سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:379

كيا فال نيك اور بد شگوني حقيقت ركھتے ہيں ؟

شايد ہميشہ سے مختلف قوم و ملت كے درميان فال نيك اور بد شگوني كا رواج پايا جاتا ہے بعض چيزوں كو ”فال نيك“قرار ديتے ہيں جس كو كاميابي كي نشاني اور بعض چيزوں كو ”بد شگوني“ ناكامي اور شكست كي نشاني سمجھتے تھے، جبكہ ان چيزوں كا كاميابي اور شكست سے كوئي منطقي تعلق نہيں پايا جاتا،خصوصاً بد شگوني كے سلسلہ ميں بہت سي نامعقول اور خرافات قسم كي چيزيں رائج ہيں۔
اگرچہ ان دونوں كا طبيعي اثر نہيں ہے ليكن نفسياتي اثر ہوسكتا ہے، فالِ نيك انسان كے لئے اميد اور تحريك كا باعث ہے اور بدشگوني نااميد اور سستي كا سبب بن سكتي ہے۔
شايد اسي وجہ سے اسلامي روايات ميں فالِ نيك سے ممانعت نہيں كي گئي ہے ليكن فالِ بد اور بد شگوني كے لئے شدت سے ممانعت كي گئي ہے، چنانچہ ايك مشہور و معروف حديث ميں پيغمبر اكرم سے منقول ہے: ”تَفَاٴلُوا بِالخَيْرِ تَجِدُوْہُ“ (اپنے كاموں ميں فال نيك كرو (اور اميدوارر ہو) تاكہ اس كے انجام تك پہنچ جاؤ) اس حد يث ميں اس موضوع كا اثباتي پہلو منعكس ہے، اور خود آنحضرت (ص) ،ائمہ دين عليہم السلام كے حالات ميں بھي يہ چيز ديكھنے ميں آئي ہے كہ يہ حضرات بعض مسائل كو فال نيك سمجھے تھے ،مثال كے طور پر جب سر زمين ”حديبيہ“ ميں مسلمان كفار كے مقابل قرارپائے اور ”سہيل بن عمرو“ كفارِ مكہ كا نمائندہ بن كر پيغمبر اكرم (ص) كے پاس آيا،جب آنحضرت (ص) اس كے نام سے با خبر ہوئے تو فرمايا: ”قدْ سہلَ عليكم اٴمرَكمْ“(يعني ميں ”سہيل“ كے نام سے تفاٴل كرتا ہوں كہ تمہارا كام سہل اور آسان ہوگا“۔(1)
چھٹي صدي ہجري كے ”دميري“ نامي مشہور و معروف دانشور موٴلف نے اپني ايك تحرير ميں اس بات كي طرف اشارہ كيا ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) اس وجہ سے فالِ نيك كيا كرتے تھے كيونكہ جب انسان فضل پروردگار كا اميدوار ہوتا ہے تو راہ خير ميں قدم بڑھاتا ہے ليكن جب رحمت پروردگار كي اميد ٹوٹ جاتي ہے تو پھر برے راستہ پر لگ جاتاہے، اور فال بد يا بد شگوني كرنے سے بدگماني پيدا ہوتي ہے اور انسان بلا اور بدبختي سے خوف زدہ رہتا ہے۔(2)فال بد يا بد شگوني كے بارے ميں اسلامي روايات نے بہت شدت كے ساتھ مذمت كي ہے، جيسا كہ قرآن مجيد ميں متعدد مقامات پر اس بات كي طرف اشارہ كرتے ہوئے اس كي مذمت كي ہے(3) ، نيز پيغمبر اكرم (ص) كي ايك حديث ميں بيان ہوا ہے: ”الطَّيْرةُ شِرْكٌ“(4) (بد شگوني كرنا (اور انسان كي زندگي ميں اس كو موثر ماننا) ايك طرح سے خدا كے ساتھ شرك ہے)
اسي طرح ايك دوسري جگہ بيان ہوا ہے كہ اگر بد شگوني كا كوئي اثر ہے تو وہي نفسياتي اثر ہے، حضرت امام صادق عليہ السلام نے فرمايا: ”بد شگوني كا اثر اسي مقدار ميں ہے جتنا تم اس كو قبول كرتے ہو، اگر اس كو كم اہميت مانو گے تو اس كا اثر كم ہوگا اور اگر اس سلسلہ ميں تم بہت معتقد ہوگئے تو اس كا اثر بھي اتنا ہي ہوگا، اور اگر اس كي بالكل پروا نہ كرو تو اس كا بھي كوئي اثر نہيں ہوگا“۔(5)
اسلامي روايات ميں پيغمبر اكرم (ص) سے نقل ہوا ہے كہ بد شگوني سے مقابلہ كرنے كے لئے بہترين راستہ يہ ہے كہ اس پر توجہ نہ كي جائے، چنانچہ پيغمبر اكرم (ص) سے منقول ہے: ”تين
چيزوں سے كوئي بھي نہيں بچ سكتا، (جنّات كا وسوسہ اكثر لوگوں كے دلوں پر اثر كر جاتا ہے) فال بد يا بد شگوني، حسد اور سوء ظن، اصحاب نے سوال كيا كہ ان سے بچنے كے لئے ہم كيا كريں؟ تو آنحضرت نے فرمايا: جب كوئي تمہارے لئے بد شگوني كرے تو اس پر توجہ نہ كرو، جس وقت تمہارے دل ميں حسد پيدا ہو تو اس كے مطابق عمل نہ كرو اور جب تمہارے دل ميں كسي كي طرف سے سوء ظن (اوربد گماني) پيدا ہو تو اس كو نظر انداز كردو“۔
عجيب بات تو يہ ہے كہ يہ فال نيك اور بد شگوني كا موضوع ترقي يافتہ ممالك اور روشن فكر يہاں تك كہ مشہور و معروف نابغہ افراد كے يہاں بھي پايا جاتا ہے، مثال كے طور پر مغربي ممالك ميںزينہ كے نيچے سے گزرنا، يا نمكداني كا گرنا يا تحفہ ميں چاقو دينا وغيرہ كو بد شگوني كي علامت سمجھا جاتا ہے!
البتہ فالِ نيك كا مسئلہ كوئي اہم نہيں بلكہ اكثر اوقات اس كا اثر مثبت ہوتا ہے، ليكن بد شگوني سے مقابلہ كرنا چاہئے اور اپنے ذہن سے دور كرنا چاہئے، جس كا بہترين راستہ يہ ہے كہ انسان خداوندعالم پر توكل اور بھر پور بھروسہ ركھے، جيساكہ اسلامي روايات ميں اس چيز كي طرف اشارہ بھي كيا گيا ہے۔

(1) الميزان ، جلد ۱۹، صفحہ ۸۶
(2)سفينة البحار ، جلد دوم، صفحہ ۱۰۲
(3) مثلاً: سورہٴ يس ، آيت ۱۹، سورہٴ نمل ، آيت ۴۷، سورہٴ اعراف آيت۱۳۱
(5،4)الميزان ، محل بحث آيت كے ذيل ميں
دن كي تصوير
حرم حضرت عباس (عليہ السلام)
ويڈيو بينك