شب قدر اور امام علي عليہ السلام كي وصيتيں

تاریخ اشاعت:14/03/1397
آج ہميں اپني ذات كے حصار سے نكل كر عالم اسلام بلكہ عالم انسانيت كے بارے ميں سوچنا ہوگا يہ ديكھنا ہوگا كہ ہمارا جس دين سے تعلق ہے وہ ہميں كس راستہ پر لے كر جانا چاہتا ہے اور ہم كہاں جا رہے ہيں؟
شب قدر كے يقينا اپنے خاص اعمال و اذكار ہيں جنہيں علماء نے اپني كتابوں ميں تفصيل سے نقل كيا ہے ہم  ميں سے ہر ايك يقينا اس شب ميں مصروف عبادت رہے گا، ليكن عبادت و بندگي كےساتھ يہ بات اہميت كي حامل ہے كہ ہميں محض ان شبوں ميں دعائيں نہيں پڑھني ہيں بلكہ خدا كي بارگاہ ميں كچھ عہد و پيمان بھي كرنا ہے تو آئيں اس عظيم شب كا استقبال ايسے كريں كہ جہاں شھادت امير المومنين كا غم اپنے دل ميں لئيے ہيں وہيں اپنے دل ميں يہ عزم ليكر اٹھيں كہ امام علي عليہ السلام نے جو وصيتيں ہمارے لئيے كي تھيں چند شبوں ميں جن ميں روايات كے مطابق ہماري تقدير لكھي جاتي ہے ہم اپني تقدير ميں ان وصيتوں پر عمل كو خود لكھ ليں ہم انہيں اپنا سر مشق بنائيں گے اور ان شبوں ميں توبہ و مغفرت كے ساتھ كوشش كريں گے كہ اپنے آپكو امام عليہ السلام سے قريب كر سكيں يہ وہ وصيتيں ہيں جو كسي عام انسان كي وصيتيں نہيں ہيں بلكہ معروف اہل سنت عالم ابواحمد حسن بن عبداﷲ بن سعيد عسكري كے بقول:  اگر حكمت عملي ميں سے كوئي ايسي چيز پائي جاتي ہے جسے سنہري حروف سے لكھا جانا چاہئے تو وہ يہي رسالہ ہے جس ميں امام علي عليہ السلام نے علم كے تمام ابواب ‘سير و سلوك كي راہوں ‘ نجات اور ہلاكت كي تمام باتوں ‘ ہدايت كے راستوں’ مكارم اخلاق’ سعادت كے اسباب ‘ مہلكات سے نجات كے طريقوں اور اعليٰ ترين درجے كے انساني كمال تك پہنچنے كي راہوں كو بہترين الفاظ ميں بيان كيا ہے۔
اس مختصر تحرير ميں امام علي كے مخاطب صرف آپ  كے فرزند امام حسن  نہيں۔ بلكہ آپ  نے اپني حكيمانہ گفتگو ميں حقيقت كے متلاشي تمام انسانوں كو مخاطب كيا ہے اس وصيت كا اہم حصہ انسان كي خود سازي پر توجہ ہے خود سازي كے ساتھ ساتھ اس وصيت سے ہميں يہ سبق ملتا ہے كہ كس طرح امام علي عليہ السلام دوسروں كے بارے ميں سوچتے تھے اور كس طرح انہيں انسانيت كي فكر رہتي تھي كہ انہوں نے رہتي دنيا تك كے تمام انسانوں كو خطاب كرتے ہوئے زندگي كے تجربات كو ان كے ساتھ بانٹنے كي كوشش كي ہے لہذا ہم پر بھي لازم ہے كہ اگر ہم محبت عليؑ كا دم بھرتے ہيں تو علي كي طرح پہلو ميں ايك ايسا دل بھي ركھيں جو صرف اپنے لئيے نہيں بلكہ اپنے تمام ہمنوعوں كے لئيے دھڑكے جس كا ہم و غم اپني ذات نہ ہو كر پوري انسانيت ہو  اسي لئے امام  علي عليہ السلا م نے نہ ظالم كے لئے كچھ بيان كيا كہ ظالم كيسا ہو تو اسكي مخالفت كرنا ہے نہ مظلوم كے لئے بيان كيا كہ مظلوم كون ہو تو حمايت كرنا ہے بلكہ  مطلق طور پر بيان كيا ظالم چاہے تمہارے قبيلہ كا ہي كيوں نہ ہو  تمہارے دين كا ماننے والا ہي كيوں نہ ہو تمہارا كوئي اپنا كيوں نہ  ہو ليكن اگر وہ ظلم كرے تو علي ع كا مطالبہ ہے ہرگز خاموش نہ بيٹھنا اس كے مقابلہ كے لئے كھڑے ہو جانا ،اب مظلوم چاہے كوئي غير ہو جس سے تمہارا تعلق نہ ہو ليكن چونكہ وہ مظلوم ہے اسكي حمايت كرنا تمہارا فرض ہے  اگر ہم علي ع كے پيرو اور انكے شيعہ ہيں تو ضرورت ہے كہ اٹھيں اور جہاں بھي ظلم ہے اس كے خلاف آوا ز اٹھائيں كہ علي ؑ كا مطالبہ ظالم اور ظلم كے خلاف اٹھ كھڑےہونے كا ہے  علي ؑ كا مطالبہ ہے اپنے وجود كے قيد سے ہم باہر نكليں انسانيت كے لئے سوچيں۔
آج ہميں اپني ذات كے حصار سے نكل كر عالم اسلام بلكہ عالم انسانيت كے بارے ميں سوچنا ہوگا يہ ديكھنا ہوگا كہ ہمارا جس دين سے تعلق ہے وہ ہميں كس راستہ پر لے كر جانا چاہتا ہے اور ہم كہاں جا رہے ہيں؟ ہميں اپني آنكھيں كھولنا ہوں گي، اجتماعي شعور اپنے اندر بيدار كرنا ہوگا؟ سياسي تجزيہ كي صلاحيت پيدا كرنا ہوگي عالمِ اسلام ايك عرصے سے جس ابتلاء و آزمائش سے دوچار ہے، درد مند، حلقے اس پر سراپا اضطراب ہيں ليكن صورت حال كي يچيدگي اور مسائل كي سنگيني كچھ اس نوعيت كي ہے كہ كوئي سرا ہاتھ نہيں آتا۔يہ مسائل دو قسم كے ہيں۔ ايك عالمِ اسلام كے اندروني اور باہمي مسائل و تعلقات۔دوسرے جارح استعماري طاقتوں كے پيداكردہ مسائل و مشكلات۔
اول الذكر ميں ہر مسلمان ملك ميں اندرون ملك اسلامي اور غير اسلامي طاقتوں كي كش مكش اور ان كے درميان محاذ آرائي اور كئي اسلامي ممالك كا آپس ميں باہمي تصادم ہے كتنے افسوس كي بات ہے كہ ايك طرف تو غاصب اسرائيل ماہ مبارك رمضان ميں مظلوم فسلطينيوں كا خون بہا رہا ہے تو دوسري طرف اسلام كا نام لينے والے سعودي عرب جيسے ممالك اپنے ہي بھائيوں كو يمن ميں خاك و خوں ميں غلطاں كر رہے ہيں كيا ہمارے لئے لازم نہيں كہ ہم آجكي شب دعاء كے ساتھ كوشش كريں كہ كم از كم اپني اپني سطح پر مسلمان ايك دوسرے سے دست بگريباں نہ ہو سكيں۔
غرض پہلا مسئلہ عالم اسلام كا ہے اس لئے ہميں پورے عالم اسلام كے لئے دعاء كرنا چاہيے ۔ دوسرا بيت المقدس كا مسئلہ ہے جو ايك عرصے سے اسرائيل كے غلبہ و تسلط ميں ہے اور اسرائيل نے اسے اپنا دارالحكومت قرار دے ركھا ہے اور اس كي ڈھٹائي اور ديدہ دليري كا يہ حال ہے كہ وہ جب چاہتا ہے كسي بھي عرب علاقے پر چڑھ دوڑتا ہےجو كچھ فلسطين ميں ہو رہا ہے؟ اگر علي ع ہوتے تو كيا يہ سب ديكھ كر خاموش ہو جاتے؟ كيا عليؑ ہوتے تو شبہايے قدر ميں اپنے لئے دعائيں كر كے سبكدوش ہو جاتے؟ يا پھر دعائوں كے ساتھ ظالم و غاصب اسرائيل كي نابودي كے لئے عملي طور منصوبہ بندي بھي كرتے اور پروردگار سے بھي گڑگڑا كر دعاء كرتے كے مالك مسلمانوں ميں اتحاد و بصيرت پيدا كر كے اپنے حق كے لئے لڑ سكيں اور حق پر مر سكيں ۔
ان شبہايے قدر ميں ہميں عالم اسلام كے بارے ميں سوچنے كي ضرورت ہے وہيں تكفيريت كے خطرات سے بھي خدا كے حضور پناہ مانگتے ہوئے اس كے چارہ كار اور اس سے مقابلہ كي راہوں كے بارے ميں سوچنے كي ضرورت ہے چنانچہ دو ذكر كئے گئے مسئلوں عالم اسلام كي مشكلات و فلسطين كے علاوہ ہمارا تيسر بڑا مسئلہ تكفيريت كے خطرات كا ہے جس كے بموجب رمضان المبارك جيسے بندگي كے مہينہ ميں بے گناہوں كا قتل عام ہو رہا ہے اور شيعيوں كو صرف اس لئيے تكفيريت كي جانب سے بڑي طاقتوں كي ايماء پر نشانا بنايا جا رہا ہے كہ وہ در اہلبيت اطہار عليھم السلام كے سوا كسي بھي در پر جھكنے كو تيار نہيں لہذا سعودي عرب ، بحرين ، يمن و لبنان سے ليكر نائجيريا تك ان عاشقان علي پر ظلم و ستم كے پہاڑ توڑے جا رہے ہيں يہاں پر ہم سب ملك كر عزم بلالي ركھنے والے افريقا كے خميني وقت جناب آيۃ اللہ زكزاكي كے لئے دعا گو ہيں كہ خدا اس مرد مجاہد كو ظالموں پر كاميابي عطا فرما اور جلد انہيں اپني قوم و اپنے گھر والوں سے ملا دے۔
ايك طرف تكفيريت ہے جو اسلام كے چہرہ كو دنيا ميں مسخ كر كے پيش كر رہي ہے اور استعمار كے اہداف كے تحت پورے عالم اسلام ميں خون كي ہولي كھيل رہي ہے اسے صرف شيعوں سے عناد نہيں يہ اپنے علاوہ ہر ايك كي تكفير كركے انہيں قتل كر كے اس كي تشہير كرتے ہيں تاكہ اپني بے رحمي اور اپني حيوانيت كو اسلام كے كھاتے ميں ركھ كر اسلام كو بدنام كريں تو دوسري طرف عالم اسلام كي بے حسي قابل ماتم ہے كہ اس سلسلے ميں اسے جس طرح سرگرم عمل ہونا چاہئے اور اس كے لئے جس جذبہ ايماني اور جوش جہاد اور عزم و تدبر كي ضرورت ہے وہ مفقود ہے۔ كانفرنسيں ہو رہي ہيں ليكن نشتند و گفتند و برخاستند كي مصداق اور دشمن ہيں كہ وہ اپنے دانت اور تيز كيے جا رہے ہيں، ان كا پنجہ استبداد پھيلتا جا رہا ہے اور ان كي گرفت مضبوط تر ہوتي جا رہي ہے۔ان حالات ميں عام لوگوں كے ليے صبر و شكيب كا دامن ہاتھ سے چھوٹا جاتا ہے، تاہم مايوس و دل شكستہ ہونے كي ضرورت نہيں۔
اللہ كي نصرت و غيبي تائيد پر بھروسہ ركھنا چاہئے اور اس نصرت الہيٰ كے حصول كے لئے رمضان كي مبارك ساعتوں ميں خصوصي دعاؤں كا اہتمام كرنا چاہئے  اور كيا ہي خوب كي ان دعاوں ميں ہمارے پيش نظر امام علي عليہ السلام كي وہ وصيتيں بھي ہوں جو امام علي عليہ السلام نے اپنے بيٹوں سے كي تھيں كياہي خوب ہو كہ نھج البلاغہ كے ۴۷ مكتوب كو ايك بار ہم اٹھا كر پڑھ ليں  كہ اس كے اندر پوري انسانيت كے لئے ايك پيغام ہے ،كاش ہم شبہائے قدر ميں تلاوت ، و عبادت و ذكر كےساتھ تھوڑا سا وقت نكال سكيں اور سوچيں كہ علي عليہ السلام نے ہم سے كيا چاہا ہے اور شك نہيں ہے علي عليہ السلام كي زندگي كے رہنما اصولوں كے سايہ ميں پوري دنيا ميں امن و امان كي فضا كو ہموار كيا جا سكتا ہے ايك ايسي دنيا بنائي جا سكتي ہے جہاں كوئي ظالم نہ ہو  ظلم كا خطرہ نہ ہو كسي كو كسي بھائي كي جانب سے زيادتي كا خوف نہ ہو  سب مل جل كر راہ بندگي كي طرف بڑھيں كہ بندگي ميں ہي سب كي حيات ہے ۔
دن كي تصوير
حرم امام علي عليہ السلام   
ويڈيو بينك