امام حسن مجتبي عليہ السلام كي نظر ميں سياست كا مفہوم اور ہمارا معاشرہ

تاریخ اشاعت:14/03/1397
ايسا اخلاق جہاں ہم دورسروں كا درد ركھيں ، اور مظلموں كا ساتھ دينے كا جذبہ اپنے وجود كے اندر ركھيں اور دنيا بھر ميں جہاں بھي مسلمانوں پر انسانيت پر ظلم ہو رہا ہے اسكے مقابل كھڑے ہوں كم سے كم آواز بلند كريں ، آواز اٹھائيں فلسطين كے مظلوموں كے لئے ، يمن كے محروموں كے لئے ، بحرين كے بے بس لوگوں كے لئے
امام حسن مجتبي عليہ السلام كي ذات ايك ايسي ذات ہے جو حسن خلق، اخلاق حسنہ، حلم و بربادباري اور جود سخا و كرم جيسے بلند ان اخلاقي كمالات كے لئے جاني جاتي ہے جن سے ہمارا آج ہمارا معاشرہ تہي ہے۔
معاشرہ ميں روز بروز انساني اقدار كا كمزور پڑنا ، قدروں كي پامالي ،انسان كے شرف كے معيار كا روز بروز گرنا ہم سے مطالبہ كرتا ہے كہ ہم اس عظيم شخصيت كے دروازہ كرم پر چليں جس كے علم و فضل كي روشني ميں ايك بہترين سماج كو تشكيل ديا جا سكتا ہے ۔
جسكي تدبير و سياست كي روشني ميں ،سياست كے مفہوم كو سمجھتے ہوئے معاشرہ كي بہترين تدبير كے ساتھ اسے اس انداز ميں ليكر چلا جا سكتا ہے كہ جوہميشہ مضبوط و پائدار رہے اور ترقي كي طرف مسلسل بڑھتا رہے اور زوال پذير ماديت كے طوفان كا شكار نہ ہو ۔
جہاں آج سياست كا مفہوم ج دوسروں كو بيوقوف بنا كر اپنا الو سيدھا كرنا ہے وہيں امام مجتبي عليہ السلام سياست كو بندگان خدا اور خدا كے حقوق كي رعايت سے تعبير فرماتے ہيں :
آپ فرماتے ہيں : سياست يہ ہے كہ تميں اللہ اور اس كے بندوں كي حقوق دكھائي ديں زندوں اور مردوں كے حقوو كي پركھ رہے ، اللہ كا حق تم پر يہ ہے كہ جسكا اس نے تم سے مطالبہ كيا ہے وہ كر و اور ہر اس چيز سے بچو جس سے اس نے تمہيں روكا ہے ، اور زندوں كے حقوق يہ ہيں كہ تم اپنے بھائيوں كے مقابل اپنے وظيفہ و اپني ذمہ داري پر عمل كرو ، ۔۔۔ ليكن مردوں كے حقوق يہ ہيں كہ تم انہيں نيكيوں كے ساتھ ياد كرو انكي برائيوں كا تذكرہ نہ كرو انكي برائيوں سے چشم پوشي كرو كہ خدا انكا حساب لينے والا ہے [۱]
شك نہيں كہ معاشرہ ميں اگريہ سياست نافذ ہو جائے اور ايك دوسرے كو گرانے كي ذليل كرنے كي باتيں نہ ہوں ، اسكي اور اسكي پارٹي كے جھگڑوں ميں آپسي رنجشوںكو بڑھاوا نہ ہو اور لوگ يہ ديكھيں كہ ہماري ذمہ داري كيا ہے اور ہر ايك اپني ذمہ داري پر عمل كرے تو ايك چھا معاشرہ سامنے آ سكتا ہے ۔
امام حسن مجتبي عليہ السلام نے جو سياست كا مفہوم بيان كيا ہے اس كے پيش نظر ہميں ان سوالوں كے جواب دينا ہوں گے ، اپنا ايك محاسبہ كرنا ہوگا۔
كيا ہم نے اپنے ساتھ جينے والوں كے حقوق كو ادا كر ديا ہے يا نہيں بالكل مردوں كي طرح چھوڑ ديا ہے اور محض ہميں اپني كرسي كي فكر ہے وہ جيسے ہتھے آ جائے چاہے دين و پامال كر كے چاہے بندگان خدا كے حقوق كو پامال كر كے ؟
كيا ہم اپنے مرنے والوں كو نيكي سے يا د كرتے ہيں يا مرنے كے بعد بھي انكا چٹا بٹا كھولنے پر محض اس لئے تلے ہيں كہ ہميں اقتدار حاصل ہو سكتا ہے ؟ يہ وہ چيزيں ہيں جن پر غور كرنے كي ضرورت ہے
اور خاص كر ماہ مبارك رمضان كي اس نوراني فضا ميں تو ہمارے لئے اور بھي ضروري ہے كہ اپنے اخلاق و كراد كو اگر ہم امام مجتبي عليہ السلام جيسا نہيں بنا سكتے تو كم از كم ان سے قريب تو لا سكتے ہيں ، ايسا اخلاق تو پيش كر سكتے ہيں جس ميں اخلاق حسني كي پرچھائياں ہوں
ايسا اخلاق جہاں خوف خدا ہو ، ايسا اخلاق جہاں دوسروں كا درد ہو ، ايسا اخلاق جہاں سچائي ہو ، صداقت ہو ، امانت ہو ،شرافت ہو ، ايسا اخلاق جس ميں كم از كم ايك مہينہ ہم جھوٹ، فريب و بہتان سے خود كو دور ركھنے ميں كاميباب ہوں
ايسا اخلاق جس ميں ہمارے وجود كے اندر وسعت نظر پيدا ہو جائے اور ہم تنگ نظري كا شكار ہو كر معمولي معمولي باتوں ميں ايك دوسرے سے الجھ نہ بيٹھے وہ حسني اخلاق جس ميں ہم اپنے سے بڑوں كي عزت كريں ، نرم و لطيف لب ولہجہ ميں گفتگو كريں دوسروں كو نيچا دكھانے كي كوشش نہ كريں
ايسا اخلاق كسي ميں كسي كے خلاف جھوٹي گواہي نہ ديں ، سچے بن كر رہيں اپنے امام عليہ السلام كي طرح جنہيں زمانہ صداقت و سچائي سے پہچانتا ہے
ايسا اخلاق جہاں ہم دوسروں كو معاف كرنا سيكھ جائيں ، كسي كي بات كو دل ميں ركھ كر اسے كينہ نہ بننے ديں ، ايسا اخلاق جہاں ہم غريبوں كے لئے ويسے ہي تڑپيں جيسے امام حسن عليہ السلام تڑپتے تھے ، ايسا اخلاق كے اگر اس مہينہ ميں كسي نے ہم سے كوئي سوال كيا ہے ہم سے اپني كسي مشكل كا ذكر كيا ہے تو كوشش كريں كہ خاموشي كے ساتھ ويسے ہي حل كريں جيسے امام مجتبي عليہ السلام نے كي تھي ۔
اپنے مومن بھائيوں كي حاجت روائي ہميں بوجھ نہ لگے بلكہ انكي مشكل كو حل كرتے ہوئے ہميں خوشي ہو كہ خدا نے ہميں يہ موقع فراہم كيا ۔
ايسا اخلاق جہاں ہم دورسروں كا درد ركھيں ، اور مظلموں كا ساتھ دينے كا جذبہ اپنے وجود كے اندر ركھيں اور دنيا بھر ميں جہاں بھي مسلمانوں پر انسانيت پر ظلم ہو رہا ہے اسكے مقابل كھڑے ہوں كم سے كم آواز بلند كريں ، آواز اٹھائيں فلسطين كے مظلوموں كے لئے ، يمن كے محروموں كے لئے ، بحرين كے بے بس لوگوں كے لئے جو امت مسلمہ كي بے حسي كي بنياد پر شديد ترين پابنديوں قتل و وحشت و خوف كے سايہ ميں ماہ مبارك رمضان كے روزے ركھ رہے ہيں اور جب افطار كا وقت آتا ہے تو ان كے پاس حسرت كھانے كے سوا كچھ نہيں ہوتا ، انكي نگاہيں ہميں ڈھونڈ رہي ہوتي ہيں كہ ہمارے وہ بھائي كہاں ہيں جو نعرہ تكبير بلند كرتے ہيں اور جنكے ائمہ كي تعليمات انسانيت كي نجات ہے ، ظلم كے خلاف آواز ہے ، مظلومون كا تعاون و انكا ساتھ ہے
آج امام مجتبي عليہ السلام كي سيرت انكي زندگي ہم سے مطالبہ كر رہي ہے كہ اپني روش زندگي پر ايك نظر ثاني كريں اور اپني زندگي كو انكي زندگي كے ساتھ ٹيلي كريں ديكھيں كہ انكي زندگي ميں كيا تھا ہماري ميں كيا ہے ؟ وہ كہاں كھڑے تھے ہم كہاں ہيں
وہ سچائي و صداقت كو كتني اہميت ديتے تھے ہم كتني ديتے ہيں ؟ عبادت و بندگي كا معيار انكے يہاں كيا تھا ہمارے يہاں كيا ہے ؟ غريبوں او ر ناداروں كي مدد انہوں نے كتني كي ہم نے كتني كي ، انكا طريقہ كار كيا تھا ہمارا كيا ہے ، انكي نظر ميں سياست كيا تھي ہم سياست كو كيا سمجتھے ہيں ؟
يقينا اگر امام مجتي عليہ السلام كے تعليمات كي روشني ميں ہم اپنے معاشرے كے خدو خال سنوارنے كي كوشش كريں تو ايسا معاشرہ نكھر كر سامنے آ سكتا ہے جو مطلوب پروردگار ہے ۔
حوالہ
[۱] ۔ قال الحسن بن عليّ(ع): « هي[السياسة] أن ترعي حقوق الله و حقوق الأحياء و حقوق الأموات، فأما حقوق الله. فاداء ما طلب، و الإجتناب عما نهي، و اما حقوق الأحياء: فهي ان تقوم بواجبك نحو اخوانك، و لا تتأخر عن خدمة أمتك، و ان تخلص لولي الأمر ما أخلص لأمّة و أن ترفع عقيدتك في وجهه اذا ما حاد عن الطريق السوي و امّا حقوق الأموات، فهي أن تذكر خيراتهم و تتغاضي عن ساوئهم، فانّ لهم ربّاً يُحاسبهم»
تنبيه الخواطر و نزهة النواظر(مجموعه ورّام)ج ۲ص ۳۰۱؛ القرشي(ره)، باقر شريف، حياة الإمام الحسن بن علي(ع) ج۱ ص ۳۴۰٫
دن كي تصوير
حرم امامين عسكريين عليهما السلام   
ويڈيو بينك