سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:454

افسانہ آيات شيطاني يا افسانہ ”غرانيق“ كيا ہے؟

اس سلسلہ ميں ايك واقعہ نقل ہوا ہے جو افسانہ ”غرانيق“ كے نام سے مشہور ہے، افسانہ يہ (گڑھاگيا) ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) مشركين كے سامنے سورہ ”نجم “كي تلاوت فرمارہے تھے،اور جس وقت اس آيت پر پہنچے: < اٴَفَرَاٴَيْتُمْ اللاَّتَ وَالْعُزَّي وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْاٴُخْرَي>(1) اس موقع پر شيطان نے آنحضرت (ص) كي زبان پر يہ دو جملہ جاري كردئے: ”تِلكَ الغَرَانيقُ العُليٰ وَاٴنَّ شَفَاعَتَھُنَّ لَتُرتَجيٰ“ ”وہ بلند مقام پرندے ہيں اور ان كي شفاعت كي اميد كي جاتي ہے“۔(2) جيسے ہي مشركين نے يہ دو جملے سنے تو خوشي ميں پھولے نہ سمائے، اور ان لوگوں نے كہا: ”محمد“ نے اب تك ہمارے خداؤں كا نام خير ونيكي سے نہيں ليا، اسي موقع پر رسول خدا (ص) نے سجدہ كيا تو ان لوگوں نے بھي سجدہ كيا، سب مشركين قريش بہت خوش ہوگئے، اور وہاں سے متفرق ہوگئے، ليكن كچھ دير نہ گزري تھي كہ جناب جبرئيل امين نازل ہوئے اور پيغمبر اكرم (ص) كو خبر دي كہ يہ دو جملہ ميں آپ كے لئے لے كر نازل نہيں ہواتھا! بلكہ يہ شيطان كي طرف سے القا كئے گئے تھے! اور اس 
وقت يہ آيت نازل ہوئي: <وَمَا اٴَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلاَنَبِيٍّ إِلاَّ إِذَا تَمَنَّي اٴَلْقَي الشَّيْطَانُ فِي اٴُمْنِيَّتِہِ فَيَنْسَخُ اللهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللهُ آيَاتِہِ وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ>(3)” اور ہم نے آپ سے پہلے كوئي ايسا رسول يا نبي نہيں بھيجا ہے كہ جب بھي اس نے كوئي نيك آرزو كي تو شيطان نے اس كي آرزو كي راہ ميں ركاوٹ ڈال دي تو پھر خدا نے شيطان كي ڈالي ہوئي ركاوٹ كو مٹا ديا اور پھر اپني آيات كو مستحكم بنا ديا كہ وہ بہت زيادہ جاننے والا اور صاحب حكمت ہے“، اور پيغمبر اور دوسرے مومنين كو تاكيد كي گئي ہے۔(4)
اگر اس حديث كو قبول كرليا جائے تو انبياء عليہم السلام كي عصمت يہاں تك كہ وحي دريافت كرنے كے سلسلہ ميں بھي مخدوش ہوجاتي ہے، اور انبياء عليہم السلام كا اعتماد ختم ہوجاتا ہے۔
ہم يہاں پر پہلے سورہ حج كي آيت نمبر ۵۲ كو ان جعلي روايات سے جدا كرتے ہيں اور يہ ديكھتے ہيں كہ آيت كيا كہتي ہے، اور پھر اس طرح كي روايات كي تنقيد اور ترديد كريں گے: روايت كے جعلي اور جھوٹي ہونے سے قطع نظر اس آيت كے الفاظ اور مفہوم انبياء عليہم السلام كي عصمت پر كوئي خدشہ وارد نہيں كرتے، بلكہ انبياء عليہم السلام كي عصمت كي دليل ہيں، كيونكہ آيت كہتي ہے كہ جس وقت انبياء كوئي مثبت آرزو كرتے ہيں (قرآن مجيد ميں ”اُمنيہ “ كا لفظ آياہے جو ہر طرح كي آروز كے لئے بولا جاتا ہے، ليكن يہاں انبياء عليہم السلام كے مقصد كو آگے بڑھانے كے لئے ايك مثبت آرزو كے معني ہيں ، كيونكہ اگر مثبت آرزو نہيں تھي تو پھر شيطان ايسے جملے كيوں القا كرتا) ، لہٰذا جب وہ كوئي مثبت آرزو كرتے ہيں تو شيطان ان پر حملہ آور ہوتا ہے، ليكن ارادہ و عمل ميں تاثير سے پہلے خداوندعالم شيطاني الہامات كو نابود كرديتا ہے، اور اپني آيات كو استحكام بخشتا ہے۔
(توجہ رہے كہ ”فَيَنْسَخُ اللهُ “ ميں لفظ ”فا“ بلا فاصلہ ترتيب كے لئے ہے يعني خداوندعالم سورہ اسراء كي بہترويں آيت اس بات كي نشاندہي كرتي ہے كہ كفار و مشركين يہ كوشش كرتے تھے كہ پيغمبر اكرم (ص) كو آسماني وحي سے منحرف كرديں، ليكن خداوندعالم كبھي بھي اس بات كي اجازت نہيں ديتا كہ يہ لوگ اپنے وسوسوں ميں كامياب ہوجائيں۔(غور كيجئے )
اسي طرح سورہ نساء ميں بيان ہوتا ہے: < وَلَوْلاَفَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُہُ لَہَمَّتْ طَائِفَةٌ مِنْہُمْ اٴَنْ يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلاَّ اٴَنفُسَہُمْ وَمَا يَضُرُّونَكَ مِنْ شَيْءٍ>(5) ”اور اگر آپ پر فضل خدا اور رحمت پروردگار كا سايہ نہ ہوتا تو ان كي ايك جماعت نے آپ كو بہكانے كا ارادہ كرليا تھا اور يہ اپنے علاوہ كسي كو گمراہ نہيں كرسكتے اور آپ كو كوئي تكليف نہيں پہنچا سكتے“۔
يہ باتيں اس بات كي نشاندہي كرتي ہيں كہ خدا وندعالم اپني تائيدات اور امداد كے ذريعہ پيغمبر اكرم (ص) پر جن و انس كے شيطانوں كے وسوسوں كا اثر نہيں ہونے ديتا، اور ان كو ہر طرح كے انحراف سے محفوظ ركھتا ہے۔ 
يہ بات اس صورت ميں ہے كہ جب ”اُمنيہ“ كے معني ”آروز“ ”منصوبہ “اور ”نقشہ“ مراد ليں (كيونكہ اس لفظ كي باز گشت تقدير ، تصوير اور فرض كي طرف ہے) ليكن اگر ”اُمنيہ“ كے تلاوت كے معني مراد ہوں جيسا كہ بہت سے مفسرين نے احتمال ديا ہے، يہاں تك كہ بعض افراد نے ”حسان  بن ثابت“ كے اشعار كو اسي مدعا كے اثبات كے لئے شاہد قرار ديا ہے(6)اسي طرح فخر رازي نے اپني تفسير ميں بھي كہا ہے: لغوي اعتبار سے ”تمني“ دو معني كے لئے آيا ہے، ايك ”مني“ قلبي آرزو كے معني ميں اور دوسرے ”تمني“ تلاوت اور قرائت كے معني ميںہے۔(7)
اس صورت ميں آيت كا مفہوم يہ ہوگا كہ جس وقت خدا كي طرف سے بھيجے ہوئے انبياء ؛كفار و مشركين كے سامنے آيات كي تلاوت كرتے ہيں اور ان كو وعظ و نصيحت كرتے ہيں تو شيطان (اور شيطان صفت لوگ) ان كي باتوں كے ساتھ ميں اپني باتوں كو بھي القاء كرتے ہيں، جيسا كہ خود رسول اسلام (ص) كے ساتھ بھي ايسا ہوا ہے،سورہ فصلت كي آيت نمبر ۲۶ ميں ارشاد ہے: <وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لاَتَسْمَعُوا لِہَذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيہِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ >(8) ” اور كفار آپس ميں كہتے ہيں كہ اس قرآن كو ہر گز مت سنواور اس كي تلاوت كے وقت ہنگامہ كرو شايد اسي طرح ان پر غالب آجاؤ“۔
اس معني كے لحاظ سے سورہ حج آيت نمبر ۵۳ كا مفہوم بھي واضح و روشن ہوجاتا ہے جيسا كہ ارشاد ہے: < لِيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِتْنَةً لِلَّذِينَ فِي قُلُوبِہِمْ مَرَضٌ وَالْقَاسِ قُلُوبُہُمْ>
”تاكہ وہ شيطاني القا كو ان لوگوں كے لئے آزمائش بنادے جن كے قلوب ميں مرض ہےاور جن كے دل سخت ہوگئے ہيں“۔(9)
ايساتو آج كل بھي ہوتا ہے كہ جب قوم وملت كي اصلاح كرنے والے علمااور واعظين معاشرہ كے لئے مفيد باتيں پيش كرتے ہيں تو كج فكر اور منحرف افراد اپني شيطاني حركتوں ،غلط پروپيگنڈوں اور بيہودہ نعروں كے ذريعہ ان مفيد باتوں كے اثر كو ختم كردينا چا ہتے ہيں، يہ در اصل معاشرہ كے تمام لوگوں كے لئے امتحان ہے، اور اسي موقع پر سنگدل اور بيمار دل لوگ جادّہ حق سے منحرف ہوجاتے ہيں، جبكہ مومنين انبياء عليہم السلام كي حقانيت كو بہتر طريقہ سے پہچان ليتے ہيں اور انبياء عليہم السلام كي دعوت كے سامنے تسليم ہوجاتے ہيں: <وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ اٴُوتُوا الْعِلْمَ اٴَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَيُؤْمِنُوا بِہِ فَتُخْبِتَ لَہُ قُلُوبُہُمْ ۔۔۔>(10) ”اور اس لئے بھي كہ صاحبان علم كو معلوم ہوجائے كہ يہ وحي پروردگار كي طرف سے برحق ہے اور اس طرح وہ ايمان لے آئيں، اور پھر ان كے دل اس كي بارگاہ ميں عاجزي كا اظہار كريں “۔
ہماري مذكورہ گفتگو سے يہ واضح ہوجاتا ہے كہ محل بحث آيت ميں انبياء عليہم السلام كي عصمت كے برخلاف كوئي چيز نہيں پائي جاتي، بلكہ جيسا كہ ہم نے اس بات كي طرف اشارہ بھي كيا ہے كہ يہ آيت عصمت پر مزيد تاكيد كرتي ہے، كيونكہ خداوندعالم اس آيت ميں فرماتا ہے كہ جب انبياء  وحي كو حاصل كرتے ہيں يا اپنے مقاصد كے لئے دوسرا قدم اٹھاتے ہيں تو ان كي شيطاني وسوسوں سے محافظت فرماتا ہے،(قارئين كرام!) اب ہم اس سلسلہ ميں گڑھے گئے افسانہ كي طرف پلٹتے ہيں آخر كار نوبت يہ پہنچ گئي كہ بعض شيطان صفت افراد نے پيغمبر اكرم (ص) كي عظمت كو گھٹانے كے لئے كتاب ”شيطاني آيات“ لكھ ڈالي اور اس طرح كے جعلي افسانوں كا سہارا ليا ۔
افسانہ غرانيق كي رواتيوں پر تنقيد اور ترديد
جيسا كہ ہم نے عرض كيا كہ گزشتہ آيات ميں نہ صرف يہ كہ عصمت انبياء كے برخلاف كوئي چيز نہيں پائي جاتي بلكہ يہ آيات خود عصمت انبياء پر دليل ہيں، ليكن اہل سنت كي دوسرے درجہ كي كتابوں ميں كچھ ايسي روايات ہيں جو ہر لحاظ سے عجيب ہيں،لہٰذا ان كي الگ سے بحث ہونا چاہئے، جن روايات كي طرف ہم نے آغاز كلام ميں اشارہ كيا ہے يہ كبھي ابن عباس سے اور كبھي سعيد بن جبير اور كبھي بعض ديگر صحابہ و تابعين سے نقل كي جاتي ہيں۔(11)
جبكہ اس طرح كي روايات مكتب اہل بيت عليہم السلام ميں موجود نہيں ہے، اور بعض اہل سنت كے علماكے بقول صحاح ستہ ميں بھي اس طرح كي روايات نہيں ہيں، ليكن ”تفسير مراغي“ ميں بيان ہوا ہے: ”بے شك يہ احاديث ملحدين اور اسلامي دشمنوں كي طرف سے گڑھي گئي ہيں، كيونكہ ايسي روايات كسي بھي معتبر كتاب ميں نہيں ملتيں، اور دين اسلام كے اصول اور تعليمات اسلام ان كي تكذيب اور ترديد كرتي ہيں، عقل سليم بھي ان كے باطل ہونے پر گواہي ديتي ہے، لہٰذاتمام علمائے اسلام پر ان كي ترديد كرنا واجب ہے ، اور اپنے (قيمتي) وقت كو ان كي تفسير و تاويل ميں صرف نہ كريں، خصوصاً جبكہ موثق راويوں نے ان كے جعلي اور جھوٹے ہونے پر صريح الفاظ ميں بيان كياہے۔(12)
 
(1) لہٰذا كتاب ”تيسير الوصول لجامع الاصول“ جس ميں صحاح ستہ كي تفسيري روايات كو جمع كيا گيا ہے، اس روايت كو سورہ نجم كي آيات ميں بيان نہيں كيا ہے، لہٰذا اس طرح كي احاديث كے لئے اہميت كاقائل ہونا مناسب نہيں ہے، اور نہ ہي ان كا ذكر نا مناسب ہے، ان پر اعتراض كرنا اور جواب دينا تو دور كي بات ہے يہ احاديث جھوٹي اور جعلي ہيں“
!(۲) لامہ فخر الدين رازي ان روايات كے جعلي ہونے كے سلسلہ ميں اس طرح كہتے ہيں: صحيح بخاري ميں پيغمبر اكرم (ص) سے نقل ہوا كہ جس وقت سورہ نجم كي تلاوت فرمائي تو جن و انس ،مسلمان اور مشركين نے سجدہ كيا، ليكن اس حديث ميں ”غرانيق“ كي كوئي بات نہيں ہے، اسي طرح يہ حديث (جو صحيح بخاري سے نقل ہوئي ہے) دوسرے متعدد طريقوں سے نقل ہوئي ہے ليكن ان ميں سے كسي ميں بھي ”غرانيق“ كا لفظ نہيں آيا ہے۔
(۳)نہ صرف مذكورہ مفسرين بلكہ ديگر علماو مفسرين جيسے ”قرطبي“ نے اپني تفسير ”الجامع“ ميں اور سيد قطب نے ”في ظلال“ وغيرہ ميں اسي طرح تمام شيعہ بزرگ علمانے بھي اس طرح كي روايات كو خرافات قرار ديتے ہوئے جعلي مانا ہے اور ان كي نسبت دشمنان اسلام كي طرف دي ہے۔
اس كے باوجود عجيب نہيں ہے كہ اسلام دشمن خصوصاً معاند مستشرقين نے اس طرح كي روايات كا بہت زيادہ پروپيگنڈا كيا ہے، اور اس كو بہت ہي آب و تاب كے ساتھ نقل كيا ہے، اور ہم ديكھتے ہيں كہ آج كے دور ميں شيطان رشدي نے ”آيات شيطاني“ نامي كتاب لكھ ڈالي، خيالي 
داستان ميں بہت ہي نازيبا الفاظ كے ساتھ اسلامي مقدسات كي توہين كي ہے، بلكہ يہاں تك كہ بڑے بڑے انبياء جن كو سبھي آسماني اديان احترام كي نگاہ سے ديكھتے ہيں، (جيسے حضرت ابراہيم عليہ السلام) كي شان ميں بھي گستا خي، جسارت اور توہين كي ہے۔
يہ بھي عجيب بات ہے كہ اس كتاب كا مختلف زبانوں ميں ترجمہ ہوا اور دنيا بھر ميں نشر كيا گيا،اور جس وقت امام خميني رحمة اللہ عليہ نے سلمان رشدي كے مرتد ہونے اور اس كے قتل كا تاريخ ساز فتوي صادر كيا، تو استعماري حكومتوں اور اسلام دشمن طاقتوں كي طرف سے ايسي حمايت ہوئي كہ آج تك ديكھنے ميں نہيں آئي! چنانچہ اس رويہ سے يہ بات واضح ہوجاتي ہے كہ اس كام ميں صرف سلمان رشد ي ہي نہيں تھا اور نہ ہي اسلام كي مخالفت ميں لكھي جانے والي كتاب كا مسئلہ تھا، در اصل مغربي ممالك اور صہيونيزم كي طرف سے اسلام كے خلاف ايك بہت بڑي سازش تھي، اگرچہ ظاہر ميں سلمان رشدي نے كتاب لكھي ہے ليكن اس كے پسِ پردہ اسلام دشمن طاقتيں تھيں۔
ليكن حضرت امام خميني (عليہ الرحمہ) نے اپنے فتويٰ ميں استقامت كي اور پھر ان كے جانشين (حضرت آيت اللہ العظميٰ سيد علي خامنہ اي مد ظلہ العالي) نے اسي فتويٰ كو برقرار ركھا، نيز اس تاريخي فتويٰ كو دنيا بھر كے مسلمانوں نے قبول كيا، جس سے دشمن كي سازش ناكام ہوگئي، اور سلمان رشدي آج تك (كتاب كي اس حصہ كي تاليف تك) روپوش ہے، اور اسلام دشمن طاقتيں اس كي مكمل طور پر حفاظت كررہي ہيں، اور ايسا لگتا ہے كہ آخري عمر تك اسي طرح چھپ كر زندگي بسر كرے گا، اور شايد خود انھيں لوگوں كے ہاتھوں قتل ہوگا تاكہ اس رسوائي سے نجات پاسكے۔
اس بنا پر جو چيز بھي اس طرح كي روايات كي علت ”محدثہ“ يعني وجود ميں لانے والي علت ہے وہي چيزعلت ”مبقيہ“ يعني باقي ركھنے والي علت بھي ہے، يعني جو سازش اسلام دشمنوں كي طرف سے شروع ہوئي ہزاروں سال بعد بھي انھيں اسلام دشمن طاقتوں كي طرف سے ايك وسيع پيمانہ پر وہي سازش آج بھي ہورہي ہے۔
لہٰذا اس چيز كي ضرورت نہيں محسوس كي جاتي كہ تفسير ”روح المعاني“ يا دوسري تفاسير كي طرح ان روايات كے بارے ميں تفصيلي گفتگو كي جائے، كيونكہ ان روايات كي بنياد ہي خراب ہے، اور بڑے بڑے علماكرام نے ان كے جعلي ہونے كي تاكيد كي ہے، لہٰذا ہم ان روايات كي توجيہ كرنے سے صرف نظر كرتے ہيں،صرف يہاں مزيد وضاحت كے لئے چند درج ذيل نكات بيان كرنا ضروري سمجھتے ہيں:
۱۔ يہ بات كسي دوست اور دشمن پر مخفي نہيں ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) نے آغازِ دعوت سے آخرِ عمر تك بت اور بت پرستي كا شدت كے ساتھ مقابلہ كيا، اور يہي وہ مسئلہ ہے كہ جس ميں كسي طرح كي مصالحت، سازش اور نرمي نہيں كي گئي، لہٰذا ان تمام چيزوں كے پيش نظر بتوں كي شان ميں اس طرح كے الفاظ پيغمبر اكرم (ص) كي زبان پر كس طرح آسكتے ہيں؟
اسلامي تعليمات كہتي ہيں كہ صرف شرك اور بت پرستي ہي ايك ايسا گناہ ہے جو قابل بخشش نہيں ہے، لہٰذا بت پرستي كے مراكز كو ہر قيمت پر نابود كرنا واجب قرار ديا ہے، اور پورا قرآن اس بات پر گواہ ہے، يہ خود حديث”غرانيق“ كے جعلي ہونے پر دليل ہے جن ميں بتوں كي مدح و ثنا كي گئي ہے۔
۲۔ اس كے علاوہ ”غرانيق“ افسانہ لكھنے والوں نے اس بات پر توجہ نہيں دي ہے كہ خود سورہ نجم كي آيات پر ايك نظر ڈالنے سے اس خرافي حديث كي دھجياں اڑ جاتي ہيں اور معلوم ہوتا ہے كہ بتوں كي مدح و ثنا والے جملے: ”تِلكَ الغَرَانيقُ العُليٰ وَاٴنَّ شَفَاعَتَھُنَّ لَتُرتَجيٰ“ اور آيات ماقبل و مابعد ميں كوئي ہم آہنگ نہيں ہے، كيونكہ اسي سورہ كے شروع ميں بيان ہوا ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) ہرگز اپني خواہش كے مطابق كلام ہي نہيں كرتے، اور جو كچھ عقائد اور اسلامي قوانين كے بارے ميں كہتے ہيں وہ وحي الٰہي ہوتي ہے:< وَمَا يَنْطِقُ عَنْ الْہَوَي # إِنْ ہُوَ إِلاَّ وَحْيٌ يُوحَي>(13)”اور وہ اپني خواہش سے كلام نہيں كرتا ہے اس كا كلام وحي ہے جو مسلسل نازل ہوتي رہتي ہے“۔
اور اس بات كا صاف طور پر اعلان ہوتا ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) ہرگز راہ حق سے منحرف نہيں  ہوتا، اور اپنے مقصد كو كم نہيں كرتا:<مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَي>(14) ”تمہارا ساتھي نہ گمراہ ہوا ہے اور نہ بہكا“۔
اس سے زيادہ گمراہي اور انحراف اور كيا ہوگا كہ پيغمبر آيات الٰہي كے درميان شرك كي باتيں اور بتوں كي تعريفيں كريں؟ اور اپني خواہش كے مطابق گفتگو اس سے بدتر اور كيا ہوسكتي ہے كہ كلام خدا ميں شيطاني الفاظ كا اضافہ كرے اور آيات كے درميان كہے:”تلك الغرانيق العلي“؟
مزے كي بات يہ ہے كہ محل بحث آيات كے بعد صاف طور پر بت اور بت پرستوں كي مذمت كي گئي ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: <إِنْ ہِيَ إِلاَّ اٴَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوہَا اٴَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ مَا اٴَنزَلَ اللهُ بِہَا مِنْ سُلْطَانٍ إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَمَا تَہْوَي الْاٴَنْفُسُ>(۲) ”يہ سب وہ نام ہيں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے طے كر لئے ہيں خدا نے ان كے بارے ميں كوئي دليل نازل نہيں كي ہے درحقيقت يہ لوگ صرف اپنے گناہوں كا اتباع كررہے ہيں اور جو كچھ ان كا دل چاہتا ہے“۔
كون عقلمند اس بات كا يقين كرسكتا ہے كہ ايك صاحب حكمت اور باہوش نبي مقام نبوت ميں پہلے جملوں ميں بتوں كي مدح و ثنا كرے اوربعد والے دو جملوں ميں بتوں كي مذمت اور ملامت كرے؟لہٰذا! ان دوجملوں كے تناقض اور تضاد كي كس طرح توجيہ اور تاويل كي جاسكتي ہے؟
پس ان تمام باتوں كے پيش نظر اعتراف كرنا پڑے گا كہ قرآن مجيد كي آيات ميں اس قدر ہم آہنگي پائي جاتي ہے كہ دشمنوں اور بدخواہ غرض ركھنے والوں كي طرف سے كي گئي ملاوٹ كو بالكل باہر نكال ديتي ہے، اور اس بات كي نشاندہي كرتي ہے كہ يہ ايك غير مرتبط اور جداجملہ ہے، يہ ہے سورہ نجم كي آيات كے درميان حديث ”غرانيق“ قرار دينے كي سرگزشت ۔
(قارئين كرام!) يہاں پر ايك يہ سوال باقي رہ جاتا ہے كہ تو پھر اتني بے بنياد اور بے سرو پير  چيزيں كيسے اتني مشہور ہو گئيں؟ اس سوال كا جواب بھي كوئي پيچيدہ نہيں ہے كيونكہ اس حديث كي شہرت زيادہ تر دشمنانِ اسلام اور بيمار دل لوگوں كي طرف سے ہے جو يہ سوچ رہے تھے كہ يہ حديث خود پيغمبر اسلام كي عصمت اور قرآن كي حقانيت كو مخدوش كرنے كے لئے بہترين مدرك ہے، لہٰذا دشمنان اسلام كے درميان اس حديث كي شہرت كي دليل معلوم ہے، ليكن اسلامي مورخين كے درميان شہرت كي وجہ بعض علماكے قول كے مطابق يہ ہے كہ بعض مورخين ہميشہ سے نئے حادثات اور نئے مطالب كي طرف دوڑتے ہيں نيز كوشش كرتے ہيں كہ اپني كتابوں ميں ہيجان آور اور استثنائي واقعات بيان كريں چا ہے وہ تاريخي حقيقت ركھتے ہوں يا نہ ركھتے ہوں، كيونكہ ان كا مقصد اپني كتاب كو مقبول بنانا اور ہنگامہ برپا كردےنا ہو تا ہے، اور چونكہ پيغمبر اسلام (ص) كي زندگي ميں غرانيق جيسا افسانہ بہت زيادہ بيان ہوا ہے لہٰذا اس كے منبع اور اس كے مفہوم كے بے بنياد ہونے پر توجہ كئے بغير بعض تاريخي كتابوں اور بعض حديث كي كتابوں ميں نقل كرديا گيا ہے، جبكہ بعض علمانے اس پر تنقيد اور ترديد كے لئے بيان كيا ہے۔
نتيجہ
(قارئين كرام!) ہماري مذكورہ بحث سے يہ مسئلہ واضح اور روشن ہوجاتا ہے كہ قرآن مجيد ميں نہ صرف كوئي ايسي چيز موجود نہيں ہے كہ جو ان كے مقام عصمت كے منافي ہو ؛ بلكہ يہي آيات جن كو عصمت كے منافي سمجھ ليا گيا ہے ، عصمت انبياء عليہم السلام پر واضح اور بہترين دليل ہيں۔(15)
تَمتْ بِالخَيْرِ ، وَ الحَمدُ للهِ رَبِّ العَالَمِين وَ لَہُ الشُّكْرُ عَليٰ ہَذَا التَّوْفِيقِ، رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إنَّكَ اٴنتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْم
مترجم اقبال حيدر حيدري

(1)سورہ نجم ، آيت ۱۹، ۲۰، ” كيا تم لوگوں نے لات و عزيٰ كو ديكھا ہے اور منات جو ان كا تيسرا ہے اسے بھي ديكھا ہے“۔ (كيا وہ خدا كي بيٹياں ہيں؟) 
(۲) ”غرانيق“ ، (مزدور كے وزن پر) ”غرنوق“ كي جمع ہے ، ايك سياہ اور سفيد رنگ كا پرندہ ہے،ليكن اس كے علاوہ دوسرے معني ميں بھي آيا ہے، (نقل از قاموس اللغہ)
(3) سورہ حج ، آيت ۵۲ 
(4) اس حديث كو اكثر مفسرين نے مختصر تبديلي كے ساتھ بيان كيا ہے اور پھر اس واقعہ پر تنقيد كي ہے بلافاصلہ فوري طور پر شيطاني الہامات كو ختم كرديتا ہے)، اس بات پر گواہ قرآن مجيد كي ديگر آيات ہيں جو صراحت كے ساتھ كہتي ہيں: < وَلَوْلاَاٴَنْ ثَبَّتْنَاكَ لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْہِمْ شَيْئًا قَلِيلاً> ” اور اگر ہماري توفيق خاص نے آپ كو ثابت قدم نہ ركھا ہوتا تو آپ (بشري طور پر) كچھ نہ كچھ ان كي طرف مائل ضرور ہوجاتے“۔
(5) سورہٴ نساء ، آيت ۱۱۳
(6)شعر يہ ہے : تمني كتاب الله اٴوّل ليلة وآخرھا لاقيٰ حمام المقادر
”تاج العروس“ شرح قاموس اور اسي طرح خود ”قاموس“ ميں ”تمني كتاب “كے معني تلاوت كتاب كے لئے ہيں، اس كے بعد ”ازہري“ سے نقل كياہے كہ تلاوت كو اس وجہ سے ”اُمنيہ“ كہا جاتا ہے كيونكہ تلاوت كرنے والا جب ”آيہٴ رحمت“ پر پہنچتا ہے تو رحمت كي آرزو كرتا ہے، اور جب عذاب كي آيت پر پہنچتا ہے تو عذاب سے نجات كي اميد كرتا ہے، ليكن صاحب ”مقائيس اللغہ“ كا اس بات پر عقيدہ ہے كہ اس لفظ كا تلاوت پر اطلاق كرنا اس وجہ سے ہے كہ اس ميں ايك طرح كي اندازہ گيري اور اس آيت سے گزرنا ہوتا ہے
(7) تفسير فخر رازي ، جلد ۲۳، صفحہ ۵۱ 
(8) سورہٴ فصلت ،آيت۲۶
(9) اگرچہ آخري آيت كي تفسير اس معني كے لحاظ سے اعتراض سے خالي نہيں ہے، كيونكہ انبياء پر شيطاني وسوسہ اگرچہ خدائي امداد كے ذريعہ فوراً نيست و نابود ہوجاتا ہے ، ليكن اس كے ذريعہ منافقين اور بيمار دل لوگوں كے لئے باعث امتحان نہيں ہوسكتا، كيونكہ يہ وسوسہ ظاہر نہيں ہوتے بلكہ انبياء عليہم السلام پر ان وسوسوں كا اثر نہيں ہوتا كيونكہ فوراً ہي خداوندعالم ان كو ختم كرديتا ہے مگر يہ كہا جائے كہ مراد يہ ہے كہ جب انبيائے الٰہي اپني آرزو اور اہداف كو عملي بنانا چاہتے ہيں تو اس موقع پر شياطين تخريب اور وسوسوں كے ذريعہ حملہ آور ہوتے ہيں اور اس موقع پر امتحان كي بھٹي گرم ہوجاتي ہے، لہٰذا ان تينوں آيات (سورہ حج آيات نمبر ۵۲، ۵۳ اور ۵۴) ميں ہم آہنگي اور انسجام برقرار ہوجاتا ہے
عجيب بات تو يہ ہے كہ بعض مفسرين نے پہلي آيت ميں مختلف احتمالات ذكر كئے ہيں، جبكہ بعد والي آيات كي ہم آہنگي اور انسجام كو باقي نہيں ركھ پائے ہيں (غور كيجئے )
(10)سورہ حج ، آيت ۵۴
(11) اس سلسلہ ميں اہل سنت كي روايات سے مزيد آگاہي كے لئے كتاب الدر المنثور ، جلد چہارم صفحہ ۳۶۶ تا ۳۶۸ پر سورہ حج ، آيت ۵۲ كے ذيل ميں رجوع فرمائيں
12) تفسير مراغي ، جلد ۱۷، صفحہ ۱۳۰ ، مذكورہ آيات كے ذيل ميں
يہي معني ايك دوسري طرح تفسير ”جواہر“ (مولفہ طنطاوي) ميں بيان ہوئے ہيں: ”اس طرح كي احاديث صحاح ستہ ”صحيح بخاري، صحيح مسلم، موطاٴ بن مالك، جامع ترمذي، سنن نسائي اور سنن ابن داؤد“ ميں نہيں آئي ہيں،
(13) سورہٴ نجم ، آيت ۳و۴ 
14) سورہٴ نجم ، آيت ۲ (۲) سورہٴ نجم ، آيت ۲۳
(15) تفسير پيام قرآن ، جلد ۷، صفحہ ۱۶۴
دن كي تصوير
بقيع
ويڈيو بينك