سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:688

جن ّ اور فرشتہ كي حقيقت كيا ہے؟

”جنّ“كي حقيقت (جيسا كہ جن كے لغوي معني سے معلوم ہوتا ہے كہ) ايك ايسي دكھائي نہ دينے والي مخلوق ہے جس كے لئے قرآن مجيد ميں بہت سے صفات بيان ہوئے ہيں، جن ميں سے چند درج ذيل ہيں:
۱۔ ايك ايسي مخلوق ہے جو آگ كے شعلوں سے پيدا كي گئي ہے، انسان كي خلقت كے برخلاف جو مٹي سے خلق ہوا ہے، جيسا كہ ارشاد الٰہي ہوتا ہے: <وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ>(1) ”اور جنات كو آگ كے شعلوں سے پيدا كيا ہے“
۲۔ يہ مخلوق علم و ادراك، حق و باطل ميں تميز كرنے اور منطق واستدلال كرنے كي صلاحيت ركھتي ہے(سورہ جن كي مختلف آيات ميں اس مطلب كي طرف اشارہ ہوا ہے)
۳۔ جنوں پر تكاليف اور ذمہ دارياں ہيں، (سورہ جن اور رحمن كي آيات كا مطالعہ كريں)
۴۔ ان ميں سے بعض گروہ مومن اور صالح ہيں اور بعض گروہ كافر ہيں: <وَاٴَنَّا مِنَّا الصَّالِحُونَ وَمِنَّا دُونَ ذَلِكَ>(2) ”اور ہم ميں سے بعض نيك كردار ہيں اور بعض اس كے علاوہ ہيں“۔
۵۔ ان كا بھي قيامت ميں حشر و نشر اور حساب و كتاب ہوگا: <وَاٴَمَّا الْقَاسِطُونَ فَكَانُوا لِجَہَنَّمَ حَطَبًا >(3) ”اور نافرمان تو جہنم كے كندے ہوگئے ہيں “۔
۶۔ جن آسمانوں ميں نفوذ كي قدرت ركھتے ہيں اور دوسروں كي باتوں كو سن ليا كرتے تھے، ليكن بعد ميں ان كي يہ قدرت سلب كر لي گئي، جيسا كہ ارشاد ہوتا ہے: < وَاٴَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْہَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَنْ يَسْتَمِعْ الْآنَ يَجِدْ لَہُ شِہَابًا رَصَدًا>(4) ”اور ہم پہلے بعض مقامات پر بيٹھ كر باتيں سن ليا كرتے تھے ليكن اب كوئي سننا چاہے گا تو اپنے لئے شعلوں كو تيار پائے گا“۔
۷۔جن ؛بعض انسانوں سے رابطہ برقرار كرليتے ہيں اور بعض محدود اسرار سے مطلع ہونے كے بعد انسانوں كو اغوا كرليتے ہيں:<وَاٴَنَّہُ كَانَ رِجَالٌ مِنْ الْإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِنْ الْجِنِّ فَزَادُوہُمْ رَہَقًا>(5) اور يہ كہ انسانوں ميں سے كچھ لوگ جنات كے بعض لوگوں كي پناہ ڈھونڈ رہے تھے تو انھوں نے گرفتاري ميں اور اضافہ كر ديا“۔
۸۔ جنوں كے درميان بہت سے بہت زيادہ طاقتور ہوتے ہيں، جيسا كہ بعض طاقتور لوگ انسانوں كے درميان بھي ہوتے ہيں: <قَالَ عِفْريتٌ مِنْ الْجِنِّ اٴَنَا آتِيكَ بِہِ قَبْلَ اٴَنْ تَقُومَ مِنْ مَقَامِكَ>(6) ”جنات ميں سے ايك ديو نے كہا كہ ميں اتني جلدي لے آؤں گا كہ آپ اپني جگہ سے بھي نہ اٹھيں گے “۔
۹۔ جن؛ انسانوں كے بعض ضروري كاموں كو انجام دينے كي طاقت ركھتے ہيں: <وَمِنْ الْجِنِّ مَنْ يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْہِ بِإِذْنِ رَبِّہِ يَعْمَلُونَ لَہُ مَا يَشَاءُ مِنْ مَحَارِيبَ وَتَمَاثِيلَ وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِ>(7) ” اور جنات ميں ايسے افراد بنا دئے جو خدا كي اجازت سے ان كے سامنے كام كرتے تھے يہ جنات سليمان كے لئے جو وہ چاہتے تھے بنا ديتے تھے جيسے محرابيں، تصويريں اور حوضوں كے برابر پيالے اور بڑي بڑي زمين ميں گڑي ہوئي ديگيں“۔
۱۰۔ زمين پر ان كي خلقت انسانوں كي خلقت سے پہلے ہوچكي تھي: <وَالْجَانَّ خَلَقْنَاہُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَارِ السَّمُومِ>(8) ”اور جنات كو اس سے پہلے زہيريلي آگ سے پيدا كيا“۔
(قارئين كرام!) ان كے علاوہ بھي جنوں كي دوسري خصوصيات بيان ہوئي ہيں۔
جبكہ عوام الناس ميں يہ بات مشہور ہے كہ جنات انسانوں سے بہترہيں، ليكن قرآني آيات سے يہ نتيجہ نكلتا ہے كہ انسان ، جنوں سے بہتر ہيں كيونكہ خداوندعالم نے جتنے بھي انبياء اور مرسلين ہدايت كے لئے بھيجے ہيں وہ سب انسانوں ميں سے تھے، اور انھيں ميں سے پيغمبر اكرم (ص) بھي ہيں، ان پر جنوں كا ايمان تھا اور آپ كي اتباع و پيروي كي ، اسي طرح شيطان كا جناب آدم عليہ السلام كو سجدہ نہ كرنا جس كي وضاحت قرآن كريم ميں بيان ہوئي ہے، يہ جنوں كے سرداروں ميں سے تھا، (سورہ كہف ، آيت نمبر ۵۰) يہ خود انسان كي فضيلت كي دليل ہے۔
يہاں تك ان چيزوں كے بارے ميں بيان ہوا ہے جو قرآن مجيد ميں اس دكھائي نہ دينے والي مخلوق كے بارے ميں بيان ہوا ہے اور جو ہر طرح كے خرافاتي اور غير علمي مسائل سے خالي ہے، ليكن ہم جانتے ہيں كہ جاہل عوام الناس نے جنوں كے سلسلہ ميں بہت سے خرافات گڑھ لئے ہيں جو عقل و منطق سے دور ہيں، اور اسي وجہ سے اس موجود كا ايك خرافاتي اور غير منطقي چہرہ پيش كيا گيا كہ جس وقت لفظ ”جن“ زبان پر جاري كيا جاتا ہے تو اس كے سلسلہ ميں چند خرافاتي چيزيں بھي ذہن ميں آتي ہيں، منجملہ:عجيب و غريب اور وحشتناك شكل و صورت، دُمدار اور سُم دار موجود! آزار و اذيت پہچانے والے، حسد و كينہ ركھنے والے اور برا سلوك كرنے والے وغيرہ وغيرہ۔
حالانكہ اگر جنوں كو ان تمام خرافات اور بے بنياد چيزوںسے الگ ركھا جائے تو اصل مطلب قابل قبول ہے ، كيونكہ اس بات كي كوئي دليل نہيں ہے كہ موجودات صرف وہي ہيں جس كو ہم ديكھ سكتے ہوں،اس سلسلہ ميں علمااور دانشوروں كا كہنا ہے كہ جن موجودات كو ہم اپنے حواس كے ذريعہ درك كرسكتے ہيں وہ ان موجودات كے مقابلہ ميں بہت كم ہيں جن كو ہم درك نہيں كرسكتے۔
ادھر چند سال پہلے تك كہ جب ذرہ بيني موجودات كشف نہيں ہوئي تھي، كسي كو يہ يقين نہيں ہوتا تھا كہ ايك قطرہ پاني يا ايك قطرہ خون ميں ہزاروں زندہ موجودات پائے جاتے ہيں، جن كو انسان ديكھنے سے قاصر ہے۔اور اسي طرح دانشوروں كا كہنا ہے كہ ہماري آنكھيں محدود رنگوں كو ديكھ سكتي ہيں اور ہمارے كان صرف محدود آواز كو سن سكتے ہيں، جبكہ ہم جن رنگ اور آواز كو ديكھتے يا سنتے ہيں اس سے كہيں زيادہ ہيں، اور ہمارے دائرہٴ ادراك سے باہر ہيں۔
لہٰذا جب اس دنيا كي يہ حالت ہے تو كونسے تعجب كي بات ہے كہ اس جہان ميں دوسري زندہ موجوات بھي ہوں جن كو ہم نہيں ديكھ سكتے، اور اپنے حواس كے ذريعہ درك نہيں كرسكتے، اور جب ايك سچي خبر دينے والے صادق پيغمبر اسلام (ص) نے خبر دي ہے تو پھر ہم اس كو كيوں نہ قبول كريں ؟
بہر حال ايك طرف قرآن كريم جنّات كے بارے ميں مذكورہ خصوصيات كے ساتھ خبر دے رہا ہے اور دوسري طرف ان كے نہ ہونے پر كوئي عقلي دليل ہمارے پاس نہيں ہے، تو ہميں قبول كرلينا چاہئے ، اور غلط تاويلات سے پرہيز كرنا چاہئے ، اسي طرح اس سلسلہ ميں عوامي خرافات سے بھي اجتناب كرنا چاہئے۔
اس نكتہ پر توجہ كرنا چاہئے كہ كبھي كبھي جنّات كا اطلاق ايك وسيع مفہوم پر ہوتا ہے جن ميں نظر نہ آنے والي كئي موجودات شامل ہيں، چاہے ہماري عقل ان كو درك كرے يا نہ كرے، يہاں تك كہ بعض وہ حيوانات جو آنكھوں سے دكھائي ديتے ہيں جو عام طور پر آشيانوں ميں چھپے رہتے ہيں، اس وسيع معني ميں داخل ہيں۔اس بات پر پيغمبر اكرم (ص)سے منقول ايك حديث شاہد ہے جس ميں آنحضرت (ص) نے فرمايا: ”خداوندعالم نے جنوں كي پانچ قسم پيدا كي ہيں، ايك قسم وہ جو ہوا كي طرح دكھائي نہيں ديتے، دوسري قسم سانپ كي طرح، ايك قسم بچھووٴں كي طرح، ايك قسم زمين كے حشرات اور ايك قسم انسان كي طرح ہے جن كے لئے حساب و كتاب ركھا گيا ہے“۔(9)
اس روايت اور اس كے وسيع مفہوم كے پيش نظر جنوں كے حوالہ سے بعض روايات اور واقعات ميں بيان ہونے والي مشكلات حل ہوجاتي ہيں۔
مثال كے طور پر ہم حضرت علي عليہ السلام سے منقول روايات ميں پڑھتے ہيں: ”لاتَشْرِبِ المَاءَ مِن ثلمةِ الإنَاءِ وَلا مِنْ عروَتِہِ فَإنَّ الشَّيْطَانَ يَقعَدُ عَلٰي العُروةِ وَالثلْمَةِ“10) ”ٹوٹے ہوئے ظرف يا دستہ كي طرف سے پاني نہ پيو كيونكہ شيطان ٹوٹے ہوئے كنارے اور دستہ كي طرف بيٹھتا ہے۔
چونكہ ”شيطان“ بھي جنّاتميں سے ہے، اور چونكہ ظرف كا ٹوٹا ہوا حصہ اور دستے كي طرف جراثيم ہوتے ہيں، ليكن بعيد از نظر دكھائي ديتا ہے كہ ”جنّات اور شيطان“ ، ”عام معني“ كے لحاظ اس طرح كي موجودات كو بھي شامل ہوجائے، اگرچہ خاص معني ركھتے ہيں يعني (جنّات) ايسي موجود كو كہا جاتا ہے جن كے يہاں فہم و شعور اور ذمہ داري و فرائض ہوتے ہيں۔
اس سلسلہ ميں اور بہت سي روايات موجود ہيں۔(11)(12)
فرشتہ كي حقيقت :
جيسا كہ ہم قرآن مجيد ميں پڑھتے ہيں كہ بہت سے مقامات پر ملائكہ اور فرشتوں كے بارے ميں گفتگو ہوئي ہے۔
قرآن كريم كي بہت سي آيات ميں ملائكہ كي صفات، خصوصيات ،ان كے كام اور ذمہ دارياں بيان ہوئي ہيں يہاں تك كہ ملائكہ پر ايمان ركھنے كو؛ خدا، انبياء اور آسماني كتابوں كي صف ميں قرار ديا گيا ہے، جو اس مسئلہ كي اہميت كي دليل ہے: < آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا اٴُنزِلَ إِلَيْہِ مِنْ رَبِّہِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللهِ وَمَلاَئِكَتِہِ وَكُتُبِہِ وَرُسُلِہِ>(13)
”رسول ان تمام باتوں پر ايمان ركھتا ہے جو اس پر نازل كي گئي ہيں اور سب مومنين بھي اللہ اور ملائكہ اور مرسلين پر ايمان ركھتے ہيں“۔
بے شك فرشتوں كا وجود ”غيبي“ چيزوں ميں سے ہے جن كو ان صفات اور خصوصيات كے ساتھ پہچاننے كے لئے صرف قرآن و روايات ہي كو دليل بنايا جاسكتا ہے، اور غيب پر ايمان لانے كے حكم كي وجہ سے ان كو قبول كيا جانا چاہئے۔
۱۔ فرشتے ؛ صاحب عقل و شعور اور خدا كے محترم بندے ہيں، جيسا كہ ارشاد خداوندي ہے: <بَلْ عِبَادٌ مُكْرَمُوْنَ>(14) ” بلكہ وہ سب اس كے محترم بندے ہيں“۔
ملائكہ؛ خداوندعالم كے حكم كي فوراً اطاعت كرتے ہيں اور كبھي بھي اس كي معصيت نہيں كرتے: <لاٰ يَسْبَقُوْنَہُ بِالْقُوْلِ وَھُمْ بِاٴَمْرِہِ يَعْمَلُوْنَ>(15) ”جو كسي بات پر اس پر سبقت نہيں كرتے ہيں اور اس كے احكام پر برابر عمل كرتے ہيں“۔
۳۔ ملائكہ؛ خداوندعالم كي طرف سے مختلف قسم كي بہت سي ذمہ دارياں سنبھالے ہوئے ہيں:
ايك گروہ ؛ عرش كو اٹھائے ہوئے ہے۔ (سورہ حاقہ ، آيت ۱۷)
ايك گروہ ؛ مدبرات امر ہے۔ (سورہ نازعات ، آيت ۵)
ايك گروہ ؛ قبض روح كرتا ہے۔ (سورہ اعراف ، آيت ۳۷)
ايك گروہ ؛ انسان كے اعمال كا نگراں ہے۔ (سورہ انفطار ، آيت ۱۰ تا ۱۳)
ايك گروہ ؛ انسان كو خطرات اور حوادث سے محفوظ ركھتا ہے۔ (سورہ انعام ، آيت ۶۱)ايك گروہ؛ سركش اقوام پر عذاب نازل كرتا ہے۔ (سورہ ہود ، آيت ۷۷)اور ايك گروہ ؛ جنگوں ميں مو منين كي امداد كرتا ہے ۔(سورہ احزاب ، آيت ۹) اور بعض گروہ انبياء عليہم السلام پر وحي اور آسماني كتابيں نازل كرنے والے ہيں۔ (سورہ نحل، آيت ۲)
كہ اگر ہم ان كے ايك ايك كام اور ذمہ داري كو شمار كرنا چاہيں تو بحث طولاني ہوجائے گي۔
۴۔ ملائكہ؛ ہميشہ خداوندعالم كي تسبيح و تقديس كرتے رہتے ہيں، جيسا كہ قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتا ہے:
<وَالْمَلاَئِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الْاٴَرْض>(16)
”اور ملائكہ بھي اپنے پروردگار كي حمد كي تسبيح كر رہے ہيں اور زمين والوں كے حق ميں استغفار كر رہے ہيں“۔
۵۔ان تمام چيزوں كے باوجود انسان استعداد اور تكامل و ترقي كے لحاظ سے ان سے بلند و برتر ہے يہاں تك كہ سب فرشتوں نے جناب آدم كو سجدہ كيا اور جناب آدم عليہ السلام ان كے معلم قرار پائے۔ (سورہ بقرہ ، آيت ۳۰ تا ۳۴)
۶۔ ملائكہ؛ كبھي كبھي انسان كي صورت ميں آجاتے ہيں اور انبياء بلكہ غير انبياء كے سامنے ظاہر ہوجاتے ہيں، جيسا كہ سورہ مريم ميں پڑھتے ہيں: <فَاٴَرْسَلْنَا إِلَيْہَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَہَا بَشَرًا سَوِيًّا>(17) ”تو ہم نے اپني روح(جبرا ئيل) كو بھيجا جو ان كے سامنے ايك اچھا خاصا آدمي بن كر پيش ہوا“۔
ايك دو سرے مقام پر جنا ب ابراہيم اور جناب لوط كے سامنے انساني صورت ميں آئے۔ (سورہ ہود ، آيت ۶۹و۷۷)
يہاں تك كہ درج ذيل آيات سے يہ معلوم ہوتا ہے كہ قوم لوط نے ان كو انساني شكل و صورت ميں ديكھا تھا۔ (سورہ ہود ، آيت ۷۸)
كيا انساني شكل و صورت ميں ظاہر ہونا ايك حقيقت ہے؟ يا صرف خيالي اور سمجھنے كي حد تك؟ قرآن مجيد كي آيات سے پہلے معني ظاہر ہوتے ہيں، اگرچہ بعض مفسرين نے دوسرے معني مراد ليتے ہيں۔
۷۔ اسلامي روايات سے معلوم ہوتا ہے كہ ان كي تعداد اس قدر زيادہ ہے كہ كسي بھي انسان سے موازنہ نہيں كيا جاسكتا، جيسا كہ حضرت امام صادق عليہ السلام سے منقول ايك روايت ميں پڑھتے ہيں: جس وقت امام عليہ السلام سے سوال كيا گيا كہ فرشتوں كي تعداد زيادہ ہے يا انسانوں كي؟ تو امام عليہ السلام نے فرمايا: ”قسم اس خدا كي جس كے قبضہٴ قدرت ميں ميري جان ہے، زمين ميں مٹي كے ذرات سے كہيں زيادہ آسمان ميں فرشتوں كي تعداد ہے، آسمان ميں كوئي ايسي جگہ نہيں ہے جہاں پر كسي فرشتہ نے خداوندعالم كي تسبيح و تقديس نہ كي ہو“۔ (18)
۸۔ وہ نہ كھانا كھاتے ہيں اور نہ پاني پيتے ہيں، اور نہ ہي شادي كرتے ہيں، جيسا كہ امام صادق عليہ السلام سے منقول ايك حديث ميں بيان ہو اہے: ”فرشتے نہ كھانا كھاتے ہيں اور نہ پاني پيتے ہيں اور نہ ہي شادي كرتے ہيں بلكہ نسيم عرش الٰہي كي وجہ سے زندہ ہيں“۔(19)
۹۔ وہ نہ سوتے ہيں ،نہ سستي اور غفلت كا شكار ہوتے ہيں، جيسا كہ حضرت علي عليہ السلام سے منقول ايك روايت ميں بيان ہو اہے ”ان ميں سستي ہے اور نہ غفلت، اور وہ خدا كي نافرماني نہيں كرتے ان كو نيند بھي نہيں آتي ان كي عقل كبھي سہو و نسيان كا شكار نہيں ہوتي، ان كا بدن سست نہيں ہوتا، اور وہ صلب پدر اور رحم مادر ميں قرار نہيں پاتے۔(20)
۱۰۔ ان كے مختلف مقامات اور مختلف درجات ہوتے ہيں، ان ميں بعض ہميشہ ركوع ميں رہتے ہيں اور بعض ہميشہ سجدہ كي حالت ميں:
<وَمَا مِنَّا إِلاَّ لَہُ مَقَامٌ مَعْلُومٌ# وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّون# وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ >(21)
”اور ہم ميں سے ہر ايك كے لئے ايك مقام معين ہے اور ہم اس كي بارگاہ ميں صف بستہ كھڑے ہونے والے ہيں اور ہم اس كي تسبيح كرنے والے ہيں“۔
حضرت امام صادق عليہ السلام فرماتے ہيں: خداوندعالم نے كچھ فرشتوں كو ايسا خلق كيا ہے جو روز قيامت تك ركوع ميں رہيں گے اور بعض فرشتے ايسے ہيں جوقيامت تك سجدہ كي حالت
ميں رہيں گے۔22)(23)
اب يہاں يہ سوال اٹھتا ہے كہ يہ تمام فرشتے ان تمام اوصاف كے ساتھ مجرد موجود ہيںيا مادي؟! اس ميں شك نہيں ہے كہ يہ تمام صفات كسي مادي عنصر كے نہيں ہوسكتے، ليكن ان كے ”لطيف اجسام “سے پيدا ہونے ميں كوئي مانع بھي نہيں ہے، جو اس معمولي مادہ سے مافوق ہو۔
فرشتوں كے لئے ”مطلق طور پر مجرد“ يہاں تك كہ زمان ومكان اور اجزا سے بھي مجرد ہونے كا اثبات كوئي آسان كام نہيں ہے اور اس سلسلہ ميں تحقيق كرنے كا بھي كوئي خاص فائدہ نہيں ہے، اہم بات يہ ہے كہ ہم فرشتوں كو قرآن ميں بيان ہوئے اوصاف كے ذريعہ پہچانيں، اور ان كو خداوندعالم كي بلند و بالا مخلوق مانيں، اور ان كے لئے صرف مقام بندگي و عبادت كے قائل ہوں،اور ان كو خداوندعالم كے ساتھ خلقت يا عبادت ميں شريك نہ مانيں، اور اگر كوئي ان كو شريك مانے گا تو يہ شرك اور كفر ہوگا۔
فرشتوں كے سلسلہ ميں ہم اتني بحث و گفتگو كو كافي سمجھتے ہيں اور تفصيلي بحث كے لئے اس موضوع پر لكھي گئي كتابوں كامطالعہ فرمائيں۔ توريت ميں بہت سے مقامات پر فرشتوں كو ”خدا“ كہا گيا ہے جو نہ صر ف يہ كہ شرك ہے بلكہ اس وقت كي توريت ميں تحريف كي دليل ہے، ليكن قرآن مجيد اس طرح كے الفاظ سے پاك و منزہ ہے، كيونكہ قرآن ميں صرف ان كے لئے مقام بندگي، عبادت اور حكم خدا كي تعميل كے علاوہ كچھ نہيں ملتا، جيسا كہ ہم پہلے بھي عرض كرچكے ہيں كہ قرآن مجيد كي بہت سي آيات سے يہ معلوم ہوتا ہے كہ انسانِ كامل كا درجہ فرشتوں سے بلند و بالا ہے۔(24)

(1) سورہٴ رحمن ، آيت ۱۵
(2) سورہٴ جن ، آيت ۱۱
(3) سورہٴ جن ، آيت ۱۵
(4)سورہٴ جن ، آيت ۹
(5)سورہٴ جن ، آيت ۶
(6) سورہٴ نمل ، آيت ۳۹
(7) سورہٴ سبا، آيت ۱۲۔۱۳ 
(8) سورہٴ حجر ، آيت ۲۷
(9) سفينة البحار ، جلد اول ، صفحہ ۱۸۶(مادہ جن)
(10) كتاب ”كافي“، جلد ۶، صفحہ ۳۸۵ .كتاب الاطعمة والاشربة،باب الاواني،حديث۵
(11) اولين درسگاہ آخرين پيامير ، جلد اول ميں تقريبا ً۲۳ روايتيں اس سلسلہ ميں بيان ہوئي ہيں
(12) تفسير نمونہ ، جلد ۲۵، صفحہ ۱۵۴
(13) سورہٴ بقرہ ، آيت ۲۸۵
(14) سورہٴ انبياء ، آيت ۲۶
(15) سورہٴ انبياء ، آيت ۲۷
(16) سورہٴ شوريٰ ، آيت ۵
(17) سورہٴ مريم ، آيت ۱۷
(18) بحار الانوار ، جلد ۵۹، صفحہ ۱۷۶ (حديث ۷) ، اس كے علاوہ اور بہت سي دوسري روايتيں اس بارے ميں نقل ہوئي ہيں (19) بحار الانوار، جلد ۵۹، صفحہ ۱۷۴ (حديث ۴)
20) بحار الانوار ، جلد ۵۹، صفحہ ۱۷۵
21) سورہٴ صافات ، آيت ۱۶۴۔ ۱۶۶
(22) بحار الانوار ، جلد۵۹، صفحہ ۱۷۴
(23)ملائكہ كے اوصاف اور ان كي اقسام كے سلسلہ ميں كتاب ”السماء و العالم“، بحار الانوار ”ابواب الملائكہ“ (جلد ۵۹ صفحہ ۱۴۴ تا ۳۲۶ پر رجوع فرمائيں، اسي طرح نہج البلاغہ خطبہ نمبر ا، ۹۱، ۱۰۹، ۱۷۱ /پر رجوع فرمائيں
(24) تفسير نمونہ ، جلد ۱۸، صفحہ ۱۷۳
دن كي تصوير
بقيع
ويڈيو بينك