سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:361

كبھي كبھي ہماري دعاكيوں قبول نہيں ہوتي؟

دعا كي قبوليت كے شرائط كي طرف توجہ كرنے سے بھي بظاہر دعا كے پيچيدہ مسائل ميں نئے حقائق آشكار ہوتے ہيں اور اس كے اصلاحي اثرات واضح ہوجاتے ہيں، اس ضمن ميں ہم چند احاديث پيش كرتے ہيں:
۱۔ دعا كي قبوليت كے لئے ہر چيز سے پہلے دل اور روح كي پاكيزگي كي كوشش كرنا، گناہ سے توبہ اور اصلاح نفس ضروري ہے ، اس سلسلہ ميں خدا كے بھيجے ہوئے رہنماؤں اور رہبروں كي زندگي سے الہام و ہدايات حاصل كرنا چاہئے۔ حضرت امام صادق عليہ السلام نے فرمايا ہے:”جب تم ميں سے كوئي اپنے ربّ سے دنيا و آخرت كي كوئي حاجت طلب كرنا چاہے تو پہلے خدا كي حمد و ثنا كرے، پيغمبر اور ان كي آل پر درود بھيجے، اپنے گناہوں كا اعتراف كرے اورپھر اپني حاجت طلب كرے“(1)
۲۔ اپني زندگي كي پاكيزگي كے لئے غصبي مال اور ظلم و ستم سے بچنے كي كوشش كرے اور حرام غذا نہ كھائے، جيسا كہ پيغمبر اكرم (ص) سے منقول ہے: ”مَنْ اٴحَبَّ اٴنْ يُسْتَجَابَ دُعَائَہُ فَلْيَطِبْ مَطْعَمَہُ وَ مَكْسِبَہ“(2) ”جو شخص چاہتا ہے كہ اس كي دعا قبول ہو تو اس كے لئے اس كي غذا اور كار وبار كاحلال اور پاكيزہ ہوناضروري ہے “
۳۔ فتنہ و فساد كا مقابلہ كرے اور حق كي دعوت دينے ميں كوتاہي نہ كرے كيونكہ جو لوگ امر بالمعروف اور نہي عن المنكر كو ترك كرديتے ہيں ان كي دعا قبول نہيں ہوتي، جيسا كہ پيغمبر اسلام سے منقول ہے: ”امر بالمعروف اور نہي عن المنكر ضرور كرو ، ورنہ خدا بُرے لو گوں كو تمہارے اچھے لوگوں پر مسلط كردے گا، پھر تمہارے اچھے لوگ دعا كريں گے تو ان كي دعا قبول نہيں ہوگي“۔(3)
حقيقت ميں يہ عظيم ذمہ داري جو ملت كي نگہبان ہے اسے ترك كرنے سے معاشرہ كا نظام درہم و برہم ہوجاتا ہے جس كے نتيجہ ميں بدكاروں كے لئے ميدان خالي ہوجاتا ہے، اس صورت ميں دعا اس كے نتائج كو زائل نہيں كرسكتي كيونكہ يہ كيفيت ان كے اعمال كا قطعي اور حتمي نتيجہ ہے۔
۴۔ دعا قبول ہونے كي ايك شرط خدائي عہد و پيمان كو پورا كرنا ہے، ايمان، عمل صالح، امانت اور صحيح كام اس عہد و پيمان كا ايك حصہ ہيں، جو شخص اپنے پروردگار سے كئے گئے عہد كي پاسداري نہيں كرتا اسے يہ توقع نہيں ہونا چاہئے كہ پروردگار كي طرف سے دعا قبول ہونے كا وعدہ اس كے شامل حال ہوگا۔
كسي شخص نے امير المومنين علي عليہ السلام كے سامنے دعا قبول نہ ہونے كي شكايت كرتے ہوئے كہا : خدا كہتا ہے كہ دعا كرو ميں تمہاري دعاؤں كو قبول كرتا ہوں، ليكن اس كے باوجود كيا وجہ ہے كہ ہم دعا كرتے ہيں اور وہ قبول نہيں ہوتي!
اس كے جواب ميں امام عليہ السلام نے فرمايا: ”إنَّ قُلُوبَكُم خَانَ بِثَمانِ خِصَالِ“تمہارے دل و دماغ نے آٹھ چيزوں ميں خيانت كي ہے، ( جس كي وجہ سے تمہاري دعا قبول نہيں ہوتي):
۱۔ تم نے خدا كو پہچان كر اس كا حق ادا نہيں كيا، اس لئے تمہاري معرفت نے تمہيں كوئي فائدہ نہيں پہنچايا۔
۲۔ تم اس كے بھيجے ہوئے پيغمبر پر ايمان تو لے آئے ہو ليكن اس كي سنت كي مخالفت كرتے ہو، ايسے ميں تمہارے ايمان كا كيا فائدہ ہے؟
۳۔ تم اس كي كتاب كو تو پڑھتے ہومگر اس پر عمل نہيں كرتے، زباني طور پر تو كہتے ہو كہ ہم نے سنا اور اطاعت كي، ليكن عملي ميدان ميں اس كي مخالفت كرتے رہتے ہو!
۴۔ تم كہتے ہو كہ ہم خدا كے عذاب سے ڈرتے ہيں ليكن اس كے باوجود اس كي نافرماني كي طرف قدم بڑھاتے ہو اور اس كے عذاب سے نزديك ہوتے رہتے ہو۔
۵۔ تم كہتے ہو كہ ہم جنت كے مشتاق ہيں حالانكہ تم ہميشہ ايسے كام كرتے ہو جو تمہيں اس سے دور لے جاتے ہيں۔
۶۔ نعمتِ خدا سے فائدہ اٹھاتے ہو ليكن اس كے شكر كا حق ادا نہيں كرتے!
۷۔ اس نے تمہيں حكم ديا ہے كہ شيطان سے دشمني ركھو (اور تم اس سے دوستي كا نقشہ بناتے رہتے ہو) تم شيطان سے دشمني كا دعويٰ تو كرتے ہو ليكن عملي طور پر اس كي مخالفت نہيں كرتے۔
۸۔ تم نے لوگوں كے عيوب كو اپنا نصب العين بنا ركھا ہے اور اپنے عيوب كو مڑكر بھي نہيں ديكھتے۔ ان حالات ميں تم كيسے اميد ركھتے ہو كہ تمہاري دعا قبول ہو جب كہ تم نے خود اس كي قبوليت كے دروازے بند كر ركھے ہيں۔تقويٰ و پرہيزگاري اختيار كرو، اپنے اعمال كي اصلاح كرو، امر بالمعروف اور نہي عن المنكر كرو تاكہ تمہاري دعا قبول ہوسكے۔(4)
يہ پُر معني حديث صراحت كے ساتھ اعلان كررہي ہے:
خدا كي طرف سے دعا قبول ہونے كا وعدہ مشروط ہے مطلق نہيں، بشرطيكہ تم اپنے عہد و پيمان پورا كرو حالانكہ تم آٹھ طرح سے پيمان شكني كرتے ہو، تم عہد شكني نہ كرو تو تمہاري دعا قبول ہوجائے گي۔
مذكورہ آٹھ احكام جو دعا كي قبوليت كے شرائط ہيں انسان كي تربيت، اس كي توانائيوں كو اصلاح كرنے اور اسے ثمر بخش بنانے كے لئے كافي ہيں۔
۵۔ دعا كي قبوليت كے لئے ايك شرط يہ ہے كہ دعا عمل اور كوشش كے ہمراہ ہو، حضرت امير المومنين علي عليہ السلام كے كلمات قصار ميں بيان ہوا ہے: ”الداعي بلا عمل كالرامي بلا وتر!“(عمل كے بغير دعا كرنے والا، بغير كمان كے تير چلانے والے كے مانند ہے)۔
اس چيز كي طرف توجہ ركھنا چاہئے كہ چلہٴ كمان تير كے لئے عامل حركت اور ہدف كي طرف پھينكنے كا وسيلہ ہے اس سے تاثيرِ دعا كے لئے عمل كي اہميت واضح ہوجاتي ہے۔
مذكورہ پانچوں شرائط سے يہ واضح ہوجاتا ہے كہ نہ صرف يہ كہ مادي علل و اسباب كے بجائے دعا قبول نہيں ہوتي بلكہ قبوليت دعا كے لئے دعا كرنے والے كي زندگي ميں ايك مكمل تبديلي بھي ضروري ہے، اسے اپني فكركو نئے سانچے ميں ڈھالنا چاہئے اور اسے اپنے گزشتہ اعمال پر تجديد نظر كرنا چاہئے۔
ان تمام مطالب كے پيش نظر دعا كو اعصاب كمزور كرنے والي ا ور كاہلي كا سبب قرار دينا كيابے خبري اور غفلت نہيں ہے؟! اور كيا يہ تہمت كسي غرض كے لئے نہيں ہے؟!(5)
 

(1) سفينة البحار ، جلد اول صفحہ ۴۴۸و ۴۴۹ 
(2) سفينة البحار ، جلد اول ، صفحہ ۴۴۸و ۴۴۹
(3) سفينة البحار ، جلد اول ، صفحہ ۴۴۸
(4)نہج البلاغہ، حكمت نمبر ۳۳۷ 
(5) تفسير نمونہ ، جلد اول ، صفحہ ۶۴۳
دن كي تصوير
تل زينبيہ
ويڈيو بينك