صہيونيت كے تئيں امريكہ اور مغرب كي حمايت كے وجوہات

تاریخ اشاعت:14/03/1397
ايسے حالات ميں كہ امريكي، برطانوي، فرانسيسي اور جرمن عوام ليبراليزم سرمايہ دارانہ نظام كي چكي ميں پس رہے ہيں صہيوني تنظيميں ان كے معيشتي سرمايے كو بڑي آساني كے ساتھ اسرائيل منتقل كرنے ميں كوشاں ہيں۔
خيبر صہيون تحقيقاتي ويب گاہ كے مطابق صہيوني لابياں امريكي اور بعض مغربي ممالك كي سياسي پاليسيوں ميں انتہائي اہم اور بنيادي اثر و نفوذ ركھتي ہيں۔ ان لابيوں نے مغربي ممالك ميں صہيوني مفادات كے حق ميں سياسي پاليسياں عمل ميں لانے كي بے انتہا كوششيں كي ہيں۔ ايسے حالات ميں كہ امريكي، برطانوي، فرانسيسي اور جرمن عوام ليبراليزم سرمايہ دارانہ نظام كي چكي ميں پس رہے ہيں صہيوني تنظيميں ان كے معيشتي سرمايے كو بڑي آساني كے ساتھ اسرائيل منتقل كرنے ميں كوشاں ہيں۔
امريكہ
امريكہ ميں صہيوني تنظيميں بہت سرگرم اور فعال ہيں۔ AIPAC ( American Israel Public Affairs Committee) جيسي اہم تنظميں رياست ہائے متحدہ امريكہ ميں طاقتور ترين صہيوني لابيوں ميں شمار ہوتي ہيں۔ بعض عيسائيوں كي جانب سے جاري ان صہيوني تنظيموں كي حمايت در حقيقت صہيوني لابيوں كے امريكہ ميں اس گہرے نفوذ كي وجہ سے ہے جو يہ چاہتي ہيں كہ يہوديوں اور عيسائيوں كو آپس ميں جوڑ كر اسلام كے خلاف ايك پليٹ فارم پر انہيں جمع كريں۔
’’ماؤنٹ ٹيمپل فاؤنڈيشن‘‘ امريكہ كے عيسائي صہيونيوں كي ايك اور بانفوذ ترين تنظيم ہے جس كا مركز كيليفورنيا كے شہر لاس اينجلس ميں واقع ہے اور اس كا مقصد ’’قدس‘‘ ميں ’’معبد‘‘ كي تعمير ہے۔ اس تنظيم كا عقيدہ يہ ہے كہ يہودي معبد (ہيكل سليمان) كي تعمير ان آخري علامتوں ميں سے ايك ہے جس كا مسيح كے ظہور سے پہلے تحقق پانا ضروري ہے۔ ان كا يہ ماننا ہے كہ ہيكل سليماني (Temple of Solomon) موجودہ مسجد الاقصيٰ كي جگہ پر تعمير ہونا چاہيے۔ ان كے اس نقشے ميں ’’قدس الاقداس‘‘ كا مقام بھي معين كيا گيا ہے۔
صہيوني عيسائيوں اور يہوديوں كے اس عقيدے كہ مسجد الاقصيٰ كي جگہ ہيكل سليماني كي تعمير كي جائے كي جڑيں كيباليسٹي تفكر Kabbalist ideas (يہودي تصوف) ميں پائي جاتي ہيں۔ يہودي عيسائي تصوف سحر و جادو سے بھرا پڑا ہے۔ كيباليسٹ كي اہم ترين كتاب ’’زوھر‘‘ ہے جس ميں صرف غيب كي خبريں پائي جاتي ہيں۔ يہودي تصوف نے عيسائي معاشرے كو اپني طرف كھينچنے كے ليے آخري زمانے كي غيبي خبريں بيان كي ہيں جس كا حاصل صہيونيزم كي حمايت كے علاوہ اور كچھ نہيں ہے۔
برطانيہ
برطانيہ عرصہ دراز سے يہوديت كا گہوارہ اور يہوديوں كے رشد و نمو كا مناسب پليٹ فارم رہا ہے۔ برطانوي يہودي اس ملك كي صرف پانچ فيصد آبادي كو تشكيل ديتے ہيں۔ ليكن برطانوي سياست ميں ان كا گہرا اثر و رسوخ باآساني اسرائيلي مفادات كو حاصل كر ليتا ہے۔ برطانوي يہودي اس ملك كے سياسي، سماجي، اقتصادي اور ثقافتي ميدانوں ميں اس قدر سرگرم ہيں كہ يہ كہنا بالكل درست ہو گا كہ برطانوي معيشت كي شہ رگ يہوديوں كے ہاتھ ميں ہے۔
برطانيہ كي جانب سے صہيوني غاصب رياست كي حمايت در حقيقت يہودي سياستمدار اور سرمايہ دار گھرانوں جيسے روتھسليڈ فيملي (Rothschild family) كے اس ملك كے سياسي معيشتي ميدان ميں گہرے اثر و رسوخ كي وجہ سے رہي ہے۔ ۱۹۲۹ سے ۱۹۴۹ تك كے عرصے ميں برطانيہ كے ۳۱ سرمايہ دار تاجروں ميں ۲۴ تاجر يہودي تھے۔ برطانوي معيشت ميں اثر و رسوخ ركھنے والے يہودي گھرانوں ميں سے درج ذيل گھرانوں كا نام ليا جا سكتا ہے: Rothschild family,montefiore, Goldschmidt family, Samuel family, Badington family, sassoon family.
تجزيہ نگاروں كي نظر ميں برطانيہ اور اسرائيل ايك ہي سكے كے دو رخ ہيں اور جب بھي اسرائيل كسي بحران كا شكار ہوتا ہے برطانوي وزير اعظم اور اس ملك كے ديگر صہيوني سياستدان اس غاصب رياست كے تئيں اپني وفاداري كا ثبوت ديتے ہيں اور اس كے دفاع ميں دوسروں سے بڑھ چڑھ كر حصہ ليتے ہيں۔ ليكن عصر حاضر ميں ايران، لبنان اور شام كا باہمي مزاحمتي اتحاد، صہيوني رياست كو گھٹنے ٹيكنے پر مجبور كر دے گا اور برطانيہ، امريكہ اور فرانس كي حمايت صہيوني رياست كو كوئي فائدہ نہيں پہنچا پائے گي۔
فرانس
فرانس منجملہ ان ممالك ميں سے ايك ہے جن كي قابل توجہ آبادي يہوديوں پر مشتمل ہے بلكہ يورپ كے تمام ممالك كي نسبت فرانس ميں سب سے زيادہ يہودي زندگي بسر كر رہے ہيں۔ اور فرانس كے اكثر يہودي صہيونيت كي طرف رجحان ركھتے ہيں۔ فرانس اور اسرائيل كے باہمي تعلقات دوسري جنگ عظيم كے بعد بہت قريبي رہے ہيں۔
۱۹۵۶ ميں فرانس اور برطانيہ نے اسرائيل كي حمايت ميں ’’سينا جزائر‘‘ پر حملہ كيا اور ’’نہر سوئز‘‘ كو اپنے قبضے ميں لے ليا۔ فرانس نے اب تك بے شمار فوجي اسلحہ اسرائيل كو فروخت كيا ہے اور ۱۹۵۰ كے بعد ايٹمي ہتھيار بنانے ميں اسرائيل كي بے انتہا مدد كي ہے۔ فرانس اور اسرائيل كي ايٹمي سرگرمياں اس قدر وسيع تھيں كہ ڈيمونا ايٹمي نيوكلر پلانٹ ۱۵۰ فرانسيسي انجينئروں كي مدد سے اسرائيل ميں تاسيس كيا گيا۔
جب نكولاس سركوزي (Nicolas Sarkozy) نے فرانسيسي حكومت كي لگام اپنے ہاتھ ميں لي تو اس ملك كے سياسي حالات ميں عظيم تبديلي آئي۔ سركوزي نے اسرائيل كے ساتھ اپني خارجہ پاليسي كو اس قدر مضبوط بنا ديا كہ شيرون كے ساتھ ملاقات ميں انہوں نے اسرائيل كو ڈيموكريسي كا بہترين نمونہ قرار ديا اور شيرون نے بھي فرانس كو اسرائيل كا بہترين دوست گردانا۔ سركوزي نے صہيوني لابيوں كے مقابلے ميں كہا: ’’ميں پوري سچائي سے يہ وعدہ كرتا ہوں كہ ہر گز ان لوگوں سے ہاتھ نہيں ملاؤں گا جو اسرائيل كو تسليم نہيں كرتے‘‘۔ غزہ كي ۲۲ روزہ جنگ اور لبنان كي ۳۳ روزہ جنگ ميں سركوزي نے اسرائيل كي بھرپور حمايت كي اگر چہ ان جنگوں ميں اسرائيل كو شديد شكست كا سامنا ہوا۔
جرمني
بہت سارے جرمن مفكرين اسرائيلي سياستوں كے مخالف ہيں۔ ايك سروے كے مطابق جرمن شہري، اسرائيل كو عالمي صلح كي راہ ميں سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہيں اور اس ملك كي ۵۳ فيصد آبادي جرمني اور اسرائيل كے تعلقات كے مخالف ہے اور صرف چاليس فيصد ان تعلقات كو ضروري سمجھتے ہيں۔ جرمني كے وزارت خارجہ كے عہديداروں نے حاليہ ايام ميں جرمني ميں پائي جانے والي اسرائيل مخالف فضا ميں اضافہ كي خبر دي۔ ليكن يہ يہودي مخالفت جرمني ميں موجود مسلمان مہاجرين كے سر ڈال دي اور جرمنيوں كو سبكدوش كر ديا۔ اسلاموفوبيا اور ايرانوفوبيا صہيونيزم كي ايك اہم ترين اسٹراٹيجي ہے كہ جو وہ اپني نشستوں ميں ’’ دہشت گردي اور اسلامي بنياد پرستي كے خلاف بين الاقوامي مہم‘‘ كے عنوان سے پيش كرتے ہيں۔
۱۹۵۳ سے اب تك جرمني نے ۳۵ ارب ڈالر صہيوني رياست كو عطيہ ديے ہيں۔ جرمني كي موجودہ چانسلر ’’انجيلا ميركل‘‘ نے جرمني اور اسرائيل كے باہمي تعلقات كو اعليٰ ترين سطح تك پہنچا ديا ہے يہاں تك كہ انجيلا ميركل نے جنوري ۲۰۰۸ ميں يہ اعلان كيا تھا كہ دونوں ملكوں كي حكومتيں اسرائيل كے قيام كي ۶۰ ويں سالگرہ كے موقع پر مشتركہ جشن منائيں گي۔ اس وقت بھي ہم ديكھ رہے ہيں كہ جرمني كے صہيوني سربراہوں نے اسرائيل كي ۷۰ ويں سالگرہ كے جشن ميں شركت كر كے اپنے تعلقات كو مزيد فروغ ديا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دن كي تصوير
حرم امام علي عليہ السلام   
ويڈيو بينك