سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:369

ايمان نہ ركھنے والي اقوام كيوں عيش و عشرت ميں ہيں؟

جيسا كہ قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتا ہے: < وَلَوْ اٴَنَّ اٴَہْلَ الْقُرَي آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْہِمْ بَرَكَاتٍ مِنْ السَّمَاءِ وَالْاٴَرْضِ>(1) ”اگر اہل قريہ ايمان لے آتے اور تقوي اختيار كر لےتے تو ہم ان كے لئے زمين وآسمان سے بركتوں كے دروازے كھول ديتے“۔
اس آيت كے پيش نظر يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ اگر ايمان اور تقويٰ ،رحمت الٰہي اور بركات كا موجب ہے تو پھر ان قوموں كے پاس بہت زيادہ نعمتيں كيوں پائي جاتي ہيں جن كے پاس ايمان نہيں ہے! ان كي زندگي بہترين ہوتي ہے،اور ان كو پريشاني نہيں ہوتي، ايسا كيوں ہے؟
اس سوال كا جواب درج ذيل دو نكات پر توجہ كرنے سے روشن ہوجائے گا:
۱۔يہ تصور كرنا كہ بے ايمان قوم و ملت نعمتوں سے مالا مال ہے؛ ايك غلط فہمي ہے، جو ايك دوسري غلط فہمي كا نتيجہ ہے اور وہ مال و دولت ہي كو خوش بختي سمجھ ليناہے۔
عام طور پر عوام الناس ميں يہي تصور پايا جاتا ہے كہ جس قوم و ملت كے پاس ترقي يافتہ ٹيكنيك ہے يا بہت زيادہ مال و دولت ہے وہي خوش بخت ہے، حالانكہ اگر ان اقوام ميں جاكر نزديك سے ديكھيں تو ان كے يہاں نفسياتي اور جسماني بے پناہ درد اور مشكلات پائي جا تي ہيں اور اگر نزديك سے ديكھيں تو ہميں يہ ماننا پڑے گا كہ ان ميں سے متعدد لوگ دنيا كے سب سے ناچار افراد ہيں، قطع نظر اس بات سے كہ يہي نسبي ترقي ان كي سعي و كوشش، نظم و نسق اور ذمہ داري كے ا حساس جيسے اصول پر عمل كا نتيجہ ہيں، جو انبياء عليہم السلام كي تعليمات ميں بيان ہوئے ہيں۔
ابھي چند دنوں كي بات ہے كہ اخباروں ميں يہ بات شايع ہوئي كہ امريكہ كے شہر ”نيويورك“ ميں (جو مادي لحاظ سے دنيا كا سب سے مالدار اور ترقي يافتہ شہر ہے)اچانك (طولاني مدت كے لئے) بجلي چلي گئي اور ايك عجيب و غريب واقعہ پيش آيا:” بہت سے لوگوں نے دكانوں پر حملہ كرديا اور دكانوں كو لوٹ لےا، اس موقع پر پوليس نے تين ہزار لوگوں كو گرفتار كرليا“۔
يہ بات طے ہے كہ لٹيروں كي تعدادان گرفتار ہونے والوں سے كئي گنا زيادہ ہوگي جو موقع سے فرار نہ كرسكے اور پوليس كے ہاتھوں گرفتار ہوگئے، اور يہ بھي مسلم ہے كہ يہ لٹيرے كوئي تجربہ كار نہيں تھے جس سے انھوں نے ايك پروگرام كے تحت ايسا كيا ہو كيونكہ يہ واقعہ اچانك پيش آيا تھا۔
لہٰذا ہم اس واقعہ سے يہ نتيجہ اخذ كرتے ہيں كہ اس ترقي يافتہ اور مالدار شہر كے ہزاروں لوگ چند گھنٹوں كے لئے بجلي جانے پر ”ليٹرے“ بن سكتے ہيں، يہ صرف اخلاقي پستي كي دليل نہيں ہے بلكہ اس بات كي دليل ہے كہ اس شہر ميں اجتماعي نا امني كس قدر پائي جاتي ہے۔
اس كے علاوہ اخباروں ميں اس خبر كا بھي اضافہ كيا جو در اصل پہلي خبر كا ہي تتمہ تھا كہ انھيں دنوں ايك مشہور و معروف شخصيت نيويورك كے بہت بڑے ہوٹل ميں قيام پذير تھي، چنانچہ وہ كہتا ہے: بجلي جانے كے سبب ہوٹل كے ہال اور راستوں ميں آمد و رفت خطرناك صورت اختيار كر چكي تھي كيونكہ ہوٹل كے ذمہ دار لوگوں نے آمد و رفت سے منع كرديا تھا كہ كوئي بھي اكيلا كمرے سے باہر نہ نكلے، كہيں لٹيروں كا اسير نہ ہوجائے، لہٰذا مسافروں كي كم و بيش دس دس كے گروپ ميں وہ بھي مسلح افراد كے ساتھ آمد و رفت ہوتي تھي اور مسافر اپنے اپنے كمروں ميں پہنچائے جاتے تھے ! اس كے بعد يہي شخص كہتا ہے كہ جب تك شديد بھوك نہيں لگتي تھي كوئي بھي باہر نكلنے كي جرائت نہيں كرتا تھا!!
ليكن پسماندہ مشرقي ممالك ميں اس طرح بجلي جانے سے اس طرح كي مشكلات پيش نہيں آتيں، جو اس بات كي نشاندہي كرتي ہے كہ ان ترقي يافتہ اور مالدار ممالك ميں امنيت نام كي كوئي چيز نہيں ہے۔
ان كے علاوہ چشم ديد گواہوں كا كہنا ہے كہ وہاں قتل كرنا پاني پينے كي طرح آسان ہے، اور قتل بہت ہي آساني سے ہوتے رہتے ہيں، اور ہم يہ جانتے ہيں كہ اگر كسي كو ساري دنيا بھي بخش دي جائے تاكہ ايسے ماحول ميں زندگي كرے تو ايسا شخص دنيا كا سب سے پريشاں حال ہوگا، اور امنيت كي مشكل اس كي مشكلات ميں سے ايك ہے۔
اس كے علاوہ اجتماعي طور پر بہت سي مشكلات پائي جاتي ہيں جو خود اپني جگہ دردناك ہيں، لہٰذا ان تمام چيزوں كے پيش نظر مال و دولت كو باعث خوشبختي تصور نہيں كرنا چاہئے۔
۲۔ ليكن يہ كہنا كہ جن معاشروں ميں ايمان اور پرہيزگاري پائي جاتي ہے وہ پسماندہ ہيں، تو اگر ايمان اور پرہيزگاري سے مراد صرف اسلام اور تعليمات ا نبياء كے اصول كي پابندي كا دعويٰ ہو تو ہم بھي اس بات كو تسليم كرتے ہيں كہ ايسے افراد پسماندہ ہيں۔
ليكن ہم جانتے ہيں كہ ايمان اور پرہيزگاري كي حقيقت يہ ہے كہ ان كا اثر زندگي كے ہر پہلو پر دكھائي دے، صرف اسلام كا دعويٰ كرنے سے مشكل حل نہيں ہوتي۔
نہايت ہي افسوس كے ساتھ كہنا پڑتا ہے كہ آج اسلام اور انبيا الٰہي كي تعليمات كو بہت سے اسلامي معاشروں ميں يا بالكل ترك كرديا گيا ہے يا آدھا چھوڑ ديا گيا ہے، لہٰذا ان معاشروں كا حال حقيقي مسلمانوں جيسا نہيں ہے۔
اسلام، طہارت، صحيح عمل، امانت اور سعي و كوشش كي دعوت ديتا ہے، ليكن كہاں ہے امانت اور سعي و كوشش؟
اسلام، علم و دانش اور بيداري و ہوشياري كي دعوت ديتا ہے، ليكن كہاں ہے علم و آگاہي؟ اسلام، اتحاد اور فداركاري كي دعوت ديتا ہے، ليكن كيا اسلامي معاشروں ميں ان اصول پر عمل كيا جارہا ہے؟ جبكہ پسماندہ ہيں؟! اس بنا پر يہ اعتراف كرنا ہوگا كہ اسلام ايك الگ چيز ہے اور ہم مسلمان ايك الگ چيز، (ورنہ اگر اسلام كے اصول اور قواعد پر عمل كيا جائے تو اسلام اس نظام الٰہي كا نام ہے جس كے اصول پر عمل كرتے ہوئے مسلمان خوش حال نظر آئيں گے)(2)

(1) سورہ اعراف ، آيت۹۶
(2) تفسير نمونہ ، جلد ۶، صفحہ ۲۶۸
دن كي تصوير
حرم امام علي عليہ السلام   
ويڈيو بينك