رمضان المبارك 1439 ھ كے آغاز پر قائد ملت جعفريہ پاكستان علامہ سيد ساجد علي نقوي كا پيغام

تاریخ اشاعت:28/02/1397
امت مسلمہ پر لازم ہے كہ وہ ماہ مبارك كے دوران خدا تعالي كي لاريب كتاب قرآن كريم كے مطالعے كو بالخصوص اپني عادت بنائيں اور اس كے معاني و مفاہيم پر خصوصي توجہ دے
امت مسلمہ كو جس سنگين صورت حال كا سامنا ہے اس كي اصلاح كا ايك ذريعہ تطہير نفس ہے۔ اگر ماہ مبارك رمضان ميں تطہير نفس كے عمل كو خلوص اور محنت سے انجام ديا جائے تو آفاق كے در كھل سكتے ہيں اور رحمتوں كا نزول ہوسكتا ہے اور خدا كي مدد كا حصول يقيني ہوسكتا ہے۔ تطہير نفس اور تزكيہ كے ذريعے جہاں ہم بيروني مسائل كا مقابلہ آساني سے كرسكتے ہيں وہاں اندروني اختلافات‘ فروعي مسائل اور فرقہ وارانہ حالات بھي درست ہوسكتے ہيں اور ان مشكلات پر تطہير نفس كے ذريعے قابو پايا جاسكتا ہے كيونكہ اگر رمضان المبارك كے دوران روحاني بركتوں سے استفادہ كيا جائے اور خدا كے ساتھ خلوص كے ساتھ لو لگائي جائے تو اعتدال پسندي‘ سنجيدگي اور متانت كے زيور ہميں حاصل ہوسكتے ہيں جس سے اختلافات كي حدت او ر شدت ميں كمي آسكتي ہے۔
     روزہ فقط بھوكے پياسے رہنے كے ليے فرض نہيں كيا گيا بلكہ روزہ اپني فرضيت او ر وجوب كے اندر متعدد روحاني، فكري، اخلاقي اور جسماني فوائد كا حامل ہے۔ اس كي دليل يہ ہے كہ روزہ ہميں روحاني اور فكري حوالے سے عبادات كے ذريعے اپنے خالق كے قرب ميں لے كر آتا ہے اسي طرح ماہ رمضان كا پاكيزہ ماحول ہماري اخلاقيات ميں مثبت تبديلياں لاتا ہے بالخصوص سحر وافطار كے سبب ہمارا جسم ہزاروں فاسد مادوں سے پاك ہوكر بيماريوں سے دور ہوجاتا ہے۔ لہذا ہميں روزے كے ان حقيقي مقاصد سے بھرپور استفادہ كرنا چاہيے نہ كہ صرف صبح شام بھوك پياس برداشت كي جائے ۔
     رمضان المبارك كے مقدس مہينے سے يہ حقيقت بہت حد تك روشن اور عياں ہوجاتي ہے كہ اسلامي تعليمات خواہ عبادات كي شكل ميں ہوں يا معاملات كي شكل ميں ہوں يہ تمام تعليمات فطرت كے عين مطابق ہيں اسي بناء پر اسلام كا عادلانہ نظام ہي وہ نظام ہے جو عالم بشريت كے ليے پرسكوں، پر اطمينان ، مہذب اور شفاف زندگي كي ضمانت فراہم كرتا ہے اس ليے ماہ مبارك ہم سے يہ تقاضا كرتا ہے كہ ہم اسلام كے عادلانہ نظام كے قيام اور نفاذ كي جدوجہد كو تيز تر كريں اور اس كے ليے متحد ہو كر بھرپور آواز اٹھائيں۔
     امت مسلمہ پر لازم ہے كہ وہ ماہ مبارك كے دوران خدا تعالي كي لاريب كتاب قرآن كريم كے مطالعے كو بالخصوص اپني عادت بنائيں اور اس كے معاني و مفاہيم پر خصوصي توجہ دے اور اس ميں موجود اسرار و رموز كا باريك بيني سے جائزہ لے اور انہيں اپني انفرادي و اجتماعي زندگي پر نافذ كرے تاكہ انسانيت فلاح و ہدايت كے راستے پر گامزن ہوكر اخروي كاميابي سے ہمكنار ہوسكے۔ اسلاميان پاكستان سے اپيل ہے كہ وہ اس ماہ مبارك ميں اپنے مصيبت زدہ اوردہشت گردي سے متاثرہ بھائيوں كو بھي ضرور ياد ركھيں اور انكي ضرورتوں كا خيال كريں۔
دن كي تصوير
وادي السلام نجف   
ويڈيو بينك