سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:359

رجعت كيا ہے اور كيا اس كا امكان پايا جاتا ہے؟

”رجعت“ ؛ شيعوں كا معروف عقيدہ ہے اور ايك مختصر جملہ ميں اس كے معني يہ ہيں: ”امام زمانہ (ع) كے ظہور كے بعد اور روز قيامت سے پہلے ”خالص مومنين“ كا ايك گروہ اور ”كفار اور بہت سركش و شرير لوگوں كا ايك گروہ“ اس دنيا ميں لوٹايا جائے گا، پہلا گروہ (يعني مومنين) كمال كي منزلوں كو طے كرے گا اور دوسرا گروہ بہت سخت سزا پائے گا“۔
جليل القدر شيعہ عالم دين ”سيد مرتضي“ عليہ الرحمہ فرماتے ہيں: ”امام مہدي (ع) كے ظہور كے بعد خداوندعالم بہت سے لوگوں كو مر نے كے بعد پھر اس دينا ميں پلٹائے گا، تاكہ امام زمانہ عجل اللہ تعاليٰ فرجہ الشريف كي مدد كا افتخار اور ثواب حاصل كريں ، عالمي حكومت حق (و عدالت) ميں شريك ہوں، اور اسي طرح سخت ترين دشمنوں كو بھي اس دنيا ميں لوٹا ئے گا تاكہ ان سے انتقام ليا جاسكے۔
اس كے بعد موصوف مزيد بيان كرتے ہيں: اس عقيدہ كے صحيح ہونے پر دليل يہ ہے كہ كوئي بھي عاقل اس كام پر خدا كي قدرت سے انكار نہيں كرسكتا، كيونكہ يہ مسئلہ كوئي محال كام نہيں ہے، حالانكہ ہمارے بعض مخالفين اس موضوع كا اس طرح انكار كرتے ہيں كہ گويا يہ كام محال اور غير ممكن ہے۔
اس كے بعدسيد بزر گوار فرماتے ہيں: اس عقيدہ كي دليل” فرقہ اماميہ كا اجماع“ ہے، كيونكہ اس عقيدہ ميں كسي نے بھي مخالفت نہيں كي ہے۔(1)
اگرچہ بعض قديم شيعہ علمااور اسي طرح مرحوم طبرسي صاحب مجمع البيان كي گفتگو سے يہ نتيجہ نكلتا ہے كہ بہت ہي كم شيعہ علمانے اس عقيدہ كي مخالفت كي ہے، اور ”رجعت“ كے معني ”حكومت اہل بيت عليہم السلام كي بازگشت “كئے ہيں، نہ لوگوں كي بازگشت اور مردوں كا زندہ ہونا، ليكن ان افراد كي مخالفت كچھ اس طرح ہے جس سے اجماع پر كوئي فرق نہيں پڑتا۔
يہاں پر بہت سي بحثيں ہيں ليكن ہم ان كا خلاصہ پيش كرتے ہيں:
۱۔ بے شك اس دنيا ميں مردوں كا زندہ ہونا كوئي محال كام نہيں ہے، جيسا كہ قيامت ميں تمام انسانوں كا زندہ ہونا مكمل طور پر ممكن ہے، اور اس (رجعت) پر تعجب كرنا گويا زمانہٴ جاہليت ميں قيامت كے مسئلہ پر تعجب كي طرح ہے ، اس كا مذاق اڑانا، مشركين كا قيامت كے مذاق اڑانے كي طرح ہے ،كيونكہ عقل اس طرح كے كام كو محال نہيں مانتي، اور خدا كي وسيع قدرت كے سامنے يہ كام بہت آسان ہے۔
۲۔ قرآن مجيد ميں اجمالي طور پر گزشتہ امتوں كے پانچ مواقع پر ”رجعت“ كا واقعہ پيش آيا ہے۔
الف۔ جيسا كہ قرآن مجيد ميں ايك بني كے بارے ميں ارشاد ہوا ہے: يا اس بندہ (نبي) كي مثال جس كا گزر ايك قريہ سے ہوا جس كے سارے ستون اور چھتيں گرچكي تھيں تو اس بندہ نے كہا كہ خداان سب كو موت كے بعد كس طرح زندہ كرے گا؟ تو خدا نے اس بندہ كو سو سال كے لئے موت ديدي اور پھر زندہ كيا او ر پوچھا كہ كتني دير پڑے رہے؟ تو اس نے كہا كہ ايك دن يا اس سے كچھ كم، فرمايا: نہيں، سو سال، ذرا اپنے كھانے اور پينے كو تو ديكھو كہ خراب تك نہيں ہوا اور اپنے گدھے پر نگاہ كرو (كہ سڑ گل گيا ہے) اور ہم اسي طرح تمہيں لوگوں كے لئے ايك نشاني بنانا چاہتے ہيں(سورہ بقرہ ، آيت ۲۵۹)
اس نبي كا نام عزير تھا يا كچھ اور ،اس سے كوئي فرق نہيں پڑتا، اہم بات يہ ہے كہ قرآن مجيد نے واضح الفاظ ميں بيان كيا ہے كہ وہ موت كے بعد اسي دنيا ميں دوبارہ زندہ ہوئے۔ <فَاٴَمَاتَہُ اللهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَہُ >
ب۔ قرآن كريم كے سورہ بقرہ ميں ان لوگوں كے بارے ميں گفتگو ہوئي ہے: ”جو ہزاروں كي تعداد ميں موت كے خوف سے اپنے گھروں سے نكل پڑے (اور بعض مفسرين كے قول كے مطابق يہ لوگ طاعون كي بيماري كا بہانہ بنا كر ميدان جہاد ميں جانا نہيں چا ہتے تھے )اور خدا نے انھيں موت كا حكم ديديا اور پھر زندہ كرديا: <فَقَالَ لَہُمْ اللهُ مُوتُوا ثُمَّ اٴَحْيَاہُمْ>(2)
اگرچہ اس غير معمولي واقعہ كو ہضم نہ كرنے والے مفسرين نے اس كو صرف ايك مثال شمار كيا ہے، ليكن يہ بات واضح ہے كہ اس طرح كے الفاظ؛ ظہور بلكہ آيت كي صراحت كے مقابل ، قابل قبول نہيں ہيں۔
ج۔ سورہ بقرہ كي آيات ميں ”بني اسرائيل“ كے بارے ميں بيان ہوا ہے كہ ديدار خدا كے تقاضا كے بعد ان لوگوں پر ہلاك كرنے والي بجلي گري اور وہ لوگ مرگئے، اس كے بعد خدا نے ان كو زندہ كيا تاكہ اس كي نعمتوں كا شكر ادا كريں: <ثُمَّ بَعَثْنَاكُمْ مِنْ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ>(3) ” پھر ہم نے تمہيں موت كے بعد زندہ كرديا كہ شايد اب شكر گزار بن جاؤ“۔
د۔ سورہ مائدہ ، آيت نمبر ۱۱۰ ميں جناب عيسيٰ عليہ السلام كے معجزات كو شمار كيا گيا ہے كہ وہ خدا كے حكم سے مردوں كو زندہ كرتے تھے: <وَإذَا تَخْرجُ المَوتٰي بِاذنِي> ”تم مردوں كو ميرے حكم سے زندہ كرتے تھے“۔
يہ الفاظ اس بات كي عكاسي كرتے ہيں كہ جناب عيسيٰ عليہ السلام اپنے اس معجزہ (يعني مردوں كو زندہ كرنے) سے فائدہ اٹھاتے تھے، بلكہ آيت ميں ”تخرج“ كا لفظ استعمال ہوا ہے جو تكرار پر دليل ہے اور يہ خود رجعت كي ايك قسم شمار ہوتي ہے۔
ھ۔ اور آخر ي موقع سورہ بقرہ كي آيت نمبر ۷۳ ميں بني اسرائيل كے مقتول كے بارے ميں بيان ہوا كہ جب بني اسرائيل ميں اس كے قاتل كي پہچان كےسلسلہ ميں اختلاف ہوا، چنا نچہ اس سلسلہ ميں قرآن كا ارشاد ہے: <فَقُلْنَا اضْرِبُوہُ بِبَعْضِہَا كَذَلِكَ يُحْيِ اللهُ الْمَوْتَي وَيُرِيكُمْ آيَاتِہِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ>”تو ہم نے كہا كہ مقتول كو گائے كے ٹكڑے سے مس كردو ،خدا اسي طرح مردوں كو زندہ كرتا ہے اور تمہيں اپني نشانياں دكھلاتا ہے كہ شايد تمہيں عقل آجائے“۔
ان پانچ موارد كے علاوہ قرآن مجيد ميں اور ديگر واقعات ملتے ہيں جيسا كہ اصحاب كہف كا واقعہ جو تقريباً ”رجعت“ سے مشابہ ہے، اسي طرح جناب ابراہيم عليہ السلام كا چار پرندوں كو ذبح كرنا اور ان كا دوبارہ زندہ ہونا، تاكہ انسانوں كے لئے قيامت ميں دوبارہ زندہ ہونے كا تصور مجسم ہوجائے، يہ واقعہ بھي رجعت كے سلسلہ ميں قابل توجہ ہے۔
اور يہ كس طرح ممكن ہے كہ كوئي قرآن مجيد پر ايك آسماني كتاب كے عنوان سے عقيدہ ركھتا ہو،ليكن ان تمام آيات كے پيش نظر رجعت كے امكان كا منكر ہوجائے؟ كيا رجعت كے معني مرنے كے بعد دوبارہ زندہ ہونے كے علاوہ كچھ اور ہيں؟
كيا اسي دنيا ميں قيامت كا ايك نمونہ رجعت نہيں ہے؟
جو شخص قيامت كو اس كي تفصيل كے ساتھ مانتا ہے تو پھر ايسے شخص كے لئے رجعت كا انكار كرنا يا اس كا مذاق اڑانا يا احمد امين مصري كي طرح كتاب ”فجر الاسلام“ ميں كہنا كہ ”اليَھُودِ يَّةُ ظَھرَتْ بِالتَّشيُّعْ بِالقُولِ بِالرَّجْعَةِ“(4) ”يہوديت كا ايك دوسرا رخ شيعوں كے لباس ميں ”رجعت“ كے عقيدہ كے ساتھ ظاہر ہوا ہے“واقعا ً جائے تعجب ہے ۔
احمد امين كے اس قول اور دور جاہليت كے مشركين كے جسماني معاد كے انكار ميں كيا فرق ہے ؟!
۳۔ يہاں تك جو كچھ ہم نے بيان كيا ہے اس سے ”رجعت“ كا ممكن ہونا ثابت ہوجاتا ہے، اور رجعت كے واقع ہونے كي تائيد كر نے والي بہت سي روايات ہيں جن كو ائمہ معصومين عليہم السلام سے بہت سے موثق راويوں نے نقل كيا ہے، اور چونكہ ہم يہاں پر ان تمام كو نقل نہيں كرسكتے ، ليكن صرف ان كے اعدادو شمار كو نقل كرتے ہيں جيسا كہ علامہ مجلسي عليہ الرحمہ رقمطراز ہيں:
”كس طرح ممكن ہے كہ كوئي اہل بيت عليہم السلام كي صداقت پر ايمان ركھتا ہو ليكن رجعت كے بارے ميں متواتر احاديث كو قبول نہ كرے؟ بہت ہي واضح احاديث جن كي تعداد تقريباً دو سو ہے اور تقريباً چاليس موثق راويوں اور علمانے نقل كي ہيں ،اور پچاس سے زيادہ كتابوں ميںوارد ہوئي ہيں اگر يہ حديث متواتر نہيں ہے تو پھر كون سي حديث متواتر ہو سكتي ہے؟! (5)(6)
رجعت كا فلسفہ
اسلامي روايات كے پيش نظر يہ نتيجہ نكلتا ہے كہ رجعت سب لوگوں كے لئے نہيں ہے، بلكہ يہ اعمال صالحہ انجام دينے والے مومنين كے لئے ہے جو ايمان كے بلند درجہ پر فائز ہيں، اور اسي طرح ان ظالم و سركش كفار كے لئے ہے جو كفر و ظلم ميں غرق ہيں۔
ان تمام روايات سے معلوم ہوتا ہے كہ اس دنيا ميں دوبارہ زندگي مومنين كے لئے كمال كے درجات حاصل كرنے كے لئے ہے اور دوسرے گروہ كو كيفر كردار تك پہنچانے كے لئے ہے۔ 
دوسرے الفاظ ميں يوں كہا جائے كہ وہ مخلص مومنين جو معنوي كمال حاصل كرنے ميں موانع اور مشكلات سے دوچار ہوگئے تھے اور ان كي معنوي ترقي نامكمل رہ گئي تھي تو حكمت الٰہي اس بات كا تقاضا كرتي ہے كہ ايسے مومنين كودوبارہ زندگي دي جائے اور وہ كمال كي منزلوں كو مكمل كريں، حق و عدالت كي عالمي حكومت كو ديكھيں، اور اس حكومت ميں شريك ہوں كيونكہ ايسي حكومت ميں شريك ہونا ہي بہت بڑا افتخار ہے۔
ان كے برخلاف كفار و منافقين اور بڑے بڑے ظالم و جابر روزِ قيامت عذاب كے علاوہ اس دنيا ميں بھي سزا بھگتيں گے جيسا كہ گزشتہ سركش اقوام جيسے قومِ فرعون ، قومِ عاد، قومِ ثمود اور قومِ لوط اپنے كيفر كردار تك پہنچي ہيں، اور يہ صرف رجعت كي صورت ميں ممكن ہے۔
حضرت امام صادق عليہ السلام سے منقول ہے كہ آپ نے فرمايا: ”إنَّ الرَّجْعةَ لَيْسَتْ بِعَامَةٍ، وَھِيَ خَاصَّةٍ لَا يَرْجعُ إلّاَ مَنْ مَحضَ الإيمَانُ مَحْضاً، اٴوْ مَحضَ الشِّرْكِ مَحَضاً“(7) ” رجعت عام نہيں ہوگي بلكہ خاصہوگي، رجعت صرف انھيں افراد كے لئے ہے جو خالص مومن يا جو خالص مشرك ہيں“۔
ممكن ہے كہ سورہ انبياء كي آيت نمبر ۹۵ ميں اسي بات كي طرف اشارہ ہو جيسا كہ ارشاد ہواہے: <وَحَرَامٌ عَلٰي قَرْيَةٍ اٴَہْلَكْنَاہَا اٴَنَّہُمْ لاَيَرْجِعُونَ >”اور جس بستي كو ہم نے تباہ كر ديا ہے اس كے لئے بھي نا ممكن ہے كہ قيا مت كے دن ہمارے پا س پلٹ كر نہ آئے“كيونكہ نہ لوٹايا جانا انھيں لوگوں كے بارے ميں ہے جو اسي دنيا ميں اپنے كيفر كردار تك پہنچ چكے ہيں، اور اس سے يہ بھي 
روشن ہوجاتا ہے كہ جو لوگ اس طرح كے عذاب ميں مبتلا نہيں ہوئے ہيں ان كو دوبارہ اس دنيا ميں لوٹا كر ان كو سزا دي جائے گي۔ (غور كيجئے )
يہاں يہ بھي احتمال پايا جاتا ہے كہ ان دو جماعتوں كي بازگشت تاريخ بشريت كے اس خاص زمانہ ميں (قيامت كے لئے ) دو عظيم درس اور عظمت خدا كي دو نشانياں ہوں گي ،تاكہ مو منين ا ن كو ديكھنے كے بعد معنوي كمال اور ايمان كے بلند درجات تك پہنچ جائيں اور كسي طرح كي كوئي كمي باقي نہ رہ جائے۔(8)
 

(1) سفينة البحار ، جلد اول ، صفحہ ۵۱۱ (مادہ رجع)
(2)سورہ بقرہ ، آيت ۲۴۳
(3)سورہ بقرہ ، آيت ۵۶
(4) ”عقائد الاماميہ “شيخ محمد رضا المظفر صفحہ ۷۱
(5) بحار الانوار ، جلد ۵۳، صفحہ ۱۲۲
(6) تفسير نمونہ ، جلد ۱۵، صفحہ ۵۵۵
(7) بحار الانوار ، جلد ۵۳، صفحہ ۳۹
(8) تفسير نمونہ ، جلد۱۵، صفحہ ۵۵۹
دن كي تصوير
حرم حضرت زينب سلام‌الله عليها   
ويڈيو بينك