خدا نے دنوں ميں جمعہ كو انتخاب كيا اور مہينوں ميں ماہ رمضان كو اور راتوں ميں شب قدر كو

تاریخ اشاعت:14/03/1397
شب قدر كي فضيلت ميں اتناہي كافي ہے كہ خدا كا كلام يعني قرآن كريم اس رات اللہ كي بہترين اور كاملترين مخلوق حضرت محمد مصطفي (ص) پر نازل ہوا اور خدا نے اس رات كو مبارك قرار ديا۔
شب قدر كي عظمت اور منزلت كے بارے ميں كتب احاديث ميں بہت ساري احاديث اور روايات ذكر ہوئي ہيں جن ميں سے ہم چند ايك نمونے كے طور پر نقل كريں گے۔
1؛ پيغمبر اكرم (ص)نے فرماياكہ: حضرت موسي كليم اللہ نے اپني ايك مناجات ميں عرض كيا خدايا! مجھے تري قربت مطلوب ہے آواز آئي '' ميرا تقرب اس كے لئے ہے جو شب قدر بيدار اور شب زندہ دار(پوري رات جاگتا ) رہے اور عرض كيا خدايا! مجھے صراط سے گزرنے كا اجازت نامہ چاہيے'' آواز آئي يہ بھي اس كے لئے ہے جو شب قدر ميں مسكينوں اور بے چاروں كي مدد كرے'' پھر عرض كيا خدايا! مجھے جنت كے درختوں اور ميووں كي طلب ہے ''آواز آئي يہ بھي اس كے لئے ہے جو شب قدر ميں تسبيح ميں مشغول ہو،حضرت موسي نے كہا :خدايا آگ سے نجات چاہتا ہوں ،آوازآئي : يہ بھي اس كے لئے ہے جو شب قدر استغفار كرے''
2؛ پيغمبر اكرم (ص)نے شب قدر كي فضيلت كے بارے ميں فر مايا : جو بھي شب قدر كا اہتمام كرے اور روز آ خرت پر ايمان اور اعتقاد ركھتا ہو خدا وند اس كے گناہوں كو بخش دے گا اور فر مايا: اس رات شياطين زنجيروں ميں اسير ہوتے ہيں اور كسي كو تكليف نہيں پہنچا سكتے اور اس رات كسي جادوگر كا جادو ،فاسد كا فساد اثر نہيں كر سكتا ۔
3؛ ايك اور حديث ميں آ يا ہے كہ اس رات ميں بيداري اور عمل ان ہزار راتوں سے بہتر ہے كہ جن ميں شب قدر اور ماہ رمضان كے روزے نہ ہوں اور اس كي وجہ يہ ہے كہ كچھ اوقات دوسرے اوقات سے زيادہ با فضيلت ہو تے ہيں كيو نكہ اس ميں خير اور نفع ہو تا ہے پس چونكہ خدا وند عالم نے شب قدر ميں بہت زيادہ خير ركھي ہے لہٰذا ہزار مہينے جن ميں شب قدر والي خير و بركت نہ ہو،سےيہ رات بہتر ہے۔
علامہ طباطبائي فر ماتے ہيں جيسا كہ مفسرين نے تفسير كي ہے ہزار راتوں سے بہتر ہونے كا مطلب يہ ہے كہ اس رات ميں عبادت كي زيادہ فضيلت ہے اور قرآن كي غرض بھي يہي ہے اور قرآن كے ساتھ بھي يہي معني مناسب ہے چونكہ قرآن كي غايت اور توجہ اس ميں ہے كہ لو گوں كو عبادت كے ذريعہ زندہ اور خدا سے نزديك كرے اور اس رات عبادت كرتے ہوئے شب گزارنا دوسري ہزار راتوں كي عبادت سے بہتر ہے ۔
4؛ امام جعفر صادق نے شب قدر احياء كرنے والوں كے بارے ميں فرمايا: مبارك ہو اس كے ركوع اور سجدہ كرنے والوں پر، اور انہيں جو اپنے گزشتہ گناہوں كو ياد كرتے ہيں اور روتے ہيں ،مجھے اميد ہے كہ ايسے لوگ بارگاہ ربوبيت سے نا اميد نہيں ہو ں گے۔
اسي طرح امام صادق نے رسول خدا (ص)كي زباني فر مايا : خدا نے دنوں ميں جمعہ كو انتخاب كيا اور مہينوں ميں ماہ رمضان كو اور راتوں ميں شب قدر كو ۔
بہرحال شب قدر كي فضيلت ميں اتناہي كافي ہے كہ خدا كا كلام يعني قرآن كريم اس رات اللہ كي بہترين اور كاملترين مخلوق حضرت محمد مصطفي (ص) پر نازل ہوا اور خدا نے اس رات كو مبارك قرار ديا۔ اس رات ميں فرشتے روح اور جبرائيل كے ساتھ فوج در فوج زمين پر نازل ہوتے ہيں اور مئومنين و مؤمنات پر سلام و تحيت پيش كرتے ہيں ۔
دن كي تصوير
وادي السلام نجف   
ويڈيو بينك