ٹرمپ ذہني توازن كھو چكے ہيں وہ صرف طاقت كي زبان سمجھتے ہيں: ڈاكٹر لاريجاني

تاریخ اشاعت:21/02/1397
لاريجاني نے كہا كہ اگر يورپ، روس اور چين جيسے اہم ممالك اس معاہدے كے نفاذ ميں كردار ادا كرتے رہيں تو ايران بھي اس كا پابند رہے گا بصورت ديگر ہم اپني جوہري سرگرميوں كا دوبارہ آغاز كريں گے۔
ايراني پارليمنٹ كے اسپيكر علي لاريجاني نے امريكي صدر پر شديد تنقيد كرتے ہوئے كہا ہے كہ ٹرمپ ذہني صلاحيت كھو چكے ہيں اور آئے روز متناقض باتيں كرتے رہتے ہيں۔
انہوں نے كہا كہ امريكي اقدام عالمي قوانين كي خلاف ورزي ہے، امريكي صدر صرف طاقت كي زبان سمجھتے ہيں، ايراني ايٹامك انرجي آرگنائزيشن كو يورينئيم كي افزودگي كے لئے مكمل طور پر تيار رہنا چاہئے۔
لاريجاني نے مزيد كہا كہ اگر يورپ، روس اور چين جيسے اہم ممالك اس معاہدے كے نفاذ ميں كردار ادا كرتے رہيں تو ايران بھي اس كا پابند رہے گا بصورت ديگر ہم اپني جوہري سرگرميوں كا دوبارہ آغاز كريں گے۔
انہوں نے خدشہ ظاہر كيا ہے كہ معاہدے ميں شامل يورپي ملكوں كي جانب سے ڈيل پر برقرار رہنے پر ابہام پايا جاتا ہے۔
واضح رہے كہ امريكي صدر كے فيصلے كي مخالفت ميں ايراني اراكين پارليمنٹ نے ايوان ميں امريكي پرچم بھي نذر آتش كيا اور آمريكا كے خلاف سخت نعرہ بازي كي۔
دن كي تصوير
گنبد حرم كاظمين عليهما السلام   
ويڈيو بينك