سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:422

توكل كي حقيقت اور اس كا فلسفہ كيا ہے؟

”توكل“ در اصل ”وكالت“ سے مشتق ہے، اور وكيل انتخاب كرنے كے معنيٰ ميں ہے اور ہم جانتے ہيں كہ ايك اچھا وكيل وہي ہے جو كم از كم چار صفات كا حامل ہو۔
۱۔ضروري معلو مات۔
۲۔ امانت داري ۔
۳۔ طاقت و قدرت۔
۴۔ ہمدردي ۔
شايد اس بات كو بيان كرنے كي ضرورت نہ ہو كہ مختلف كاموں كے لئے ايك مدافع وكيل كا انتخاب اس مو قع پر ہو تا ہے جہاں انسان ذاتي طور پر دفاع كرنے پر قادر نہ ہو، يہي وجہ ہے كہ وہ اس موقع پر دوسرے كي قوت سے فائدہ حاصل كرتا ہے اور اس كي طاقت و صلاحيت كے ذريعہ اپني مشكل حل كرتا ہے۔
لہٰذا خدا پر تو كل كرنے كا اس كے علاوہ كوئي اور مفہوم نہيں ہے كہ انسان زندگي كي مشكلات و حوادث ،مخالفين كي دشمنيوں اور سختيوں، پيچيدگيوں اور كبھي اہداف كے راستے ميں حائل ركاوٹوں كو خوددور كرنے كي طاقت نہ ركھتا ہو تو اسے اپنا وكيل قراردے اور اس پر بھروسہ كرے اور خود بھي ہمت اور كوشش كرتارہے بلكہ جہاں كسي كام كوخود انجام دينے كي طاقت ركھتا ہو وہاں بھي موٴثر حقيقي ،خدا ہي كو مانے كيونكہ اگر ايك موحّد كي چشم بصيرت سے ديكھا جائے تو تمام قدرتوں اور قوتوں كاسر چشمہ وہي ہے۔
”تَوَكَّل عَلَي الله “ كانقطئہ مقابل يہ ہے كہ اس كے غير پر بھروسہ كياجائے، يعني كسي غير كے سہارے پر جينا، دوسرے سے وابستہ ہونا اور اپني ذات ميں استقلال و اعتماد سے عاري ہونا۔
علمائے اخلاق كہتے ہيں كہ توكل،براہ راست خدا كي توحيد افعالي كا نتيجہ ہے كيو نكہ جيسے ہم نے كہا ہے كہ ايك موٴحّد كي نظر ميں ہر حركت، ہر كوشش، ہر جنبش اور اسي عالم ميں ہر چيز آخر كار اس جہان كي پہلي علت يعني ذات خدا سے ارتباط ركھتي ہے، لہٰذا ايك موٴ حّد كي نگاہ ميں تمام طاقتيں اور كاميابياں اسي كي طرف سے ہيں۔
توكل كا فلسفہ
( قا رئين كرام ! ) ہماري مذ كورہ گفتگو پر تو جہ كرنے سے معلوم ہو جا تا ہے:
اولا ً:”تَوَكَّل عَلَي الله “ زندگي كے سخت واقعات و مشكلات ميں اس نا قابل فنا مركز قدرت پر توكل انسان كي استقامت و مقاومت كا سبب بنتا ہے يہي وجہ ہے كہ جب مسلمانوں نے ميدان احد ميں سخت ضرب كھائي اور دشمن ميدان چھوڑ نے كے بعد دو بارہ پلٹ آئے تاكہ مسلمانوں پر آخر ي ضرب لگائيں اور يہ خبر مسلمانوں كو پہنچي تو اس موقع پر قرآن كہتا ہے كہ صاحب ايما ن افراد اس خطر ناك لمحہ ميں وحشت زدہ نہ ہوئے جب كہ وہ اپني فعّال قوت كا ايك اہم حصہ كھو چكے تھے بلكہ ”توكل “ اور قوتِ ايماني نے ان كي استقامت ميں اضافہ كرديا اور فاتح دشمن اس آ مادگي كي خبر سنتے ہي تيزي سے پيچھے ہٹ گيا (سورہ آل عمران ، آيت ۱۷۳)
توكل كے سائے ميں اس استقامت كے نمونے متعدد آيات ميں نظر آتے ہيں، ان ميں سے سورہ آل عمران كي ، آيت ۱۲۲ ميں قرآن مجيدكہتا ہے :توكل علي اللہ نے مجاہدين كے دو گرو ہوں كو ميدان جہاد ميں سستي سے بچايا۔
سورہٴ ابراہيم كي ، آيت نمبر ۱۲ /ميں دشمن كے حملوں اور نقصانات كے مقابل ميں توكل اور صبر كا با ہم ذكر ہوا ہے۔
آل عمران كي آيت۱۵۹ /ميں اہم كاموں كي انجام دہي كے لئے پہلے مشورہ اس كے بعد پختہ ارادہ اور پھر ”تَوَكَّل عَلَي الله “ كا حكم ديا گيا ہے، يہاں تك كہ قرآن كہتا ہے :
<إِنَّہُ لَيْسَ لَہُ سُلْطَانٌ عَلَي الَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَي رَبِّہِمْ يَتَوَكَّلُونَ >(1)
”شيطان ہرگز لوگوں پر غلبہ نہيں پاسكتا جو صاحبان ايمان ہيں اور جن كا اللہ پر توكل اور اعتماد ہے“۔
ان آيات سے مجموعي طور پر يہ نتيجہ نكلتاہے كہ شديد مشكلات ميں انسان ضعف اور كمزوري محسوس نہ كرے بلكہ اللہ كي بے انتہا قدرت پر بھروسہ كرتے ہوئے اپنے آپ كو كامياب اور فاتح سمجھے، گويا توكل اميد آفريں، قوت بخش، تقويت پہچانے والا اور استقامت ميں اضافہ كرنے كا باعث ہے، توكل كا مفہوم اگر گوشہ نشيني اختيار كرنا اور ہاتھ پر ہاتھ ركھ كر بيٹھ جانا ہوتا تو مجاہدين اور اس قسم كے لوگوں ميں تحريك پيدا كرنے كا باعث نہ بنتا۔
اگر كچھ لوگ يہ خيال كرتے ہيں كہ عالم اسباب اور طبيعي عوامل كي طرف توجہ روح ِ توكل سے مناسبت نہيں ركھتي تووہ انتہائي غلط فہمي ميں مبتلا ہيں، كيونكہ طبيعي عوامل كے اثرات كو ارادہٴ الٰہي سے جدا كرنا ايك طرح كا شرك ہے، كيا ايسا نہيں ہے ،كہ عواملِ طبيعي كے پاس جو كچھ ہے وہ اسي كا ہے اور سب كچھ اسي كے ارادہ اور فرمان كے تحت ہے، البتہ اگر عوامل كو ايك مستقل طاقت سمجھا جائے اور انھيں اس كے ارادہ كے مد مقابل قرار ديا جائے تو يہ چيز روحِ توكل سے مطابقت نہيں ركھتي۔
يہ توكل كي ايسي تفسير كرنا كيسے ممكن ہے جبكہ خود متوكلين كے سيد وسردار پيغمبر اكرم (ص) اپنے اہداف كي ترقي كے لئے كسي موقع پر، صحيح منصوبہ، مثبت ٹكنيك اور مختلف ظاہري وسائل سے غفلت نہيں برتتے تھے۔
يہ سب چيزيں ثابت كرتي ہيں كہ توكل كا منفي مفہوم نہيں ہے۔
ثانياً: ”تَوَكَّل عَلَي الله “ انسان كو ان وابستگيوں سے نجات دلاتا ہے جو ذلت و غلامي كا سر چشمہ ہيں اور اسے آزادي اور خود اعتمادي عطا كرتا ہے۔
”توكل “ اور ”قناعت“ ہم ريشہ ہيں اور فطرتاً ان دونوں كا فلسفہ بھي كئي پہلوؤں سے ايك دوسرے سے مشباہت ركھتا ہے، اس كے باوجود ان ميں فرق بھي ہے يہاں ہم چند اسلامي روايات پيش كرتے ہيں جن سے توكل كا حقيقي مفہوم اور اصلي بنياد واضح ہوسكے۔
حضرت امام صادق عليہ السلام كا فرمان ہے: ”إنَّ الغِنَا وَالْعِزَ يَجُولانِ فَإذَا ظَفَرَا بِمُوضَعِ التَّوَكّل وَطَنا“(2) ”بے نيازي اور عزت محو جستجو رہتي ہيں جہاں توكل كو پاليتي ہيں وہيں ڈيرے ڈال ديتي ہے اور اسي مقام كو اپنا وطن بنا ليتي ہيں“۔
اس حديث ميں بے نيازي اور عزت كا اصلي وطن ”توكل“ بيان كيا گيا ہے۔
پيغمبر اكرم (ص) سے منقول ہے كہ آپ نے فرمايا:
”جب بندہ اس حقيقت سے آگاہ ہوجاتا ہے كہ مخلوق اس كو نقصان پہنچا سكتي ہے اور نہ فائدہ ، تو وہ مخلوق سے توقع اٹھا ليتا ہے تو پھر وہ خدا كے علاوہ كسي كے لئے كام نہيں كرتا، اور اس كے سوا كسي سے اُميد نہيں ركھتا ہے ، اور يہي حقيقت توكل ہے“۔(3)
كسي نے حضرت امام علي بن موسيٰ الرضا عليہ السلام سے سوال كيا: ”مَا حَدُّ التَّوَكُّل“(توكل كي حد كيا ہے؟):تو آپ نے فرمايا:”إنّ لَاتَخَافَ مَعَ اللّٰہِ اٴحداً“ (4) ”خدا پر بھروسہ كرتے ہوئے كسي سے نہ ڈرو“۔(5)(6)

(1) سورہٴ نحل ، آيت ۹۹
(2) اصول كافي ، جلد دوم،بَابُ التَّفْوِيضِ إلَي اللهِ وَالتَّوَكُّل عَلَيہِ، حديث۳
(3) بحار الانوار، جلد۱۵، اخلاق كي بحث ميں صفحہ ۱۴ ، طبع قديم
(4) سفينة البحار ، جلد دوم، صفحہ ۶۸۲
(5) توكل كے بارے ميں مزيد وضاحت كے لئے ”انگيزہ پيدائش مذہب“ كي طرف رجوع فرمائيں
(6)تفسير نمو نہ ، جلد ۱۰صفحہ ۲۹۵
دن كي تصوير
حرم امامين عسكريين عليهما السلام   
ويڈيو بينك