سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:295

كيا تمام اصحاب پيغمبر (ص)نيك افرادتھے؟

”پہلے مہاجرين“ كے لئے قرآن كي بيان كردہ عظمت كے پيش نظر بعض برادران اہل سنت يہ نتيجہ نكالتے ہيں كہ وہ لوگ آخري عمر تك كوئي خلاف(شرع) كام نہيں كرسكتے، لہٰذا كسي چون و چرا كے بغير سب كو قابل احترام شمار كيا جائے، اس كے بعد اس موضوع كو تمام ”اصحاب“ كے لئے عام كرديا چونكہ ”بيعتِ رضوان“ ميں اصحاب كي مدح كي گئي ہے، لہٰذا ان كي نظر ميں اصحاب كے متعلق كوئي تنقيد قابلِ قبول نہيں ہے چاہے ان كے اعمال كيسے ہي ہوں!۔
جيسا كہ مشہور مفسر موٴلف المنار شيعوں پر شديد اعتراض كرتے ہيں كہ يہ لوگ مہاجرين پر كيوں انگلي اٹھاتے ہيں، اور ان پر كيوں تنقيد كرتے ہيں!! جبكہ وہ اس بات پر توجہ نہيں كرتے كہ صحابہ كرام كے بارے ميں اس طرح كا عقيدہ اسلام اور تاريخ اسلام كے برخلاف ہے۔
(قارئين كرام!) بے شك ”صحابہ“ خصوصاً پہلے مہاجرين كا ايك خاص احترام ہے، ليكن يہ احترام اسي وقت تك ہے جب تك وہ صحيح راستہ پر قدم بڑھاتے رہيں، ليكن جب بعض صحابہ اسلام كے حقيقي راستہ سے منحرف ہو جا ئيں تو پھر اصولي طور پر قرآن مجيد كا كچھ اور ہي نظريہ ہوگا۔
مثال كے طور پر ہم كس طرح ”طلحہ“ اور ”زبير“ سے يونہي گزر سكتے ہيں جبكہ انھوں نے پيغمبر اكرم (ص) كے جانشين اور خود اپنے انتخاب كردہ خليفہٴ رسول كي بيعت كو توڑ ديا، ہم كيسے ان كے دامن پر لگے جنگ جمل كے سترہ ہزار مسلمانوں كے خون كو نظر انداز كرسكتے ہيں؟! اگر كوئي شخص كسي ايك بے گناہ كا خون بہائے تو وہ خدا كے سامنے كوئي جواب نہيں دے سكتا، اتنے لوگوں كا خون تو بہت دور كي بات ہے، كيا اصولي طور پر جنگ جمل ميں ”حضرت علي عليہ السلام اور آپ كے ساتھي“ اور ”طلحہ و زبير اور ان كے ساتھي ديگر صحابہ “ دونوں كو حق پر مانا جاسكتا ہے؟
كيا كوئي بھي عقل اور منطق اس واضح تضا د اورٹكراؤكو قبول كرسكتي ہے؟! اور كيا ہم”صحابہ كي عظمت“ كي خاطر اپني آنكھوں كو بند كرليں اور پيغمبر اكرم (ص) كي وفات كے بعد پيش آنے والے تاريخي حقائق كو نظر انداز قرار دے ديں اور اسلامي و قرآني قاعدہ ”إنَّ اٴكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ اٴتقَاكُم“(1)كو پاؤں تلے روند ڈاليں؟! واقعاًكيا يہ غير منطقي فيصلہ ہے؟!
اصولي طور پر اس چيزميں كيا ممانعت ہے كہ كوئي شخص ايك روز بہشتيوں كي صف ميں اور حق كا طرفدار ہو، ليكن اس كے بعد دشمنان حق اور دوزخيوں كي صف ميں چلا جائے؟ كيا سب معصوم ہيں؟! اور كيا ہم نے اپني آنكھوں سے بہت سے لوگوں كے حالات بدلتے نہيں ديكھے ہيں؟!
”اصحاب ردّہ“ (يعني رحلت پيغمبر كے بعد كچھ اصحاب كے مرتد (وكافر) ہوجانے) كا واقعہ شيعہ اور سني سب نے نقل كيا كہ خليفہٴ اول نے ان سے جنگ كي اور ان پرغلبہ حاصل كرليا، كيا ”اصحاب ردّہ“ كو كسي نے نہيں ديكھا كيا وہ صحابہ كي صف ميں نہيں تھے؟!
اس سے كہيں زيادہ تعجب كي بات يہ ہے كہ اس تضاداو رٹكراؤ سے بچنے كے لئے بعض لوگوں نے ”اجتہاد“ كا سہارا ليا اور كہتے ہيں كہ ”طلحہ، زبير اور معاويہ“ نيز ان كے ساتھي مجتہد تھے اور انھوں نے اپنے اجتہاد ميں غلطي كي، ليكن وہ گناہگار نہيں ہيں بلكہ اپنے ان اعمال پر خدا كي طرف سے اجر و ثواب پائيں گے!!
واقعاً كتني رسوا كن دليل ہے؟ جانشينِ رسول كے مقابلہ ميں آجانا، اپني بيعت كو توڑ دينا، اور ہزاروں بے گناہوں كا خون بہانا اور وہ بھي جاہ طلبي اور مال و مقام كے لالچ ميں يہ سب كچھ كرنا كيا كوئي ايسا موضوع ہے جس كي برائي سے كوئي بے خبر ہو؟ كيا اتنے بے گناہوں كا خون بہانے پر خداوندعالم اجر و ثواب دے سكتا ہے؟! اگر كوئي شخص اس طرح بعض اصحاب كے ظلم و ستم سے ان كو بَري كرنا چاہے تو پھر دنيا ميں كوئي گناہگار باقي نہ بچے گا اور سبھي قاتل و ظالم و جابر اس منطق كے تحت بَري ہوسكتے ہيں۔ اصحاب كااس طرح سے غلط دفاع كرنا خود اسلام سے بد ظن ہونے كا سبب بنتا ہے۔
اس بنا پر ہمارے پاس اس كے علاوہ كوئي چارہ نہيں ہے كہ ہم سب كے لئے خصوصاً اصحاب پيغمبر (ص) كے احترام كے قائل ہوں، ليكن جب وہ حق و عدالت كي راہ اور اسلامي اصول سے منحرف ہوجائيں تو پھر ان كا كوئي احترام نہيں ہوگا۔(2)
اہل سنت كے متعدد مفسرين نے يہ حديث نقل كي ہے كہ” حميد بن زياد“ كا كہنا ہے: ”ميں محمد بن كعب قرظي كے پاس گيا اور كہا: اصحاب پيغمبر كے بارے ميں تمہاري كيا رائے ہے؟ تو اس نے كہا:”جَمِيْعُ اٴصْحَابِ رَسُولِ اللهِ (ص) فِي الجَنّةِ مُحْسِنُھُمْ وَ مُسِيئھُم!“ (يعني تمام اصحاب پيغمبر جنّتي ہيں چاہے وہ نيك ہوں يا گنہگار!) ميں نے كہا: يہ بات تم كيسے كہہ رہے ہو؟ تو اس نے كہا: اس آيت كو پڑھو: <وَالسَّابِقُونَ الْاٴَوَّلُونَ مِنْ الْمُہَاجِرِينَ وَالْاٴَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوہُمْ بِإِحْسَانٍ > يہاں تك كہ ارشاد ہوتا ہے:<رَضِيَ اللهُ عَنْہُمْ وَرَضُوا عَنْہُ>(3)،اس كے بعد كہا كہ تابعين كے لئے صحابہ كي صرف نيك كاموں ميں اتباع اور پيروي كرنے كي شرط كي گئي ہے، (صرف اسي صورت ميں اہل نجات ہيں، ليكن صحابہ كے لئے اس طرح كي كوئي شرط نہيں ہے)(4)
ليكن ان كا يہ دعويٰ متعدد دلائل كي وجہ سے باطل اور غير قابل قبول ہے، كيونكہ: سب سے پہلي بات يہ ہے كہ آيہٴ شريفہ ميں مذكورہ حكم تابعين كے لئے بھي ہے، تابعين سے وہ مسلمان مراد ہيں جو پہلے مہاجرين اور انصار كي پيروي كريں، اس بنا پر بغير كسي استثنا كے پوري امت كو اہل نجات اور جنتي ہونا چاہئے۔
اور جيسا كہ محمد بن كعب كيحديث ميں اس چيز كا جواب ديا گيا كہ خداوندعالم نے تابعين ميں ”نيكي كي شرط“ لگائي ہے يعني صحابہ كے نيك كاموں ميں پيروي كريں، ان كے گناہوں كي پيروي نہيں، ليكن يہ گفتگو بہت ہي عجيب ہے۔ كيونكہ اس كا مفہوم اضافہٴ ”فرع“ بر ”اصل“ كي طرح ہے يعني جب تابعين اور صحابہ كے پيروكاروں كے لئے نجات كي شرط يہ ہے كہ اعمال صالحہ ميں ان كي پيروي كي جائے تو پھر بطريق اوليٰ يہ شرط خود صحابہ ميں بھي ہوني چاہئے۔
بالفاظ ديگر: خداوندعالم مذكورہ آيت ميں فرماتا ہے: ميري رضايت اور خوشنودي پہلے مہاجرين و انصار اور ان كي پيروي كرنے والوں كے شامل حال ہوگي جو ايمان اور عمل كے لحاظ سے صحيح تھے،نہ يہ كہ سب مہاجرين و انصار چاہے نيك ہوں يا گناہگار اپنے كو رحمت الٰہي ميں شامل سمجھيں، ليكن تابعين ميں خاص شرط كے تحت قابل قبول ہے۔
دوسري بات يہ ہے كہ يہ موضوع عقلي لحاظ سے بھي قابل قبول نہيں ہے كيونكہ عقلي لحاظ سے صحابہ اور غير صحابہ ميں كوئي فرق نہيں ہے، ابو جہل اوراسلام لاكر پھر جا نے والے ميں كيا فرق ہے ؟!
پيغمبر اكرم (ص) كے برسوں اور صديوں بعد اس دنيا ميں جو افراد پيدا ہوئے اور انھوں نے اسلام كي راہ ميں بڑي بڑي قربانياں پيش كيں اور جن كي قرباني پہلے مہاجرين و انصار سے كم نہيں ہے، بلكہ ان كا يہ بھي امتياز ہے كہ انھوں نے پيغمبر اكرم (ص) كو ديكھے بغير پہچانا اور آنحضرت (ص) پر ايمان لائے، تو كيا ايسے افراد رضايت و خوشنودي الٰہي كے حقدار نہيں ہيں؟!
جو قرآن كہتا ہو كہ تم ميں سب سے زيادہ خدا كے نزديك وہ شخص معزز و محترمہے جو سب سے زيادہ متقي اور پرہيزگارہو، تو پھر قرآن اس غير منطقي امتياز كو كيسے پسند كرسكتا ہے؟! جس قرآن كي مختلف آيات ميں ظالمين اور فاسقين پر لعنت بھيجي گئي ہے اور ان كو عذاب الٰہي كا مستحق قرار ديا گيا ہو تو پھر صحابہ كے سلسلہ ميں اس غير منطقي معصوميت كو كيونكر قبول كرسكتا ہے؟ اور كيا اس لعنت اور چيلنج ميں استثنا كي كوئي گنجائش ہے؟ تاكہ كچھ (صحابہ) اس سے الگ ہوجائيں؟ كيوں؟ او ركس لئے؟
ان سب كے علاوہ كيا اس طرح كا حكم كرنا صحابہ كو ہري جھنڈي دكھانا نہيں ہے جس سے ان كا كوئي بھي كام گناہ اور ظلم شمار نہ ہو؟
تيسري بات يہ ہے كہ ايسا حكم كرنا، اسلامي تاريخ كے بر خلاف ہے، كيونكہ بہت سے لوگ ايسے تھے جو پہلے مہاجرين و انصار ميں تھے ليكن بعد ميں راہ حق سے منحرف ہوگئے اور پيغمبر اكرم (ص) ان پر غضبناك ہوئے (جبكہ پيغمبر اكرم (ص) كا غضبناك ہونا خدا كے غضب اور عذاب كا موجب ہے) كيا ”ثعلبہ بن حاطب انصاري“ كا واقعہ نہيں پڑھا كہ وہ كس طرح دين سے منحرف ہوگيا اور پيغمبر اكرم (ص) اس پر غضبناك ہوئے۔
واضح طور پر يوں كہا جائے كہ اگر ان كا مقصد يہ ہے كہ تمام اصحاب پيغمبر (ص) كسي بھي طرح كے گناہ كے مرتكب نہيں ہوئے، وہ معصوم تھے اور معصيت سے پاك تھے ، تو يہ بالكل وا ضح چيزوں كے انكار كي طرح ہے۔
اور اگر ان كا مقصد يہ ہو كہ انھوں نے گناہ كئے ہيں اور خلاف (دين)كام انجام دئے ہيں ليكن پھر بھي خداوندعالم ان سے راضي ہے، تو اس كا مطلب يہ ہے كہ گناہگاروں سے بھي (نعوذ باللہ) خدا راضي ہوسكتا ہے!
”طلحہ و زبير“ جن كا شمار پہلے اصحاب پيغمبر (ص) ميں ہوتا تھا اسي طرح زوجہ پيغمبر (ص) جناب ”عائشہ“ كو جنگ جمل كے سترہ ہزار بے گناہ مسلمانوں كے خون سے كون بري كرسكتا ہے؟ كيا خداوندعالم اس خون كے بہنے سے راضي تھا؟۔
كيا خليفہ پيغمبر اكرم حضرت علي عليہ السلام كي مخالفت اگر بالفرض يہ بھي مان ليں كہ رسول خدا نے ان كو خليفہ معين نہيں كيا تھاليكن كم سے كم اس بات كو تو اہل سنت بھي قبول كرتے ہيں كہ آپ كي پوري امت كے اجماع كے ذريعہ خليفہ بنايا گياتھا، توا گرجانشين رسول (ص) اور ان كے وفادار ساتھيوں كے مقابلہ ميں تلوار كھينچ لي جائے تو كيا اس كام سے خداوندعالم راضي اور خوشنود ہوگا؟۔ حقيقت يہ ہے كہ ”صحابہ كو بے گناہ“ ماننے والوں كے اصرار اور اس بات پر بضد ہونے كي وجہ سے پاك و پاكيزہ اسلام كو بد نام كرديا ہے، وہ اسلام جس كي نظر ميں لوگوں كي عظمت ايمان و اعمال صالحہ ہے۔
اس سلسلہ ميں اخري بات يہ ہے كہ مذكورہ آيت ميں جس رضا اور خوشنودي الٰہي كي بات كي گئي ہے وہ ايك عام عنوان كے تحت ہے، اور وہ ”ہجرت“، ”نصرت“، ”ايمان“، اور ”عمل صالح“ ہے، لہٰذا تمام صحابہ اور تابعين اگر ان عناوين كے تحت قرار پائيں گے تو رضائے الٰہي ان كے شامل حال رہے گي، ليكن اگر وہ ان عناوين سے خارج ہوجائيں تو پھر رضايت اور خوشنودي الٰہي سے بھي خارج ہوجائيں گے۔
(قارئين كرام!) ہماري مذكورہ گفتگو سے بخوبي روشن ہوجاتا ہے كہ متعصب مفسر صاحب المنار كے قول كي كوئي اہميت نہيں ہے، جيسا كہ ہم نے اشارہ كيا ہے كہ موصوف تمام صحابہ كو گناہوں سے پاك نہ ماننے پر شيعوں پر حملہ آور ہوتے ہيں،ليكن ہم كہتے ہيں كہ شيعوں كي كيا خطا ہے؟ يہي كہ انھوں نے اس سلسلہ ميں قرآن، تاريخ اور عقل كي گواہي كو ماناہے، اور بيہودہ اور غلط امتيازات كے آگے تسليم نہيں ہوئے ہيں!!(5)

(1) سورہ ، حجر، آيت ۱۳، ”بے شك تم ميںسے خدا كے نزديك زيادہ محترم وہي ہے جو زيادہ پرہيزگار ہے“۔
(2) تفسير نمونہ ، جلد۷، صفحہ ۲۶۳ 
(3) سورہ توبہ ، آيت۱۰۰ ”اور مہاجرو انصار ميں سبقت كرنے والے اور جن لوگوں نے نيكي ميں ان كا اتباع كيا ہے ،ان سب سے خدا راضي ہوگيا ہے اور يہ سب خداسے راضي ہيں“۔
(4) تفسير المنار اور تفسير فخر رازي مندرجہ بالا آيت كے ذيل ميں رجوع فرمائيں
(5) تفسير نمونہ ، جلد ۸، صفحہ ۱۰۸
دن كي تصوير
گنبد حرم كاظمين عليهما السلام   
ويڈيو بينك