سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:349

تقيہ كا مقصد كيا ہے؟

تقيہ ايك دفاعي ڈھال
يہ صحيح ہے كہ انسان كبھي بلند مقاصد ، شرافت كے تحفظ اور حق كي تقويت اور باطل كے تزلزل كے لئے اپني عزيز جان قربان كرسكتا ہے، ليكن كيا كوئي عاقل يہ كہہ سكتا ہے كہ انسان كے لئے بغير كسي خاص مقصد كے اپني جان كو خطرہ ميں ڈالنا جائز ہے ؟!
اسلام نے واضح طور پر اس بات كي اجازت دي ہے كہ اگر انسان كي جان، مال اور عزت خطرہ ميں ہو اور حق كے اظہار سے كوئي خاص فائدہ نہ ہو، تو وقتي طور پر اظہار حق نہ كرے بلكہ مخفي طريقہ سے اپني ذمہ داري كو پورا كرتا رہے، جيسا كہ قرآن مجيد كے سورہ آل عمران كي آيت نمبر ۲۸/ اس چيز كي نشاندہي كرتي ہے يا دوسرے الفاظ ميں سورہ نحل ميں ارشاد ہوتا ہے: <مَنْ كَفَرَ بِاللهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِہِ إِلاَّ مَنْ اٴُكْرِہَ وَقَلْبُہُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَان>(2) ”جو شخص بھي اللہ پر ايمان لانے كے بعد كفر اختيار كر لے علاوہ اس كے كہ جو كفر پر مجبور كر ديا جائے اور اس كا دل ايمان كي طرف سے مطمئن ہو “۔
< لاَيَتَّخِذْ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ اٴَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنْ اللهِ فِي شَيْءٍ إِلاَّ اٴَنْ تَتَّقُوا مِنْہُمْ تُقَاةً> (سورہ آل عمران ، آيت ۲۸)”خبردار صاحبان ايمان ؛مومنين كو چھوڑ كر كفار كو اپنا ولي و سرپرست نہ بنائيں كہ جو بھي ايسا كرے گا اس كا خدا سے كوئي تعلق نہ ہوگامگر يہ تمہيں كفار سے خوف ہو تو كوئي حرج بھي نہيں ہے“
كتب احاديث اور تواريخ ميں جناب ”عمارۻ ياسر“ اور ان كے والدين كا واقعہ سب كے سامنے ہے، جو مشركين اور بت پرستوں كے ہاتھوں اسير ہوگئے تھے، ان كو سخت تكليفيں پہنچا ئي گئي تھيں تاكہ اسلام سے بيزاري كريں،اسلام كو چھوڑ ديں، ليكن جناب عمار كے ماں باپ نے ايسا نہيں كيا جس كي بنا پر مشركين نے ان كو قتل كرديا، ليكن جناب عمارۻ نے ان كي مرضي كے مطابق اپني زبان سے سب كچھ كہہ ديا، اور خوف خدا كي وجہ سے روتے ہوئے پيغمبر اكرم (ص) كي خدمت ميں حاضر ہوئے ، (واقعہ بيان كيا) تو آنحضرت (ص) نے ان سے فرمايا: ”إنْ عَادُوا لَكَ فَعَدّلَہُم“ اگر پھر كبھي ايسا واقعہ پيش آئے تو جو تم سے كہلائيں كہہ دينا، اور اس طرح آنحضرت (ص) نے ان كے خوف و پريشاني كو دور كرديا۔
مزيد توجہ كا حامل ايك دوسرا نكتہ يہ ہے كہ تقيہ كا حكم سب جگہ ايك نہيں ہے بلكہ كبھي واجب، كبھي حرام اور كبھي مباح ہوتا ہے۔
تقيہ كرنا اس وقت واجب ہے جب بغير كسي اہم فائدہ كے انسان كي جان خطرہ ميں ہو، ليكن اگر تقيہ باطل كي ترويج، لوگوں كي گمراہي اور ظلم و ستم كي تقويت كا سبب بن رہا ہو تو اس صورت ميں حرام اور ممنوع ہے۔
اس لحاظ سے تقيہ پر ہونے والے اعتراضات كا جواب واضح ہوجاتا ہے، در اصل اگر تقيہ پر ا عتراض كرنے والے تحقيق و جستجو كرتے تو ان كو معلوم ہوجاتا كہ يہ عقيدہ صرف شيعوں كا نہيں ہے بلكہ تقيہ كا مسئلہ اپني جگہ پر عقل كے قطعي حكم اور انساني فطرت كے موافق ہے۔(3)
كيونكہ دنيا بھركے تمام صاحبان عقل و خرد جس وقت ايك ايسي جگہ پہنچتے ہيں جہاں سے دو راستہ ہوں يا تو اپنے اندروني عقيدہ كے اظہار سے چشم پوشي كريں يا اپنے عقيدہ كا اظہار كركے اپني جان و مال اور عزت كو خطرہ ميں ڈال ديں، توايسے موقع پر انسان تحقيق كرتا ہے كہ اگر اس عقيدہ كے اظہارسے اس كي جان و مال اور عزت كي قرباني كي كوئي اہميت اور فائدہ ہے تو ايسے موقع پر اس فدا كاري اور قرباني كو صحيح مانتے ہيں اور اگر ديكھتے ہيں كہ اس كا كوئي خاص فائدہ نہيں ہے تو اپنے عقيدہ كے اظہار سے چشم پوشي كرتے ہيں۔
تقيہ يا مقابلہ كي دوسري صورت
مذہبي، اجتماعي اور سياسي مبارزات اور تحريك كي تاريخ ميں يہ بات ديكھنے ميں آتي ہے كہ جب ايك مقصدكا دفاع كرنے والے اگر علي الاعلان جنگ يا مقابلہ كريں تو وہ خود بھي نيست و نابود ہوجائيں گے اور ان كے مقاصد بھي خاك ميں مل جائيں گے يا كم سے كم ان كے سامنے بہت بڑا خطرہ ہوگاجيسا كہ غاصب حكومت بني اميہ كے زمانہ ميں حضرت علي عليہ السلام كے شيعوں نے ايسا ہي كردار ادا كيا تھا، ايسے موقع پر صحيح اور عاقلانہ كام يہ ہے كہ اپني طاقت كو يونہي ضائع نہ كريں اور اپنے اغراض و مقاصد كو آگے بڑھانے كے لئے غير مستقيم اور مخفي طريقہ سے اپني فعاليت و تحريك جاري ركھيں، در اصل تقيہ اس طرح كے مكاتب اور ان كے پيرووٴں كے لئے ايسے موقع پر جنگ و مبارزہ كي ايك دوسري شكل شمار ہوتا ہے جو ان كو نابودي سے نجات ديتا ہے اوروہ اپنے مقاصد ميں كامياب ہوجاتے ہيں، تقيہ كو نہ ماننے والے افراد نامعلوم اس طرح كے مواقع پر كيا نظر يہ ركھتے ہيں؟ كيا ان كا نابود ہونا صحيح ہے يا صحيح اور منطقي طريقہ پر اس مبارزہ كو جاري ركھنا؟ اسي دوسرے راستہ كو تقيہ كہتے ہيں جبكہ كوئي بھي صاحب عقل اپنے لئے پہلے راستہ كو پسند نہيں كرتا۔(4)
حقيقي مسلمان ، اور پيغمبر اسلام كا تربيت يافتہ انسان دشمن سے مقابلہ كا عجيب حوصلہ ركھتا ہے، اور ان ميں سے بعض ”عمار ۻياسر كے والد“ كي طرح دشمن كے دباؤپر بھي اپني زبان سے كچھ كہنے كے لئے تيار نہيں ہوتے، اگرچہ ان كا دل عشق خدا و رسولۻ سے لبريز ہوتا ہے، يہاں تك كہ وہ اس راستہ ميں اپني جان بھي قربان كرديتے ہيں۔
ان ميں سے بعض خود ”عمارۻ ياسر“ كي طرح اپني زبان سے دشمن كي بات كہنے كے لئے تيار ہوجاتے ہيں ليكن پھر بھي ان پر خوف خدا طاري ہوتا ہے، اور خود كو خطا كار اور گناہگار تصور كرتے ہيں، جب تك خود پيغمبر اسلام (ص) اطمينان نہيں دلا ديتے كہ ان كا يہ كام اپني جان بچانے كے لئے شرعي طور پر جائز ہے؛ اس وقت تك ان كو سكون نہيں ملتا!
جناب ”بلالۻ “ كے حالات ميں ہم پڑھتے ہيں كہ جس وقت وہ اسلام لائے اور جب اسلام اور پيغمبر اكرم (ص) كي حمايت ميں دفاع كے لئے اٹھے تو مشركين نے بہت زيادہ دباؤ ڈالا، يہاں تك كہ ان كو تيز دھوپ ميں گھسيٹتے ہوئے لے جاتے تھے اور ان كے سينہ پر ايك بڑا پتھر ركھ ديتے تھے اور ان سے كہتے تھے: تمہيں ہماري طرح مشرك رہنا ہوگا۔
ليكن جناب بلالۻ اس بات پر آمادہ نہيں ہوتے تھے حالانكہ ان كي سانس لبوں پر آچكي تھي ليكن ان كي زبان پر يہي كلمہ تھا: ”احد، احد“ (يعني اللہ ايك ہے، اللہ ايك ہے) اس كے بعد كہتے تھے: خدا كي قسم اگر مجھے معلوم ہوتا كہ اس كلام سے ناگوارتر تمہارے لئے كوئي اور لفظ ہے تو ميں وہي كہتا!
اسي طرح ”حبيب بن زيد“ كے حالات ميں ملتا ہے كہ جس وقت ”مسيلمہ كذاب“ نے ان كو گرفتار كرليا اور ان سے پوچھا كہ كيا تو گواہي ديتا ہے كہ محمد رسول خدا ہيں؟ تو اس نے كہا : جي ہاں!
پھر سوال كيا كہ كيا تو گواہي ديتا ہے كہ ميں خدا كا رسول ہوں؟ تو حبيب نے اس كي بات كا مذاق اڑاتے ہوئے كہا كہ ميں نے تيري بات كو نہيں سنا! يہ سن كر مسيلمہ اور اس كے پيروكاروں نے ان كے بدن كو ٹكڑے ٹكڑے كرديا، ليكن وہ پہاڑ كي طرح ثابت قدم رہے۔(5)
اس طرح كے دل ہلا دينے والے واقعات تاريخ اسلام ميں بہت ملتے ہيں خصوصاً صدر اسلام كے مسلمانوں اور ائمہ عليہم السلام كے پيرووں ميں بہت سے ايسے واقعات مو جود ہيں۔
اسي بنا پر محققين كا كہنا ہے كہ ايسے مواقع پر تقيہ نہ كرنا اور دشمن كے مقابل تسليم نہ ہونا جائز ہے اگرچہ ان كي جان ہي چلي جائے كيونكہ ايسے مواقع پر، پرچم اسلام اور كلمہ اسلام كي سرفرازي مقصود ہے، خصوصاً پيغمبر اكرم (ص) كي بعثت كے آغاز ميں اس مسئلہ كي خاص اہميت تھي۔
لہٰذا اس ميں كوئي شك نہيں ہے كہ اس طرح كے مواقع پر تقيہ بھي جائز ہے اور ان سے زيادہ خطرناك مواقع پر واجب ہے، اور كچھ جاہل اور نادان لوگوں كے بر خلاف تقيہ (البتہ خاص مواقع پر نہ سب جگہ) نہ تو ايمان كي كمزوري كا نام ہے اور نہ دشمن كي كثرت سے گھبرانے كا نام ہے اور نا ہي دشمن كے دباؤ ميں تسليم ہونا ہے بلكہ تقيہ انسان كي حفاظت كرتا ہے اور مومنين كي زندگي كو چھوٹے اور كم اہميت موضوع كے لئے برباد نہ ہونے نہيں ديتا۔
يہ بات پوري دنيا ميں رائج ہے كہ مجاہدين اور جنگجو لوگوں كي اقليت؛ ظالم و جابر اكثريت كا تختہ پلٹنے كے لئے عام طور پر خفيہ طريقہ پر عمل كرتي ہے، اور انڈر گراؤنڈ كچھ لوگوں كو تيار كيا جاتا ہے اور مخفي طور پر منصوبہ بندي ہو تي ہے، بعض اوقات كسي دوسرے لباس ميں ظاہر ہوتے ہيں، اور اگر كسي موقع پر گرفتار بھي ہوجاتے ہيں تو ان كي اپني گروہ كے اسرار كو فاش نہ كرنے كي پوري كوشش ہوتي ہے ، تاكہ ان كي طاقت فضول نيست و نابود نہ ہونے پائے، اور آئندہ كے لئے اس كو ذخيرہ كيا جاسكے۔
عقل اس بات كي اجازت نہيں ديتي كہ مجاہدين كي ايك اقليت اپنے كو ظاہري اور علي الاعلان پہچنوائے، اور اگر ايسا كيا تو دشمن پہچان لے گا اور بہت ہي آساني سے ان كو نيست و نابود كرديا جائے گا۔
اسي دليل كي بنا پر ”تقيہ“ اسلامي قانون سے پہلے تمام انسانوں كے لئے ايك عقلي اور منطقي طريقہ ہے جس پر طاقتور دشمن كے مقابلہ كے زمانہ ميں عمل ہوتا چلا آيا ہے اور آج بھي اس پر عمل ہوتا ہے۔
اسلامي روايات ميں تقيہ كو ايك دفاعي ڈھال سے تشبيہ دي گئي ہے ۔
حضرت امام صادق عليہ السلام فرماتے ہيں: ”التقية ترس الموٴ من والتقية حرز الموٴمن “(6) ”تقيہ مومن كے لئے ڈھال ہے، اور تقيہ مومن كي حفاظت كا سبب ہے“۔
(محترم قارئين ! اس بات پر توجہ رہے كہ يہاں تقيہ كو ڈھال سے تشبيہ دي گئي ہے اور يہ معلوم ہے كہ ڈھال كو صرف دشمن كے مقابلہ اور ميدان جنگ ميں استعمال كياجاتا ہے)
اور اگر ہم يہ ديكھتے ہيں كہ احاديث اسلامي ميں تقيہ كو دين كي نشاني اور ايمان كي علامت قرار ديا گيا ہے اور دين كے دس حصوں ميں سے نو حصہ شمار كيا گيا ہے، تو اس كي و جہ يہي ہے۔
البتہ تقيہ كے سلسلہ ميں بہت زيادہ تفصيلي بحث ہے جس كا يہ موقع نہيں ہے، ہمارا مقصد يہ تھا كہ تقيہ كے سلسلہ ميں اعتراض كرنے والوں كي جہالت اور نا آگاہي معلوم ہوجائے كہ وہ تقيہ كے شرائط اور فلسفہ سے جاہل ہيں، بے شك بہت سے ايسے مواقع ہيں جہاں تقيہ كرنا حرام ہے ، اور وہ اس موقع پر جہاں انسان كي جان كي حفاظت كے بجائے مذہب كے لئے خطرہ ہو يا كسي عظيم فساد كا خطرہ ہو، لہٰذا ايسے مواقع پر تقيہ نہيں كرنا چاہئے اس كا نتيجہ جو بھي ہو قبول كرنا چاہئے۔(7)

(1) سورہ نحل ، آيت ۱۰۶
(2) اقتباس ، كتاب آئين ما، صفحہ ۳۶۴
(3) تفسير نمونہ ، جلد دوم، صفحہ ۳۷۳
(4) تفسير في ظلال ، جلد ۵، صفحہ ۲۸۴
(5) تفسير في ظلال ، جلد ۵، صفحہ ۲۸۴
(6) وسائل الشيعہ ، جلد ۱۱حديث ۶ ، باب ۲۴ /از ابواب امر بالمعروف
(7) تفسير نمونہ ، جلد ۱۱، صفحہ ۴۲۳
دن كي تصوير
بقيع
ويڈيو بينك