سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:355

واقعہ فدك كيا ہے؟

”فدك “ اطراف مدينہ ميں تقريباً ايك سو چاليس كلو ميٹر كے فاصلہ پر خيبر كے نزديك ايك آباد قصبہ تھا۔
جب سات ہجري ميں خيبر كے قلعے يكے بعد ديگرے اسلامي فو جو ں نے فتح كرلئے اور يہوديوں كي مركزي قوت ٹوٹ گئي تو فدك كے رہنے والے يہودي صلح كے خيال سے خدمتِ پيغمبر ميں سرتسليم خم كرتے ہوئے آئے اور انہوں نے اپني نصف زمينيں اور باغات آنحضرت (ص) كے سپرد كردئيے اور نصف اپنے پاس ركھے رہے۔
اس كے علاوہ انہوں نے پيغمبر اسلام كے حصہ كي زمينوں كي كاشتكاري بھي اپنے ذمہ لي، اپني كاشتكاري كي زحمت كي اجرت وہ پيغمبر اسلام سے وصول كرتے تھے،(سورہٴ حشر ، آيت ۷)كے پيش نظر يہ زمينيں پيغمبر اسلام (ص) كي ملكيت تھيں ، ان كي آمدني كو آپ اپنے مصرف ميں لاتے تھے يا ان مقامات ميں خرچ كرتے تھے جن كي طرف سورہ حشر ، آيت نمبر۷ ميں اشارہ ہوا ہے ۔
پيغمبر اسلام (ص)نے يہ ساري زمينيں اپني بيٹي حضرت فاطمة الزہرا سلام اللہ عليہا كوعنايت فرماديں، يہ ايسي حقيقت ہے جسے بہت سے شيعہ اور اہل سنت مفسرين نے صراحتكے ساتھ تحرير كيا ہے، منجملہ ديگر مفسرين كے تفسير در منثور ميں ابن عباسۻ سے مروي ہے
جس وقت آيت (فاتِ ذَا القُربيٰ حَقّہُ)(1) نازل ہوئي تو پيغمبر نے جناب فاطمہ سلام اللہ عليہا كو فدك عنايت فرمايا:(اقطَعَ رَسُول الله فا طمةَ فَدَكاً)(2)
كتا ب كنزالعمال، جو مسند احمد كے حاشيہ پر لكھي گئي ہے،ميں صلہ رحم كے عنوان كے تحت ابوسعيد خدري سے منقول ہے كہ جس وقت مذكورہ بالاآيت نازل ہوئي تو پيغمبر (ص) نے فاطمہ سلام اللہ عليہا كو طلب كيا اور فرمايا: ” يا فاطمة لكِ فدك“”اے فاطمہ فدك تمہاري ملكيت ہے“۔ (3)
حاكم نيشاپوري نے بھي اپني تاريخ ميں اس حقيقت كو تحريركيا ہے۔(4)
ابن ابي الحديد معتزلي نے بھي نہج البلاغہ كي شرح ميں داستان فدك تفصيل كے ساتھ بيان كي ہے اور اسي طرح بہت سے ديگر مورخين نے بھي۔
ليكن وہ افراد جو اس اقتصادي قوت كو حضرت علي عليہ السلام كي زوجہ محترمہ كے قبضہ ميں رہنے دينا اپني سياسي قوت كے لئے مضر سمجھتے تھے،انہوں نے مصمم ارادہ كيا كہ حضرت علي عليہ السلام كے ياور وانصار كو ہر لحاظ سے كمزور اور گوشہ نشيں كرديں، جعلي حديث(نَحْنُ مُعَاشَرَ الاٴنْبِيَاءِ لَا نُورِّث) (ہم گروہ انبياء ميراث نہيں چھوڑتے) كے بہانے انہوں نے اسے اپنے قبضہ ميں لے ليا اور باوجود يكہ حضرت فاطمہ سلام اللہ عليہا قانوني طور پر اس پر متصرف تھيں اور كوئي شخص ”ذواليد“(جس كے قبضہ ميں مال ہو)سے گواہ كا مطالبہ نہيں كرتا،جناب سيدہ سلام اللہ عليہا سے گواہ طلب كئے گئے ، بي بي نے گواہ پيش كئے كہ پيغمبر اسلام (ص) نے خود انہيں فدك عطا فرمايا ہے ليكن انہوں نے ان تمام چيزوں كي كوئي پرواہ نہيں كي، بعد ميں آنے والے خلفا ميں سے جو كوئي اہل بيت عليہم السلام سے محبت كا اظہار كرتا تو وہ فدك انہيں لوٹا ديتا تھا ليكن زيادہ دير نہيں گزرتي تھي كہ دوسرے خليفہ اسے چھين ليتا تھا اور دوبارہ اس پر قبضہ كرليتا تھا، خلفائے بني اميہ اور خلفائے بني عباس نے بارہا ايسا ہي كيا ۔
واقعہ فدك اور اس سے متعلق مختلف واقعات جو صدر اسلام ميں اور بعد ميں پيش آئے،زيادہ دردناك اورغم انگيز ہيں اور وہ تاريخ اسلام كا ايك عبرت انگيز حصہ بھي ہيں جو محققانہ طور پر مستقل مطالعہ كا متقاضي ہے تا كہ تاريخ اسلام كے مختلف واقعات نگاہوں كے سامنے آسكيں۔
قابل توجہ بات يہ ہے كہ اہل سنت كے نامور محدث مسلم بن حجاج نيشاپوري نے اپني مشہور و معروف كتاب ”صحيح مسلم“ ميں جناب فاطمہ (سلام اللہ عليہا) كا خليفہ اول سے فدك كے مطالبہ كا واقعہ تفصيل سے بيان كيا ہے، اور جناب عائشہ كي زباني نقل كيا ہے كہ جب خليفہٴ اول نے جناب فاطمہ كو فدك نہيں ديا تو بي بي ان سے ناراض ہوگئيں اور آخر عمر تك ان سے كوئي گفتگو نہيں كي۔ (صحيح مسلم، كتاب جہاد ، جلد ۳ ص۱۳۸۰ حديث .5)(6)

(1)سورہٴ روم ، آيت ۳۸ 
(2)در منثور ، جلد ۴صفحہ ۱۷۷
(3)كنز العمال ، جلد ۲صفحہ ۱۵۸
(4) ديكھئے: كتاب فدك صفحہ ۴۹ كي طرف
(5)شرح ابن ابي الحديد ، جلد ۱۶، صفحہ ۲۰۹ /اور اس كے بعد
(6) تفسير نمونہ ، جلد ۲۳، صفحہ ۵۱۰
دن كي تصوير
حرم حضرت زينب سلام‌الله عليها   
ويڈيو بينك