سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:353

مسلمانوں كي پسماندگي كے اسباب كيا ہيں؟

قرآن مجيد كي آيات سے بخوبي يہ نتيجہ نكلتا ہے كہ ہر طرح كي ناكامي اور شكست جس سے ہم دو چار ہوتے ہيں ، دو چيزوں ميں سے كسي ايك چيز كي وجہ سے ہے: يا تو ہم نے جہاد (و كوشش) ميں كوتاہي كي ہے يا ہمارے كاموں ميں خلوص نہيں پايا جاتا، اور اگر يہ دونوں چيزيں باہم جمع ہوجائيں تو خداوندعالم كے وعدہ كي بنا پر كاميابي اور ہدايت يقيني ہے۔ اگر صحيح طور پر غور و فكر كيا جائے تو اسلامي معاشرہ كي مشكلات اور پريشانيوں كا سبب معلوم ہوسكتا ہے۔
كيوں مسلمان آج تك پسماندہ ہيں؟
كيوں سب چيزوں ميںغيروں كي طرف ہاتھ پھيلائے ہوئے ہيں يہاں تك كہ علم و ثقافت اور قوانين كے سلسلہ ميں بھي دوسروں كي مدد كے محتاج ہيں؟ كيوں سياسي بحران، فوجي حملوں كے طوفان ميں دوسرے پر بھروسہ كيا جائے؟
كيوں اسلام كے علمي اورثقافتي دسترخوان پر بيٹھنے والے آج مسلمانوں سے آگے نكل گئے ہيں؟
كيوں غيروں كے ہاتھوں اسير ہوچكے ہيں اور ان كي زمينوں پر اغيار كا قبضہ ہے؟! ان تمام سوالوں كا ايك ہي جواب ہے كہ يا تو وہ جہاد كو بھول گئے ہيں يا ان كي نيتوں ميں خلوص نہيں رہا اور ان كي نيتوں ميں فتور آگيا ہے؟
جي ہاں! علمي، ثقافتي ، سياسي، اقتصادي اور نظامي ميدان ميں جہاد (اور كوشش) كو بھلا ديا گيا ہے، حبّ نفس، عشق دنيا، راحت طلبي، تنگ نظري اور ذاتي اغراض كا غلبہ ہوگيا ہے يہاں تك كہ مسلمانوں كے ہاتھوں مسلمانوں كے قتل ہونے والي تعداد غيروں كے ہاتھوں قتل ہونے والوں كي تعداد سے كہيں زيادہ ہے!
بعض مغرب اور مشرق پرست افراد كا ہمت ہار جانا، بعض ذمہ دار لوگوں كا سيم و زر كے بدلے بِك جانا اور دانشوروں ومفكرين قوم كا گوشہ نشين ہوجانا، يہ سب ايسي وجوہات ہيں جس كي بنا پر جہاد و كوشش ہمارے يہاں سے جاتي رہي اور اخلاص بھي رخصت ہوگيا۔
اگر ہمارے درميان تھوڑا بھي اخلاص پيدا ہوجائے اور ہمارے مجاہدين ميں جوش وجذبہ پيدا ہوجائے تو پھر يكے بعد ديگرے كاميابي ہي كاميابي ہوگي۔
اسيري كي زنجيريں ٹوٹ جائيں گي، مايوسي اميد ميں ،شكست كاميابي ميں، ذلت عزت و سر بلندي ميں، اختلاف ونفاق وحدت و يكدلي ميں تبديل ہوجائيں گے، اور واقعاً قرآن مجيد كس قدر الہام بخش ہے جس نے ايك چھوٹے سے جملہ (1)ميں تمام مشكلات اور پريشانيوں كا راہ حل بيان كرديا!
جي ہاں جو لوگ راہ خدا ميں جہاد كرتے ہيں، ہدايت الٰہي ان كے شامل حال ہوتي ہے،اور
< وَالَّذِينَ جَاہَدُوا فِينَا لَنَہْدِيَنَّہُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ > (اور جن لوگوں نے ہماري راہ ميں جہاد كيا ہے ہم انھيں اپنے راستوں كي ہدايت كريں گے اور يقينا اللہ حسنِ عمل والوں كے ساتھ ہے (مترجم)
يہ بات واضح ہے كہ جس كو خدا كي طرف گمراہي سے ہدايت مل جائے تو اس كے يہاں شكست كا تصور ہي نہيں پايا جاتا۔
بہر حال جو شخص اس قرآني حقيقت كو اپني كوششوں اور كاوشوں كي روشني كو اس وقت محسوس كرتا ہے، جب وہ خدا كے لئے اور اس كي راہ ميں جہاد اور كوشش كرتا ہے تو رحمتِ خدا كے دروازے اس كے لئے كھل جاتے ہيں اور اس كے لئے مشكلات آسان اور سختياں قابل تحمل ہوجاتي ہيں۔(2)

(1)سورہ عنكبوت ، آيت نمبر ۶۹ كي طرف اشارہ ہے، جہاں ارشاد ہوتا ہے:
(2) تفسير نمونہ ، جلد ۱۶، صفحہ ۳۵۰
دن كي تصوير
حرم امام رضا عليہ السلام   
ويڈيو بينك