سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:413

ذوالقرنين كون تھے؟

جيسا كہ قرآن ميں ارشاد ہوتا ہے: < وَيَسْاٴَلُونَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ قُلْ سَاٴَتْلُوا عَلَيْكُمْ مِنْہُ ذِكْرًا >(1)
” اور اے پيغمبر! يہ لوگ آپ سے ذو القرنين كے بارے ميں سوال كرتے ہيں تو آپ كہہ ديجئے كہ ميں عنقريب تمہارے سامنے ان كا تذكرہ پڑھ كر سنادوں گا“۔
يہاں پر يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ ذوالقرنين كون تھے؟
جس ذوالقرنين كا قرآن مجيد ميں ذكر ہے،تاريخي طور پر وہ كون شخص ہے،تاريخ كي مشہور شخصيتوں ميں سے يہ داستان كس پر منطبق ہوتي ہے،اس سلسلے ميں مفسرين كے درميان اختلاف ہے،اس سلسلے ميں بہت سے نظريات پيش كئے گئے ہيں، ان ميں سے يہ تين زيادہ اہم شمار ہوتے ہيں:
پہلا نظريہ :بعض كا خيال ہے كہ”ا سكندر مقدوني“ ہي ذوالقرنين ہے۔
لہٰذا وہ اسے اسكندر ذوالقرنين كے نام سے پكارتے ہيں، ان كا خيال ہے كہ اس نے اپنے باپ كي موت كے بعد روم،مغرب اور مصر پر تسلط حاصل كيا، اس نے اسكندريہ شہر بنايا، پھر شام اور
بيت المقدس پر اقتدار قائم كيا،وہاں سے ارمنستان گيا،عراق و ايران كو فتح كيا،پھر ہندوستان اور چين كا قصد كيا وہاں سے خراسان پلٹ آيا، اس نے بہت سے نئے شہروں كي بنياد ركھي،پھر وہ عراق آگيا،اس كے بعد وہ شہر” زور“ ميں بيمار پڑا اور مرگيا، بعض نے كہا ہے كہ اس كي عمر چھتيس سال سے زيادہ نہ تھي، اس كا جسد خاكي اسكندريہ لے جاكر دفن كرديا گيا۔(2)
دوسرا نظريہ:موٴرخين ميں سے بعض كا نظريہ ہے كہ ذوالقرنين يمن كاايك بادشاہ تھا۔
اصمعي نے اپني تاريخ” عرب قبل از اسلام“ ميں،ابن ہشام نے اپني مشہور تاريخ ”سيرة“ ميں اورا بوريحان بيروني نے”الآثار الباقيہ“ميں يہي نظريہ پيش كيا ہے۔
يہاں تك كہ يمن كي ايك قوم”حميري“كے شعرا اور زمانہٴ جاہليت كے بعض شعرا كے كلام ميں ديكھا جا سكتا ہے كہ انہوں نے اس بات پر فخر كيا ہے كہ ذوالقرنين ہم ميں سے ہيں۔
تيسرا نظريہ: جو جديد ترين نظريہ ہے جس كو ہندوستان كے مشہور عالم ابوالكلام آزاد نے پيش كيا ہے،ابوالكلام آزاد كسي دور ميں ہندوستان كے وزير تعليم تھے،اس سلسلے ميں انہوں نے ايك تحقيقي كتاب لكھي ہے۔(3)
اس نظريہ كے مطابق ذوالقرنين،”كورش كبير“ ”بادشاہ ہخامنشي “ہے۔(4)
ليكن چونكہ پہلے اور دوسرے نظريہ كے لئے كوئي خاص تاريخي منبع نہيں ہے، اس كے علاوہ قرآن كريم نے ذو القرنين كے جو صفات بيان كئے ہيں ان كا حامل سكندر مقدوني ہے نہ كوئي بادشاہِ يمن۔
اس كے علاوہ اسكندر مقدوني نے كوئي معروف ديوار بھي نہيں بنائي ہے، ليكن رہي يمن كي ”ديوارِ ماٴرب“ تو اس ميں ان صفات ميں سے ايك بھي نہيں ہے جو قرآن كي ذكر كردہ ديوار ميں ہيں، جبكہ ”ديوار ماٴرب“ عام مصالحہ سے بنائي گئي ہے اور اس كي تعمير كا مقصد پاني كا ذخيرہ كرنا اور سيلاب سے بچنا تھا، اس كي وضاحت خود قرآن ميں سورہ سبا ميں بيان ہوئي ہے۔
لہٰذا ہم تيسرے نظريہ پر بحث كرتے ہيں يہاں ہم چند امور كي طرف مزيد توجہ دينا ضروري سمجھتے ہيں :
الف: سب سے پہلے يہ بات قابل توجہ ہے كہ ذوالقرنين كو يہ نام كيوں ديا گيا؟
پہلي بات تو يہ ہے كہ”ذوالقرنين“ كے معني ہيں ”دوسينگوں والا“، ليكن يہاں يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ انہيں اس نام سے كيوں موسوم كيا گيا؟ بعض كا نظريہ ہے كہ يہ نام اس لئے پڑا كہ وہ دنيا كے مشرق و مغرب تك پہنچے جسے عرب”قرني الشمس“(سورج كے دوسينگ)سے تعبير كرتے ہيں۔
بعض كہتے ہيں كہ يہ نام اس لئے پڑا كہ انہو ں نے دوقرن زندگي گزاري يا حكومت كي ، اورپھر يہ كہ قرن كي مقدار كتني ہے،اس ميں بھي مختلف نظريات ہيں۔
بعض كہتے ہيں كہ ان كے سر كے دونوں طرف ايك خاص قسم كا ابھار تھا ا س وجہ سے ذوالقرنين مشہور ہوگئے ۔
بعض كا يہ نظريہ ہے كہ ان كا خاص تاج دوشاخوں والا تھا۔
ب۔ قرآن مجيدسے اچھي طرح معلوم ہوتا ہے كہ ذوالقرنين ممتاز صفات كے حامل تھے خدا وند عالم نے كاميابي كے اسباب ان كے اختيار ميں دئے تھے،انہوں نے تين اہم لشكر كشي كي، پہلے مغرب كي طرف،پھر مشرق كي طرف اور آخر ميں ايك ايسے علاقے كي طرف گئے جہاں ايك كوہستاني درّہ موجود تھا، ان مسافرت ميں وہ مختلف اقوام سے ملے۔
وہ ايك مرد مومن،موحد اور مہربان شخص تھے، وہ عدل كا دامن ہاتھ سے نہيں چھوڑتے تھے، اسي بنا پر خدا وند عالم كا خاص لطف ان كے شامل حال تھا۔
وہ نيك لو گوں كے دوست او رظالموں كے دشمن تھے،انہيں دنيا كے مال و دولت سے كوئي لگاؤ نہ تھا، وہ اللہ پر بھي ايمان ركھتے تھے اور روز جزا پر بھي۔ انہو ں نے ايك نہايت مضبوط ديوار بنائي ہے،يہ ديوار انہوں نے اينٹ اور پتھر كے بجائے لوہے اور تانبے سے بنائي(اور اگر دوسرے مصالحے بھي استعمال ہوئے ہوں تو ان كي بنيادي حيثيت نہ تھي)، اس ديوار كے بنانے سے ان كا مقصد مستضعف اور ستم ديدہ لوگوں كي ياجوج و ماجوج كے ظلم و ستم كے مقابلے ميں مدد كرنا تھا۔
وہ ايسے شخص تھے كہ نزول قرآن سے قبل ان كا نام لوگوں ميں مشہور تھا،لہٰذا قريش اور يہوديوں نے ان كے بارے ميں رسول اللہ (ص) سے سوال كيا تھا، جيسا كہ قرآن كہتا ہے: <وَيَسْاٴَلُونَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ> ” اور اے پيغمبر! يہ لوگ آپ سے ذو القرنين كے بارے ميں سوال كرتے ہيں، حضرت رسول اللہ (ص) اور ائمہ اہل بيت عليہم السلام سے بہت سي ايسي روايات منقول ہيں جن ميں بيان ہواہے كہ: ”وہ نبي نہيں تھے بلكہ اللہ كے ايك صالح بندے تھے“۔(5)
ج۔تيسرا نظريہ (ذو القرنين كورش ہي كو كہتے ہيں) اس كي دو بنياد ہيں:
۱۔اس مطلب كے بارے ميں سوال كرنے والے يہودي تھے، يا يہوديوں كے كہنے پر قريش نے سوال كيا تھا، جيسا كہ آيات كي شان نزول كے بارے ميں منقول روايات سے ظاہر ہوتا ہے، لہٰذا اس سلسلہ ميں يہودي كتابوں كو ديكھنا چاہئے۔ يہوديوں كي مشہور كتابوں ميں سے كتاب ”دانيال“ كي آٹھويں فصل ميں تحرير ہے:
”بل شصّر“ كي سلطنت كے سال مجھے دانيال كو خواب ميںدكھايا گيا، جو خواب مجھے دكھايا گيا اس كے بعد اور خواب ميں ،ميں نے ديكھا كہ ميں ملك ”عيلام “ كے ”قصر شوشان“ ميں ہوں، ميں نے خواب ميں ديكھا كہ ميں ”دريائے ولادي“ كے پاس ہوں،ميں نے آنكھيں اٹھاكر ديكھا كہ ايك مينڈھا دريا كے كنارے كھڑا ہے، اس كے دو لمبے سينگ تھے، اور اس مينڈھے كوميں نے مغرب، مشرق اور جنوب كي سمت سينگ مارتے ہوئے ديكھا، كوئي جانور اس كے مقابلہ ميں ٹھہر نہيں سكتا تھا اور كوئي اس كے ہاتھ سے بچانے والا نہ تھا وہ اپني رائے پر ہي عمل كرتا تھا اور وہ بڑا ہوتا جاتا تھا۔(6)
اس كے بعد اسي كتاب ميں دانيال كے بارے ميں نقل ہوا ہے جبرئيل اس پر ظاہر ہوئے اور اس كے خواب كي تعبير يوں بيان كي:
”تم نے دو شاخوں والا جو مينڈھا ديكھا ہے وہ مدائن اور فارس (يا ماد اور فارس) كے بادشاہ ہيں۔
يہوديوں نے دانيال كے خواب كو بشارت قرار ديا وہ سمجھے كہ ماد و فارس كے كسي بادشاہ كے قيام اور بابل كے حكمرانوں ميں ان كي كاميابي سے يہوديوں كي غلامي اور قيد كا دور ختم ہوجائے گا، اور وہ اہل بابل كے چنگل سے آزاد ہوجائيں گے۔
زيادہ زمانہ نہ گزرا تھا كہ ”كورش“ نے ايران كي حكومت پر غلبہ حاصل كرليا اس نے ماد اور فارس كو ايك ملك كركے دونوں كو ايك عظيم سلطنت بنا ديا، جيسے دانيال كے خواب ميں بتايا گيا تھا كہ وہ اپنے سينگ مغرب، مشرق اور جنوب كي طرف مارے گا، كورش نے تينوں سمتوں ميں عظيم فتوحات حاصل كيں۔
اس نے يہوديوں كو آزاد كيا، اور فلسطين لوٹنے كي اجازت دي۔
يہ بات بھي قابل توجہ ہے كہ توريت كي كتاب اشعياء فصل ۴۴، نمبر ۲۸ ميں بيان ہوا ہے: ”اس وقت خاص طور سے كورش كے بارے ميں كہا گيا ہے كہ وہ ميرا چرواہا ہے اس نےميري مشيت كو پورا كيا ہے اور شيلم سے كہے گا تو تعمير ہوجائے گا۔
يہ بات بھي قابل توجہ ہے كہ توريت كے بعض الفاظ ميں ”كورش“ كے بارے ميں ہے كہ عقابِ مشرق اور مردِ تدبير جو بڑي دور سے بلايا جائے گا۔ (كتاب اشعياء فصل ۴۶، نمبر ۱۱)
دوسري بنياد يہ ہے كہ انيسويں عيسوي صدي ميں دريائے” مرغاب “كے كنارے تالاب كے قريبكورش كا مجسمہ دريافت ہوا، يہ ايك انسان كے قد وقامت كے برابر ہے،اس ميں كورش كے عقاب كي طرح دو پَر بنائے گئے ہيں اور اس كے سرپر ايك تاج ہے، اس ميں مينڈھے كے سينگوں كي طرح دو سينگ نظر آتے ہيں۔
يہ مجسمہ بہت قيمتي اور قديم فن سنگ تراشي كا نمونہ ہے، اس نے ماہرين كو اپني طرف متوجہ كرليا ہے جرمني ماہرين كي ايك جماعت نے صرف اسے ديكھنے كے لئے ايران كا سفر كيا۔
توريت كي تحريركو جب اس مجسمہ كي تفصيلات كے ساتھ ملايا گيا تو ابو الكلام آزاد كو مزيد يقين ہوا كہ كورش ذو القرنين (دو سينگوں والا) كہنے كي وجہ كيا ہے، اس طرح يہ بھي واضح ہوگيا كہ كورش كے مجسمہ ميں عقاب كے دو پر كيوں لگائے گئے ہيں، اس سے دانشوروں كے ايك گروہ كے لئے ذو القرنين كي تاريخي شخصيت مكمل طور پر واضح ہوگئي۔
اس كے علاوہ اس نظريہ كي تائيد كے لئے كورش كے وہ اخلاقي صفات ہيں جو تاريخ ميں لكھے ہوئے ہيں:
يوناني مورخ ہر ودوٹ لكھتا ہے: كورش نے حكم جاري كيا كہ اس كے سپاہي جنگ كرنے والوں كے علاوہ كسي كے سامنے تلوار نہ نكاليں اور اگر دشمن كا سپاہي اپنا نيزہ خم كردے تو اسے قتل نہ كريں، كورش كے لشكر نے اس كے حكم كي اطاعت كي ، اس طرح سے ملت كے عام لوگوں كو مصائب جنگ كا احساس بھي نہ ہوا۔
ہرو دوٹ كو رش كے بارے ميں لكھتا ہے: كورش كريم، سخي، بہت نرم دل اور مہربان بادشاہ تھا، اسے دوسرے بادشاہوں كي طرح مال جمع كرنے كا لالچ نہ تھا، بلكہ اسے زيادہ سے زيادہ كرم و بخشش كا شوق تھا، وہ ستم رسيدہ لوگوں كے ساتھ عدل و انصاف سے كام ليتا تھا اور جس چيز سے زيادہ خير اور بھلائي ہوتي تھي اسے پسند كرتا تھا۔
اسي طرح ايك دوسرا مورخ ”ذي نوفن“ لكھتا ہے: كورش عاقل اور مہربان بادشاہ تھا، اس ميں بادشاہوں كي عظمت اور حكماء كے فضائل ايك ساتھ جمع تھے، وہ بلند ہمت تھا اس كا جود و كرم زيادہ تھا اس كا شعار انسانيت كي خدمت تھا ا ور عدالت اس كي عادت تھي وہ تكبر كے بجائے انكساري سے كام لے ليتا تھا۔
مزے كي بات يہ ہے كہ كورش كي اس قدر تعريف و توصيف كرنے والے مورخين غير لوگ ہيں كورش كي قوم اور وطن سے ان كا كوئي تعلق نہيں ہے جو كہ اہل يونان ہيں اور ہم جانتے ہيں كہ يونان كے لوگ كورش كي طرف دوستي اور محبت كي نظر سے نہيں ديكھتے تھے كيونكہ كورش نے ”ليديا“ كو فتح كركے اہل يونان كو بہت بڑي شكست دي تھي۔
اس نظريہ كے طرفدار كہتے ہيں كہ قرآن مجيد ميں ذو القرنين كے بيان ہونے والے اوصاف كورش كے اوصاف سے مطابقت ركھتے ہيں۔
اس تمام باتوں كے علاوہ كورش نے مشرق، مغرب اور شمال كي طرف سفر بھي كئے ہيں اس كے تمام سفر كا حال (اور سفر نامہ) اس كي تاريخ ميں تفصيلي طور پر ذكر ہوا ہے، يہ قرآن ميں ذكر كئے گئے ذو القرنين كے تينوں سفر سے مطابقت ركھتے ہيں۔
كورش نے پہلي لشكر كشي ”ليديا“ پر كي ،يہ ايشائے صغير كا شمالي حصہ ہے يہ ملك كورش كے مركز حكومت سے مغرب كي سمت ميں تھا۔
جس وقت آپ ايشائے صغير كے مغربي ساحل كے نقشہ كو سامنے ركھيں گے تو ديكھيں گے كہ ساحل كے زيادہ تر حصے چھوٹي چھوٹي خليجوں ميں بٹے ہوتے ہيں، خصوصاً ”ازمير“ كے قريب جہاں خليج ايك چشمہ كي صورت ميں دكھائي ديتا ہے۔
قرآن كا بيان ہے كہ ذو القرنين نے اپنے مغرب كے سفر ميں محسوس كيا كہ جيسے سورج كيچڑ آلود چشمہ ميں ڈوب رہا ہے، يہ وہي منظر ہے جو كورش نے غروب آفتاب كے وقت ساحلي خليجوں ميں ديكھا تھا۔
كورش كي دوسري لشكر كشي مشرق كي طرف تھي جيسا كہ ہرو دوٹ نے كہا ہے كہ كورش كا يہ مشرقي حملہ ”ليديا“ كي فتح كے بعد ہوا خصوصاً بعض بياباني وحشي قبائل كي سركشي نے كورش كو اس حملہ پر مجبور كيا۔
چنانچہ قرآن ميں بھي ارشاد ہے:
< حَتَّي إِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَہَا تَطْلُعُ عَلَي قَوْمٍ لَمْ نَجْعَلْ لَہُمْ مِنْ دُونِہَا سِتْرًا>(7) ”يہاں تك كہ جب طلوع آفتاب كي منزل تك پہنچا تو ديكھا كہ وہ ايك ا يسي قوم پر طلوع كررہا ہے جن كے پاس سورج كي كرنوں سے بچنے كے لئے كوئي سايہ نہ تھا“۔
يہ الفاظ كورش كے سفر مشرق كي طرف اشارہ كررہے ہيں جہاں اس نے ديكھا كہ سورج ايسي قوم پر طلوع كر رہا ہے جن كے پاس اس كي تپش سے بچنے كے لئے كوئي سايہ نہ تھا، يہ اس طرف اشارہ ہے كہ وہ قوم صحرا نوردتھي اور بيابانوں ميں رہتي تھي۔
كورش نے تيسري لشكر كشي شمال كي طرف ”قفقاز“ كے پہاڑوں كي طرف كي يہاں تك كہ وہ دو پہاڑوں كے درميان ايك درّے ميں پہنچا،يہاں كے رہنے والوں نے وحشي اقوام كے حملوں اور غارت گري كو روكنے كي درخواست كي اس پر كورش نے اس تنگ درے ميں ايك مضبوط ديوار تعمير كردي۔ اس درّہ كو آج كل درّہ ”داريال“ كہتے ہيں، موجودہ نقشوں ميں يہ ”ولادي كيوكز“ اور ”تفليس“ كے درميان ديكھا جاتا ہے وہاں اب تك ايك آہني ديوار موجود ہے، يہ وہي ديوار ہے جو كورش نے تعمير كي تھي، قرآن مجيد نے ذو القرنين كي ديوار كے جو اوصاف بتائے ہيں وہ پوري طرح اس ديوار پر منطبق ہوتے ہيں۔
اس تيسرے نظريہ كا خلاصہ يہ تھا جو ہماري نظر ميں بہتر ہے۔(8)
يہ صحيح ہے كہ اس نظريہ ميں بھي كچھ مبہم چيزيں پائي جاتي ہيں، ليكن عملاً ذو القرنين كي تاريخ كے بارے ميں ابھي تك جتنے نظريات پيش كئے گئے ہيں اسے ان ميں سے بہترين كہا جاسكتا ہے۔(9)

(1) سورہٴ كہف ، آيت ۸۳
(2) تفسير فخر رازي، محل بحث آيت ميں اور كامل ابن اثير ، جلد اول صفحہ ۲۸۷ ميں اور بعض دوسرے مورخين اس بات كے قائل ہيں كہ سب سے پہلے اس نظريہ كو پيش كرنے والے شيخ ابو علي سينا ہيں جنھوں نے اپني كتاب الشفاء ميں اس كا ذكر كيا ہے
(3)الميزان ، جلد ۱۳، صفحہ ۴۱۴
(4)فارسي ميں اس كتاب كے ترجمعہ كا نام”ذوالقرنين يا كورش كبير“ ركھا گيا ہے، اور متعدد معاصر مورخين نے اسي نظريہ كي تائيد كرتے ہوئے اپني كتابوں ميں نقل كيا ہے
(5)ديكھئے تفسير نو رالثقلين ، جلد ۳صفحہ ۲۹۴/اور ۲۹۵
(6) كتاب دانيا ل ،فصل ہشتم ،جملہ نمبر ايك سے چار تك
(7) سورہٴ كہف ، آيت ۹۰
(8) اس سلسلہ ميں مزيد وضاحت كے لئے كتاب ”ذو القرنين يا كورش كبير“ اور ”فرہنگ قصص قرآن“ كي طرف رجوع فرمائيں
(9) تفسير نمونہ ، جلد ۱۲، صفحہ ۵۴۲
دن كي تصوير
تل زينبيہ
ويڈيو بينك