سوال اور جواب
صارفین کی تعداد:431

اسلام اور ايمان ميں كيا فرق ہے؟

جيسا كہ ہم قرآن مجيد كے سورہ حجرات ميں پڑھتے ہيں: <قَالَتِ الْاٴَعْرَابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا اٴَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ>(1) ”يہ بدو عرب كہتے ہيں كہ ہم ايمان لے آئے ہيں تو آپ ان سے كہہ ديجئے كہ تم ايمان نہيں لائے بلكہ يہ كہو كہ اسلام لائے ہيں اور ابھي ايمان تمہارے دلوں ميں داخل نہيں ہوا ہے“
يہاں يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ اسلام اور ايمان ميں كيا فرق ہے؟
مذكورہ آيت كے مطابق ”اسلام“ اور ”ايمان“ كا فرق يہ ہے كہ اسلام ظاہري قانون كا نام ہے اور جس نے كلمہ شہادتين زبان پر جاري كرليا وہ مسلمانوں كے دائرہ ميں داخل ہوگيا، اور اسلامي احكامات اس پر نافذ ہوں گے۔
ليكن ايمان ايك واقعي اور باطني امر ہے، جس كا مقام انسان كا دل ہے نہ كہ اس كي زبان اور اس كا ظاہري چہرہ۔
”اسلام“ كے لئے انسان كے ذہن ميں بہت سے مقاصد ہو سكتے ہيں يہاں تك مادي اور ذاتي منافع كے لئے انسان مسلمان ہوسكتا ہے، ليكن ”ايمان“ ميں معنوي مقصد ہوتا ہے جس كا سر چشمہ علم و بصيرت ہوتي ہے، اور جس كاحيات بخش ثمرہ يعني تقويٰ اسي كي شاخوں پر ظاہر ہوتا ہے۔
يہ وہي چيز ہے جس كے لئے پيغمبر اكرم (ص) نے واضح طور پر ارشاد فرمايا ہے: ”الإسْلَامُ عَلَانِيَةَ ،وَالإيْمَانُ فِي الْقَلْبِ“(2) ”اسلام ايك ظاہري چيز ہے اور ايمان كي جگہ انسان كا دل ہے“۔
اور ايك دوسري حديث ميںحضرت امام صادق عليہ السلام سے منقول ہے : ”الإسْلَامُ يُحُقِّنُ بِہِ الدَمُ وَ تُوٴديٰ بِہِ الاٴمَانَةُ ،وَ تُسْتَحِلُّ بِہِ الفُرُوجِ ،وَالثَّوابُ عَلٰي الإيِمَانِ“(3) ’ ’اسلام كے ذريعہ انسان كے خون كي حفاظت، امانت كي ادائيگي ہوتي ہے اور اسي كے ذريعہ شادي كا جواز اپيدا ہوتا ہے اور(ليكن) ايمان پر ثواب ملتا ہے“۔
اور يہي دليل ہے كہ كچھ روايات ميں ”اسلام“ كا مفہوم صرف لفظي اقرار ميں منحصر كيا گيا ہے جبكہ ايمان كو عمل كے ساتھ قرار ديا گياہے: ”الإيِمَانُ إقَرارٌ وَ عَمَلٌ، وَالإسلامُ إقْرَارُ بِلَا عَمَلٍ “(4) ”ايمان ؛ اقرار و عمل كا نام ہے، جبكہ اسلام، بغير عمل كے صرف اقرار كا نام ہے“۔
يہي معني دوسرے الفاظ ميں ”اسلام و ايمان“ كي بحث ميں بيان ہوئے ہيں، فضل بن يسار كہتے ہيں: ميں نے حضرت امام صادق عليہ السلام سے سنا كہ آپ نے فرمايا: ”إنَّ الإيِمَانَ يُشَارِكُ الإسْلاَم وَ لا يُشَارِكْہُ الإسْلام ،إنَّ الإيْمَانَ مَا وَقرَ فِي القُلُوبِ، وَالإسْلاَمُ مَا عَلَيْہِ المَنَاكِحَ وَ المَوَارِيث وَ حُقِنَ الدِّمَاءُ“(5) (ايمان ؛ اسلام كے ساتھ شريك ہے، ليكن اسلام؛ ايمان كے ساتھ شريك نہيں ہے، (دوسرے الفاظ ميں: ہر مومن مسلمان ہے ليكن ہر
مسلمان مومن نہيں ہے) ايمان؛ انسان كے دل ميں ہوتا ہے، ليكن اسلام كي بنا پر نكاح، ميراث اور جان و مال كے حفاظتي قوانين جاري ہوتے ہيں۔
اس مفہوم كا فرق اس صورت ميں ہے كہ يہ دونوں الفاظ ايك ساتھ استعمال ہوں، ليكن اگر جدا جدا استعمال ہوں تو ممكن ہے كہ اسلام كے وہي معني ہيں جو ايمان كے لئے ہيں، يعني دونوں الفاظ ايك ہي معني كے لئے استعمال ہوں۔(6)

(1)سورہٴ حجرات ، آيت ۱۴
(2) مجمع البيان ، جلد ۹، صفحہ ۱۳۸
(3) كافي ، جلد دوم، ”باب ان الاسلام يحقن بہ الدم“ حديث ۱و۲
(4) كافي ، جلد دوم، ”باب ان الاسلام يحقن بہ الدم“ حديث ۱و۲
(5) كافي ، جلد دوم ”باب ان الاسلام يحقن بہ الدم“ حديث ۳
(6) تفسير نمونہ ، جلد ۲۲، صفحہ ۲۱۰
دن كي تصوير
وادي السلام نجف   
ويڈيو بينك