صہيوني رياست كي زوال پذيري كے دس اسباب

تاریخ اشاعت:20/04/1397
امام خامنہ اي نے چند سال قبل فرمايا كہ اسرائيل اگلے ۲۵ برسوں كو نہيں ديكھ سكے گا جس كا يہ مطلب نہيں ہے كہ يہ رياست اگلے ۲۵ سال تك قائم رہ سكے گي؛ بلكہ ان شاء اللہ يہ رياست بہت جلد محو و نابود ہوجائے گي۔
خيبر صہيون تحقيقاتي ويب گاہ كے مطابق، تہران ميں مقيم فلسطيني مزاحمتي تحريك “جہاد اسلامي” كے مندوب “ناصر ابوشريف” نے ميزان نيوز ويب سائٹ كے نمائندے سے گفتگو كرتے ہوئے يہودي رياست كے نابود ہوجانے كے لوازمات اور امكانات كي طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا: ۱۹۹۰ كے عشرے كے آغاز پر، جب فلسطين كے امن مذاكرات كي بات ہورہي تھي، رہبر انقلاب امام خامنہ اي نے ايك اجتماع سے خطاب كرتے ہوئے فرمايا تھا كہ “وہ فلسطيني عوام كي تحريك كو بجھا دينا چاہتے ہيں”؛ بعدازآں فرمايا: “ليكن كيا وہ فلسطيني عوام كي تحريك كو خاموش كرسكتے ہيں؟”، چند سال بعد ۲۰۰۸ ميں ہم نے ديكھا كہ يہودي رياست كو غزہ ميں شكست ہوئي؛ جس سے امام كي نگاہ اور تجزيئے كي گہرائيوں اور آئندہ بيني اور دور انديشي كا اندازہ لگايا جاسكتا ہے۔ ان كي پہلي والي پيشنگوئي نے عملي جامہ پہنا؛ اور دو سال قبل امام خامنہ اي نے فرمايا كہ يہودي رياست اگلے ۲۵ سالوں كو نہيں ديكھ سكے گي جسے اگر آپ كي پچھلي پيشنگوئي كي روشني ميں ديكھا جائے تو يہ اندازہ لگانا مشكل نہيں ہے كہ يہ پيشنگوئي بھي بہرحال حقيقت كا روپ دھار لے گي۔
ابو شريف كا كہنا تھا: ہم جانتے ہيں كہ امام خامنہ اي كي رائے اصولا يہ ہي نہيں كہ يہودي رياست اگلے ۲۵ سال تك باقي رہے گي اور اس كي فنا اور نابودي بہت قريب ہے اور ان شاء اللہ يہ رياست اگلے چند ہي برسوں ميں روئے زمين سے محو ہوكر رہے گي۔
اسرائيل اگلے ۲۵ برسوں كو نہيں ديكھ سكے گا جس كا يہ مطلب نہيں ہے كہ يہ رياست اگلے ۲۵ سال تك قائم رہ سكے گي؛ بلكہ ان شاء اللہ يہ رياست بہت جلد محو و نابود ہوجائے گي۔ اور اس كي نابودي كے اسباب و عوامل كي روشني ميں رہبر معظم كا يہ ارشاد بجا ہے كہ “ہم عنقريب مسجد الاقصي ميں ان ہي كي امامت ميں نماز ادا كريں گے”۔
ابو شريف نے اگلے ۲۵ برسوں سے پہلے ہي يہودي رياست كي نابودي كے اسباب بيان كرتے ہوئے كہا: سب سے پہلا سبب تو فلسطيني عوام ہيں جو يہودي رياست كو چين سے نہيں رہنے ديتے اور مستحكم ہونے كي اجازت نہيں ديتے اور اس كے وجود كو تسليم نہيں كرتے؛ اور پھر فلسطين پر قابض يہودي رياست كے گرد و پيش كے ممالك عرب اور اسلامي ہيں اور ان ممالك كي فطرت كا تقاضا يہ ہے كہ كسي بھي غير متناسب شيئے اور كسي بھي اجنبي دشمن كو اپنے اندر قبول نہيں كرسكتے۔
دوسرا مسئلہ وہ وعدہ ہے جو اللہ نے ۱۴۰۰ سال قبل سورہ بني اسرائيل ميں ديا ہے۔ اس سورت كي آيات كريمہ سے ثابت ہے كہ صہيوني رياست بہرصورت نابود ہوكر رہے گي۔
تيسرا مسئلہ يہوديوں كے اندر كے دائيں بازو كے انتہا پسند ہيں جو اپني انتہاپسندي اور غلط پاليسيوں كے بموجب اپنے گرد و پيش كے ماحول سے لڑ پڑيں گے اور نتيجے كے طور پر يہ رياست فنا اور زوال كي طرف چلي جائے گي۔ اسي بنا پر آپ ديكھ سكتے ہيں كہ ۱۹۸۲ سے آج تك يہودي رياست ايك بار بھي كاميابي كا منہ نہيں ديكھ سكي ہے؛ اس كو پہلي انتفاضہ تحريك ميں شكست ہوئي، دوسري انتفاضہ تحريك ميں بھي اسے شكست كا منہ ديكھنا پڑا ۔ سنہ ۲۰۰۶ ميں حزب اللہ كے ہاتھوں اور ۲۰۰۸ اور ۲۰۱۴ ميں فلسطين كي اسلامي مزاحمت تحريك كے ہاتھوں شكست سے دوچار ہوئي؛ صہيونيوں كے ان تمام جنگوں ميں شكست ہوئي جبكہ دنيا بھر كي تمام طاقتيں اس كي حمايت كررہي تھيں اور اس كو امداد فراہم كررہي تھي؛ پھر بھي مسلسل ناكاميوں سے دوچار ہوئي۔
چوتھا نكتہ جو شايد اہم بھي ہو، يہ ہے كہ نيتن ياہو نے چند ماہ قبل ايك تقريب سے خطاب كرتے ہوئے اميد ظاہر كي كہ موجودہ يہودي حكومت حشمونيوں كي حكومت سے كچھ زيادہ طويل عرصے تك قائم رہے۔ حشموني حكومت پہلي صدي عيسوي ميں قائم ہوئي اور اسي سال تك قائم رہي اور نيتن ياہو نے خواہش ظاہر كي كہ موجودہ يہودي رياست كم از كم ۱۰۰ سال تك قائم رہے يعني اس كي عمر حشمونيوں كي حكومت سے ۲۰ سال زيادہ ہو اور نيتن ياہو كي يہ آرزو يہودي رياست كے مستقبل كي نسبت ان كے شديد خوف اور تشويش كي علامت ہے۔
پانچواں نكتہ يہ ہے كہ امريكہ كے نامورترين سياستدان كيسنگر نے بھي ۲۰۱۲ ميں پيشنگوئي كي ہے كہ اگلے ۱۰ سال تك اسرائيل نامي كوئي شيئے روئے زمين پر باقي نہيں رہے گي۔ آپ خود ہي اندازہ لگائيں كہ كيسنگر ـ جو بذات خود سازشي منصوبہ ساز تھے اور سازشوں پر مبني نظريہ پردازي كرتے تھے نيز يہودي رياست كے تحفظ كے لئے بہت زيادہ كوشاں رہے ہيں اور ان ہي كے دور ميں امريكہ اور اسرائيل كے درميان درجنوں معاہدے منعقد ہوئے ہيں ـ خود ہي كہتے ہيں كہ اس حكومت كي عمر ميں ۱۰ سال سے زيادہ كا عرصہ باقي نہيں ہے۔ يعني اگر ہم انگليوں پر گن كر حساب كريں تو ۲۰۱۲ ميں انھوں نے يہ موقف اپنايا تھا اور اسرائيل كے لئے ۱۰ سالہ بقاء كي پيشنگوئي كي تھي اور ۲۰۲۲ اس معينہ مدت كا آخري سال ہے۔
چھٹا نكتہ قرآني مباحث ہيں اور قرآني مباحث ميں كچھ اعداد كا استخراج ہوا ہے جو قرآن كے اعجاز كے زمرے ميں آتے ہيں جن كي تفصيل ميں جانے كي ضرورت نہيں ہے، جہاں يہودي رياست كي پوري عمر كا تخمينہ ۷۶ سال لگايا گيا ہے اور كيسنگر كي پيشنگوئي بھي اس قرآني عددي اعجاز سے مطابقت ركھتي ہے، گوكہ قرآن سے يہودي رياست كے مقدرات كے سلسلے ميں اعدادي استخراجات چونكہ احتمالات كے زمرے ميں آتے ہيں، ليكن بہرحال اس حوالے سے بھي سنہ ۲۰۲۲ ميں اسرائيل نامي رياست كا نام و نشان تك نہ ہوگا ان شاء اللہ۔ (۱)
ساتواں نكتہ وہ دوسرے اسباب و عوامل ہيں جو يہودي رياست كے زوال كا پيش خيمہ ہيں۔ بعض ايسے واقعات رونما ہوئے جو فلسطينيوں كے حق ميں تھے۔ بطور مثال ۱۹۸۲ ميں يہودي رياست نے لبنان پر ہلہ بول ديا اور اس حملے كا مقصد تنظيم آزادي فلسطين اور لبنان كي مزاحمتي تنظيموں كا خاتمہ تھا، ليكن نتيجہ يہ ہوا كہ “حزب اللہ” كي ولادت ہوئي جو آج يہودي رياست كے پہلے نمبر كے تزويري دشمن ميں بدل گئي ہے۔ حزب اللہ كا معرض وجود ميں آنا اسرائيل كے زوال كے اہم اسباب ميں شمار ہوتا ہے۔

آٹھواں نكتہ يہ ہے كہ پوري مغربي دنيا، يہودي رياست، عرب رياستوں اور تركي كے ساتھ مل كر شام پر حملہ آور ہوئے اور اس كي نابودي كا تہيہ كيا ليكن اب انہيں حزب اللہ كے كئي جديد نسخوں كا سامنا ہے اور يہودي رياست شام كے جنوب ميں ايك نئي حزب اللہ كي تعيناتي سے ہراساں ہے اور شام كي جنگ نے اسرائيل كي منحوس حيات كو مزيد مختصر كرديا ہے۔
نواں نكتہ يہ ہے كہ امريكيوں، يورپيوں نے يہودي رياست سے مل كر عرب اور ترك حكمرانوں كي مدد سے متعدد تكفيري ٹولے تشكيل ديئے اور ان كي تشكيل نيز انہيں تربيت دينے اور مسلح كرنے پر بڑي بڑي رقوم خرچ كرديں ليكن جب انہيں شكست ہونے لگي تو گويا انہيں چھوڑ ديا گيا يا پھر صہيونيوں اور ان كے علاقائي اور بين الاقوامي حاميوں نے ان سے جان چھڑانے كي كوشش كي، چنانچہ اب وہي تكفيري ٹولے رفتہ رفتہ مغرب اور اسرائيل كے خلاف موقف اپنا‏ئيں گے جيسا كہ حال ہي ميں ايك تكفيري ٹولے نے اعلان كيا ہے كہ وہ اسرائيل كے وجود كو تسليم نہيں كرتا اور يہ كہ اسرائيل كي پاليسياں قابل نفرت ہيں اور بعدازيں اسرائيل كے خلاف جدوجہد كرے گا۔
دسواں نكتہ: ايك موضوع استبدادي عرب حكومتيں ہيں اور ہميں يقين ہے يہ استبدادي حكومتيں قائم دائم نہيں رہيں گي اور آخركار انہيں نيست و نابود ہونا ہے؛ عوامي لحاظ سے يہ حكومتيں ناجائز اور غير قانوني ہيں اور ان كا پورا ہم و غم ہي يہ ہے كہ امريكہ اور اسرائيل كي خوشنودي حاصل كركے اپني بقاء كي كوشش كررہي ہيں؛ اگر يہ جائز اور قانوني حكومتيں ہوتيں تو عوامي مقبوليت ہي ان كے لئے كافي ہوتي اور انہيں اپني بقاء كے لئے امريكہ اور يہوديوں كي حمايت كي ضرورت نہ پڑتي اور اپنے تحفظ كے لئے ان كي خوشنودي حاصل نہ كرنا پڑتي؛ يہ حكومتيں اپني بقاء كے لئے يہودي رياست كي بقاء ميں مدد دے رہي ہيں بہرصورت ان حكومتوں كا زوال اسرائيل كے خاتمے كے اسباب ميں شمار ہوگا گوكہ اگر اسرائيلي رياست ان سے پہلے زوال پذير ہوئي، پھر بھي يہ زوال پذير ہونگي كيونكہ ان كا قيام اسرائيل كي بقاء كے تحفظ كے لئے عمل ميں لايا گيا تھا اور اسرائيل كے خاتمے كے بعد ان كي بقاء كا فلسفہ ہي زائل ہوجائے گا۔
بہرحال ہم بدستور طاقتور ہيں، گوكہ ہمارے دشمن بھي كمزور نہيں ہيں، يہ درست ہے كہ امريكہ اور يہودي رياست طاقتور ہيں، ليكن ان كي طاقت محدود ہے، اور اس ميں رفتہ رفتہ كمي آرہي ہے اور وہ پسپا ہورہے ہيں۔
تو كيا غاصب يہودي رياست كا زوال بہت جلد متوقع ہے؟
ابوشريف نے كہا: مذكورہ بالا مسائل كي رو سے يہودي رياست كا زوال بالكل قريب ہے، كيونكہ يہ رياست علاقے ميں نہيں ڈھل سكي ہے اور حقيقتا اسي بنا پر طويل عرصے تك قائم دائم نہيں رہ سكتي اور اگر وہ اب تك قائم ہے تو اس كا سبب بيروني امداد ہے۔ ورنہ تو فلسطيني عوام اور گردوپيش كے ممالك كے ساتھ اس كا تعلق نہايت نامناسب ہے؛ البتہ گرد و نواح كے ممالك سے ميري مراد ان ممالك ميں رہنے والي قوميں ہيں نہ كہ ان ممالك پر مسلط استبدادي حكومتيں، كيونكہ حكومتوں كے تو يہودي رياست كے ساتھ دوستانہ تعلقات ہيں اور ان كے حكام يہوديوں كے رفقائے كار ہيں اور ان كي حمايت كررہے ہيں تاكہ اسرائيل ان كے تاج و تخت كي حفاظت كرے يا پھر وہ قائم رہے تا كہ ان كي حكمرانيوں كا فلسفہ بھي باقي رہے۔ ليكن وہ جو كريں، يہودي رياست كا زوال عنقريب ہے؛ ان شاء اللہ۔
۔۔۔۔۔
۱۔ قرآن كريم كو رياضي كے سانچے ميں ڈھالنا، اور اعداد و شمار نكال كر كوئي پيشن گوئي كرنا، اہل علم كے نزديك قابل قبول نہيں ہے، گوكہ ہر مسلمان كي خواہش اور دعا ہے كہ اللہ انہيں ان كے بدترين دشمن “يہود” كے تسلط سے نجات دلائے۔
بےشك يہودي رياست ختم ہوگي اور جہاد اسلامي كے نمائندے نے بھي اس كے لئے كئي اسباب بيان كئے ہيں ليكن اس كي نابودي كو كسي سال و ماہ و تاريخ سے جوڑنا شايد زيادہ مناسب نہ ہو۔ يعني ايسا نہيں ہے كہ دوسرے اسباب كے فراہم ہوئے بغير ہي كوئي عظيم واقعہ كسي خاص تاريخ پر رونما ہو يا ۲۰۲۲ كو يہودي رياست زوال پذير ہوجائے۔ بےشك يہودي رياست كے لئے مسلم ممالك كي بيداري اور ہوشياري اور دو ٹوك اور يكسان موقف ہے جو اگر معرض وجود ميں آئے تو مذكورہ رياست خود بخود ختم ہوجائے گي۔ امام خميني نے فرمايا: “اگر ايك ارب مسلمان متحد ہوكر ايك ايك بالٹي پاني اسرائيل پر پھينك ديں تو اسے پاني بہا كر لے جائے گا”۔ چنانچہ اتحاد مسلمين اہم ترين سبب ہے اور اگر يہ اتحاد آج حاصل ہوجائے تو شايد ہميں ۲۰۲۲ كا بھي انتظار نہ كرنا پڑے۔ ان شاء اللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دن كي تصوير
حرم حضرت زينب سلام‌الله عليها   
ويڈيو بينك