سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:400

كيا نظر ِبد كي كوئي حقيقت ہے؟

جيسا كہ قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتا ہے: < وَإِنْ يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَيُزْلِقُونَكَ بِاٴَبْصَارِہِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ >(1) ”اور يہ كفار قرآن كو سنتے ہيں تو ايسا لگتا ہے كہ عنقريب آپ كو نظروں سے پھسلا ديں گے “۔
اس آيت كے پيش نظر يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ كيا نظر بد كي كو ئي حقيقت ہے؟
بہت سے لوگوں كا ماننا ہے كہ بعض لوگوں كي آنكھوں ميں ايك مخصوص اثر ہوتا ہے كہ جس وقت وہ كسي چيز كو تعجب كي نگاہ سے ديكھتے ہيں تو ممكن ہے وہ خراب ہوجائے يا نيست و نابود ہوجائے، يا اگر كسي انسان كو اس نگاہ سے ديكھ لے تو ياوہ بيمار يا پاگل ہوجائے۔
عقلي لحاظ سے يہ مسئلہ محال نہيں ہے كيونكہ آج كل كے متعدد دانشورں كا ماننا ہے كہ بعض لوگوں كي آنكھوں ميں ايك مقناطيسي طاقت ہوتي ہے جس سے بہت كام ليا جاسكتا ہے، يہاں تك كہ اس كي تمرين اور ممارست سے اس ميں اضافہ بھي كيا جاسكتا ہے، ”مقناطيسي نيند‘ ‘ (ہيپناٹزم Hypnotism) بھي آنكھ كي اسي مقناطيسي طاقت كے ذريعہ ہوتي ہے۔
آج جبكہ ”ليزري شعاعيں“ دكھائي نہ دينے والي لہريں ايسا كام كرتي ہيں جو كسي خطرناك اور تباہ كن ہتھيار سے نہيں ہوسكتا، تو بعض لوگوں كي آنكھوں ميں اس طاقت كا پايا جانا جو مخصوص لہروں كے ذريعہ مد مقابل پر اثر انداز ہوتي ہے، جائے تعجب نہيں رہ جاتا۔
متعدد لوگوں نے يہ بيان كيا ہے كہ ہم نے خود اپني آنكھوں سے بعض لو گوں كي آنكھوں ميں ايسي طاقت كا مشاہدہ كيا ہے جنھوں نے اپني نظر سے انسان يا حيوان يا دوسري چيزوں كو نيست و نابود كرديا ہے۔
لہٰذا نہ صرف اس چيز كے انكار پر اصرار كيا جائے بلكہ عقلي اور علمي لحاظ سے اس كو قبول كيا جاناچاہئے۔
بعض اسلامي روايات ميں بھي ايسے الفاظ ملتے ہيں جن سے اجمالي طور پر اس چيز كي تائيد ہوتي ہے۔
چنانچہ ايك حديث ميں بيان ہوا ہے كہ ”اسماء بنت عميس“ نے پيغمبر اكرم (ص) كي خدمت ميں عرض كي: جعفر كے بچوں كو نظر لگ جاتي ہے كيا ميں ان كے لئے ”رقيہ“ لے لوں (”رقيہ“ اس دعا كو كہتے ہيں جو نظر لگنے سے روكنے كے لئے لكھي جاتي ہے اور اس كا تعويذ بنايا جاتا ہے)
تو پيغمبر اكرم (ص) نے فرمايا: ”نَعَمْ، فَلَو كَانَ شَيءٍ يسبقُ القَدْرِ لَسَبَقَہُ العَيْنِ“(2) ”ہاں، كوئي حرج نہيں ہے، اگر كوئي چيز قضا و قدر پر سبقت لينے والي ہو تي تو وہ نظر بد ہو تي ہے“۔
ايك دوسري حديث ميں بيان ہوا ہے كہ حضرت امير المومنين علي عليہ السلام نے فرمايا: پيغمبر اكرم (ص) نے امام حسن اور امام حسين عليہما السلام كے لئے تعويذ بنايا اور اس دعا كو پڑھا: ”اٴعِيذُ كَمَا بِكَلِمَاتِ التَّامةِ وَ اٴسْمَاءِ اللّٰہِ الحُسْنٰي كُلِّھَا عَامة، مِنْ شرِّ السَّامَةِ وَ الھَّامَةِ، وَ مِنْ
شرِّكُلُّ عَينٍ لَامَّةِ، وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إذَا حَسَد“ (تمہيں تمام كلمات اور اللہ كے اسماء حسني كي پناہ ميں ديتا ہوں ،بري موت، موذي حيوانات، بري نظر اور حسد كرنے والے كے شر سے) ، اور اس كے بعد ہماري طرف ديكھ كر فرمايا: ”جناب ابراہيم عليہ السلام نے اپنے بيٹے اسماعيل اور اسحاق كے لئے يہي تعويذ بنايا تھا۔(3)
اسي طرح نہج البلاغہ ميں بيان ہوا ہے: ”العَيْنُ حَقٌّ وَ الرقيٌّ حَقٌّ“(4) چشم بد اور دعا كے ذريعہ اس كو دفع كرنا حقيقت ركھتے ہيں“۔(5)

(1) سورہٴ قلم ، آيت ۵۱
(2) مجمع البيان ، جلد ۱۰ ، صفحہ 3۴۱
(3) نور الثقلين ، جلد ۵، صفحہ ۴۰۰
(4)نہج البلاغہ، كلمات قصار، نمبر ۴۰۰، (يہ حديث صحيح بخاري، جلد ۷، صفحہ ۱۷۱، باب ”العين حق“ ميں بھي اسي صورت سے نقل ہوئي ہے: العين حق) ، نيز ”معجم لالفاظ الحديث النبوي“ ميں بھي مختلف منابع سے اس حديث كو نقل كيا گيا ہے، (جلد ۴، صفحہ ۴۵۱)
(5) تفسير نمونہ ، جلد ۲۴، صفحہ ۴۲۶
دن كي تصوير
حرم امام رضا عليہ السلام   
ويڈيو بينك