سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:293

دعا و زاري كا فلسفہ كيا ہے؟

دعا كي حقيقت، اس كي روح اور اس كے تربيتي اور نفسياتي اثر سے بے خبر لوگ دعا پر طرح طرح كے اعتراضات كرتے ہيں۔
كبھي كہتے ہيں: يہ اعصاب كو كمزور اور بے حس كرديتي ہے كيونكہ ان كي نظر ميں دعا لوگوں كو فعاليت، كوشش، ترقي اور كاميابي كے وسائل كے بجائے اسي راستہ پر لگا ديتي ہے، اور انھيں سعي و كوشش كے بدلے اسي پر اكتفا كرنے كا سبق ديتي ہے ۔
كبھي كہتے ہيں: دعا اصولي طور پر خدا كے معاملات ميں بے جا دخل اندازي كا نام ہے، خدا جيسي مصلحت ديكھے گا اسے انجام دے گا، وہ ہم سے محبت كرتا ہے اور ہمارے مصالح و منافع كو بہتر جانتا ہے، پھر كيوں ہر وقت ہم اپني مرضي اور پسند كے مطابق اس سے سوال كرتے رہيں؟!
كبھي كہتے ہيں: ان تمام چيزوں كے علاوہ دعا؛ارادہٴ الٰہي پر راضي رہنے اور اس كے سامنے سرِ تسليم خم كرنے كے منافي ہے!
(قارئين كرام!) جو لوگ اس طرح كے اعتراضات كرتے ہيں وہ دعا اور تضرع و زاري كے نفسياتي، اجتماعي، تربيتي اور معنوي و روحاني آثار سے غافل ہيں، انسان ؛ ارادہ كي تقويت اور دكھ درد كے دور ہونے كے لئے كسي سہارے كا محتاج ہے، اور دعا انسان كے دل ميں اميد كي كرن چمكا ديتي ہے، جو لوگ دعا كو فراموش كئے ہوئے ہيں وہ نفسياتي اور اجتماعي طور پر ناپسنديدہ عكس العمل سے دوچار ہوتے ہيں۔
ايك مشہور ماہر نفسيات كا كہنا ہے: ”كسي قوم ميں دعا و تضرع كا فقدان اس ملت كي تباہي كے برابر ہے، جس قوم نے دعا كي ضرورت كے احساس كا گلا گھونٹ ديا ہے وہ عموماً فساد اور زوال سے محفوظ نہيں رہ سكتي“۔
البتہ اس بات كو نہيں بھولنا چاہئے كہ صبح كے وقت دعا اور عبادت كرنا اور باقي تمام دن ايك وحشي جانور كي طرح گزارنا، بيہودہ اور فضول ہے، دعا كو مسلسل جاري رہنا چاہئے، كيونكہ كہيں ايسا نہ ہو كہ انسان اس كے عميق اثر سے ہاتھ دھو بيٹھے۔(1)
جو لوگ دعا كو كاہلي اور سستي كا سبب سمجھتے ہيں وہ دعا كے معني ہي نہيں سمجھے، كيونكہ دعا كا يہ مطلب نہيں كہ مادي وسائل و اسباب سے ہاتھ روك ليا جائے اور صرف دستِ دعا بلند كيا جائے، بلكہ مقصد يہ ہے كہ تمام موجودہ وسائل كے ذريعہ اپني پوري كوشش بروئے كار لائي جائے اور جب معاملہ انسان كے بس ميں نہ رہے اور وہ مقصد تك نہ پہنچ پائے تو دعا كا سہارا لے، توجہ كے ساتھ خدا پر بھروسہ كرے اپنے اندر اميد كي كرن پيدا كرے اور اس مبداٴ عظيم كي بے پناہ نصرتوں كے ذريعہ مدد حاصل كرے۔
لہٰذا دعا مقصد تك نہ پہونچنے كي صورت ميں ہے نہ كہ يہ فطري اسباب كے مقابلہ ميں كوئي سبب ہے۔
مذكورہ ماہر نفسيات لكھتا ہے:
”دعا انسان ميں اطمينان پيدا كرنے كے ساتھ ساتھ انسان كي فكر ميں ايك طرح كي شگفتگي پيدا كرتي ہے ، باطني انبساط كا باعث بنتي ہے اور بعض اوقات يہ انسان كے لئے بہادري اور دلاوري كي روح كو ابھارتي ہے، دعا كے ذريعہ انسان پر بہت سي علامات ظاہر ہوتي ہيں ، جن ميں سے بعض تو صرف دعا سے مخصوص ہيں، جيسے نگاہ كي پاكيزگي، كردار ميں سنجيدگي، باطني انبساط و مسرت، مطمئن چہرہ، استعداد ہدايت اور حوادث كا استقبال كرنے كا حوصلہ ، يہ سب دعا كے اثرات ہيں، دعا كي قدرت سے پسماندہ اور كم استعداد لوگ بھي اپني عقلي اور اخلاقي قوت كو بہتر طريقہ سے كار آمد بناليتے ہيں اور اس سے زيادہ سے زيادہ فائدہ اٹھاتے ہيں ، ليكن افسوس كي بات ہے كہ ہماري دنيا ميں دعا كے حقيقي رخ كو پہچاننے والے لوگ بہت كم ہيں “۔(2)
(قارئين كرام!) ہمارے مذكورہ بيان سے اس اعتراض كا جواب واضح ہوجاتا ہے كہ دعا تسليم و رضا كے منافي ہے، كيونكہ جيسا كہ ہم پہلے بيان كرچكے ہيں دعا؛ پروردگار كے بے انتہا فيض سے زيادہ سے زيادہ كسبِ كمال كا نام ہے۔
دوسرے الفاظ ميں يوں كہا جائے كہ انسان دعا كے ذريعہ پروردگار كي زيادہ سے زيادہ توجہ اور فيض كے حصول كي اہليت اور استعداد حاصل كرليتا ہے، اور يہ بات واضح ہے كہ تكامل كي كوشش اور زيادہ سے زيادہ كسب كمال كي سعي قوانين آفرينش كے سامنے تسليم و رضا ہے ، اس كے منافي نہيں ہے۔
ان سب كے علاوہ دعا ايك طرح كي عبادت، خضوع اور بندگي كا نام ہے، انسان دعا كے ذريعہ ذات الٰہي كے ساتھ ايك نئي وابستگي پيدا كرتا ہے، اور جيسے تمام عبادات ؛ تربيتي تاثير ركھتي ہيں اسي طرح دعا ميں بھي يہي تاثير پائي جاتي ہے۔
جو لوگ يہ كہتے ہيں كہ دعا امور الٰہي ميں مداخلت ہے اور جو كچھ مصلحت كے مطابق ہو خدا عطا كرديتا ہے، چنانچہ وہ لوگ اس طرف متوجہ نہيں ہيں كہ عطيات خداوندي استعداد اور لياقت كے لحاظ سے تقسيم ہوتے ہيں، جتني استعداد اور لياقت زيادہ ہوگي انسان كو عطيات بھي اس لحاظ سے نصيب ہوں گے۔
اسي وجہ سے ہم ديكھتے ہيں كہ حضرت امام صادق عليہ السلام نے فرمايا: ”إنَّ عِنْدَ الله عَزَّ وَ جَلَّ مَنْزِلَةٌ لَاتَنَالُ إلاَّ بِمَساٴلةٍ“(3) ”خداوندعالم كے يہاں ايسے مقامات اور منازل ہيں جو بغير مانگے نہيں ملتے“۔
ايك دانشور كا كہنا ہے: جس وقت ہم دعا كرتے ہيں تو اپنے آپ كو ايك ايسي لامتناہي قوت سے متصل كرليتے ہيں جس نے ساري كائنات كي اشيا كو ايك دوسرے سے پيوستہ كر ركھا ہے“۔(4)
نيز موصوف كا كہنا ہے: ”آج كا جديد ترين علم يعني علم نفسيات بھي يہي تعليم ديتا ہے جو انبياء كي تعليم تھي، كيونكہ نفسياتي ڈاكٹراس نتيجہ پر پہنچے ہيں كہ دعا، نماز اور دين پر مستحكم ايمان؛ اضطراب، تشويش، ہيجان اور خوف كو دور كرديتا ہے جو ہمارے دكھ درد كا آدھے سے زيادہ حصہ ہے“۔(5) (6)

(1) ”نيايش“ تاليف :طبيب و روانشناس مشہور ”الكسيس كارل“
(2)”نيايش الكسيس كارل
(3) اصول كافي ، جلد دوم، صفحہ ۳۳۸ ، بابُ فَضْل الدُّعَا ء والحِثُّ عَلَيہ ، حديث۳
(4) آئين زندگي ، صفحہ۱۵۶
(5) آئين زندگي ، صفحہ ۱۵۲
(6) تفسير نمونہ ، جلد اول ، صفحہ ۶۳۹
دن كي تصوير
ويڈيو بينك