سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:386

كيا اصحاب كہف كا واقعہ سائنس سے مطابقت ركھتا ہے؟

شہر ”افسوس“ كے طولاني مدت تك سونے والوں (يعني اصحاب كہف) كي نيند كے بارے ميں بعض لوگ شك و ترديد كرسكتے ہيں ، ہوسكتا ہے كہ اس كو سائنس كے علمي اصول سے موافق نہ سمجھيں، لہٰذا اس كو ”قصہ اور كہانيوں“ كي صف ميں قرار دے ديں، كيونكہ:
۱۔ بيدارر ہنے والوں كے لئے سيكڑوں سال تك زندہ رہنا مشكل ہے ، سوتے ہوئے لوگوں كے لئے تو بہت دور كي بات ہے!
۲۔ بيداري كے عالم ميں تو بافرض محال يہ مانا بھي جاسكتا ہے كہ اتني طويل عمر ہوسكتي ہے ، ليكن جو شخص سويا ہوا ہو اس كے لئے ناممكن ہے، كيونكہ كھانے پينے كي مشكل پيش آئے گي، انسان اتني مدت تك بغير كھائے پئے كيسے زندہ رہ سكتا ہے، اور اگر فرض كريں كہ انسان كے لئے ہر روز ايك كلو كھانا اور ايك ليٹر پاني كي ضرورت ہوتي ہے تو اصحاب كہف كي عمر كے لئے دس كونٹل كھانا اور ايك ہزار ليٹر پاني ضروري ہے جس كو بدن ميں ذخيرہ كرنا معني نہيں ركھتا۔
۳۔ اگر ان سب سے چشم پوشي كرليں تو يہ اعتراض پيش آتا ہے كہ بدن كے ايك حالت ميں اتني طولاني مدت تك باقي رہنے سے انساني جسم كے مختلف اعضا خراب ہوجاتے ہيں۔
اس طرح كے اعتراضات كے پيش نظر ظاہري طور پركوئي راہ حل دكھائي نہ ديتي، جبكہ ايسا نہيں ہے، كيونكہ:
الف: طولاني عمر كا مسئلہ كوئي غير علمي مسئلہ نہيں ہے كيونكہ ہم جانتے ہيں كہ (سائنس كے لحاظ سے) ہر زندہ موجود كے لئے كوئي معين معيار نہيں كہ اس وقت اس كي موت يقيني ہو۔
دوسرے الفاظ ميں يوں كہيں كہ يہ بات اپني جگہ مسلم ہے كہ انسان كي طاقت كتني بھي ہو آخر كار محدود اور ختم ہونے والي ہے، ليكن اس كا مطلب يہ نہيں ہے كہ انسان كا بدن يا كوئي دوسرا جاندار اس معمولي مقدار سے زيادہ زندگي كرنے كي صلاحيت نہيں ركھتا، مثال كے طور پردرجہٴ حرارت سو تك پہنچنے پر پاني كھول جاتا ہے اور درجہٴ حرارت صفر ہونے پر پاني برف بن جاتا ہے، لہٰذا انسان كے سلسلہ ميں ايسا كوئي قانون نہيں ہے كہ جب انسان سو سال يا ڈيڑھ سو سال كا ہوجائے تو انسان كي حركت قلب بند ہوجائے اور وہ مرجائے۔
بلكہ انسان كي عمر كا معيار زيادہ تر اس كي زندگي كے حالات پر موقوف ہے اور حالات كو بدلنے سے اس كي عمر ميں تبديلي آسكتي ہے، اس كا زندہ ثبوت يہ ہے كہ ہم ديكھتے ہيں كہ دنيا بھر كے دانشوروں نے انسان كے لئے كوئي خاص عمر معين نہيں كي ہے، اس كے علاوہ متعدد دانشوروں نے بعض جانداروں كي عمر كو بعض مخصوص ليبريٹري ميں ركھ كر دو برابر، چند برابر اور بعض اوقات ۱۲ برابر تك پہنچا ياہے، يہاں تك كہ محققين اور دانشوروں نے ہميں اميد دلائي ہے كہ مستقبل ميں سائنس كے جديد طريقوں كے ذريعہ انسان كي عمر اس وقت كي عمر سے چند برابر بڑھ جائے گي، يہ خود طولاني عمر كے سلسلہ ميں ہے۔
ب: اس طولاني نيند كے بارے ميں كھانے پينے كا مسئلہ اگر معمولي نيند ہو تو اعتراض وارد ہوتا ہے كہ يہ مسئلہ سائنس سے ہم آہنگ نہيں ہے، اگرچہ سوتے وقت كھانے پينے كي ضرورت كم ہوتي ہے ليكن چند سالوں كے لئے يہ مقدار بہت زيادہ ہوني چاہئے، ليكن اس بات پر توجہ ركھنا چاہئے كہ جہان طبيعت ميں ايسي بھي نيند پائي جاتي ہيں جن ميں كھانے پينے كي ضرورت بہت ہي كم ہو تي ہے، اس كے لئے جانوروں كي مثال دي جاتي ہے جو موسم سرما ميں سوجاتے ہيں۔ سرديوں كي نيند بہت سے جانور ايسے ہيں جو پوري سرديوں كے موسم ميں سوتے رہتے ہيں اسے سائنس كي اصطلاح ميں ”سرديوں كي نيند“ كہا جاتا ہے۔
ايسي نيند ميں زندگي كے آثار تقريباً ختم ہوجاتے ہيں، زندگي كا معمولي سا شعلہ روشن رہتا ہے، دل كي دھڑكن تقريباً رك جاتي ہے، اور اتني خفيف ہوجاتي ہے كہ بالكل محسوس نہيں ہوتي۔
ايسے مواقع پر بدن كو ايسے بڑے بھٹے سے تشبيہ دي جاسكتي ہے جو بجھ جاتا ہے اور چھوٹا سا شعلہ بھڑكتا رہتا ہے، واضح ہے كہ آسمان سے باتيں كرتے ہوئے شعلوں كے لئے بھٹے كو ايك دن كے لئے جتنے تيل يا گيس كي ضرورت ہوتي ہے ايك خفيف سے شعلہ كے لئے اتني خو راك برسوں يا صديوں كے لئے كافي ہے، البتہ اس ميں جلتے ہوئے بھٹے كي مقدار اور خفيف سے شعلہ كي مقدار كے لحاظ سے فرق ہوسكتا ہے۔
جانوروں كي سرديوں كي نيند كے بارے ميں دانشورں كا كہنا ہے: ”اگر كسي مينڈك كو سرديوں كي نيند سے اس كي جگہ سے باہر نكاليں تووہ مردہ معلوم ہوگا، اس كے پھيپھڑوں ميں ہوا نہيں ہوتي، اس كے دل كي حركت اتني كمزور ہوتي ہے كہ پتہ نہيں چلايا جاسكتا، سرد خون جانوروں (Cool Blooded) ميں بہت سے جا نورسرديوں كي نيند سوتے ہيں، اس سلسلہ ميں كئي طرح كے كيڑے مكوڑے، حشرات الارض، زميني سيپ (صدف) اور رينگنے والے جانوروں كے نام لئے جاسكتے ہيں، بعض خون گرم جانور (Warm Blooded) بھي سرديوں كي نيندسو تے ہيں اس نيند كے عالم ميں حياتي فعالتيں بہت سست پڑجاتي ہيں اور بدن ميں ذخيرہ شدہ چربي آہستہ آہستہ صرف ہوتي رہتي ہے۔(1)
مقصد يہ ہے كہ ايك ايسي بھي نيند ہے جس ميں كھانے پينے كي بہت كم ضرورت ہوتي ہے اور حياتي حركتيں تقريباً صفر تك پہنچ جاتي ہيں، اتفاق كي بات يہ ہے كہ يہي صورت حال اعضا كو فرسودگي سے بچانے اور جانوروں كو ايك طولاني مدت تك جينے ميں مدد ديتي ہے، اصولي طور پر جو جاندار احتمالاً سرديوں ميں اپني غذا حاصل كرنے كي طاقت نہيں ركھتے ان كے لئے سرديوں كي نيند بہت غنيمت شئے ہے۔
يوگا كے ماہرين؛ ايك اور نمونہ يوگا كے ماہرين كے بارے ميں ديكھا گيا ہے كہ ان ميں سے بعض كو يقين نہ كرنے والے حيرت زدہ افراد كي آنكھوں كے سامنے بعض اوقات تابوت ميں ركھ كر ہفتہ بھر كے لئے مٹي كے نيچے دفن كرديتے ہيں اور ايك ہفتہ كے بعد انھيں باہر نكالتے ہيں ان كي مالش كي جاتي ہے اور مصنوعي سانس دي جاتي ہے اور وہ رفتہ رفتہ اصلي حالت پر پلٹ آتے ہيں۔
اتني مدت كے لئے اگر كھانے پينے كا مسئلہ كوئي اہم نہ ہو تو بھي آكسيجن كا مسئلہ بہت اہم ہے كيونكہ ہم جانتے ہيں دماغ كے خليے آكسيجن كے معاملہ ميں اتنے حساس اور ضرورت مند ہوتے ہيں كہ اگر چند سيكنڈ بھي اس سے محروم رہيں تو تباہ ہوجائيں، لہٰذا سوال پيدا ہوتا ہے كہ ايك يوگا كرنے والا پورا ہفتہ كس طرح آكسيجن كي اس كمي كو برداشت كرليتا ہے۔
ہماري مذكورہ گفتگو كے پيش نظر اس سوال كا جواب كوئي زيادہ مشكل نہيں ہے، بات يہ ہے كہ يوگا كرنے والے كے بدن كي حياتي حركت اس عرصہ ميں تقريباً رك جاتي ہے اس دوران خليے كو آكسيجن كي ضرورت اور اس كا مصرف بہت كم ہوجاتا ہے يہاں تك كہ وہي ہوا جو تابوت كے اندروني حصہ ميں ہوتي ہے بدن كے خليوں كي ہفتہ بھر كي غذا كے لئے كافي ہوجاتي ہے!!۔
زندہ انسان كے بدن كو منجمد كرنا
جانوروں بلكہ انساني بدن كو منجمد كركے ان كي عمر بڑھانے كے بارے ميں آج كل بہت سے نظريات پيش كئے گئے ہيں جن پر بحثيں ہورہي ہيں ان ميں سے بعض تو عملي جامہ پہن چكے ہيں۔
ان تھيوريوں كے مطابق يہ ممكن ہے كہ ايك انسان يا حيوان كے بدن كو ايك خاص طريقہ كے تحت صفر سے كم درجہ حرات پر ركھ كر اس كي زندگي كو ٹھہرا ديا جائے جس سے اس كي مو ت واقع نہ ہو پھر ايك ضروري مدت كے بعد اسے مناسب حرارت دي جائے اور وہ عام حالت پر لوٹ آئے!!
بہت دور دراز كے فضائي سفر جن كے لئے كئي سو سال يا كئي ہزار سال كي مدت دركارہے، ان كے لئے كئي منصوبے پيش كئے جاچكے ہيں ان ميں سے ايك يہي ہے كہ فضا نورد كے بدن كو ايك خاص تابوت ميں ركھ كر اسے جما ديا جائے اور جب سالہا سال كي مسافت كے بعد وہ مقررہ كرّات كے قريب پہنچ جائے تو ايك ايٹو ميٹك نظام كے تحت اس تابوت ميں حرارت پيدا ہوجائے اور فضا نورد اپني حيات كو ضا ئع كئے بغير حالت معمول پر لوٹ آئے ۔
ايك سائنسي جريدہ ميں يہ خبر شائع ہوئي ہے كہ حال ہي ميں انساني بدن كو لمبي عمر كے لئے منجمد كرنے كے بارے ميں برابرٹ نيلسن نے كتاب لكھي ہے، سائنس كي دنيا ميں يہ كتاب بہت مقبول ہو ئي ہے اور اس كے مندرجات كے بارے ميں بہت كچھ كہا گيا ہے۔
جريدہ كے اس مقالہ ميں يہ بھي لكھا ہے كہ حال ہي ميں اس عنوان كے تحت ايك خاص سانئسي شعبہ قائم ہوگيا ہے، چنانچہ مذكورہ مقالہ ميں لكھا ہے: ہميشہ سے انساني تاريخ ميں ”حيات جاويداني“ انسان كا سنہرا خواب رہي ہے، ليكن اب يہ خواب حقيقت ميں بدل گيا ہے، يہ امر ايك نئے علم كي خوشگوار اور حيرت انگيز ترقي كا مرہونِ منت ہے اس علم كا نام ”كريانك“ ہے، (يہ علم انساني بدن كو منجمد كركے زندہ ركھنے كے بارے ميں ہے، اس كے مطابق انسان كے بدن كو منجمد كركے اسے بچا يا جاسكتا ہے يہاں تك كہ سائنسداں اسے پھر سے زندہ كرديں)
كيا يہ بات قابل يقين ہے؟ بہت سے ممتاز دانشوراس مسئلہ پر غور و فكر كر رہے ہيں ، اس كے بارے ميں متعدد كتابيں چھپ چكي ہيں مثلاً ”لائف“ اور ”اسكوائر“ ، پوري دنيا كے اخبارات پورے زور و شور سے اس مسئلہ پر بحث كر رہے ہيں، اور سب سے اہم بات يہ ہے كہ اس سلسلہ ميں اب تجربات شروع ہوچكے ہيں۔(2)
كچھ عرصہ ہوا كہ اخبار ميں يہ خبر چھپي تھي كہ برفاني قطبي علاقے سے چند ہزار سال پہلے كي ايك منجمد مچھلي ملي ہے جسے خود وہاں كے لوگوں نے ديكھا ہے اس مچھلي كو جب مناسب پاني ميں ركھا گيا تو سب لوگ حيرت زدہ رہ گئے كہ وہ مچھلي پھر سے جي اٹھي اور چلنے لگي۔
واضح رہے كہ حالت انجماد ميں علامات حيات ،موت كي طرح بالكل ختم نہيں ہوتي كيونكہ اس صورت ميں تو زند ہ ہو نا ممكن نہيں ہے بلكہ اس عالم ميں حيات كي فعالتيں اور حركتيں بہت سست رفتار ہوجاتي ہيں۔
ان تمام باتوں سے ہم يہ نتيجہ نكالتے ہيں كہ انساني زندگي كو ٹھہرايا يا بہت ہي سست كيا جاسكتا ہے، اور سائنس كي مختلف تحقيقات اس امكان كي متعدد حوالوں سے تائيد كرتي ہيں، اس حالت ميں غذا كا مصرف بدن ميں تقريباً صفر تك پہنچ جاتا ہے اورانسان كے بدن ميں موجود غذا كا تھوڑا سا ذخيرہ اس كي سست زندگي كے لئے طولاني برسوں تك كافي ہوسكتا ہے۔ اس چيز ميں غلط فہمي نہ ہو كہ ہم ان باتوں كے ذريعہ اصحاب كہف كي نيند كے اعجازي پہلو كاانكار نہيں كرنا چاہئے بلكہ ہم چاہتے ہيں كہ سائنس كے اعتبار سے اس واقعہ كو ذہنوں كے قريب كرديں كيونكہ يہ بات مسلم ہے كہ اصحاب كہف ہماري طرح نہيں سوئے، جيسا كہ ہم معمول كے مطابق رات كو سوتے ہيں ان كي نيند ايسي نہيں تھي بلكہ وہ استثنائي پہلو ركھتي تھي، لہٰذا اس ميں تعجب كي كوئي بات نہيں ہے كہ وہ ارادہ الٰہي كے تحت ايك طولاني مدت تك سوتے رہے، اس دوران نہ انھيں غذا كي كمي لاحق ہوئي اور نہ ان كے بدن كے ارگانيزم (اجزا) كو كوئي نقصان پہنچا۔
يہ بات قابل توجہ ہے كہ سورہ كہف كي آيات سے ان كي سرگزشت كے بارے ميں يہ نتيجہ برآمد ہوتا ہے كہ ان كي نيند عام طريقہ كي نيند اور معمول كي نيند سے بہت مختلف تھي، چنانچہ ارشاد خداوندي ہے:
<وَتَحْسَبُہُمْ اٴَيْقَاظًا وَہُمْ رُقُودٌ وَنُقَلِّبُہُمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَذَاتَ الشِّمَالِ وَكَلْبُہُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْہِ بِالْوَصِيدِ لَوْ اطَّلَعْتَ عَلَيْہِمْ لَوَلَّيْتَ مِنْہُمْ فِرَارًا وَلَمُلِئْتَ مِنْہُمْ رُعْبًا >(3)
”اور تمہارا خيال ہے كہ وہ جاگ رہے ہيں حالانكہ وہ عالمِ خواب ميں ہيں اور ہم انھيں داہنے بائيں كروٹ بھي بدلوا رہے ہيں اور ان كا كتا ڈيوڑھي پر دونوں ہاتھ پھيلائے ڈٹا ہوا ہے اگر تم ان كي كيفيت پر مطلع ہوجاتے تو الٹے پاؤں بھاگ نكلتے اور تمہارے دل ميں دہشت سما جاتي“۔
يہ آيت اس بات كي گواہ ہے كہ ان كي نيند عام نيند نہ تھي بلكہ ايسي نيند تھي جو حالت موت كے مشابہ تھي اور ان كي آنكھيں كھلي ہوئي تھيں۔
اس كے علاوہ قرآن مجيد ميں بيان ہوا ہے: ”سورج كي روشني ان كے غار كے اندر نہيں پڑتي تھي“ نيز اس امر كي طرف توجہ كي جائے كہ ان كي غار احتمالاً ايشائے صغير كے كسي بلند اور سرد مقام پر واقعتھا تو ان كي نيند كے استثنائي حالات مزيد واضح ہوجاتے ہيں۔
دوسري طرف قرآن كہتا ہے: <وَنُقَلِّبُہُمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَذَاتَ الشِّمَالِ>(4) ”اور ہم انھيں داہنے بائيں كروٹ بھي بدلوا رہے ہيں “ اس سے معلوم ہوتا ہے كہ وہ بالكل ايك ہي حالت ميں نہيں رہتے تھے ايسے عوامل جو ابھي تك ہمارے لئے معمہ ہيں ان كے تحت شايد سال ميں ايك مرتبہ انھيں دائيں بائيں پلٹاجاتا تھا تاكہ ان كے بدن كے ارگانيزم (Organism)ميں كوئي نقص نہ آنے پائے۔
اب جبكہ اس سلسلہ ميں كافي واضح عملي بحث ہوچكي ہے اس سے نتيجہ اخذ كرتے ہوئے معاد اور قيامت كے بارے ميں زيادہ گفتگو كي ضرورت نہيں رہتي، كيونكہ ايسي طويل نيند كے بعد بيداري، موت كے بعد كي زندگي كے غير مشابہ نہيں ہے، اس سے ذہن معاد اور قيامت كے امكان كے قريب ہوجاتا ہے۔(5)(6)

(1)اقتباس از كتاب فرہنگنامہ (دائرة المعارف جديد فارسي) مادہ زمستانخوابي
(2) مجلہ دانشمند ، بہمن ماہ ۱۳۴۷ئھ ش ، صفحہ ۴
(3) سورہ كہف ، آيت ۱۸
(4) سورہٴ كہف ، آيت ۱۸
(5) اس سلسلہ ميں مزيد وضاحت كے لئے كتاب ”معاد و جہان پس از مرگ“ كي طرف رجوع فرمائيں
(6) تفسير نمونہ ، جلد ۱۲، صفحہ ۴۰۶
دن كي تصوير
بقيع
ويڈيو بينك