رہبر انقلاب: قرآن پر عمل، استقامت و ترقي كي ضمانت ہے/مسلمانوں كو امريكہ كي منہ زوري اور تسلط پسندي كے خلاف قيام كرنا چاہيے

تاریخ اشاعت:21/02/1397
رہبر انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے قرآني تعليمات پر عمل كي ضرورت پر زور ديتے ہوئے فرمايا ہے كہ ايران نے قرآن پر عمل كے نتيجے ميں ہي امريكا كے مقابلے ميں استقامت و پائيداري اور پيشرفت و ترقي كي ہے۔
رہبر انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے قرآني تعليمات پر عمل كي ضرورت پر زور ديتے ہوئے فرمايا ہے كہ ايران نے قرآن پر عمل كے نتيجے ميں ہي امريكا كے مقابلے ميں استقامت و پائيداري اور پيشرفت و ترقي كي ہے۔
پينتيسويں قرآني مقابلوں ميں شريك، قاريان وحافظان قرآن اور قرآني علوم كے ماہرين نے جمعرات كو تہران ميں رہبر انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي سے ملاقات كي۔
اس موقع پر بين الاقوامي مقابلوں ميں منتخب ہونے والے حفظ و قرائت قرآن كريم كے ماہرين نے كلام الہي كي تلاوت سے، حسينيہ امام خميني كي فضا كو معطر كرديا۔
اس كے بعد رہبر انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے اپنے خطاب ميں، قرآني تعليمات پر عمل كي ضرورت پر تاكيد كے ساتھ فرمايا كہ قرآن سے بے توجہي اور اس كي تعليمات پر عمل نہ كرنے سے ناقابل تلافي نقصانات كا سامنا كرنا پڑے گا۔
بعض اسلامي ممالك قرآن كريم پر عمل نہ كرنے كے نتيجے ميں ہي پسماندگي اور كفار كے تسلط ميں گرفتار ہيں۔
آپ نے فرمايا كہ افسوس كہ آج بعض اسلامي ممالك قرآن كريم پر عمل نہ كرنے كے نتيجے ميں ہي پسماندگي اور كفار كے تسلط ميں گرفتار ہيں۔
رہبر انقلاب اسلامي نے فرمايا كہ اسلامي ممالك، قرآن سے تمسك نہ حاصل كرنے كے نتيجے ميں ذلت و رسوائي كي بيماري ميں مبتلا ہيں۔ آپ نے فرمايا كہ يہ جو امريكي صدر انتہائي بے حيائي كے ساتھ كہتا ہے كہ اگر ہم نہ ہوں تو بعض عرب ممالك ايك ہفتہ بھي باقي نہ رہيں، اسي بيماري كا نتيجہ ہے۔
آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے فرمايا كہ قرآن ہم سے كہتا ہے كہ مومنين كوچاہئے كہ كفر اور دنيا كي خودسر طاقتوں كے مقابلے ميں سيسہ پلائي ہوئي ديوار كي طرح ڈٹ جائيں ورنہ ذلت و رسوائي، بے راہ روي، خونريزي اور پسماندگي كا شكار ہوجائيں گے۔
آپ نے فرمايا كہ قرآن ہم سے كہتا ہے كہ مومنين ايك دوسرے سے متحد رہيں، رشتہ ولايت سے جڑے رہيں، اور محاذ كفر سے كوئي رابطہ اور تعلق نہ ركھيں، ليكن افسوس كہ آج ہم ديكھتے ہيں كہ بعض اسلامي ممالك صيہوني حكومت سے رابطہ ركھتے ہيں اور قرآني احكام پر عمل نہ كرنے كے نتيجے ميں جنگ اور وحشيانہ جرائم سے دوچار ہے۔
رہبر انقلاب اسلامي نے فرمايا كہ يمن كے عوام كے حالات كو ديكھيں كہ كيسي مصيبت ميں گرفتار ہيں، ان كي شادي كي تقريب عزاداري ميں تبديل ہوجاتي ہے، اسي طرح افغانستان، پاكستان، اور شام كي حالت كو ديكھيں، يہ تمام مسائل اس لئے ہيں كہ مومنين كے درميان ولايت و اخوت فراموش كردي گئي اور قرآني احكام پر عمل نہيں كيا جارہا ہے۔
آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے فرمايا كہ قرآن پر عمل عزت عطا كرتا ہے۔آپ نے فرمايا كہ اسلامي جمہوريہ ايران، (قران كريم پر عمل كرنے كے نتيجے ميں ہي) چاليس سال سے سامراجي طاقتوں كي زور و زبردستي كے مقابلے ميں ڈٹا ہوا ہے۔ آپ نے فرمايا كہ سامراجي طاقتيں اس نظام كو نابود كردينا چاہتي تھيں ليكن اس نظام كي پيشرفت و ترقي اور طاقت و توانائي ميں روز افزوں اضافہ ہوا ہے۔
قرآن ہم سے كہتا ہے كہ مومنين ايك دوسرے سے متحد رہيں، رشتہ ولايت سے جڑے رہيں، اور محاذ كفر سے كوئي رابطہ اور تعلق نہ ركھيں۔
آپ نے حفظ و قرائت قرآن كو قرآن كو سمجھنے اور اس پر عمل كرنے كي تمہيد قرار ديا اور نوجوانوں كو حفظ و قرائت قرآن كو اسي نقطہ نگاہ سے ديكھنے كي ہدايت كي۔ آپ نے فرمايا كہ اگر حفظ و قرائت قرآن كو اس پر عمل كرنے كي تمہيد قرار ديا جائے تو يقينا اسلامي دنيا كا كل يعني مستقبل آج سے بہتر ہوگا اور پھر امريكا امت اسلاميہ اور اسلامي ملكوں كے لئے نہ حدود كا تعين كرسكے گا اور نہ ہي انہيں دھمكي دے سكے گا۔
دن كي تصوير
حرم حضرت زينب سلام‌الله عليها   
ويڈيو بينك