقم آل سعود كے ناتجربہ كار وليعہد سے وصول كرليئے تھے چنانچہ نمك حلال كرنا بھي مقصود تھا اور سعودي خزانے سے مسلسل اتصال بھي!
عراق اور شام ميں داعش كي خلافت كے خاتمے سے ايران كي نظرياتي سرحديں بھي اور جغرافيائي سرحديں بھي محفوظ ہوچكي ہيں اور يہ بات صدر ٹرمپ كو ايك آنكھ بھي نہيں بھاتي چنانچہ گھبراہٹ كي حالت ميں شام كے خلاف حملے كا اعلان كرتے ہوئے ٹرمپ نے كہا كہ: ايران داعش كي نابودي سے فائدہ نہيں اٹھا سكے گا ہم قطر، سعودي اور امارات كي مدد سے ايران كو اس كاميابي سے فائدہ نہيں اٹھانے ديں گے۔
گوكہ تجزيہ نگاروں كا كہنا تھا كہ امريكہ كے پاس كوئي بھي عسكري، تزويري اور معاشي يا سياسي اور اخلاقي جواز نہيں ہے كہ وہ شام پر حملہ كرے ليكن لمبي مدت كي رجزخوانيوں اور علاقے ميں بھاري مقدار ميں فوجي نقل و حركت كے پيش نظر بھي اور 2013 ميں اعلان كردہ جنگ سے امريكہ كي پسپائي كے بعد دوسري مرتبہ پسپائي امريكہ كے لئے مزيد ذلت اور خفت كا سبب ہورہي تھي چنانچہ انھوں نے محدود حملہ كركے ان بدناميوں سے جان چھڑانے كي كوشش كي۔
روس، ايران اور تركي شام كے بارے ميں فيصلہ كرنے والے تين ممالك ہيں جن كے مسلسل اجلاس بھي منعقد ہورہے ہيں اور يہ بات امريكہ اور يہودي رياست نيز يورپي ممالك كے لئے قبول نہ تھي اور امريكہ كو اميد تھي كہ اس حملے سے شامي حكومت اور اس كے حليفوں كي پوزيشن مجروح ہوگي اور ممكنہ اگلے مذاكرات ميں شامي حكومت سے اپنے لئے بھي اور اپنے حليف عبريوں اور عربوں كے لئے بھي، رعايتيں حاصل كرسكيں گے چنانچہ انھوں نے يہ محدود حملہ سرانجام ديا۔
ايك بڑا مقصد يہ تھا كہ غوطہ شرقيہ ميں شام اور محاذ مزاحمت كي عظيم كاميابي كو چھپايا جائے اور دنيا كي رائے عامہ كو ان كاميابيوں سے منحرف كيا جائے۔
ايك مقصد يہ بھي تھا كہ روس اور شام كي درخواست پر كيمياوي تخفيف اسلحہ كي بين بين الاقوامي تنظيم كے كچھ وفود شام روانہ ہوگئے تھے اور اگر وہ پہنچ كر وہاں سے رپورٹ ديتے تو ان كے پاس مطلق العنانيت پر مبني حملے كا كوئي جواز باقي نہ رہتا۔ چنانچہ انھوں نے ان كے كام شروع كرنے سے پہلے ہي شام پر حملہ كيا۔
مغرب كو شام اور عراق ميں وسيع ناكاميوں اور اندرون ملك ناكاميوں كي وضاحت كرنے كے مطالبات كا سامنا تھا چنانچہ انھوں نے حملہ كيا گوكہ يہ حملہ فاتح ملكوں كا نہيں بلكہ ناكام ملكوں كا حملہ تھا اور ان تين ملكوں اور ان كے علاقائي حليفوں كو اس حملے كے بعد زيادہ صراحت كے ساتھ معلوم ہوچكا ہے كہ شام كے مستقبل ميں ان كا كوئي كردار نہيں ہوگا اور امريكہ كو بھي اپنے دوہزار سپاہي فوري طور پر شام سے نكالنا پڑيں گے۔
آج اگر مغرب طاقتور ہے اور اقوام عالم ان سے بازخواست كرنے كي پوزيشن ميں نہيں ہيں تو تاريخ نے كم از كم ان كے اس نامنصفانہ اقدام كو ثبت كرليا تھا اور كسي دن تو ضرور انہيں ان اقدامات كے آگے جوابدہ ہونا ہي پڑے گا۔
ليكن انہيں يہ سارے مقاصد حاصل كرنے ميں ناكامي كا منہ ديكھنا پڑا اور محاذ مزاحمت ـ بشمول شام، ايران، روس اور حزب اللہ ـ نے گذشتہ سات برسوں سے كچھ انداز سے عمل كيا ہے كہ فتح و نصرت ان كے قدم ضرور چومے گي۔
دن كي تصوير
وادي السلام نجف   
ويڈيو بينك