سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:254

كيا جناب ابوطالب مومن تھے؟

تمام علمائے شيعہ اور اہل سنت كے بعض بزرگ علمامثلاً ”ابن ابي الحديد“شارح نہج البلاغہ اور”قسطلاني“ نے ارشاد الساري اور ”زيني دحلان“ نے سيرہٴ حلبي كے حاشيہ ميں حضرت ابوطالب كو مومنين اور اہل اسلام ميں سے بيان كيا ہے،اسلام كي بنيادي كتابوں كے منابع ميں بھي ہميں اس موضوع كے بہت سے شواہد ملتے ہيں جن كے مطالعہ كے بعد ہم گہرے تعجب اور حيرت ميں پڑجاتے ہيں كہ حضرت ابوطالب پرايك گروہ كي طرف سے اس قسم كي بے جا تہمتيں كيوں لگائي گئيں ؟!
جس نے اپنے تمام وجود كے ساتھ پيغمبر اسلام كا دفاع كيا اور بار ہا خوداپنے فرزند كو پيغمبراسلام كے مقدس وجود كو بچانے كے لئے خطرات كے مواقع پر ڈھال بناديا !!يہ كيسے ہوسكتا ہے كہ اس پر ايسي تہمت لگائي جائے؟!۔
يہي سبب ہے كہ تحقيق كرنے والوں نے دقت نظر كے ساتھ يہ سمجھا ہے كہ حضرت ابوطالب كے خلاف، مخالفت كي لہر ايك سياسي ضرورت كي وجہ سے ہے جو ”شَجَرةُ خَبِيثَةٌ بَنِي اٴُميّہ“ كي حضرت علي عليہ السلام كے مقام ومرتبہ كي مخالفت سے پيداہوئي ہے۔
كيونكہ يہ صرف حضرت ابوطالب كي ذات ہي نہيں تھي جو حضرت علي عليہ السلام كے قرب كي وجہ سے ايسے حملے كي زد ميں آئي ہو ،بلكہ ہم ديكھتے ہيں كہ ہر وہ شخص جو تاريخ اسلام ميں كسي طرح سے بھي اميرالمومنين حضرت علي عليہ السلام سے قربت ركھتا ہے ايسے ناجو اں مردانہ حملوں سے نہيں بچ سكا، حقيقت ميں حضرت علي عليہ السلام جيسے عظيم پيشوائے اسلام كے باپ ہونے كے علاوہ حضرت ابوطالب كا كوئي گناہ نہيں تھا ! ہم يہاں پر ان بہت سے دلائل ميں سے جو واضح طور پر ايمان ابوطالب كي گواہي ديتے ہيں كچھ دلائل مختصر طور پر فہرست وار بيان كرتے ہيں تفصيلات كے لئے اس موضوع پر لكھي گئي كتابوں كا مطالعہ كريں ۔
۱۔ حضرت ابوطالب پيغمبر اكرم (ص)كي بعثت سے پہلے اچھي طرح جانتے تھے كہ ان كا بھتيجا مقام نبوت تك پہنچے گا، مورخين نے لكھا ہے كہ حضرت ابوطالب قريش كے قافلے كے ساتھ شام گئے تھے تو اپنے بارہ سالہ بھتيجے محمد كو بھي اپنے ساتھ لے گئے تھے، اس سفر ميں انہوں نے آپ كي بہت سي كرامات كا مشاہدہ كيا ۔
ان ميں ايك واقعہ يہ ہے كہ جو نہي قافلہ ”بحيرا“نامي راہب كے قريب سے گزرا جو قديم زمانہ سے ايك گرجا گھر ميں مشغول عبادت تھا اور كتب عہدين (توريت و انجيل) كا عالم تھا اور تجارتي قافلے اپنے سفر كے دوران اس كي زيارت كے لئے جاتے تھے، توراہب كي نظريں قافلہ والوں ميں سے حضرت محمد (ص)پر جم كررہ گئيں، اس وقت آپ كي عمر بارہ سال سے زيادہ نہ تھي ۔
بحيرانے تھوڑي دير كے لئے حيران وششدر رہا، پھر گہري اور پُرمعني نظروں سے ديكھنے كے بعد كہا:يہ بچہ تم ميں سے كس سے تعلق ركھتا ہے؟لوگوں نے ابوطالب كي طرف اشارہ كيا، انہوں نے بتايا كہ يہ ميرا بھتيجا ہے۔” بحيرا“ نے كہا : اس بچہ كا مستقبل بہت درخشاں ہے، يہ وہي پيغمبر ہے جس كي نبوت ورسالت كي آسماني كتابوں نے خبردي ہے اور ميں نے اسكي تمام خصوصيات كتابوں ميں پڑھي ہيں۔(1)
ابوطالب اس واقعہ اور اس جيسے دوسرے واقعات سے پہلے دوسرے قرائن سے بھي پيغمبر اكرم كي نبوت اور معنويت كو سمجھ چكے تھے ۔
اہل سنت كے عالم شہرستاني (صاحب ملل ونحل) اور دوسرے علماكي نقل كے مطابق: ”ايك سال آسمان مكہ نے اہل مكہ سے اپني بركت روك لي اور سخت قسم كي قحط سالي نے لوگوں كوگھير لياتو ابوطالب نے حكم ديا كہ ان كے بھتيجے محمد كو جو ابھي شير خوارہي تھے لاياجائے، جب بچے كو اس حال ميں كہ وہ ابھي كپڑے ميں لپيٹا ہوا تھا انہيں ديا گيا تو وہ اسے لينے كے بعد خانہٴ كعبہ كے سامنے كھڑے ہوگئے اور تضرع وزاري كے ساتھ اس طفلِ شير خوار كو تين مرتبہ اوپر كي طرف بلند كيا اور ہر مرتبہ كہتے تھے: پروردگارا! اس بچہ كے حق كا واسطہ ہم پر بابركت بارش نازل فرما ۔زيادہ دير نہ گزري تھي كہ افق سے بادل كا ايك ٹكڑا نمودار ہوا اور مكہ كے آسمان پر چھا گيا اور بارش سے ايسا سيلاب آيا جس سے خوف پيدا ہونے لگا كہ كہيں مسجد الحرام ہي ويران نہ ہوجائے “۔
اس كے بعد شہرستاني كا كہنا ہے كہ يہي واقعہ جوابوطالب كي اپنے بھتيجے كے بچپن سے اس كي نبوت ورسالت سے آگاہ ہونے پر دلالت كرتا ہے ان كے پيغمبر پر ايمان ركھنے كا ثبوت بھي ہے اور ابوطالب نے بعد ميں درج ذيل اشعار اسي واقعہ كي مناسبت سے كہے تھے :
وَ ابيض يستسقي الغَمَامَ بوجہِہِ
ثَمَالَ اليتامٰي عُصمة للاٴرَاملِ
” وہ ايسا روشن چہرے والا ہے كہ بادل اس كي خاطر سے بارش برساتے ہيں وہ يتيموں كي پناہ گاہ اور بيواؤں كے محافظ ہيں “
يَلُوذُ بہ الہَلاك مِن آلِ ہَاشِمِ
فَہُمْ عِنْدَہ فِي نِعمَةٍ وَ فَوَاضلِ
” بني ہاشم ميں سے جوچل بسے ہيں وہ اسي سے پناہ ليتے ہيں اور اسي كے صدقہ ميں نعمتوں اور احسانات سے بہرہ مند ہوتے ہيں ،،
َومِيزانُ عَدلِہ يخيس شَعِيرة
وَوِزانّ صدقٍ وَزنہ غيرُ ہائلِ
” وہ ايك ايسي ميزان عدالت ہے جو ايك جَوبرابر بھي ادھرادھر نہيں كرتا اور درست كاموں كا ايسا وزن كرنے والا ہے جس كے وزن كرنے ميں كسي شك وشبہ كا خوف نہيں ہے “ ۔
قحط سالي كے وقت قريش كا ابوطالب كي طرف متوجہ ہونا اور ابوطالب كا خدا كو آنحضرت كے حق كا واسطہ دينا شہرستاني كے علاوہ اور دوسرے بہت سے عظيم مورخين نے بھي نقل كيا ہے ، مرحوم علامہ اميني نے اسے اپني كتاب ”الغدير“ ميں” شرح بخاري“ ،”المواہب اللدنيہ“، ”الخصائص الكبريٰ“، ” شرح بہجتہ المحافل“ ،”سيرہ حلبي“، ” سيرہ نبوي“ اور ” طلبتہ الطالب“ سے نقل كيا ہے(2)
۲۔اس كے علاوہ مشہور اسلامي كتابوں ميں ابوطالب كے بہت سے اشعار ايسے ہيں جو ہماري دسترس ميں ہيں جس كے مجموعہ كا نام ”ديوان ابو طالب“ ركھا گيا ہے، ہم ان ميں سے كچھ اشعار ذيل ميں نقل كررہے ہيں :
وَالله لَن يَصِلُوا إلَيكَ بِجَمعِھم
حَتّٰي اٴوسدَ فِي التُّرَابِ دَفِيْناً
”اے ميرے بھتيجے! خدا كي قسم جب تك ابوطالب مٹي ميں نہ سوجائے اور لحد كو اپنا بستر نہ بنالے دشمن ہرگز ہرگز تجھ تك نہيں پہنچ سكيں گے“ ۔
فَاصدّعْ بِاٴمرِكَ مَاعليكَ غَضَاضَة
وَابْشِر بِذَاكَ وَ قرمنك عيوناً
”لہٰذا كسي چيز سے نہ ڈراور اپني ذمہ داري اور ماموريت كا ابلاع كردو، بشارت دو اور آنكھوں كو ٹھنڈا كردو“۔
وَدَعوتني وَعلِمتُ اٴنَّكَ نَاصِحِي
وَلَقَد دَعوتَ وَ كُنتَ ثُمَّ اٴمِيناً
”تونے مجھے اپنے مكتب كي دعوت دي اور مجھے اچھي طرح معلوم ہے كہ تيرا ہدف ومقصد صرف پندو نصيحت كرنا اور بيدار كرنا ہے، تو اپني دعوت ميں امين ہے“۔
وَ لَقَد عَلِمْتَ اٴنْ دِينُ مُحَمَّد(ص)
مِنْ خَيرِ اٴديَانِ البَريَّة دِيناً (3)
” ميں يہ بھي جانتا ہوں كہ محمد كا دين تمام اديان ميں سب سے بہتردين ہے“۔
اور يہ اشعار بھي انہوں نے ہي ارشاد فرمائے ہيں :
اٴلَمْ تَعْلَمُوْا إنَّا وَجَدنَا مُحَمَّد اً
رَسُولاً كَمُوسيٰ خَط فِي اٴوّلِ الكُتُبِ
” اے قريش ! كيا تمہيں معلوم نہيں ہے كہ محمد( (ص))موسيٰ (عليہ السلام) كي مثل ہيں اور موسيٰ عليہ السلام كے مانند خدا كے پيغمبر اور رسول ہيں جن كے آنے كي پيشين گوئي گزشتہ آسماني كتابوں ميں لكھي ہوئي ہے اور ہم نے اسے پالياہے“۔
وَ إنَّ عَلَيہ فِي العِبَادِ مَحبة
وَلاحَيفَ فِي مَن خَصّہُ اللّٰہُ فِي الحُبِّ(4)
” خدا كے بندے اس سے خاص لگاؤ ركھتے ہيں اور جسے خدا وندمتعال نے اپني محبت كے لئے مخصوص كرليا ہو اس شخص سے يہ لگاؤبے جا نہيں ہے۔“ ابن ابي الحديد ،جناب ابوطالب كے كافي اشعار نقل كرنے كے بعد (جن كے مجموعہ كو ابن شہر آشوب نے ” متشابہات القرآن“ ميں تين ہزار اشعار كہا ہے) كہتا ہے : ”ان تمام اشعار كے مطالعہ سے ہمارے لئے كسي قسم كے شك وشبہ كي كوئي گنجائش باقي نہيں رہ جاتي كہ ابوطالب اپنے بھتيجے كے دين پر ايمان ركھتے تھے“۔
۳۔ پيغمبر اكرم (ص)سے بہت سي ايسي احاديث بھي نقل ہوئي ہيں جو آنحضرت (ص)كي ان كے فدا كار چچا ابوطالب كے ايمان پر گواہي ديتي ہيں منجملہ ” ابوطالب مومن قريش“ كے مولف كي نقل كے مطابق ايك يہ ہے كہ جب ابوطالب كي وفات ہوگئي تو پيغمبر اكرم (ص)نے ان كي تشيع جنازہ كے بعد اس سوگواري كے ضمن ميں جو اپنے چچا كي وفات كي مصيبت ميں آپ كررہے تھے آپ يہ بھي كہتے تھے: ”ہائے ميرے بابا! ہائے ابوطالب ! ميں آپ كي وفات سے كس قدر غمگين ہوں ميں كس طرح آپ كي مصيبت كو بھول جاؤں ، اے وہ شخص جس نے بچپن ميں ميري پرورش اور تربيت كي اور بڑے ہونے پر ميري دعوت پر لبيك كہي ، ميں آپ كے نزديك اس طرح تھا جيسے آنكھ خانہٴ چشم ميں اور روح بدن ميں“۔(5)
نيز آپ ہميشہ يہ كہا كرتے تھے :” مَا نَالت مِنِّي قُرِيش شيئًا اٴكرھُہ حَتّٰي ماتَ اٴبُوطَالِب “(6)
”اہل قريش اس وقت تك ميرے خلاف كوئي ناپسنديدہ اقدام نہ كرسكے جب تك ابوطالب كي وفات نہ ہوگئي“۔
۴۔ ايك طرف سے يہ بات مسلم ہے كہ پيغمبر اكرم (ص)كو ابوطالب كي وفات سے كئي سال پہلے يہ حكم مل چكا تھا كہ وہ مشركين كے ساتھ كسي قسم كا دوستانہ رابطہ نہ ركھيں ،اس كے باوجود ابوطالب كے ساتھ اس قسم كے تعلق اور مہرو محبت كا اظہار اس بات كي نشاندہي كرتا ہے كہ پيغمبر اكرم انھيں مكتب توحيد كا معتقد جانتے تھے، ورنہ يہ بات كس طرح ممكن ہوسكتي تھي كہ دوسروں كو تو مشركين كي دوستي سے منع كريں اور خود ابوطالب سے عشق كي حدتك محبت ركھيں۔
۵۔ اہل بيت پيغمبر عليہم السلام كے ذريعہ سے ہم تك پہنچنے والي احاديث ميں حضرت ابوطالب كے ايمان واخلاص كے بڑي كثرت سے مدارك نظر آتے ہيں، جن كو يہاں نقل كرنے سے بحث طولاني ہو جائے گي ،يہ احاديث منطقي استدلال كي حامل ہيں ان ميں سے ايك حديث چوتھے امام عليہ السلام سے نقل ہوئي ہے اس ميں امام عليہ السلام نے اس سوال كے جواب ميں كہ كيا ابوطالب مومن تھے؟ جواب دينے كے بعد ارشاد فرمايا:
”إنَّ ھُنَا قَوماً يَزْعَمُونَ اٴنَّہُ كَافِرٌ“ اس كے بعد فرمايا:” تعجب كي بات ہے كہ بعض لوگ يہ كيوں خيال كرتے ہيں كہ ابوطالب كافرتھے،كيا وہ نہيں جانتے كہ وہ اس عقيدہ كے ساتھ پيغمبر اور ابوطالب پر طعن كرتے ہيں كيا ايسا نہيں ہے كہ قرآن كي كئي آيات ميں اس بات سے منع كيا گيا ہے (اور يہ حكم ديا گيا ہے كہ ) مومن عورت ايمان لانے كے بعد كافر كے ساتھ نہيں رہ سكتي اور يہ بات مسلم
ہے كہ فاطمہ بنت اسد سلام اللہ عليہا سابق ايمان لانے والوں ميں سے ہيں اور وہ ابوطالب كي زوجيت ميں ابوطالب كي وفات تك رہيں۔“(7)
۶۔ان تمام باتوں كے علاوہ اگرانسان ہر چيز ميں شك كرے تو كم از كم اس حقيقت ميں تو شك نہيں كرسكتا كہ ابوطالب اسلام اور پيغمبر اكرم (ص)كے صف اول كے حامي ومددگار تھے ، انھوں نے اسلام اور رسول كي جو حمايت كي ہے اسے كسي طرح بھي رشتہ داري اور قبائلي تعصبات سے منسلك نہيں كيا جاسكتا ۔
اس كا زندہ نمونہ شعب ابوطالب كي داستان ہے،تمام مورخين نے لكھا ہے كہ جب قريش نے پيغمبر اكرم (ص)اور مسلمانوں كا ايك شديد اقتصادي، سماجي اور سياسي بائيكاٹ كيا اور ان سے ہر قسم كے روابط ان سے منقطع كرلئے تو آنحضرت (ص)كے واحد حامي اور مدافع، ابوطالب نے اپنے تمام كاموں سے ہاتھ كھينچ ليا اور برابر تين سال تك ہاتھ كھينچے ركھا اور بني ہاشم كو ايك درہ ميں لے گئے جو مكہ كے پہاڑوں كے درميان اور ”شعب ابوطالب“ كے نام سے مشہور تھا وہاں پر سكونت اختيار كر لي۔
ان كي فدا كاري اس مقام تك جا پہنچي كہ قريش كے حملوں سے بچانے كےلئے كئي ايك مخصوص قسم كے برج تعميركرنے كے علاوہ ہر رات پيغمبر اكرم (ص) كو ان كے بستر سے اٹھاتے اور ان كے آرام كے لئے دوسري جگہ مہيا كرتے اور اپنے فرزند دلبند علي كو ان كي جگہ پر سلاديتے اور جب حضرت علي كہتے: ”بابا جان! ميں تو اسي حالت ميں قتل ہوجاؤں گا “ تو ابوطالب جواب ميں كہتے :ميرے پيارے بچے! بردباري اور صبر ہاتھ سے نہ چھوڑو، ہر زندہ شخص موت كي طرف رواںدواں ہے، ميں نے تجھے فرزند عبد اللہ كا فديہ قرار ديا ہے ۔
يہ بات بھي قابل توجہ ہے كہ جو حضرت علي عليہ السلام باپ كے جواب ميں كہتے ہيں كہ بابا جان ميرا يہ كلام اس بناپر نہيں تھا كہ ميں محمد كے لئے قتل ہونے سے ڈرتاہوں، بلكہ ميرا يہ كلام اس بنا پر تھا كہ ميں يہ چاہتا تھا كہ آپ كو يہ معلوم ہوجائے كہ ميں كس طرح سے آپ كي اطاعت اور احمد مجتبيٰ كي نصرت ومدد كے لئے آمادہ ہوں۔(8)
قارئين كرام ! ہمارا عقيدہ يہ ہے كہ جو شخص بھي تعصب كو ايك طرف ركھ كر غير جانبداري كے ساتھ ابوطالب كے بارے ميں تاريخ كي سنہري سطروں كو پڑھے گا تو وہ ابن ابي الحديد شارح نہج البلاغہ كا ہم آواز ہوكر كہے گا :
وَلَولَا اٴبُوطَالب وَ إبنَہُ لِما مثَّل الدِّين شَخْصاً وَقَامَا
فَذَاكَ بِمَكَّةِ آويٰ وَحَامٰي وَھَذا بِيثْربَ حَسّ الحِمَامَا
” اگر ابوطالب اور ان كے فرزند نہ ہوتے تو ہرگزمكتب اسلام باقي نہ رہتا اور اپنا قدموں پر كھڑا نہ ہوتا، ابوطالب تو مكہ ميں پيغمبر كي مدد كےلئے آگے بڑھے اور علي يثرب (مدينہ) ميں حمايت اسلام كي راہ ميں گرداب موت ميں ڈوب گئے“۔
اگر جناب ابو طالب اور ان كے فرزند ارجمند نہ ہوتے تو دين اسلام بھي نہ ہوتا، اگر يہ نہ ہوتے تو اسلام كے لئے كوئي سہارا نہ تھا، جناب ابو طالب نے مكہ ميں پيغمبر اكرم (ص) كي مدد كي اور حضرت علي عليہ السلام نے مدينہ ميں، اور اسلام كي حمايت ميں عظيم قربانياں پيش كيں۔(9)

(1)تلخيص از سيرہ ابن ہشا م ، جلد۱صفحہ ۱۹۱، سيرہ حلبي ، جلد ا، صفحہ۱۳۱/وغيرہ
(2) خزانة الادب،تاريخ ابن كثير ،شرح ابن ابي الحديد ،فتح الباري،بلوغ الارب، تاريخ ابي الفدا، سيرہٴ نبوي وغيرہ، الغدير ، جلد ۸ كي نقل كے مطابق
(3) خزانة الادب۔ تاريخ ابن كثير ۔شرح ابن ابي الحديد ۔فتح الباري۔بلوغ الارب۔ تاريخ ابي الفدا، سيرہٴ نبوي وغيرہ، الغدير ، جلد ۸ كي نقل كے مطابق
(4) شيخ الاباطح ، ابو طالب موٴمن قريش سے نقل كے مطابق
(5)طبري ، ابو طالب مومن قريش كي نقل كے مطابق 
(6) كتاب الحجہ ، درجات الرفيعہ ، الغدير ، جلد ۸ كي نقل كے مطابق
(7) الغدير ، جلد ۸
(8)الغدير ، جلد ۸
(9) تفسير نمونہ ، جلد ۵ صفحہ ۱۹۲
دن كي تصوير
حرم امام علي عليہ السلام   
ويڈيو بينك