سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:337

كيوں بعض ظالم اور گناہگار لوگ نعمتوں سے مالا مال ہيں اور ان كو سزا نہيں ملتي؟

قرآن مجيد كي آيات سے يہ نتيجہ نكلتا ہے كہ خداوندعالم گناہوں ميں زيادہ آلود نہ ہونے والے گناہگاروں كو خطرہ كي گھنٹي يا ان كے اعمال كے عكس العمل يا ان كے اعمال كي مناسب سزا كے ذريعہ جگا ديتا ہے، اور ان كو راہ راست كي ہدايت فرماديتا ہے، يہ وہ لوگ ہيں جن كے يہاں ہدايت كي صلاحيت پائي جاتي ہے ، ان پر لطف خدا ہوسكتا ہے، در اصل ان كي سزا يا مشكلات ان كے لئے نعمت حساب ہوتي ہے، جيسا كہ قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتا ہے: <ظَہَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اٴَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَہُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّہُمْ يَرْجِعُونَ>(1) ” (لوگوں كے ہاتھوں كي كمائي كي بنا پر) فساد خشكي اور تري ہر جگہ غالب آگيا ہے تاكہ خداان كو ان كے كچھ اعمال كا مزا چكھا دے تو شايد يہ لوگ پلٹ كر راستہ پر آجائيں“۔
ليكن گناہ و معصيت ميں غرق ہونے والے باغي اور نافرماني كي انتہا كو پہچنے والے لوگوں كو خداوندعالم ان كے حال پر چھوڑ ديتا ہے ، ان كو مزيد موقع ديتا ہے تاكہ وہ گناہوں ميں مزيد غرق ہوجائيں، اور بڑي سے بڑي سزا كے مستحق بن جائيں، يہ وہ لوگ ہيں جنھوں نے اپنے پيچھے كے تمام پلوں كو توڑ ديا ہے اور پيچھے پلٹنے كا كوئي راستہ باقي نہيں چھوڑا، انھوں نے حيا و شرم كے پردوں كو چاك كر ڈالااور ہدايت كي صلاحيت كو بالكل ختم كرديا ہے۔
قرآن مجيد كي ايك دوسري آيت اسي معني كي تائيد كرتي ہے، جيسا كہ ارشاد ہوتا ہے: <وَلاَيَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا اٴَنَّمَا نُمْلِي لَہُمْ خَيْرٌ لِاٴَنْفُسِہِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَہُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا وَلَہُمْ عَذَابٌ مُہِينٌ>(2) ”اورخبردار يہ كفارنہ سمجھيں كہ ہم جس قدر راحت وآرام دے رہے رہيں وہ ان كے حق ميں بھلائي ہے ہم تو صرف اس لئے دے رہے ہيں كہ جتنا گناہ كرسكيں كرليں اور ان كے لئے رسوا كن عذاب ہے“۔
اسلام كي شجاع خاتون جناب زينب كبريٰ سلام اللہ عليہا نے شام كي ظالم و جابر حكومت كے سامنے ايك بہترين خطبہ ديا جس ميں اسي آيہٴ شريفہ سے ظالم و جابر يزيد كے سامنے استدلال كيا اور يزيد كو ناقابل بازگشت گناہگاروں كا واضح مصداق قرار ديا ،آپ فرماتي ہيں:
”تو آج خوش ہورہا ہے، اور سوچتا ہے كہ گويا دنيا كو ہمارے اوپر تنگ كرديا ہے اور آسمان كے دروازہ ہم پر بند ہوگئے ہيں، اور ہميں اس دربار كے اسير كے عنوان سے در بدر پھرايا جارہا ہے، تو سوچتا ہے كہ ميرے پاس قدرت ہے، اور خدا كي نظر ميں قدر و منزلت ہے، اور خدا كي نظر ميں ہماري كوئي اہميت نہيں ہے؟! تو يہ تيرا خيال خام ہے، خدا نے يہ فرصت تجھے اس لئے د ي ہے تاكہ تيري پيٹھ گناہوں كے وزن سے سنگين ہوجائے، اور خدا كي طرف سے درد ناك عذاب تيرا منتظرہے“
ايك سوال كا جواب:
مذكورہ آيت بعض لوگوں كے ذہن ميں موجود اس سوال كا جواب بھي دے ديتي ہے كہ كيوں بعض ظالم اور گناہگار لوگ نعمتوں سے مالا مال ہيں اور ان كو سزا نہيں ملتي؟
قرآن كا فرمان ہے: ان لوگوں كي اصلاح نہيں ہوسكتي، قانون آفرينش اور آزادي و اختيار كے مطابق ان كو اپنے حال پر چھوڑ ديا گيا ہے، تاكہ تنزل كے آخري مرحلہ تك پہنچ جائيں اور سخت سے سخت سزاؤں كے مستحق ہوجائيں۔ اس كے علاوہ قرآن مجيد كي بعض آيات سے يہ نتيجہ نكلتا ہے كہ خداوندعالم اس طرح كے لوگوں كو بہت زيادہ نعمتيں عطا كرتا ہے اور جب وہ خوشي اور غرور كے نشہ ميں مادي لذتوں ميں غرق ہوجاتے ہيں تو اچانك سب چيزيں ان سے چھين ليتا ہے، تاكہ اس دنيا ميں بھي سخت سے سخت سزا بھگت سكيں، چونكہ اس طرح كي زندگي كا چھن جانا ان لو گوں كے لئے بہت ہي ناگوار ہوتا ہے، جيسا كہ قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتا ہے: <فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِہِ فَتَحْنَا عَلَيْہِمْ اٴَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّي إِذَا فَرِحُوا بِمَا اٴُوتُوا اٴَخَذْنَاہُمْ بَغْتَةً فَإِذَا ہُمْ مُبْلِسُونَ >(3)” پھر جب ان نصيحتوں كو بھول گئے جو انھيں ياد دلائي گئي تھيں تو ہم نے امتحان كے طور پر ان كے لئے ہر چيز كے دروازے كھول دئے يہاں تك كہ جب وہ ان نعمتوں سے خوش حال ہوگئے تو ہم نے اچانك انھيں اپني گرفت ميں لے ليا اور وہ مايوس ہوكر رہ گئے“۔
در اصل ايسے لوگ اس درخت كي طرح ہيں جس پر نا معقول طريقہ سے انسان جتنا بھي اوپر جاتا ہے خوش ہوتا رہتا ہے يہاں تك كہ اس درخت كي چوٹي پر پہنچ جاتا ہے اچانك طوفان چلتا ہے اور وہ زمين پر گر جاتا ہے اور اس كي تمام ہڈي پسلياں چور چور ہوجاتي ہيں۔(4)

(1) سورہٴ روم ، آيت ۴۱
(2) سورہ آل عمران ، آيت ۱۷۸
(3) سورہٴ انعام ، آيت ۴۴/
(4) تفسير نمونہ ، جلد ۳، صفحہ ۱۸۳
دن كي تصوير
بقيع
ويڈيو بينك