انہدام جنت البقيع سے يمن كي تاراجي تك شيطان كي ڈگڈي پر تكفيريت كا ننگا ناچ

تاریخ اشاعت:12/04/1397
بقيع محض ايك قبرستان نہيں تھا جو ويران ہوا بلكہ ايك تاريخي دستاويز كو صفحہ ہستي سے مٹانے كي كوشش كر كے كچھ لوگوں نے اپني نابودي كي سطريں رقم كي تھيں اور آج مذہبي و تكفيريت كے جنون ميں بے گناہوں كو مار كر بہشت ميں جانے كي آرزو اس كا جيتا جاگتا ثبوت ہے وہابيت و تكفيريت نے يہ چند مزارات مقدسہ كو مسمار نہيں كيا تھا انسانيت و شرافت كے تاج كو اپنے پيروں تلے روند كر دنيا كو بتلايا تھا كہ پہچانو ہم كون ہيں؟
خيبر صہيون تحقيقاتي ويب گاہ كے مطابق، دنيا بھر ميں موجود حريت پسند  آج جنت البقيع كے انہدام كے جانگداز الميہ پر اس دن كي ياد ميں مجالس كا اہتمام كرتے ہيں مختلف پروگرامز اور احتجاجي جلسوں ميں شريك ہو كر اپنا احتجاج درج كراتے ہيں  كہ ۸ شوال كي تاريخ اس دردناك واقعہ كي ياد كو تازہ كرتي ہے جب ۹۰ سال زيادہ عرصہ ہونے آيا وہابيت و تكفيريت نے اس تاريخي قبرستان كو منہدم كر كے آنے والے كل كے لئے اپنے خون خرابے كي سياست كا اعلان كر ديا تھا يوں تو يك صدي ہونے آئي ليكن جنت البقيع كے تاريخي قبرستان كو منہدم كر دينے كا غم آج بھي تازہ ہے وہ قبرستان جس ميں رسول رحمت كي بيٹي شہزادي كونين (بروايتے) اور ان كے ان فرزندوں كے مزارات مقدسہ تھے جنہوں نے بشريت كو علمي  ارتقاء و تكامل كا وہ وسيع و عظيم افق عطا كيا جس پر پہنچ كر آج انسان  ان كے شاگردوں كے سامنے جھكا نظر آ رہا ہے كہ قال الباقر و قال الصادق كے موجزن علم كے ٹھاٹھے مارتے سمندر كے كچھ قطرے جابر ابن حيان و ہشام ابن الحكم نے بشريت كے  حلقوم تشنہ ميں ٹپكا دئيے تھے  ۔
كتنے عجيب خشك فكر اور كوڑھ مغز لوگ تھے جنہوں نے ان عظيم شخصيتوں كے مزارات مقدسہ كو زميں بوس كر ديا جن سے كسي ايك مسلك و مذہب نے نہيں بلكہ بشريت نے استفادہ كيا اور آج تك كر رہي ہے ۔
بقيع محض ايك قبرستان نہيں تھا جو ويران ہوا بلكہ ايك تاريخي دستاويز كو صفحہ ہستي سے مٹانے كي كوشش كر كے كچھ لوگوں نے اپني نابودي كي سطريں رقم كي تھيں اور آج مذہبي و تكفيريت كے جنون ميں بے گناہوں كو مار كر بہشت ميں جانے كي آرزو اس كا جيتا جاگتا ثبوت ہے  وہابيت و تكفيريت نے يہ چند مزارات مقدسہ كو مسمار نہيں كيا تھا انسانيت و شرافت كے تاج كو اپنے پيروں تلے روند كر دنيا كو بتلايا تھا كہ پہچانو ہم كون ہيں؟ ہمارا تعلق كس فكر سے ہے؟
جسطرح شيطان ہونے كے باوجود رحمانيت كے سامنے نابودي ہے ويسے ہي يہ تكفيريت و وہابيت كے پتلے تعليمات اھلبيت اطہار عليھم السلام اور بي بي زہرا سلام اللہ عليھا كے دئے گئے دربار ِ خلافت ميں تاريخي خطبہ كے سامنے نابود و نابود ہيں  انكا وجود ويسے ہي ہے جيسے شيطان كا يہ ہر اس جگہ گرجتے مليں گے جہاں شيطان گرجتا ہے يہ ہر اس جگہ سے بھاگتے مليں گے جہاں شيطان بھاگتا ہے يہ جہاں توحيد كي بات ہوگي جہاں سجدوں كي پاسداري كي بات ہوگي مشركين سے برات كے اظہار كي بات ہوگي وہاں دم دبائے بھاگتے نظر آئيں گے ليكن جہاں مسلمانوں كے قتل عام كي بات ہوگي ، معصوم بچوں پر بارود كي بارش كي بات ہوگي، نہتے لوگوں كو خاك و خون ميں غلطاں كرنے كي بات ہوگي انكے قدموں كے نشان نظر آئيں گے ۔
يقين نہ آئے تو ديكھيں  شيطان كہاں ہنس اور گرج رہا ہے؟ كہيں يمنيوں كے سروں پر ہزاروں ٹن بارود برسا كر، كہيں انسانوں كي كھوپڑيوں سے فوٹبال كھيلتے ہوئے ،كہيں عراق كي زميں كو لہو لہو كر كے كہيں شام كو ويرانے ميں بدل كر كہيں نائجيريا ميں انصاف وعدالت كا گلا گھونٹ كر كہيں سعودي عرب ميں شيخ النمر كا سر قلم كر كے كہيں پاكستان و افغانستان كي زمينوں كو خون سے سيراب كر كے ،كہيں دھماكوں كے درميان كہيں شعلوں كے درمياں كہيں لاش كے بكھرے ٹكڑوں كے درميان تو كہيں كٹے ہوئے سروں كي نمائش كے درميان كہيں مسجدوں ميں خون كي ہولي كھيلتے ہوئے تو كہيں امام بارگاہوں ميں خوںچكا ہاتھوں كے ساتھ قہقہہ لگاتے ہوئے…
اس كے قہقہہ بڑھتے ہيں اس كي ٹولياں آباد ہوتي ہيں كہيں داعش كا ہاتھ تھامے كہيں النصرہ كا كہيں القاعدہ و طالبان تو كہيں بوكو حرام و الاحرار و جند اللہ سب كي آوازيں ايك جيسي سب كے رنگ ايك جيسے سب كا انداز ايك جيسا يہ عصبيت كے پتلے يہ نفرتوں كي آگ ميں دہكتے آتشيں گولے يہ عدم تحمل و برداشت كے دھويں ميں كالے كالے سياہ سايے شيطان كے كارندے يہ ابليس كے ہم جولي نہيں تو كون ہيں؟ جنہوں نے انسانيت پر وہ ظلم ڈھايا كہ بس… وہ ستم ڈھائے كہ الامآں …يہ جدھر نكلے آگ اور دہشت كا ماحول ليكر نكلے جدھر پہنچے حيوانيت كا بھانگڑا كرتے پہنچے درندگي كا ناچ ناچتے پہنچے ۔
كسي زمانہ ميں كہيں پڑھا تھا شايد كارل ماركس نے اپني شہرہ آفاق كتاب ’’سرمايہ‘‘ ميں لكھا تھا ’’زر اگر دنيا ميں اپنے ايك گال پر خون كا دھبہ لے كر آتا ہے تو سرمايہ، سامراجيت كي شكل ميں سر سے پير تك، اپنے ہر ايك مسام سے خون ٹپكاتے ہوئے نمودار ہوتا ہے۔‘‘  بات  صحيح ہے سامراجيت كي پوري تاريخ جارحيت، دوسرے ممالك پر قبضوں اور تسلط، لوٹ مار اور قتل عام سے عبارت ہے ليكن آج مطلع كارزار بدلا ہوا ہے سامراج اپنے مہروں كو قتل و غارت گري كا ننگا ناچ نچوانے كے لئے جو كچھ ان كي ضرورت ہے اسے پورا بھي كر رہا ہے اور پھر گول ميز كانفرنسوں ميں دنيا ميں امن و امان كي باتيں بھي ۔آج سرمايہ داري كا مكھوٹا ضرور دنيا كي سپر پاور نے پہنا ہوا ہے ليكن حقيقت ميں سرمايہ دارانہ نظام جان بوجھ كر اسلامي نظام شاہنشاہي كي صورت سعودي عرب كے حوالہ كيا ہوا ہے جس كي تاريخ ہي خون خرابے سے عبارت ہے وہ آج حرم امن الہي كا ركھوالا ہے جسنے اپني بے بضاعتي سے مسجد النبي و بيت اللہ كو كشتوں سے پاٹ پاٹ ديا ہے ۔جس نے قرآني تعليمات كا گلا گھوٹنے ميں كبھي دقيقہ فروگزار نہ كيا و ہ قرآن ساري دنيا ميں بانٹ كر وحي الہي كا دنيا ميں نشر كرنے والا بن رہا ہے۔
اگر بقول ماركس  پيسہ نوع بشر كے ايك گال پر خون كا دھبہ اور سرمايہ  اس كے مساموں سے ٹپكتا لہو ہے تو آج كہا جا سكتا ہے كہ سرمايہ دارانہ نظام جو نہ كر سكا وہ آج سعودي ريالوں كي جھنكار كر رہي ہے اور تكفيريت و وہابيت سرمايہ دارانہ نظام كے ساتھ اپنے پورے تاريخي ظلم كے تجربات كے سايہ ميں انسانيت  كے سينہ پر بيٹھي اس گا گلا ريت رہي ہے اور اس كي پور پور سے خون ٹپك رہا ہے اور كوئي اس كے خلاف بولے تو كيا بولے ؟ ۔۔
حقوق بشر و انسانيت كے نعروں كو بلند كرنے والي تنظيميں اس كے خوني ناچ كے ساتھ ڈگڈگي بجا بجا كر محظوظ ہو رہي ہيں كہ كل تو امير شام كا باپ اذان سے محمد رسول اللہ  كا نام نہ نكال سكا ليكن آج ہماري ڈگڈگي كي ڈگ ڈگ ڈگ اور تكفيريت كے ننگے ناچ ميں ضرور محمد رسول اللہ كا نام دہشت و ويراني كا ترجماں بن جائگا  جو نعرہ اللہ اكبر جو نعرہ محمد رسول اللہ جانوں كي حفاظت كے لئے بلند ہوتا تھا وہ جب جانوں كو لينے كے لئيے بلند ہوگا تو كوئي خوش ہو نہ ہو امير شام كے باپ كي تمنا ضرور مچل مچل كر اعلٰ ھبل و اعلا ھبل كے نعرہ لگا رہي ہوگي۔
ايسے ميں ضروري ہے كہ ہم دنيا كو پہچنوائيں كہ يہ كون لوگ ہيں اور انسانيت كے لئے كتنے خطرناك ثابت ہو سكتے ہيں؟
ان كے سياہ كارنامے تو ديكھيں جو عالمي استكبار و سامراج كي پشت پناہي ميں اس تكفيري ٹولے نے انجام دئيے بقيع تو محض ايك قبرستان تھا جس سے مسلمانوں كي قلبي وابستگي تھي جو انساني عظمتوں كے محافظ عظيم خاكي پيكر ميں ڈھلے انوار الہيہ كي پاكيزہ تربتوں كو اپنے دل ميں سموئے تھا ، انہوں نے محض اسے ہي مسمار نہيں كيا بلكہ اسكے ساتھ ساتھ اور بھي تاريخي و ثقافتي يادگاروں كو تباہ و برباد كيا حتي اسلام كا مركز جانے والے شہر مدينہ تك كو نہيں بخشا چنانچہ تاريخ بتاتي ہے وہابيوں نے مكہ مكرمہ پرقبضہ كے بعد مدينہ منورہ كارخ كيا ، شہركامحاصرہ كيا اور مدافعينِ شہر سے  جنگ كے بعد اس پرقبضہ كرليا ، جنت البقيع ميں ائمہ عليہم السلام كي قبور اوراسي طرح باقي قبروں جيسے  قبر ابراھيم فرزندپيغمبر ۖ ، ازواج آنحضرت كي قبور ، قبرحضرت ام البنين مادرحضرت عباس ، قبہ جناب عبداللہ والد گرامي رسول خدا ۖ، قبہ اسماعيل بن جعفرصادق عليہ السلام اور تمام اصحاب وتابعين كي تمام كے تمام قبور كو مسمار كر ديا اور اس فولادي ضريح كو بھي اكھاڑ ديا جسے اصفہان سے خاص طور پر بنا كر مدينہ لايا گيا تھا اور جسے امام مجتبي عليہ السلام امام زين العابدين عليہ السلام اور امام  محمد باقر و صادق عليھما السلام كي قبور مطہر پر نصب كيا گيا تھا  ان لوگوں نے نہ صرف اس ضريح كو وہاں سے اكھاڑا بلكہ اسے اپنے ساتھ لے گئے اور حضور صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم كے چچا جناب عباس اور فاطمہ بنت اسد والدہ گرامي امير المومنين عليہ السلام كو بھي ويران كر ديا جو ائمہ اربعہ عليھم السلام كے ساتھ ايك ہي قبے ميں تھي   ۔[۱]
اسي طرح مدينہ منورہ ميں امام حسن اورامام حسين عليہماالسلام كے محل ولادت ، شہدائے بدركي قبور نيز حضرت علي عليہ السلام كے ذريعہ تعمير كيا گيا وہ گھر بھي انہوں نے مسمار كر ديا جسے آپ نے حضرت زہرا سلام اللہ عليھا كے لئيے مدينہ ميں بنايا تھا ۔[۲]
بعض لوگ يہ گمان كرتے ہيں كہ وہابيوں نے محض شيعہ آبادي كے علاقوں كو ہي تاراج كيا جب كہ حجاز اور شام ميں ان كے كارناموں كا مشاہدہ كرنے سے يہ بات بھي واضح ہوگي كہ كہ اہل سنت آبادي كے علاقے بھي ان كے حملات سے محفوظ نہ رہ سكے ۔
زيني دحلان مفتي مكہ مكرمہ لكھتے ہيں :
ولما ملكواالطائف في الذيقعدة سنة ١٢١٧، الف ومائتين وسبعة عشرقتلوا الكبير والصغير والمامور والامر ولم ينج الامن طال عمرہ ، وكانوايذبحون الصغير علي صدرامہ ونھبوا الاموال وسبواالنساء[۳]
١٢١٧ھ؁ ميں جب وہابيوں نے طائف پرقبضہ كيا تو چھوٹے ، بڑے ، سردارو مزدور سب كوقتل كرڈالا ،بوڑھے افراد كے علاوہ كوئي ان كے ہاتھوں سے نجات نہ پاسكا ، يہاں تك مائوں كي آغوش ميں ان كے شيرخواربچوں كے سرتن سے جداكرديئے ، لوگوں كامال لوٹا اورعورتوں كوقيدي بناليا …  انكي داستان ظلم رقم كرنے كے لئے كتابيں دركار ہيں ،كل انہوں نے مدينہ وحجاز و طائف نہيں چھوڑا آج يمن كو نابود كر دينے كے درپے ہيں ايسے ميں جنت البقيع كے انہدام كے سلسلہ سے ہونے والے پروگراموں ميں انكي جارحيت و ظلم سے پردہ اٹھانا ہمارا ديني ہي نہيں انساني فريضہ ہے ،وہ دن دور نہيں جب عالمي سامراج و اسكتبار كے شانہ بشانہ ان ظالموں كو اپنے كئے كا حساب دينا ہوگا ۔
حواشي :
[۱]  دواني، مقدمہ۔فرقہ وہابي ،ص: ۵۶محسن امين ،كشف الارتياب؛صفحہ ٥٥
[۲] ۔قزويني ، وہابيت از منظر عقل و شرع ص ۱۱۹
[۳]  زيني دحلان ۔ الدررالسنية :ص،٤٥
بقلم: سيد نجيب الحسن زيدي
دن كي تصوير
حرم امامين عسكريين عليهما السلام   
ويڈيو بينك