سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:344

جبر اور اختيار كے سلسلہ ميں اسلام كا نظريہ كيا ہے؟

علمائے اسلام كے درميان يہ مسئلہ زمانہٴ قديم سے مورد نزاع رہا ہے ، ايك جماعت انسان كي آزادي اور اختيار كي قائل ہے جبكہ دوسرا گروہ جبر كے نظريہ كا طرفدار ہے، اور ہر جماعت اپنے مقصد كے اثبات كے لئے دلائل پيش كرتي ہے۔
ليكن مزے كي بات يہ ہے كہ ”جبر كے قائل“ بھي اور ”اختيار كے طرفدار“ بھي مقام عمل ميں اختيار اور آزادي كو ہي صحيح مانتے ہيں، يا دوسرے الفاظ ميں يوں كہا جائے كہ يہ تمام بحث و گفتگو صرف علمي ميدان تك ہے، مقام عمل ميں نہيں، جس سے بخوبي اندازہ ہوجاتا ہے كہ تمام انسانوں ميں آزادي، ارادہ اور اختيار اصل ہے، اور اگر اس سلسلہ ميں مختلف وسوسے نہ پائے جائيں تو سبھي انسان آزادي اور اختيار كے طرفدار ہوں گے۔
عام فكر وخيال اور فطرتِ انسان ”نظريہ اختيار“ كي واضح دليل ہے، جو انساني زندگي كے مختلف مواقع پر جلوہ گر ہے،كيونكہ اگر انسان اپنے اعمال ميں خود كو مجبور سمجھے اور اپنے لئے اختيار كا قائل نہ ہو ، تو پھر كيوں:
۱۔ انسان اپنے كئے ہوئے بعض كاموں پر يا بعض كاموں كے نہ كرنے پر پشيمان اور شرمندہ ہوتا ہے، اور يہ طے كرليتا ہے كہ اپنے گزشتہ تجربات سے فائدہ اٹھائے، ”جبر كا عقيدہ ركھنے والوں “كو (بھي) يہ شرمندگي بہت سے موارد ميں پيش آتي ہے، اگر نظريہٴ اختيار صحيح نہيں ہے تو پھر يہ شرمندگي كيسي؟!
۲۔ بُرے لوگوں كي سب مذمت كرتے ہيں، اگر جبر كا نظريہ صحيح ہے تو ملامت كيسي؟!
۳۔ نيك اور اچھے لوگوں كي سب تعريفيں كرتے ہيں، اگر جبر كا نظريہ صحيح ہے تو تعريف كيوں؟!
۴۔ سبھي اپنے بچوں كي تعليم و تربيت ميں كوشش كرتے ہيں تاكہ وہ خوش بخت ہوجائيں، اگر سبھي مجبور ہيں تو پھر تعليم و تربيت كيا معني ركھتي ہے؟!
۵۔ معاشرہ ميں اخلاقي سطح كو بلند كرنے كے لئے سبھي علمااور دانشور كوشش كرتے ہيں۔
۶۔ انسان اپني خطاؤں سے توبہ كرتا ہے، ليكن اگر جبر كے نظريہ كو قبول كيا جائے تو پھر توبہ كي كيا حيثيت ہے؟!
۷۔ انسان اپني كوتاہي اور خاميوں پر حسرت اور افسوس كرتا ہے، كيوں؟
۸۔ پوري دنيا ميں مجرم اور بُرے لوگوں كو سزا ملتي ہے اور سختي كے سا تھ سوال و جواب ہو تے ہيں،ليكن جو كام ان كے اختيار ميں نہيں ہے تو پھر يہ سزا اور بازپرس كيسي؟!
۹۔ پوري دنيا اور تمام مذہب و ملت ميں چاہے وہ مسلم ہوں يا غير مسلم سبھي كے يہاں مجرموں كے لئے سزا معين ہے، ليكن انسان جس كام پر مجبور ہو تو پھر سزا كيسي؟!
۱۰۔ يہاں تك كہ جبري مكتب كے قائل لوگوں كا اگر كوئي نقصان كر ديتا ہے يا كو ئي ان پر ظلم و ستم كرتا ہے تو ان كي فرياد بلند ہوجاتي ہے، اس كو خطاكار شمار كرتے ہيں اور اس كو عدليہ تك لے جاتے ہيں!
خلاصہ يہ كہ اگر حقيقت ميں انسان مختار نہيں ہے تو پشيماني كيوں؟!
مذمت اور ملامت كس لئے؟ اگر كسي كا ہاتھ بے اختيار لرزتا ہو تو كيا اس كو ملامت كي جائے گي؟ كيوں نيك افراد كي مدح و ثنا كي جاتي ہے، كيا انھوں نے اپنے اختيار سے كچھ كيا ہے جو نيك كام كي طرف ترغيب دلانے سے نيك كام كرتے رہتے ہيں؟!
اصولي طور پر تعليم و تربيت كي تاثير كو قبول كرتے ہوئے جبري نظريہ كا كوئي مفہوم ہي باقي نہيں رہتا۔
اس كے علاوہ آزادي اور اختيار كو قبول كئے بغير اخلاقي مسائل كا ہرگز كوئي مفہوم نہيں نكلتا۔
اگر ہم اپنے كاموں ميں مجبور ہوں تو پھر توبہ كيوں؟ كيوں حسرت كي جائے؟ اس لحاظ سے مجبور شخص كو سزا دينا سب سے بڑا ظلم ہے۔
يہ سب چيزيں واضح كرتي ہيں كہ تمام انسانوں ميں آزادي اور اختيار اصل ہے اور نوعِ بشر كا دل بھي اسي چيز كي گواہي ديتا ہے، نہ صرف عوام الناس بلكہ تمام علمااور فلاسفہ مقام عمل ميں اسي طرح ہيں ، يہاں تك كہ جبري نظريہ ركھنے والے بھي مقام عمل ميں اختيار كے نظريہ كو مانتے ہيں: ”الجَبريُّونَ إخْتِيَاريُّونَ مِنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ“!
قابل توجہ بات يہ ہے كہ قرآن مجيد نے اسي مسئلہ پر بارہا تاكيد كي ہے، ارشاد خداوندي ہے: <فَمَنْ شَاءَ إتَّخِذَ اِلٰي رَبَّہِ مَآبَا>(1)”(يہي بر حق دين ہے )تو جس كا جي چاہے اپنے رب كي طرف ٹھكانا بنا لے“۔
قرآن مجيد كي ديگر آيات ميں انسان كے ارادہ و اختيار پر بہت زيادہ اعتماد كيا گيا ہے ، ان سب كو يہاں بيان كرنے كا موقع نہيں ہے صرف دو آيتوں كي طرف اشارہ كيا جاتا ہے:
<إِنَّا ہَدَيْنَاہُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا>(2) ”يقينا ہم نے انسان كو راستہ كي ہدايت دے دي ہے چاہے وہ شكر گزار ہوجائے يا كفران نعمت كرنے والا ہوجائے“۔
اسي طرح ايك دوسري جگہ ارشاد ہوتا ہے: <فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ>(3) ”اب جس كا جي چاہے ايمان لے آئے اور جس كا جي چاہے كافر ہوجائے“۔ (ليكن معلوم ہونا چاہئے كہ ہم نے كافروں كے لئے درد ناك عذاب مہيا كر ركھا ہے)
”جبر و تفويض“ كے سلسلہ ميں گفتگو بہت طويل ہے، اس سلسلہ ميں بہت سي كتابيں اور مقالات لكھے گئے ہيں، ليكن اس مسئلہ ميں صرف قرآن و وجدان كي روشني ميں لكھا گيا ہے، ہم اس گفتگو كو ايك ”اہم نكتہ“ كي ياد دہاني كے ساتھ آگے بڑھاتے ہيں:
مسئلہ جبر سے ايك گروہ كي طرفداري فلسفي يا استدلالي مشكلات كي وجہ سے نہيں تھي بلكہ اس عقيدہ كي پيدائش ميں اجتماعي اور نفسياتي عوامل كا دخل تھا۔
”جبر“ يا ”جبري زندگي“ اور جبر كے معني ميں ”قضا و قدر“ كا عقيدہ ركھنے والے متعدد افراد بعض ذمہ داريوں سے فرار كرنے كے لئے اس عقيدہ كا سہارا ليتے ہيں، جو اس عقيدہ كي آڑ ميں ہر غلط كام اور شكست كي توجيہ كرنا چاہتے ہيں جو خود ان كي سستي اور كاہلي كي بنا پر ہوتا تھا۔
يا اپني ہوس اور بے راہ روي پر اس عقيدہ كا پردہ ڈال كر ہر كام كو جائز كرنا چاہتے تھے۔
اور كبھي استعمار،عوام الناس كي تحريك كو كچلنے اور قوم و ملت كے قہر و غضب كي آگ كو خاموش كرنے كے لئے اپنے عقيدہ كو لوگوں پر حمل كرتا ہے كہ شروع سے تمہاري قسمت ميں يہي تھا لہٰذا اس پر راضي اور تسليم ہونے كے علاوہ كوئي چارہ نہيں !
اس (غلط) نظريہ كے تحت اپنے تمام ظلم و ستم اور غلط اعمال كي توجيہ كرليتے ہيں، اور سبھي گناہگاروں كے گناہوں كي منطقي اور عقلي توجيہ ہوجاتي ہے، اس صورت ميں اطاعت گزار اور مجرم كے درميان كوئي فرق ہي نہيں رہ جاتا۔(4)
انسان كي آزادي اور اختيار كے لئے سورہ فصلت كي يہ آيہٴ كريمہ واضح دليل ہے :<وَمَا رَبُّكَ بِظَلاَّمٍ لِلْعَبِيدِ >(5)يہ آيہٴ شريفہ اس حقيقت كو بيان كرتي ہے كہ خداوندعالم كسي كو بلا وجہ عذاب نہيں ديتا اور نہ ہي كسي كے عذاب ميں دليل كے بغير اضافہ كرتا، اس كے كام صرف عدالت پر مبني ہوتے ہيں، كيونكہ ظلم و ستم كا سر چشمہ؛ كمي اور خامي، جہل و ناداني يا ہوائے نفس ہوتے ہيں، جبكہ خداوندعالم كي ذات اقدس ان تمام چيزوں سے پاك و منزہ ہے۔
قرآن مجيد اپني واضح آيات (بينات) ميں ”جبري نظريہ“ ( جس كے پيش نظر معاشرہ ميں ظلم و فساد پھيلتا ہے ، برائيوں كي تائيد ہوتي ہے اور انسان ہر طرح كي ذمہ داري سے بچ جاتا ہے) كو باطل قرار ديتي ہيں، اور سبھي انسانوں كو اپنے اعمال كا ذمہ دار شمار كرتي ہيں، اور ہر انسان كے اعمال كے نتائج (جزا يا سزا) اسي كي طرف پلٹتے ہيں۔
حضرت امام علي بن موسي الرضا عليہ السلام سے منقول ايك حديث ميں بيان ہواہے، كہ آپ كے ايك صحابي نے سوال كيا: ”ھَلْ يجبَرُ الله عِبَادہ عَلَي المُعَاصِي؟ فَقَالَ:لا ، بَل يُخَيُّرھُم وَ يُمَھِّلُھُم حَتّٰي يَتُوبُوا“
”كيا خداوندعالم اپنے بندوں كو گناہوں پر مجبور كرتا ہے؟ تو امام عليہ السلام نے فرمايا:نہيں، بلكہ ان كو آزاد چھوڑ ديتا ہے اور ان كو مہلت ديتا ہے يہاں تك كہ وہ اپنے گناہوں سے توبہ كرليں“
اس صحابي نے دوبارہ سوال كيا: ”ھل كلف عبادہ ما لايطيقون؟“ كيا خداوندعالم اپنے بندوں كو ”تكليف ما لايطاق“ ديتا ہے ؟ (يعني ايسي چيز كے انجام دينے كے لئے كہتا ہے جس كي انسان ميں طاقت نہ ہو۔)
اس وقت امام عليہ السلام نے جواب ميں فرمايا: ”كَيفَ يَفْعَلُ ذَلكَ؟ وَ ھُوَيَقُولُ: <وَمَا رَبُّكَ بِظَلاَّمٍ لِلْعَبِيدِ>(6) ” وہ كس طرح ايسا كرسكتا ہے جبكہ خود اس نے فرمايا ہے: ’اور آپ كا پروردگار بندوں پر ظلم كرنے والا نہيں ہے“۔
اس كے بعد امام عليہ السلام نے مزيد فرمايا: ہمارے پدر بزرگوار موسيٰ بن جعفر عليہ السلام نے اپنے پدر بزرگوار جعفر بن محمد عليہ السلام سے اس طرح نقل فرمايا ہے: ”جو شخص يہ گمان كرے كہ خداوندعالم اپنے بندوں كو گناہوں پر مجبور كرتا ہے يا تكليف ما لا يطاق ديتا ہے، تو ايسے شخص كے ہاتھوں كا ذبيحہ نہ كھاؤ ، اس كي گواہي قبول نہ كرو، اس كے پيچھے نماز نہ پڑھو، اور اس كو زكوٰة نہ دو، (خلاصہ يہ كہ اس پر اسلام كے احكام جاري نہ كرو)(7)
(قارئين كرام!) مذكورہ حديث سے ضمني طور پر يہ بھي ثابت ہوجاتا ہے كہ يہ ايك ظريف نكتہ ہے كہ ”مكتب جبري“ تكليف مالا يطاق كا دوسرا چہرہ ہے، كيونكہ اگر انسان ايك طرف گناہ كرنے پر مجبور ہو اور دوسري طرف اس كو نہي كي جائے تو يہ تكليف ما لا يطاق كا واضح مصداق ہوگا۔(8)
اسي طرح قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتا ہے: <إِنَّ ہَذِہِ تَذْكِرَةٌ فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَي رَبِّہِ سَبِيلًا>(9) ” بے شك يہ ايك نصيحت كا سامان ہے اب جس كا جي چاہے اپنے پروردگار كے راستہ كو اختيار كرلے“،(يہ خود ايك ياد دہاني ہے جس كے ذريعہ انسان خداوندعالم كے بتائے ہوئے راستہ كا انتخاب كرسكتاہے)
اور چونكہ ممكن تھا كہ كم ظرف لوگ اس مذكورہ تعبير سے مطلق طور پر ”تفويض“ كا تصور كرليں، اسي وجہ سے بعد والي آيت ميں ”تفويض“ كي نفي كے لئے ارشاد ہوا ہے: < وَمَا تَشَاءُ وْنَ إِلاَّ اٴَنْ يَشَاءَ اللهُ > ” اور تم لوگ صرف وہي چاہتے ہو جو پروردگار چاہتا ہے“۔ ”بے شك اللہ ہر چيز كا جاننے والا اور صاحب حكمت ہے“۔ <إِنَّ اللهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا>(10)
در اصل يہ مشہور و معروف قاعدہ”الامر بين الامرين“(۲) كا اثبات ہے، ايك طرف تو خداوندعالم فرماتا ہے: ”خدا نے راستہ دكھا ديا ہے ، راستہ كا انتخاب تمہارا كام ہے“ ، دوسري طرف فرماتا ہے: ”تمہارا انتخاب مشيت الٰہي پر موقوف ہے“، يعني تم مكمل طور پر استقلال نہيں ركھتے بلكہ تمہاري قدرت، آزادي اور ارادہ خدا كي مرضي اور اس كي طرف سے ہے، وہ جس وقت بھي ارادہ كرے تمہاري قدرت اور آزادي كو سلب كرسكتا ہے۔
اس لحاظ سے نہ مكمل ”تفويض“ ہے اور نہ ”اجبار اور سلبِ اختيار“ بلكہ ان دونوں كے درميان ايك دقيق و لطيف حقيقت ہے، بالفاظِ ديگر: ايك قسم كي آزادي ہے ليكن مشيت الٰہي سے وابستہ ،يعني جب بھي خدا چاہے اس آزادي كو واپس لے سكتا ہے، تاكہ بندگان خدا تكاليف اور ذمہ داريوں كا احساس كريں دوسري طرف سے خدا سے بے نيازي كا تصور بھي پيدانہ ہو۔
مختصر: يہ تعبيرات اس وجہ سے ہيں كہ بندے ہدايت، حمايت، توفيق اور تائيد ذات مقدس سے بے نيازي كا تصور نہ كريں، اپنے كاموں كے عزم و ارادہ كو خداوندعالم كے سپرد كريں اور اس كي حمايت كے زير سايہ قدم اٹھائيں۔
يہاں سے يہ بات روشن ہوجاتي ہے كہ بعض جبري مسلك ركھنے والے مفسرين اس آيت كا سہارا ليتے ہيں البتہ وہ اس مسئلہ ميں پہلے سے فيصلہ كرچكے ہيں (يعني جبري نظريہ كو پہلے سے قبول كرچكے ہيں) جيسا كہ فخر رازي كا كہنا ہے: ”وَ اعلم اٴنَّ ھَذِہ الآيةِ مِن جُمْلَةِ الآيَاتِ التي تَلاطمتْ فِيْھَا اٴمْوَاجُ الجَبْرِ وَ القَدْرِ!“(11) ”جاننا چاہئے كہ يہ آيت ان آيات ميں سے ہے جن ميں ”جبر“ كي موجيں متلاطم ہيں“،جي ہاں! اگر اس آيت كو پہلي آيات سے الگ كرليں تو اس طرح كا وہم و گمان كيا جاسكتا ہے ليكن چونكہ ايك آيت ميں ”اختيار“ كي تاثير كو بيان كيا گيا ہے اور دوسري آيت ميں ”مشيتِ پروردگار“ كي تاثير كو بيان كيا گيا ہے، جس سے ”الامر بين الامرين“ كا مسئلہ ثابت ہوجاتا ہے۔
عجيب بات تو يہ ہے كہ ”تفويض“ كے طرفدار افراد بھي اسي آيت كو دليل قرار ديتے ہوئے كہتے ہيں كہ يہ آيت ”مطلقِ اختيار “ كو بيان كرتي ہے، جبكہ ”جبر“ كے طرفدار بھي اس آيت، كہ جس سے صرف جبر كي بو آتي ہے، تمسك كرتے ہيں اور دونوں پہلے سے اپنے كئے ہوئے فيصلہ كي توجيہ كرتے ہيں، جبكہ كلام الٰہي (بلكہ كسي بھي كلام) كو صحيح سمجھنے كے لئے ضروري ہے كہ پہلے اپنے نظريہ كو دور ركھيں اور تعصب سے كام نہ ليتے ہوئے فيصلہ كريں۔آيت كے ذيل ميں فرمايا گيا ہے: <ان اللہ كان عليماً حكيما> جو اسي بات كي طرف اشارہ ہوسكتا ہے كيونكہ خداوندعالم كي حكمت اور اس كا علم اس بات كا مو جب ہے كہ انسان كمال اور ترقي كي منزلوں كو طے كرنے ميں آزاد ہے ورنہ اجباري تكامل و ترقي كوئي كمال نہيں ہے۔
اس كے علاوہ خداوندعالم كا علم اور اس كي حكمت اس بات كي اجازت نہيں ديتي كہ كچھ لوگوں كو نيك كام پر مجبور كرے اور كچھ لوگوں كو برُے كاموں پر مجبور كرے ، پہلے گروہ كو جزا يا انعام دے اور دوسرے گروہ كو سزا اور عذاب ميں مبتلا كرے۔(12)
 

(1) سورہٴ نباء ، آيت ۳۹
(2) سورہٴ دہر ، آيت ۳
(3) سورہٴ كہف ، آيت ۲۹
(4) تفسير نمونہ ، جلد۲۶، صفحہ ۶۴
(5) سورہٴ فصلت ، آيت ۴۶: ”اور آپ كا پروردگار بندوں پر ظلم كرنے والا نہيں ہے“
(6) سورہٴ فصلت ، آيت ۴۶
(7) عيون اخبار الرضا ، نور الثقلين ، جلد ۴، صفحہ ۵۵۵ كے نقل كے مطابق
(8) تفسير نمونہ ، جلد۲۰، صفحہ ۳۰۸
(9) سورہٴ انسان (دہر)، آيت ۲۹
(10)سورہ انسان (دہر) ، آيت ۳۰ 
(11) تفسير فخر رازي ، جلد ۳۰ ، صفحہ ۲۶۲ 
(12) تفسير نمونہ ، جلد ۲۵، صفحہ ۳۸۵
دن كي تصوير
كعبہ
ويڈيو بينك