سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:413

كيا دنوں كو سعد و نحس ماننا صحيح ہے؟

عوام الناس كے درميان يہ بات مشہور ہے كہ كچھ دن سعد اور نيك ہوتے ہيں اور كچھ نحس ہوتے ہيں، اگرچہ اس ميں شديد اختلاف ہے كہ كون كون سے دن سعد يا نحس ہيں؟يہاں بحث يہ ہے كہ عوام الناس كا يہ عقيدہ اسلام كي نظر ميں كہاں تك قابل قبول ہے؟ يا يہ نظريہ اسلام ہي سے ليا گيا ہے؟ اگرچہ عقلي لحاظ سے زمان اور ايام ميں فرق كا پايا جانا محال نہيں ہے، كہ بعض ايام نحوست كي علامت ركھتے ہوں اور بعض دن سعد اور نيك ہوں، اگرچہ ہمارے پاس ايسي كوئي عقلي دليل نہيں ہے جس كے ذريعہ ان كو ثابت كيا جائے يا اس كي نفي كي جائے، ہم تو صرف اتنا كہتے ہيں كہ ايسا ہونا ممكن ہے ليكن عقلي لحاظ سے ثابت نہيں ہے۔
لہٰذا اگر اس سلسلہ ميں شرعي دلائل موجود ہوں تو ان كو قبول كيا جاسكتا ہے بلكہ ان كو ماننا ضروري ہے۔ قرآن مجيد ميں صرف دومقامات پر ”نحوستِ ايام“ كي طرف اشارہ ہوا ہے،ايك سورہ قمر ، آيت نمبر ۱۹ ميں اور دوسرا سورہ فصلت ، آيت نمبر ۱۶/ ميں جہاں قوم عاد كے واقعہ كي طرف اشارہ ہوا ہے، چنانچہ ارشاد خداوندي ہے: <فَاٴَرْسَلْنَا عَلَيْہِمْ رِيحًا صَرْصَرًا فِي اٴَيَّامٍ نَحِسَاتٍ>(1)
”تو ہم نے بھي ان كے اوپر تيز اور تند آندھي كو ان كي نحوست كے دنوں ميں بھيج ديا“۔(2)
اس كے مد مقابل بعض آيات ميں دنوں كے لئے لفظ ”مبارك“ آيا ہے، جيسا كہ شب قدر كے بارے ميں ارشاد ہے: <اِنَّا اَنْزَلْنَاہُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ>(3) ”ہم نے اس قرآن كو ايك مبارك رات ميں نازل كيا ہے “۔
”نحس“ اصل ميں افق كي بہت زيادہ سرخي كو كہتے ہيں جس كو ”نحاس“ (يعني ايسا شعلہ جس ميں دھواں نہ ہو ) كي شكل ميں لاتے ہيں، ليكن بعد ميں اس كو ”شوم “(يعني بُرے) كے معني ميں استعمال كيا جانے لگا۔ اس لحاظ سے قرآن مجيد ميں صرف اس مسئلہ كي طرف مجمل اشارہ ہے، ليكن دنوں كے ”سعد و نحس“ كے سلسلہ ميں اسلامي منابع ميں بہت سي روايات موجود ہيں، اگرچہ ان ميں سے متعدد روايات ضعيف ہيں، يا بعض روايات خرافات سے ملي جلي ہيں، ليكن سب ايسي نہيں ہيں، بلكہ ان كے درميان متعدد روايات معتبر اور قابل قبول ہيں، جيسا كہ مذكورہ آيات كي تفسير ميں بہت سے مفسرين نے ان روايات كو صحيح قرار ديا ہے۔ محدث بزرگوار مرحوم علامہ مجلسي عليہ الرحمہ نے بھي اس سلسلہ ميں بہت سي احاديث ”بحار الانوار“ ميں بيان كي ہيں۔(4)
ہم يہاں چند مطالب مختصر طور پر بيان كرتے ہيں:
الف۔ متعدد روايات ميں تاريخوں كو سعد و نحس ان تاريخوں ميں واقع ہونے والے واقعات كي بنا پر سعد و نحس كہا گيا ہے، مثال كے طور پر حضرت امير المومنين علي عليہ السلام سے منقول ايك روايت ميں بيان ہوا ہے كہ ايك شخص نے امام عليہ السلام سے درخواست كي كہ جس ميں ”چہارشنبہ“ كے بارے ميں سوال كيا جس كو عوام الناس كے درميان اچھا نہيں سمجھا جاتا اور اس كو بار سمجھا جاتا ہے، امام سے سوال كيا كہ وہ كونسا چہار شبہ ہے؟ امام عليہ السلام نے فرمايا: ”اس سے مراد مہينہ كا آخري چہار شنبہ ہے، جس ميں بہت سے واقعات رونما ہوئے ہيں، اسي روز قابيل نے اپنے بھائي ”ہابيل“ كو قتل كي اور اسي روز چہار شنبہ ميں خداوندعالم نے قوم عاد پر تيز آندھي كے ذريعہ عذاب نازل كيا“۔(5)
لہٰذا متعدد مفسرين نے اس طرح كي بہت سي روايات كي پيروي كرتے ہوئے ہر مہينہ كے آخري چہار شنبہ كو روز ”نحس“ قرار ديا، اور اس كو ”اربعاء لا تدور“ قرار ديا، (يعني ايسا چہار شنبہ جس كي تكرار نہيں ہوتي)
اسي طرح بعض دوسري روايات ميں بيان ہوا ہے كہ ہر ماہ كي پہلي تاريخ نيك اور مبارك ہے، كيونكہ اس ميں جناب آدم عليہ السلام پيدا ہوئے، اسي طرح ہر ماہ كي ۲۶ تاريخ كو نيك شمار كيا ہے كيونكہ خداوندعالم نے اس تاريخ ميں جناب موسيٰ عليہ السلام كے لئے دريا ميں راستہ بنايا۔(6)
اسي طرح ہر ماہ كي ۳تاريخ كو نحس قرار ديا كيونكہ اس تاريخ ميں جناب آدم و حوا عليہما السلام كو جنت سے نكالا گيا اور ان كے بدن سے جنتي لباس جدا ہوگيا۔(7)
يا ہر مہينہ كي سات تاريخ كو نيك مانتے ہيں كيونكہ اس تاريخ ميں جناب نوح عليہ السلام كشتي پر سوار ہوئے (اور غرق ہونے سے نجات پاگئے)(8)
يا جيسا كہ نو روز كے سلسلہ ميں حضرت امام صادق عليہ السلام سے منقول حديث ميں بيان ہوا ہے كہ آپ نے فرمايا: يہ ايك مبارك روز ہے جس ميں جناب نوح عليہ السلام كي كشتي جودي نامي پہاڑي پر ركي، جناب جبرئيل پيغمبر اكرم (ص) پر نازل ہوئے، اسي روز حضرت علي عليہ السلام نے دوش پيغمبر اكرم (ص) پر سوار ہوكر خانہ كعبہ سے بتوں كو توڑا، اور واقعہ غدير خم بھي اسي نو روز ميں واقع ہوا ہے(9)
المختصر : اس طرح كے الفاظ بہت سي روايات ميں بيان ہوئے ہيں جن ميں بعض اچھے واقعات اور بعض ناگوار واقعات كي بنا پر تاريخوں كو سعد يانحس قرار ديا ہے، خصوصاً روز عاشورہ كے سلسلہ ميں جس كو بني اميہ اہل بيت عليہم السلام پر كاميابي كے گمان سے اس دن كو ايك مبارك روز شمار كرتے تھے، لہٰذا روايات ميں اس دن كو مبارك ماننے سے نہي كي گئي ہے بلكہ اس روز كاروبار اور تحصيل رزق كي تعطيل كے لئے كہا گيا ہے، تاكہ عملي طور پر بني اميہ كے اس كام سے دوري اختيار كريں، لہٰذا اس طرح كي روايات كے پيش نظر بعض علمانے سعد و نحس كي اس طرح تفسير كي ہے كہ اسلام نے ان واقعات كي طرف توجہ دي ہے تاكہ انسان خود كو عملي طور پر تاريخي مثبت واقعات كے مطابق قرار دے ، اور بُرے اور غلط واقعات، نيز اس طرح كے واقعات كو رونما كرنے والوں سے دوري اختيار كريں۔
ممكن ہے كہ يہ تفسير بعض روايات كے سلسلہ ميں صادق اور صحيح ہو ليكن تمام روايات كے سلسلہ ميں مسلم طور پر صادق نہيں ہے كيونكہ انھيں بعض روايات سے نتيجہ نكلتا ہے كہ بعض دنوں ميں مخفي تاثير پائي جاتي ہے جس سے ہم آگاہ نہيں ہيں۔
ب۔ يہ نكتہ بھي قابل توجہ ہے كہ بعض لوگ سعد و نحس كے سلسلہ ميں اس قدر آگے بڑھ جاتے ہيں كہ كوئي كام كرنا چاہتے ہيں تو سب سے پہلے تاريخ كے سعد و نحس ہونے كي جستجو كرتے ہيں، جن كي وجہ سے بعض كاموں كو چھوڑ ديتے ہيں، اور اس سنہري موقع كو گنوا بيٹھتے ہيں۔
يا يہ كہ اپني يا دوسروں كي كاميابي يا ناكامي كے اسباب و علل كي جستجو كرنے اور اپني زندگي كے تجربات سے فائدہ اٹھانے كے بجائے ہر طرح كي ناكامي كو تاريخ اور دنوں كي گردن پر يہ كہہ كر ڈال ديتے ہيں كہ ہم كيا كريں تاريخ ہي نحس تھي، اور اسي طرح كامياب ہونے پر نيك اور مبارك تاريخ ہونے كي علت سمجھتے ہيں!
ليكن يہ ايك طرح حقيقت سے فرار اور اس مسئلہ ميں زيادہ روي سے كام لينا اور حوادث زندگي كي فضول توضيح و تفسير ہے جس سے ہميں پرہيز كرنا چاہئے، ان مسائل ميں عوام الناس ميں شايع شدہ مسائل پر دھيان نہيں دينا چاہئے اور نہ ہي منجمين كي باتوں پر عمل كرنا چاہئے اورنہ ہي فال نكالنے والوں كي باتوں پر عمل كيا جائے، اگر اس سلسلہ ميں كوئي چيز معتبر حديث كے ذريعہ ثابت ہوجائے تو اس كو قبول كيا جائے ، اگر ثابت نہ ہو توہر كس و نا كس كي بات پر تو جہ نہ كرتے ہو ئے اپني زندگي كو آگے بڑھايا جائے، سعي و كوشش كرتے ہوئے اپنے قدم بڑھائے، انسان خدا پر بھروسا كرے اور اسي كي نصرت و مدد طلب كرے۔
ج۔ تاريخوں كے سعد ونحس كے مسئلہ پر توجہ ، غالباً انسان كو تاريخي مثبت واقعات كي طرف رہنمائي كے علاوہ سبب ہوتي ہے كہ انسان خداوندعالم كي ذات مقدس كي طرف متوجہ ہو اور اس كي ذات پاك سے نصرت ومدد طلب كرے،لہٰذا ہم متعدد روايات ميں پڑھتے ہيں: جن تاريخوں كو نحس قرار ديا گيا ہے اس ميں صدقہ دے كر، يا دعا پڑھ كر، خداوندعالم كے لطف و كرم سے نصرت ومدد طلب كركے، قرآن كي بعض آيات كي تلاوت كركے اور خداوندمنّان كي ذات پر توكل اور بھروسہ كرتے ہوئے اپنے كاموں كو انجام دے تا كہ اپنے كاموں ميں كامياب ہوجاؤ۔
جيسا كہ ايك حديث ميں بيان ہوا ہے كہ حضرت امام حسن عسكري عليہ السلام كے دوستوں ميں سے ايك شخص منگل كے روز امام كي خدمت ميں حاضر ہوا، امام عليہ السلام نے فرمايا كہ تم كل نہيں آئے ؟ اس نے عرض كيا:كل پير كا دن تھا، ميں پير كے دن گھر سے باہر نكلنے كو اچھا نہيں مانتا! اس وقت امام حسن عسكري عليہ السلام نے فرمايا: ”جو شخص پير كے دن كے شر سے محفوظ رہنا چاہتا ہے اسے نماز صبح كي پہلي ركعت ميں سورہ ”ہل اتي“ پڑھني چاہئے، اس كے بعد امام عليہ السلام نے سورہ ہل اتي كي اس آيت كي تلاوت فرمائي (جو شر اوربلا كے دور ہونے كے لئے مناسب ہے): < فَوَقَاہُمْ اللهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَّاہُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا >(10) ”تو خدا نے انھيں اس دن كي سختي سے بچاليا اور تازگي و سرور عطا كر ديا“۔11)
اسي طرح ايك دوسري حديث ميں بيان ہوا ہے كہ حضرت امام صادق عليہ السلام كے اصحاب ميں سے ايك شخص نے امام عليہ السلام سے سوال كيا: كيا روز چہار شنبہ جس كو نحس قرار ديا گيا يا اس كے علاوہ دوسرے نحس دنوں ميں سفر كرنا مناسب ہے؟ امام عليہ السلام نے اس كے جواب ميں فرمايا: صدقہ دے كر سفر كا آغاز كرو، اور نكلتے وقت آية الكرسي كي تلاوت كرو (اور جہاں چاہو سفر كرو)(12)
نيز ايك دوسري حديث ميں بيان ہوا ہے كہ امام علي نقي عليہ السلام كے دوستوں ميں سے ايك شخص كہتا ہے: ميں امام عليہ السلام كي خدمت ميں حاضر ہوا، حالانكہ راستہ ميں ميري انگلي زخمي ہوگئي تھي،چو نكہ ايك سواري ميرے پاس سے گزري جس كي وجہ سے ميرا شانہ زخمي ہوگيا، جس كي بنا پر كچھ لوگوں سے نزاع ہوگئي اور انھوں نے ميرے كپڑے تك پھاڑ ڈالے، ميں نے كہا: اے دن !خدا تيرے شر سے محفوظ ركھے، كتنا برا دن ہے! اس وقت امام عليہ السلام نے فرمايا: تو ہماري محبت كا دعويٰ كرتا ہے اور اس طرح كہتا ہے؟! اس دن كي كيا خطا ہے جو تو اس دن كو گناہگار قرار ديتا ہے؟ چنانچہ وہ شخص كہتا ہے كہ ميں امام عليہ السلام سے يہ گفتگو سن كر ہوش ميں آيا اور ميں نے اپني غلطي كا احساس كرتے ہوئے عرض كي: اے ميرے مولا و آقا! ميں توبہ و استغفار كرتا ہوں، اور خدا سے بخشش طلب كرتا ہوں۔اس موقع پر امام عليہ السلام نے فرمايا: ”دنوں كا كيا گناہ ہے؟ كہ تم ان كو بُرا اور نحس مانتے ہو جب كہ تمہارے اعمال ان دنوں ميں تمہارے دامن گير ہوتے ہيں“؟!
راوي كہتا ہے: ”ميں نے عرض كي ميں خدا سے ہميشہ كے لئے استغفار كرتا ہوں، اے فرزندِ رسول !ميں توبہ كرتا ہوں“۔
اس وقت امام عليہ السلام نے فرمايا:”اس سے كوئي فائدہ نہيں، جس چيز ميں مذمت نہيں ہے اس كي مذمت كرنے پرخدا تمہيں سزا دے گا ، كيا تمہيں نہيں معلوم كہ خداوندعالم ثواب و عذاب ديتا ہے، اور اعمال كي جزا اس دنيا اور آخرت ميں ديتا ہے، اس كے بعد مزيد فرمايا: اس كے بعد اس عمل كي تكرار نہ كرنا، اور حكم خدا كے مقابل دنوں كي تاثير پر عقيدہ نہ ركھنا“۔(13)
(قارئين كرام!) يہ پُر معني حديث اس بات كي طرف اشارہ كرتي ہے كہ اگر دنوں كا كوئي اثر ہے بھي تو وہ حكم خدا سے ہے، لہٰذا ان كے لئے مستقل طور پر تاثير كا قائل نہ ہونا چاہئے، اپنے كو خدا كے لطف وكرم سے بے نياز نہيں جاننا چاہئے، ان واقعات كو جو اكثر اوقات انسان كے بُرے اعمال كا كفارہ ہوتے ہيں ؛ دنوں كي تاثير نہيں جاننا چاہئے اور اپنے كو بري الذمہ نہيں قرار دينا چاہئے، اس سلسلہ ميں ان مختلف روايات كو جمع كرنے كے لئے شايد يہ بہترين راستہ ہو۔ (غور كيجئے )(14)

(1)سورہٴ فصلت ، آيت ۱۶
(2) توجہ رہے كہ مذكورہ آيت ميں ”نَحِسَاتٍ“ كا لفظ آيا ہے جو ايام كي صفت ہے، يعني وہ دن نحس تھے، جبكہ آيات محل بحث<في يوم نحس مستمر>ميںيوم ”نحس“ كي طرف مضاف ہوا ہے اور صفت كے معني ميں نہيں ہے، ليكن مذكورہ آيت كے پيش نظر ہم كہتے ہيں كہ يہاں پر موصوف ،صفت كي طرف اضافہ ہوا ہے
(3)سورہ دخان ، آيت ۳
(4) بحارالانوار ، جلد ۵۹ كتاب ”السماء والعالم “صفحہ ۱تا۹۱،اور كچھ روايات اس كے بعد بيان كي ہيں
(5) تفسير نور الثقلين ، جلد ۵، صفحہ ۱۸۳، (حديث ۲۵) 
(6) تفسير نور الثقلين ، جلد ۵، صفحہ ۱۰۵
(7) تفسير نور الثقلين ، جلد ۵، صفحہ ۵۸
(8) تفسير نور الثقلين ، جلد ۵، صفحہ ۶۱ 
(9) بحار الانوار ، جلد ۵۹، صفحہ ۹۲
(10) سورہ دہر ، آيت۱۱
(11) بحار الانوار ، جلد ۵۹، صفحہ ۳۹، حديث۷
(12) بحار الانوار ، جلد ۵۹، صفحہ ۲۸
(13) تحف العقول ، بحا رالانوار ، جلد۵۹، صفحہ ۲كي نقل كے مطابق، (مختصر فرق كے ساتھ)
(14)تفسير نمونہ ، جلد ۲۳، صفحہ ۴۱
دن كي تصوير
حرم امام علي عليہ السلام   
ويڈيو بينك